منگل, 29 ستمبر 2020 08:36


 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
تعارف:

امت اسلامیہ کی صفوں میں اتحاد کے لیے اور انتشار پسند قوتوں کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں وقتاً فوقتاً کوششیں جاری رہتی ہیں۔کئی ایک قدآور مذہبی اورسیاسی شخصیات نے دلسوزی کے ساتھ امت کی اس سلسلے میں مختلف مواقع پر راہنمائی کی ہے۔جناب ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں ان کاوشوں اور دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ۔قارئین کے استفادہ کے لیے ان دستاویزات کو پیام میں شائع کیا جارہا ہے۔

۱۔  اعلانِ عمان 
اردن  کے دارالحکومت  عمان میں ۲۷۔۲۹؍جمادی الاولیٰ  ۱۴۲۶ھ؍۴؍۶ جولائی ۲۰۰۵ کو’’اسلام کی حقیقت اورمعاصر معاشرے میں اس کا کردار‘‘ کے عنوان  سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں یہی موقف اختیار کیا گیا اوران فتاویٰ اورکانفرنس کی سفارشات کو بنیاد بنا کرکانفرنس نے اعلان عمان کے نام سے ایک بیان جاری کیا۔ اس اعلان کا متن مع ترجمہ ہم ذیل میں قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی آلہ وسلم
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ۔(۱)
بیان صادر عن المؤتمر الاسلامی الدولی الذی عقد فی عمان،عاصمۃ المملکۃ الأردنیۃ الھاشمیۃ ، تحت عنوان (حقیقۃ الاسلام ودورہ فی المجتمع المعاصر)،فی المدۃ ۲۷۔۲۹ جمادی الاولیٰ۱۴۲۶ھ؍ ۴۔۶ تموز(یولیو)۲۰۰۵م
وفقاًلماجاء فی فتوی فضیلۃ الامام الأکبر شیخ الأزھرالمکرّم، وفتوی سماحۃ آیۃ اللہ العظمی السید علی السیستانی الأکرم، وفتوی فضیلۃ مفتی الدیار المصریۃ الاکرم، وفتاوی المراجع الشیعیۃ الأکرمین (الجعفریۃ والزیدیۃ)،وفتوی فضیلۃ المفتی العام لسلطنۃ عمان الأکرم، وفتوی مجمع الفقہ الاسلامی الدولی (منظمۃ المؤتمر الاسلامی۔جدۃ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ)،وفتوی المجلس الأعلی للشؤون الدینیۃ الترکیۃ،وفتوی فضیلۃ مفتی المملکۃ الأردنیۃ الھاشمیۃ ولجنۃ  الافتاء الأکرمین فیھا، وفتوی فضیلۃ الشیخ الدکتور یوسف القرضاوی الأکرم،
ووفقاً لما جاء فی خطاب صاحب الجلالۃ الھاشمیۃ الملک عبداللہ الثانی ابن الحسین ملک المملکۃ الأردنیۃ الھاشمیۃ فی افتاح مؤتمرنا،
ووفقاً لعلمنا الخالص لوجہ اللہ الکریم،
ووفقاً لما قدم فی مؤتمرنا ھذا من بحوث ودراسات ومادار فیہ من مناقشات، فاننا، نحن الموقعین أدناہ،نعرب عن توافقنا علی مایرد تالیاً، واقرارنا بہ:
(۱) انّ کل من یتبع أحد المذاھب الأربعۃ من أھل السنّۃ والجماعۃ (الحنفی،والمالکی ، والشافعی،والحنبلی)والمذھب الجعفری، والمذھب الزیدی، والمذھب الاباضی،والمذھب الظاھری، فھومسلم، ولا یجوز تکفیرہ، ویحرم دمہ وعرضہ ومالہ۔ وأیضاً،ووفقاً لما جاء فی فتوی فضیلۃ شیخ الأزھر،لایجوز تکفیر أصحاب العقیدۃ الأشعریۃ، ومن یمارس التصوف الحقیقی۔وکذلک لایجوزتکفیر أصحاب الفکر السلفی الصحیح۔
