ہفته, 29 آگست 2020 10:06



تحریر: سید اسد عباس
مقدمہ:انسانی تاریخ اور اس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حادثات اپنی نوعیت کے اعتبار سے  چاہے جس قدر نئے ہوں، اکثر ایسے حادثات یا واقعات کی نظیر تاریخ انسانیت میں ضرور ملتی ہے تبھی تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ انسانی تاریخ میں خون ریزی کا پہلا واقعہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہے۔ آج بھی انسانی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والا ہر بے گناہ مقتول ہابیل کی یاد تازہ کرتا ہے اور قاتل قابیل کے کردار کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔  اسی طرح بعض تاریخی واقعات اور حادثات نہ فقط انسان کی انفرادی روش سے متعلق ہوتے ہیں بلکہ یہ واقعات نسل انسانی کی منزل اور سمت کے تعین میں بھی راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا، اس کی وجوہات، پس منظر ، اثرات اور امام حسین علیہ السلام کے اقدامات بھی انسانی تاریخ کی ایسی انوکھی مثال ہیں جس سے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں نے راہنمائی لی۔ اس عظیم سانحہ کے بعد جب بھی کوئی انسان ایسی مشکل سے دوچار ہوا جہاں اسے اصولوں اور زندگی میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑا تو امام حسین علیہ السلام کا اسوہ ہمیشہ ایک معیار کے طور پر اس شخص کے پیش نظر رہا۔

واقعہ کربلا کے بعد سے اب تک بہت سے حریت پسندوں نے امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جس میں مذہب و مکتب کی کوئی تمیز نہیں۔ آج بھی ایسے حادثات و واقعات جن کا تعلق حکومتی و ریاستی جبر سے ہو، میں 61  ہجری اور اس سے قبل کے عرب معاشرے کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ زیر نظر مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ موجودہ دور کے عالمی حالات اور 61 ہجری کے عرب معاشرے کا موازنہ کرکے راہ حسینی کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 61 ہجری سے قبل کے معاشرتی حالات کو بھی اہلبیت اطہار علیہم السلام کے فرامین سے ہی اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ زیر نظر مقالے میں ان اقوال اور خطبات کا تذکرہ حالات سے آگاہی کے لیے ہے۔ ایک اور ضروری بات، ضروری نہیں کہ فقط اس وقت دنیا کے عالمی حالات میں ہی 61 ہجری یا اس سے قبل کے عرب معاشرے سے مماثلت پائی جاتی ہو بلکہ عین ممکن ہے کہ ریاستوں میں موجود آمرانہ حکومتوں کا کردار، حتی کہ چھوٹے دیہاتوں اور اداروں میں بھی ہمیں ایسے کردار نظر آئیں جو واقعہ کربلا کے کرداروں سے مماثلت رکھتے ہوں تاہم زیر نظر مقالے میں ہمارا محور موجودہ دنیا کے عالمی حالات ہی ہیں۔
عرب معاشرہ
حجاز کا معاشرہ ایک قبائلی معاشرہ تھا جس میں مختلف نسلوں کے افراد آباد تھے جن میں بنی عدنان یعنی عرب مستعاربہ اور بنو قحطان یعنی عرب معاربہ قابل ذکر ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں ایک شخص عدنان ہوئے ہیں۔ ان کی اولاد بنو عدنان کہلائی۔ عدنان کے بیٹے کا نام معد اور پوتے کا نام نزار تھا۔ اس لیے آل عدنان کو معدی اور نزاری بھی کہتے ہیں۔ نزار کے ایک بیٹے مضر کی اولاد میں فہر بن مالک تھے۔ جن کو قریش بھی کہتے تھے۔ یہ خاندان قریش کے جد اعلیٰ ہیں۔ ان کی اولاد میں بنی سہم، بنی مخزوم، بنی عدی، بنی عبد الدار، بنی زہرہ اور بنی عبد مناف زیادہ مشہور قبیلے ہیں۔ اولاد ابراھیم و اسماعیل ہونے کے باوجود عرب معاشرہ بہت سی خرافات کا شکار ہو چکا تھا۔ 
