ہفته, 29 آگست 2020 10:20



کتاب کا تعارف
تحریر: ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام محبوب خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی نسبت سے ساری امت کو محبوب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ان کے حضور محبتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اوراسلام کے لیے ان کی عظیم قربانی کو دین مبین کی بقا کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ہم اسلام ٹائمز کے ناظرین کی خدمت میں اہل سنت کے متعدد اکابر و نامور علما کی امام حسین علیہ السلام سے محبت کے اثبات کے لیے ان کی لکھی ہوئی کتابوں کا تعارف پیش کر چکے ہیں۔ پیش نظر سطور میں ہم معاصر شخصیات میں سے ایک ایسی شخصیت کی کتاب کا تعارف پیش کررہے ہیں جو بلند مرتبہ صوفی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ خاندان حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ سے نسبت کی وجہ سے پاکستان کے عامۃ المسلمین میں ایک خاص محبوبیت رکھتا ہے۔ خود حضرت سلطان العارفین ؒکے بعض اشعار امام حسین علیہ السلام کے بارے میں زبان زدخاص و عام ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

جیکر دین علم وچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ہو
اٹھاراں ہزار جو عالم آہا، اوہ اگے حسینؑ دے مردے ہو
جے کجھ ملاحظہ سرورؐ دا کردے تاں خیمے تمبو کیوں سڑدے ہو
جیکر مندے بیعت رسولی تاں پانی کیوں بند کردے ہو
پر صادق دین تنھاندے باھو جو سر قربانی کردے ہو
’’سعادت الکونین فی مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ‘‘ پیر محمد خالدسلطان القادری سروری کی تصنیف ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اور اس کے ٹائٹل پر بھی لکھا ہے کہ یہ ’’فضائل و مناقب سیدامام حسین‘رضی اللہ عنہ‘ ‘پرمشتمل کتاب ہے جو پہلی مرتبہ جنوری 2015میں شائع ہوئی، ہمارے پیش نظر اس کی اشاعت دوم کا نسخہ ہے جو فروری 2016 میں شائع کیا گیا۔ اسے الصالحین پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ پیر محمد خالد سلطان قادری عصر حاضر کی معروف اور بلند مرتبہ مذہبی شخصیات میں سے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے رکن رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ جماعت اہل سنت کے ناظم اعلیٰ بھی ہیں۔
پیر صاحب نے انتساب لکھتے ہوئے بھی حضرت سلطان باہوؒ کا یہ خوبصورت مصرع لکھا ہے:
سچا عشق حسین علی دا سر
دیوے راز نہ بھنے ہو
کتاب کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں:
صحیح اور مستند روایات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ حضورﷺکس طرح حضرت مام حسین رضی اللہ عنہسے محبت کرتے تھے، کس طرح امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھوں پر سوار کرتے تھے، کس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہکا رونا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا کس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے جنت سے کپڑے آتے تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید کربلا امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب نواسے تھے اور جس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺنے محبت اور پیار کیا تھا اس کی مثال ملنا محال ہے۔(ص 6و7)
امام حسین علیہ السلام کے بارے میں پیر خالد سلطان صاحب نے جن روایات کی طرف اس پیراگراف میں اشارے کیے ہیں ان کی تفصیل کتاب کے اندر مختلف مواقع پر موجود ہے۔ امام حسینعلیہ السلام کے بارے میں خوبصورت منقبتیں بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ چند شعر ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
حسین کیا ہے! تمام غیرت کی ایک آواز غازیانہ
حسین کیا ہے! یزیدیت کے بدن پہ عبرت کا تازیانہ
حسین وہ ہے کہ جیت جس کو، ادب سے جھک کر سلام کرلے
حسین وہ ہے جو نوک نیزہ پہ، خود خدا سے کلام کرلے
یزیدیوں کو یہ وہم کیوں ہے، کہ صرف اک دن حساب ہو گا
حسین سے جو جہاں بھی الجھے وہیں پہ خانہ خراب ہو گا
    (ص14)
پیر صاحب نے سورہ شوریٰ کی آیت 23 جسے آیہ مودت کہتے ہیں کی شان نزول میں ابن عباسؓ کی وہ مشہور روایت درج کی ہے جو طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے جس میں ہے کہ ابن عباس ؓکہتے ہیں:
لما نزلت’’ قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی ‘‘ قالو یا رسول اللہ، ومن قرابتک ھولاء الذین وجبت علینا مودتھم؟ قال: علی و فاطمۃ و ابنا ھما۔