کمالا یجوز تکفیر أی فئۃ أخری من المسلمین توٌمن باللہ سبحانہ وتعالیٰ وبرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم وأرکان الایمان، وتحترم أرکان الاسلام، ولا تنکر معلوماً من الدین بالضرورۃ۔
(۲) ان مایجمع بین المذاھب أکثر بکثیر ممّا بینھا من الاختلاف۔ فأصحاب المذاھب الثمانیۃ متفقون علی المبادی الأساسیۃ للاسلام۔ فکلھم یؤمنون باللہ سبحانہ وتعالیٰ، واحداً أحداً، وبأنّ القرآن الکریم کلام اللہ المنزَّل، وسیدنا محمد علیہ الصلاۃ والسلام نبیاً ورسولاً للبشریۃ کافۃ۔ وکلھم متفقون علی أرکان الاسلام الخمسۃ: الشھادتین، والصلاۃ ،والزکاۃ،وصوم رمضان، وحج البیت، وعلی أرکان  الایمان: الایمان باللّٰہ، وملائکتہ،وکتبہ ،ورسولہ، والیوم الآخر، وبالقدر خیرہ وشرہ۔ واختلاف العلماء من أتباع المذاھب ھواختلاف فی الفروع ولیس فی الأصول ،وھورحمۃ،وقدیماً قیل، ان اختلاف العلماء فی الرأی أمرجید۔ 
(۳) ان الاعتراف بالمذاھب فی الاسلام یعنی الالتزام بمنھجیۃ معینۃ فی الفتاوی:فلا یجوز لأ حد أن یتصدّی للافتاء دون مؤھّلات شخصیۃ معینۃ یحددھا کل مذھب، ولا یجوز الافتاء دون التقید بمنھجیۃ المذاھب،ولا یجوز لأحد أن  یدعی الاجتھاد ویستحدث مذھباً جدیداً أو یقدّم فتاوی مرفوضۃ تخرج المسلمین عن قواعد الشریعۃ وثوابتھا وما استقرَّمن مذاھبھا۔
(۴) ان لب موضوع رسالۃ عمان التی صدرت فی لیلۃ القدر المبارکۃ من عام ۱۴۲۵ للھجرۃ وقُرئت فی مسجد الھاشمیین، ھوالالتزام بالمذاھب وبمنھجیتھا؛ فالاعتراف بالمذاھب والتاکید علی الحوار  والا لتقاء بینھا ھوالذی یضمن الاعتدال والوسطیۃ،والتسامح والرحمۃ، ومحاورۃ الآخرین۔
(۵) اننا ندعواالی نبذالخلاف بین المسلمین والی توحید کلمتھم، ومواقفھم، والی  التأکید علی احترام بعضھم لبعض، والی تعزیز التضامن بین شعوبھم ودولھم، والی تقویۃ روابط الاخوّۃ التی تجمعھم علی التحاب فی اللّٰہ، وألایترکوا مجالاً للفتنۃ وللتدخل بینھم۔
فاللہ سبحانہ یقول: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔(۲)
(۶) یؤکدالمشارکون فی المؤتمر الاسلامی الدولی، وھم یجتمعون فی عمّان عاصمۃ المملکۃ الارٔدنیۃ الھاشمیۃ، علی مقربۃٍ من المسجد الأقصی المبارک والأرآضی الفلسطینیۃ المحتلۃ،علی ضرورۃ بذل کل الجھود لحمایۃ المسجد الأقصی، أولی القبلتین  وثالث الحرمین الشریفین، فی وجہ مایتعرض لہ من أخطار واعتداء ات،وذلک بانھاء الاحتلال وتحریر المقدسات۔وکذلک ضرورۃ المحافظۃ علی العتبات المقدسۃ فی العراق وغیرہ۔
(۷) یؤکد المشار کون  علی  ضرورۃ  تعمیق  معانی  الحریۃ واحترام الرأی والرأی الآخر فی رحاب عالمنا الاسلامی۔
والحمد للہ وحدہ


ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی آلہ وسلم
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ۔(النساء۔۱)

(لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔)
عزت مآب امام اکبر مکرم جناب شیخ الازہر کے فتویٰ
سماحۃ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے فتویٰ
دیار مصر کے مفتی اعظم کے فتویٰ