یہاں ایک غلط فہمی کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ یہ کہ رسالت مابؐ کی زندگی سے قبل بیان کی جانے والی خرابیاں معاشرے کے ہر فرد میں موجود نہیں تھیں۔ اسی طرح آپؐ کی بعثت کے بعد بیان کی جانے والی خوبیاں بھی معاشرے کے ہر فرد سے متعلق نہیں ہیں۔ بعثت سے قبل بیان کی جانے والی خرابیاں معاشرے کا ایک عمومی تاثر تھیں اسی معاشرے میں عبد المطلب کا گھرانہ بھی تھا جو اپنے اعلی خصائل کی وجہ سے معروف تھے۔ اسی طرح اسلام کے عروج کے بعد بیان کی جانے والی مسلمان معاشرے کی خوبیاں سماج کا ایک عمومی تاثر تھیں، ایسا نہیں ہے کہ اس زمانے کا ہر شخص مخلص اور پکا مسلمان ہو چکا تھا نیز اپنی قبائلی عادات اور خرابیوں کو مکمل طور پر ترک کر چکا تھا۔ قرآن کریم میں منافقین کا تذکرہ، مختلف مواقع پر مسلمانوں کو سرزنش اس بات کا بین ثبوت ہے کہ معاشرے میں ایسے عناصر یا افراد موجود تھے جن میں خامیاں موجود تھیں۔ رسالت ماب ص کے دور میں معاشرتی بیلنس نیکی کی جانب جھکاو کا حامل تھا جو آپؐ کی رحلت کے بعد دوبارہ سابقہ روش کی جانب لوٹنے لگا۔
بعثت سے قبل عرب معاشرے کی صورتحال بیان کرتے ہوئے امیر المومنینؑ فرماتے ہیں:
ان اللہ بعث محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نذیرا للعالمین و امینا علی التنزیل و انتم معاشرالعرب علی شردین ۔۔  ۱
یقینا اللہ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالمین کیلیے عذاب الھی سے ڈرانے والا اور تنزیل کا امانت دار بنا کر اس وقت بھیجا جب تم گروہ عرب بدترین دین پر تھے۔ 
ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: 
واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ،ابتعثہ و الناس یضربون فی غمرة ویموجون فی حیرة قد قادتھم ازمة الحین واستغلقت علی افئدتھم اقفال الرین۔ ۲
اور میں گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، انہیں اس وقت بھیجا گیا جب لوگ گمراہیوں میں چکر کاٹ رہے تھے اور حیرا نیوں میں غلطاں و پیچاں تھے،ہلاکت کی مہاریں انہیں کھینچ رہی تھیں  اور قدورت و  زنگ کے تالے ان کے دلوں پر پڑے ہوئے تھے۔
عرب سرزمین اور فضا کی حالت امیر المومنین ع کی زبانی:
ان اللہ بعث محمدا ص۔۔۔و انتم ۔۔۔۔فی شر دار ،منیخون بین حجارة خشن ،و حیات صم ۔۔۔۔ ۳
خدانے اس وقت رسالت مآب ص کو مبعوث کیا جب تم بدترین علاقہ کے مالک تھے ،ناھموار پتھروں اور زھریلے سانپوں کے درمیان بودوباش رکھتے تھے ۔
عربوں کی خوراک کے بارے امیر کائنات کہتے ہیں:
و انتم معاشر العرب تشربون الکدر ۔۔۔۔ و تاکلون الجشب  ۴
یعنی جب پیغمبر اکرم ص کو مبعوث کیا گیا تو تم عرب گدلا پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کرتے تھے ۔
معاشرتی حالت کو بیان کرتے ہوئے مولائے کائناتؑ کہتے ہیں:
وتسفکوں دمائکم و تقطعون ارحامکم ۔ ۵
اور تم ایک دوسرے کا خون بھاتے تھے اور قرابت داروں سے بے تعلقی رکھتے تھے ۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
فالاحوال مضطربة ،و الایدی مختلفة ۔و الکثرة متفرقة ،فی بلاء ازل ،و اطباق جھل ،ابن بنات موودة ،و اصنام معبودة ،و ارحام مقطوعة ،و غارات مشنونة   ۶
ترجمہ :حالات مضطرب ،طاقتیں منتشر ،کثرت میں انتشار ،بلائیں سخت ،جھالت تہ بہ تہ ،زندہ درگور بیٹیاں ،پتھر معبود ،رشتہ داروں سے لاتعلقی ،ہرطرف سے حملوں کی یلغار ۔
بعثت سے رحلت رسول ﷺ تک