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں عرض کیا کہ وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر ضروری ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے ہیں۔(معجم کبیر، طبرانی، حدیث 2575)(ص26)
اس طرح انھو ںنے آیت تطہیر کی بھی شان نزول بیان کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضی، حضرت سیدۃ النساء فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی۔(ص27)
آیات کریمہ کے ذکر کے بعد انھوں نے احادیث سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ترمذی شریف کی ایک روایت لکھنے کے بعد اس کا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں:
حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات میں دیکھا کہ آپ اپنی مبارک اونٹنی قصواء پر جلوہ گر ہیں اور خطاب فرما رہے ہیں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک میں تم کو دو عظیم نعمتیں دے کر جارہا ہوں جب تک تم انھیں تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: وہ کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت ہیں۔ (ترمذی شریف،ج2، ص 219، حدیث 3718)(ص30)
پیر صاحب نے مختلف روایات اور واقعات کی مدد سے یہ بات واضح کی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو اہل بیت علیہم السلام سے بہت سے زیادہ محبت تھی۔اس سلسلے میں انھوں نے حدیث اور تاریخ سے متعدد روایات اور واقعات نقل کیے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے حوالے سے انھوں نے ایک سرخی یہ جمائی ہے:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حب علی رضی اللہ عنہ
اس کے تحت وہ لکھتے ہیں:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اورزید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر خم میں قیام پذیر ہوئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دو مرتبہ فرمایا: تم نہیں جانتے ہو کہ میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ عزیز و پیارا اور بہتر ہوں؟ سب نے کہا:ہاں یا رسول اللہ۔ پھر آپ نے فرمایا: 
اللھم من کنت مولاہ فعلی ومولاہ اللھم و ال من والاہ وعادمن عاداہ
اے اللہ! جس کا میں دوست ہوں علی (رضی اللہ عنہ) بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! اس سے محبت رکھ جو علی (رضی اللہ عنہ) سے محبت رکھے  اور اس سے دشمنی رکھ جو علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی رکھے۔
اس واقعہ کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:
 ’’ھنیئا یا ابن ابی طالب اصبحت وامسیت مولی کل مومن ومومنۃ‘‘۔ 
اے ابن ابی طالب! تم صبح و شام خوش رہو اور تمھیںہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت کا مولیٰ ہونا مبارک ہو۔(مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد، 565)(ص41و42)
ہم پر یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ جب مقدمے میں نبی پاکؐ نے یہ فرمایا کہ کیا میں ہرمومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ عزیز و پیارا اور بہتر ہوں؟ تو پھر اگلی عبادت میں مولا کا معنی دوست کیسے ہو گیا؟ مولا کا معنی وہی رہے گا جو مقدمے میں کیا گیا ہے یعنی ہر مومن کے لیے اس کی جان سے زیادہ عزیز پیارا اور بہتر۔
اسی طرح پیر صاحب نے واضح کیا ہے کہ تابعین بھی اہل بیت  علیہم السلام سے محبت رکھتے تھے۔ اہل سنت کے بلند مرتبہ فقہا کی اہل بیت  علیہم السلام سے محبت کے لیے بھی انھوں نے نقلی دلائل پیش کیے ہیں۔ امام شافعیؒ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پر اہل بیت کی محبت و مودت کی وجہ سے ملائوں نے شیعہ اور رافضی ہونے کے فتوے اور تہمت لگائی۔ یاد رہے کہ چاروں آئمہ فقہ کی فطرت میں محبت اور مودت اہل بیت تھی، ان کے علم اور ایمان کا خمیر محبت اور مودت اہل بیت سے اٹھا تھا۔ امام شافعی نے اپنے دیوان میں ایک رباعی لکھی:
یا آل بیت رسول  اللہ حبکم
فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
یکفیکم من عظیم الفخرانکم
من لم یصل علیکم لا صلاۃ لہ
اے اہل بیت رسول تمھاری محبت اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرض کر دی ہے اور اس کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے۔