شیعیان جعفریہ وزیدیہ کے قابل احترام مراجع کے فتاویٰ
سلطنت عمان کے مفتی العام عزت مآب کے فتویٰ
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی(اسلامی کانفرنس تنظیم ،جدہ،سعودی عرب) کے فتویٰ
ترکی کی سپریم کونسل برائے دینی امور کے فتویٰ
اردن کی سلطنت ہاشمیہ کے مفتی اعظم اورفتویٰ کمیٹی کے مفتیانِ کرام کے فتویٰ 
اور عزت مآب جناب ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے فتویٰ کے مطابق؛
ہماری اس کانفرنس میں سلطنت ہاشمیہ اردن کے عزت مآب بادشاہ عبداللہ ثانی بن حسین کے افتتاحی خطاب کے مطابق :
خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے  ہمارے علم کے مطابق:
اور ہماری اس کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات ،لیکچرز اورمذاکرات کے مطابق ہم زیر دستخطی درج ذیل بیان سے اتفاق کرتے اوراس کا اقرار کرتے ہیں:
۱۔ جو شخص اہل سنت والجماعت کے مذاہب اربعہ(حنفی، مالکی،شافعی، حنبلی) میں سے کسی ایک یا مذہب جعفری، مذہب زیدی، مذہب اباضی یا مذہب ظاہری کی اتباع کرے، وہ مسلمان ہے اوراس کی تکفیر جائز نہیں ہے، اس کا خون، اس کی عزت اوراس کا مال حرام ہے اور جناب شیخ الازہرکے فتویٰ کے مطابق اشعری عقیدہ رکھنے والوں،حقیقی تصوف سے شغف رکھنے والوں اورصحیح سلفی فکررکھنے والوں میں سے بھی کسی کی تکفیر جائز نہیں ہے۔
جیسا کہ مسلمانوں کی کسی بھی ایسی جماعت کی تکفیر جائز نہیں ہے جواللہ سبحانہ وتعالیٰ، اس کے رسولؐ اورارکان اسلام پرایمان رکھتی ہو، ارکان اسلام کا احترام کرتی ہو اوردین کی جو باتیں بالضرورۃ معلوم ہیں، ان میں سے کسی کا انکار نہ کرتی ہو۔
۲۔ مختلف مذاہب کی متفق علیہ باتیں ان کی نسبت بدر جہا زیادہ ہیں، جن میں باہمی اختلاف ہے۔ مذکورہ بالا آٹھوں مذاہب اسلام کی اساسی مبادیات پرمتفق ہیں، یہ سب اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ واحد واحد ہے، قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام ہے، سیدنا حضرت محمد علیہ الصلاۃ والسلام ساری انسانیت کے لئے نبی اوررسول ہیں اور یہ سارے مذاہب اسلام کے ارکان خمسہ شہادتین،نماز،زکوٰۃ، رمضان کے روزوں اور بیت اللہ کے حج پر بھی متفق ہیں۔ان مذاہب کا ارکان ایمان یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں،یوم آخرت اوراچھی بری تقدیر پرایمان میں بھی اتفاق ہے۔ مختلف مذاہب کے علماء میں اگر اختلاف ہے، تو وہ فروع میں ہے، اصول میں نہیں اور یہ اختلاف باعث رحمت ہے، جیسا کہ ایک قدیمی قول ہے کہ’’رائے میں علماء کا اختلاف ایک اچھی بات ہے۔‘‘
۳۔ اسلام میں مذاہب کا اعتراف یعنی فتاویٰ میں ایک معین اسلوب کی پابندی کے ضمن میں کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان متعین شخصی صلاحیتوں کے بغیر فتویٰ دے، جن کا ہر مذہب نے تعین کیا ہے، مذاہب کے اصولوں کی پابندی کے بغیر بھی فتویٰ دینا جائز نہیں اورنہ کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اجتہاد کا دعویٰ کرے اور کوئی نیا مذہب پیدا کرے یا ایسے مردود فتاویٰ کو ترجیح دے، جو مسلمانوں کو شریعت کے قواعد، مستقل اصولوں اورمذاہب کے متفق علیہ امور سے خارج کردیں۔