اے اہل بیت تمھاری عظمت اور تمھاری شان اور تمھاری مکانت کی بلندی کے لیے اتنی دلیل کافی ہے کہ جو تم پر درود نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔(ص50)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ یزید کے بارے میں کیا حکم کرتے ہیں؟ انھوں نے جو فتویٰ دیا آفاق عالم میں آج تک اس کی آواز گونجتی ہے فرمایا:
میرے نزدیک یزید کافر ہے۔ (ص50و 51)
پیر صاحب نے جہاں یہ حدیث نقل کی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں، وہاں انھوں نے ’’حجۃ الوداع سے واپسی کے وقت محبت اہل بیت پر خطبہ‘‘ کے زیر عنوان صحیح مسلم کی ایک حدیث نقل کی ہے جس کا ترجمہ وہ یوں لکھتے ہیں:
حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز مقام غدیر خم میں خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے جلوہ گر ہوئے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے پس آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا، تعریف بیان کی اور وعظ فرمایا، نصیحتیں فرمائیں اور آخرت کی یاد دلائی پھر ارشاد فرمایا: امابعد: اے لوگو! بیشک میں جامۂ بشری میں جلوہ گر ہوا ہوں، عنقریب میرے رب کا قاصد میرے پاس آئے گا اور میں اس کی دعوت کو قبول کروں گا اور میں تم میں دو عظیم ترین نعمتیں چھوڑے جارہا ہوں ان میں سے ایک کتاب اللہ ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ تو تم اللہ کی کتاب کو تھام لو اور مضبوطی سے پکڑے رہو، اس کے بعد آپ  نے قرآن کریم کے بارے میں تلقین فرمائی اور اس کی طرف ترغیب دلائی پھرارشاد فرمایا: (دوسری نعمت) اہل بیت کرام ہے میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں، میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتاہوں میرے اہل بیت کے بارے میں۔
(مسلم شریف ج:2، ص279،حدیث:2408 مشکوۃ المصابیح: ص 68، زجاجۃ المصابیح ج:5،ص317تا319)(ص55)
امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے حوالے سے متعدد روایات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپؑ نے گریہ فرمایا۔ ایسی ہی ایک روایت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچی جان حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے منقول ہے جسے زیر نظر کتاب میں نقل کیا گیا ہے ہم اس کے آخری حصے کا ترجمہ نقل کرتے ہیںجس کے مطابق حضرت ام الفضلؓ کہتی ہیں: 
پھر ایک روز میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں پیش کیا پھر اس کے بعد کیا دیکھتی ہوں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چشمان اقدس اشک بار ہیں، یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان! اشکباری کا سبب کیا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے میری خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس بیٹے کو شہید کریں گے۔ میں نے عرض کیا سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ اس شہزادے کو شہید کریں گے؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں! اور جبرئیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی۔
(دلائل النبوۃ للبہیقی، حدیث نمبر:2805۔ مشکوۃ المصابیح، ج1، ص572، زجاجۃ المصابیح، ج5، ص:227و228، باب مناقب اہل بیت)(ص59)
کتاب میں متعدد ایسی روایات درج کی گئی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریمؐ حسنین کریمین علیہما السلام کو اپنا بیٹا کہتے تھے۔ ان میں سے ایک روایت ملاحظہ کیجیے:
سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: علی رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تلاش میں متوجہ ہوئے تو انھیں پانی پینے کی جگہ پر کھیلتے ہوئے پایا اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! خیال رکھنا میرے بیٹوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لے آنا۔ (حاکم ، المستدرک: 180:3:رقم4774)(ص62)
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی تفصیلی پیشگوئیاں معتبر احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے آئی ہیں۔ ایسی روایات بھی موجود ہیں جن میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت سے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے۔ ایک روایت جو زیر نظر کتاب میں نقل کی گئی ہے اس کا ترجمہ ہم اسی کتاب سے نقل کرتے ہیں:
یقیناً میرا یہ بیٹا یعنی حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ایک علاقہ میں شہید کیا جائے گا، جسے کربلا کہا جائے گا، تو افراد امت میں سے جو اس وقت موجود ہو اسے چاہیے کہ ان کی نصرت و حمایت میں کھڑا ہو جائے۔(کنزالعمال،حدیث نمبر، 34314)(ص83)
کتاب میں امام حسین علیہ السلام کی عظمت، ان کا مقام علمی و اخلاقی نیز ان کی بہت سی کرامات کا بھی ذکر موجود ہے۔ 
ایک باب ’’واقعہ کربلا وشہادت امام حسین رضی اللہ عنہ ‘‘کے عنوان سے بھی باندھا گیاہے، جس میں یزید کی ولی عہدی سے لے کر آپ کے سفر کربلا اور پھر میدان کربلا میں شہادت کے واقعات، نیز آپ کے اہل بیت اور مخدرات عصمت کی اسیری کی طرف بھی کچھ اشارہ موجود ہے۔ 
ایک اور باب ’’حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ غیروں کی نظر میں ‘‘ بھی قابل مطالعہ ہے جس میں مختلف غیر مسلم شخصیات کا امام حسین علیہ السلام کے لیے اظہار محبت و مودت موجود ہے ، بڑے بڑے مفکرین اور دانشوروں نے آپ کی عظمت کے گیت گائے ہیں اور آپ کی عظیم الشان قربانی کی تاثیر کو بیان کیا ہے۔ ان میں سے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی عبارت ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں، وہ اپنی کتاب ’’سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ ‘‘میں لکھتے ہیں:
راہ حق پر چلنے والے جانتے ہیں کہ صلوۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچی گواہی خون کی گواہی ہے، تاریخ کے حافظے سے بڑے سے بڑے شہنشاہوں کا جاہ و جلال، شکوہ و جبروت، شوکت و حشمت سب کچھ مٹ جاتا ہے لیکن شہید کے خون کی تابندگی کبھی مانند نہیں پڑتی۔ اسلام کی تاریخ میں کوئی قربانی اتنی عظیم، اتنی ارفع اور اتنی مکمل نہیں ہے جتنی حسین ابن علی کی شہادت، کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہو لہان ہوئی تو درحقیقت وہ خون ریت پر نہیں گرا بلکہ سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین ابراہیمی کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے سینچ گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایک ایسے نور میں تبدیل ہو گیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے نہ نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے اس نے اسلام کو جس کی حیثیت اس وقت ایک نوخیز پودے کی سی تھی، استحکام بخشا اور وقت کی آندھیوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔(ص145)
پیر محمد خالد سلطان قادری نے کتاب کے آخر میں ضروری سمجھا کہ یزید کے مدافعین کو بھی مخاطب قرار دیں جو امام حسین علیہ السلام کی ظاہر و باہر عظمت کے باوجود یزید جیسے ننگِ انسانیت کے لیے اپنے دل میں کسک محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے باب کا عنوان ہی یہ رکھا ہے’’یزید پلید کو رضی اللہ عنہ کہنا کیسا‘‘۔کتاب کے باقی تمام صفحات پر انھوں نے یزید ہی کی خبر لی ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں انھو ںنے یہ سرخی جمائی ہے’’یزید کو نادم اور بے قصور کہنے والوں سے ہمارے سوالات‘‘۔ ہم یہی سوالات نقل کرکے ان مطالب کو سمیٹتے ہیں:
سوال: یزید اگر ظالم نہ تھا تو اس نے صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے ابن زیاد کو کوفے کا گورنر کیوں بنایا؟
سوال: اگر اس کے کہنے پر سب کچھ نہیں ہوا تو اس نے معرکہ کربلا کے بعد ابن زیاد، ابن سعد اور شمر کو سزائے موت کیوں نہیں دی؟
سوال: معرکہ کربلا کے بعد اہل بیت کی خواتین کو قیدیوں کی طرح کیوں رکھا گیا؟
سوال: حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے سامنے اپنی فتح کا خطبہ کیوں پڑھا؟
سوال: جب اس کے دربار میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر انور لایا گیا تو اس پر اس نے چھڑی کیوں ماری؟
سوال: اگر یزید بے قصور تھا تو اس نے گھرانہ اہلبیت سے معافی کیوں نہیں مانگی؟
سوال: معرکہ کربلا کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حرمتی کیوں کی گئی؟ اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے تاریخ الخلفاء میں لکھا کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںگھوڑے باندھے گئے۔
سوال: بیت اللہ پر یزید نے سنگ باری کیوں کروائی؟ امام سیوطی علیہ الرحمہ کے مطابق بیت اللہ میں آگ لگی اور غلاف کعبہ جل گیا۔(ص 169)
نوٹ: ہم نے کتاب سے منقول تمام عبارات اور ان کے ساتھ القاب وغیرہ نیز ترجمہ و حوالہ جات اسی کتاب کے مطابق نقل کیے ہیں۔ 


 
* * * * *
Read 125 times Last modified on ہفته, 29 آگست 2020 10:26

تازہ مقالے