۴۔ اعلانِ عمان جومبارک لیلۃ القدر ۱۴۲۵ھ کو جاری ہوا اورمسجد الہاشمیین میں پڑھ کرسنایا گیا، کا خلاصہ یہ ہے کہ مذاہب اور ان کے اسالیب کی پابندی کی جائے، مذاہب کااعتراف، ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور اورباہمی ملاقاتیں اس اعتدال، میانہ روی، درگزر،رحمت اوردوسروں سے تبادل خیالات کی ضامن ہیں۔
۵۔ ہم دعوت دیتے ہیں کہ مسلمان باہمی اختلاف ترک کردیں، ایک بات اور ایک موقف پرمتحد ومتفق ہوجائیں۔ایک دوسرے کا احترام کریں،قوموں اورحکومتوں کے تعلقات کو مضبوط کریں،اخوت ومحبت کے ان تعلقات کو مستحکم کریں، جو انھیں الحب فی اللہ کی سلک مروارید میں منسلک کردیں اورفتنہ ودراندازی کے لئے کوئی راستہ نہ چھوڑ دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔(الحجرات۔۱۰)
مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں،تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اوراللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
۶۔ بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کے شرکاء، جو اردن کی سلطنت ہاشمیہ کے دارالحکومت عمان میں اورمبارک مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے قریب جمع ہیں،اس امر کی ضرورت پر زوردیتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ جو قبلہ اولیٰ اورتیسرا حرم محترم ہے، کی حفاظت اوراسے پیش آنے والے خطرات اورمظالم کو دورکرنے کے لئے تمام کوششوں کو بروئے کار لایا جائے اوریہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ غاصبانہ قبضہ ختم  ہو اورمقامات مقدسہ کو آزاد کردیا جائے، اسی طرح کانفرنس کے شرکاء سرزمین عراق میں اوردیگر مقامات مقدسہ کی حفاظت کی ضرورت پربھی زوردیتے ہیں۔
۷۔ کانفرنس کے شرکاء نے عالم اسلام میں آزادی اوراحترام رائے کے معانی کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ 
والحمدللہ وحدہ

۲۔  ا علامیہ مکہ 
اسلامی کانفرنس تنظیم اور مجمع فقہ اسلامی کی دعوت پر 19 اکتوبر 2006 کو عراق کے 50 ممتاز شیعہ سنی علما مکہ میں اکٹھے ہوئے اورانھوں نے عراق کی پرتشدد اور خون ریز صورت حال پر غوروفکر کیا اور ایک اہم فتویٰ جاری کیا ۔ اس تاریخی دستاویز پر اسلامی کا نفرنس تنظیم کے سیکرٹری اکمل الدین احسان اوغلو، مجمع فقہ اسلامی کے سیکرٹری محمد حبیب بن خوجہ،عالمی مجلس برائے تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری آیت اللہ تسخیری اور علماء اسلام کی عالمی یونین کے سیکرٹری محمد سلیم العوا نے گواہ کی حیثیت سے دستخط کیے۔ یہ اعلامیہ دس نکات پر مشتمل ہے۔ہم ذیل میں اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:
مسلمان وہ ہے جو اللہ کی توحید اورحضرت محمدؐ کی نبوت کی گواہی دے۔ یہ بنیادی اصول شیعہ اور سنی دونوں پر بلا استثنا مساوی طور پر لاگو ہوتا ہے۔ ان دونوں مکاتب فکر کے مشترکات ان کے مختلفات سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ دونوں کے اختلافات کا تعلق فقط رائے اور تعبیر سے ہے۔ ان کے اختلافات کا تعلق ایمان یا ارکان اسلام سے نہیں ہے۔
مسلمانوں کی جان ،مال،عزت اور شہرت قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں حرمت کی حامل ہے۔ لہٰذا مسلمان مرد ہو یا عورت شیعہ ہو یا سنی اُسے قتل کرنا، اُسے نقصان پہنچانا، اُس پر تشدد کرنا، اُس کے مال اورجائیداد پر حملہ کرنا ، اسے بے گھر کرنا یا اُسے اغوا کرنا جائز نہیں ۔
تمام عبادت خانے محترم ہیں جن میں مساجد اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے غیر مسلموں کے عبادت خانے شامل ہیں۔
شیعہ وسنی علما کو چاہیے کہ اتحادویکجہتی کے اصولوں پر قائم رہیں۔نیز وہ قرآنی آیات’’والصلح خیر‘‘  اور ’’ تعاونواعلی البروالتقوی‘‘ کی روشنی میں قومی اتفاق کے حصول کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ نفرت و فتنہ انگیز اقدامات سے پرہیز کریں۔عراقی مسلمان ملک کی آزادی، اتحاد اورسا  لمیت کے تحفظ اورقومی امنگوں کو پورا کرنے کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اورملک کی فوجی، اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے تعمیر نو نیز عراق کی تہذیبی و ثقافتی حیثیت کی بازیابی اورملک سے بیرونی قبضے کے خاتمے کے لئے کمرہمت کس لیں۔

۳۔ عراق میں علماء کی عمومی کوششیں
 دہشتگرد گروہوں کی خواہش کے برعکس عراق میں عوامی سطح پر مذہبی فسادات نہ ہوسکے۔ آخر میں دہشتگردوں نے سامرہ میں اہل بیت کے محترم مزارات کو انتہائی اقدام کے طور پر اپنی تخریب کاری کا نشانہ بنایا تاکہ فرقہ وارانہ فسادات کا پھوٹنا یقینی ہوجائے۔
اس دوران سنی اورشیعہ علما کا کردار بہت ہی مثبت رہا اور سب نے یک زبان ہوکراپنے بیانات اورفتووں میں عام لوگوں کو قتل کرنے اوراس مقصد کے لئے خود کش کارروائی کرنے یا ناحق کسی کی بھی جان لینے کے عمل کو سختی سے حرام قراردیا۔
صورت حال کو سنبھالنے کے لئے عالم اسلام کے ممتاز علما نے اپنا کردارادا کیا ۔شیخ الازہر امام اکبر جناب طنطاوی مرحوم نے عراق میں مزاحمت کے نام پر عام لوگوں کو یا منتخب عراقی حکومت کے اہلکاروں کو مارنا حرام قراردیا۔ اسی طرح مشہورعالم دین جناب شیخ القرضاوی نے بھی عراق میں عوام کو مارنے یا کسی بھی فرقے یا دین کے مقدس مقام پر حملہ کرنے کو غیراسلامی فعل قراردیا۔شیخ قرضاوی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عراق میں نیپال کے ہندو مزدوروں کے قتل کو بھی ناجائز قراردیااور ان مزدوروں کو مستضعفین قرار دیا جوحصول رزق کے لئے کام کرتے تھے۔
اس سلسلے میں نجف اشرف میں موجود شیعہ مرجعیت اور مذہبی قیادت کاکردار بھی لائق ستائش رہا ہے۔ نجف کے علما میں سب سے موثر اورقد آور شخصیت جناب آیۃ اللہ علی سیستانی کی ہے۔انھوں نے ہمیشہ دہشتگرد حملوں کے ردعمل میں مشتعل شیعہ عوام کو سنی بھائیوں کے خلاف کسی طرح کے منفی اقدام سے روکنے کے لئے کئی بار فتاویٰ جاری کیے۔ 2004 کے محرم (فروری۔مارچ) میں عاشورہ کے موقع پر سفاک دہشتگردوں نے کاظمین میں اہل بیت کے مزارات مقدسہ اور کربلائے معلیٰ میں امام حسینؑ کے روضہ اقدس کے قریب زائرین کے جم غفیر میں دھماکے کرائے جن سے سینکڑوں لوگوں کی جانیں ضائع ہوگئیں۔
اس واقعے کے فوراً بعد آیۃ اللہ سید سیستانی نے فتویٰ جاری کیا اور شیعہ عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان اندوہناک واقعات کے ردعمل میں کسی سنی مسلمان یا ان کی مساجد کونقصان پہنچانا حرام ہے۔ انھوں نے کہا کہ چند غیرملکی گمراہ مذہبی عناصر کے مجرمانہ افعال کا ذمہ دار سنی بھائیوں کو کسی طرح بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
ان دھماکوں کے بعد وسطی عراق میں رہنے والے شیعہ قبائل کے مشتعل رؤسا نے وفد کی صورت میں آیۃ اللہ سیستانی سے ملاقات کی اور ان سے اجازت طلب کی کہ وہ ان علاقوں کی سنی آبادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کریں۔ آیۃ اللہ سیستانی سرداران قبائل کی اس بات پر نہایت غضبناک ہوئے اوران سے کہا کہ اگردہشتگردوں کے ہاتھوں میرے سارے بیٹے بھی قتل ہوجائیں تب بھی میں اس طرح کے غیراسلامی اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتا۔(۳)
2007ء میں دہشتگردوں نے جب سامرا میں اہل بیت کے مزارات مقدسہ کو نشانہ بنایا اورردعمل میں عراق کی مشتمل شیعہ آبادی نے سنی آبادیوں اورمساجد پر حملے کیے تو آیۃ اللہ علی سیستانی نے فوراً ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے دہشتگردوں کے اس گھنائونے فعل کی پاداش میں سنی آبادی اور ان کی مساجد کو نشانہ بنانے کو سختی سے حرام قرار دیا اورمشتمل شیعوں کوایسے غیراسلامی اور غیر انسانی اقدامات سے روکا۔اس موقع پر عراق کے دیگر علماء نے بھی اسی طرح کے فتوے صادرکیے ۔(۴)
عراق کے علماء اہل سنت نے بھی 2007 میں ایک نیا وسیع البنیاد اتحاد تشکیل دیا تاکہ دہشتگردوں کے خلاف منظم ہوکر جدوجہد کرتے ہوئے عراق کے اہل تشیع کے ساتھ برادرانہ خوشگوار تعلقات کواستحکام بخشا جائے۔ اس اتحاد میں عراق کے تمام معروف علماء اہل سنت علماء نجف کے شانہ بشانہ سرگرمِ عمل ہیں۔ہیئت علمائے عراق(Council of iraqi scholars)  کے سربراہ علامہ شیخ عبدالمالک السادی جو عراقی سنی عربوںکے سب سے مشہور اورقد آور عالم دین ہیں اس کونسل کے سربراہ اورشیخ احمد عبدالغفور السامرائی جو عراقی سنی اوقاف کے سربراہ ہیں اس کونسل کے ترجمان ہیں۔
(توضیح:اس باب میں شامل مطالب ہماری مرتب کردہ کتاب’’اسلام اورانتہا پسندی‘‘ میں شامل ہیں۔یہ کتاب اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے شائع کی جا چکی ہے۔)

حواشی
(۱) (النساء:۱۲۷)
(۲) (الحجرات۔۱۰)
(۳) [www.wiki-me.com.uk # the shia revival by vali nazr#
(۴) [Dahr jamails mideast dispatches http // 
dahrjamailiraq.com/who-benefits] 

 
Read 154 times

تازہ مقالے