بعثت رسول اکرم ص اور ان کی مکی و مدنی زندگی کا اثر یہ ہوا کہ عرب معاشرے کا عمومی تاثر تبدیل ہونے لگا۔طہارت و نجاست، حلال و حرام، توحید و شرک، صلہ رحمی،انسانیت، وحدت، محبت، بھائی چارہ، ایثار و قربانی، جہاد و شہادت، خدا خوفی اور اس جیسے خصائل اب عربوں کی شناخت بننے لگے۔ اس کے باوجود عرب معاشرے میں قبیلہ ایک مضبوط اکائی تھا، قبیلے کے سردار کا فیصلہ پورے قبیلے پر ویسے ہی لاگو ہوتا تھا جیسا کہ قبل اسلام یا بعد از اسلام لاگو ہوتا تھا۔ اسی لیے تو سقیفہ بنی سعدہ میں مسلمانوں کی خلافت کے حوالے سے کیا جانے والا فیصلہ سوائے چند مسلمانوں کے تمام انصار و مہاجرین نے قبول کیا، اگرچہ اس سلسلے میں رسالت مابؐ  کے بعض فرامین بھی موجود تھے تاہم ان فرامین کو دینی نیابت سمجھا گیا، سیاسی نیابت کا انتظام اہل مکہ و مدینہ نے خود کیا۔ نیابت کا یہ نظام ہر حکومت کے ساتھ بدلتا رہا کبھی تنصیب، کبھی شوری اور کبھی عوامی رائے۔
اسلامی ریاست میں بغاوت
درج بالا صورتحال ایک بگاڑ تھی جس نے اسلام اور مسلمانوں کو الہی قیادت سے محروم کر دیا اور تربیت و نظم کا وہ سلسلہ جو رسالت مابؐ کی زندگی تک قائم تھا غیر موثر کر دیا گیا۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کے دور تک معاملات اس حد تک بگڑ چکے تھے کہ شام کے گورنر نے حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔ امیر المومنین ع نے اپنے دور حکومت میں مختلف بغاوتوں کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی جس سے مسلمانوں کے مابین آپسی جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شہادت امیر المومنین ع کے بعد زمام حکومت فرزند رسول ص امام حسن علیہ السلام کے ہاتھوں میں آئی۔ اپنے والد کی مانند امام حسن علیہ السلام نے بھی شام سے اٹھنے والی بغاوت کو کچلنے کی کوشش کی تاہم حالات بہت بدل چکے تھے، دنیاوی مفادات کی جانب توجہ اس قدر بڑھ چکی تھی کہ امام حسن علیہ السلام اپنے آپ کو اپنے خیمے میں بھی محفوظ نہ سمجھتے تھے۔ اپنے ہی ساتھیوں کی جانب سے ان کو حملوں کا خطرہ لاحق رہتا تھا جس کے سبب لباس کے نیچے زرہ زیب تن رکھتے تھے۔ امام حسن علیہ السلام معاشرے کی عمومی تنزلی کے خلاف حق کا پرچم بلند کرکے کھڑے رہے تا وقتیکہ آپ میدان جنگ میں جانے سے عاجز ہو گئے اور صلح پر مجبور کر دیئے گئے۔ امام حسن علیہ السلام کی صلح بنیادی طور معاشرے کی بالعموم اور ہمراہیوں کی بالخصوص دنیا پرستی کا نتیجہ ہے۔ 
عرب زراعت اور تجارت سے متمسک تھے۔ مسلسل جنگوں کی سبب ان کی معیشت کمزور ہوتی گئی۔ کمزور معاشی حالات کے سبب قبائلی سردار اور ان کے لشکر اس بات پر مجبور تھے کہ اپنے روزمرہ امور کو چلانے نیز قبیلے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے طاقت ور گروہ کا انتخاب کریں جہاں وسائل کی بہتات ہو۔ ایک جانب امیر المومنینؑ تھے جو اپنے بھائی عقیل کو بھی بیت المال سے اضافی رقم مہیا نہیں کرتے اور دوسری جانب امیر شام جس نے وسائل کو ایک سیاسی حیلے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ رشوت، انعامات، پراپیگنڈہ کے ذریعے قبائلی سرداروں کی خرید و فروخت کا بازار گرم ہوا۔  وہ سردار جو دنیاوی لالچ میں نہ آئے ان کو دھونس، دھمکی اور جبر کے ذریعے دبایا جانے لگا۔ 
معاشرتی انحراف کا احوال امام حسین ؑ کی زبانی
امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے اقوال نیز تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ شہادت امیر المومنینؑ  کے بعد عرب معاشرے کے عمومی حالات کس نہج پر تھے۔ انہی اقوال میں سے چند کا تذکرہ عرب معاشرے کی کیفیت کو سمجھنے کے لیے پیش خدمت ہے۔
حق و باطل کے  معیارات کا بدل جانا
امام حسین علیہ السلام اپنے ایک خطبے میں جو آپؑ نے حج کے موقع پر علماء اور خواص کی ایک جماعت کے سامنے ارشاد فرمایا کہتے ہیں:
فاستخففتم بحق الائمۃ ، فاما حق الضعفاء فضیعتم ، و اما حقکم بزعمکم فطلبتم فلا مالا بذلتموہ ، ولا نفسا خاطرتم بھا للذی خلقہا ولا عشیرہ عادیتموھا فی ذات اللہ۔ سلطھم علی ذالک فرارکم من الموت، واعجابکم بالحیاۃ التی ھی مفارقتکم ۔ فاسلمتم الضعفاء فی ایدیھم فمن بین مستعبد مقھور و بین مستضعف علی معیشۃ مغلوب فیا عجبا وما لی اعجب و الارض من غاش غشوم و متصدق ظلوم و عامل علی المومنین بھم غیر رحیم ۔۔۔۷
یہاں امام عالی مقام اپنے مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اللھم انک تعلم انہ لم یکن ما کان منا تنافسا فی سلطان ولا التماسا من فصول الخصام ، ولکن لنری المعالم من دینک و نظھرا الاصلاح فی بلادک ، ویامن المظلومون من عبادک ، ویعمل بفرائضک وسننک و احکامک ۔ فانکم الا تنصرونا تنصفونا قوی الظلمۃ علیکم، و علموا فی اطفاء نور نبیکم  و حسبنا اللہ ، وعلیہ توکلنا و الیہ انبنا و الیہ المصیر۔ 
(اے گروہ علماء) تم نے امت کے حقوق کو نظر انداز کیا، معاشرے کے کمزور لوگوں کے حق کو ضائع کیا اور جسے اپنے زعم میں اپنا حق خیال کرتے تھے طلب کیا اور بیٹھ رہے۔تم نے( حقوق کے معاملے میں) نہ تو کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور نہ اللہ کی خاطر کسی قوم و قبیلہ کا مقابلہ کیا۔ان کے (حکومت پر )قبضہ کرنے کی وجہ تمھارا مو ت سے فرار اور اس عارضی زندگی سے محبت ہے۔تم نے معاشرے کے کمزور لوگوں کو ان (امویوں ) کے سپرد کردیا جن میں سے کچھ غلاموں کی مانند کچل دیے گئے اور کچھ اپنی معیشت کے ہاتھوں بے بس ہو گئے۔تعجب ہے  !  اور کیوں نہ تعجب کیا جائے کہ زمین ایک دھوکہ باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے اور اس کے عامل مومنین کے لیے بے رحم ہیں ۔
بارالہا! تو جانتا ہے کہ ہمارا کوئی بھی اقدام نہ تو حصول اقتدار کے لیے رسہ کشی ہے اور نہ ہی مال کی زیادتی کے لیے ۔ہم تو چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کریں اور تیری زمین پر بھلائی عام کریں،تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور تیرے فرائض ، سنتوں اور احکام پر عمل ہو۔ اے لوگو !اگر آج تم نے ہماری مدد نہ کی اور ہم سے انصاف نہ کیا تو ظالم تم پر غالب آجائیں گے اور تمھارے نبی کے نور (دین خدا) کو خاموش کرنے میں زیادہ متحرک ہو جائیں گے ۔
ہمارے لیے خدا ہی کافی ہے اسی پر ہم توکل کرتے ہیں اسی کی جانب ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔
جبر اور دھوکہ کے ذریعے مقصد کا حصول 
امیر شام یزید کی بیعت کی غرض سے مدینہ آیا جبکہ صلح امام حسن ؑ کی اہم شق یہ تھی کہ امیر شام اپنے بعد کسی شخص کو اپنی جگہ متعین نہیں کرے گا ۔ امام حسین علیہ السلام نے امیر شام کے یزید کی صفات میں بیان کردہ خطبے کے جواب میں فرمایا:  
یا معاویہ فلن یودی القائل و ان اطنب فی صفۃ الرسول ؐ من جمیع جزء ا وقد فہمت ما لبست بہ الخلف بعد رسول اللہ ؐ من ایجاز الصفۃ والتنکب عن استبلاغ النعت۔ و فہمت ما ذکرتہ عن یزید من اکتمالہ و سیاستہ لامۃ محمد ؐ ترید ان توھم الناس فی یزید کانک تصف محجوبا او تنعت غائبا او تخبر عما کان مما احتویتہ بعلم خاص ، وقد دل من نفسہ علی موقع رایہ، فخذ لیزید فیما اخذ فیہ من استقرائہ الکلاب المہارشۃ عند التہارش، و الحمام السبق لا ترابہن ، و القیان ذوات المعازف و ضروب الملاھی تجدہ باصرا ودع عنک ما تحاول ۔ ۸
اے معاویہ ! تعریف کرنے والا چاہے کتنی ہی تعریف کرے صفات رسول ؐ کا ایک جز بھی بیان نہیں کر سکتا۔ اور تم تو بخوبی جانتے ہو کہ آنحٖضرت ؐ کی وفات کے بعد لوگوں نے آنحضرت کی صفات بیان کرنے میں کتنی کمی کر دی اور آپؐ کی ثناء میں کیسا ظلم روا رکھا۔ ۔۔۔۔۔جو کچھ تم نے یزید کے کمالات اور امت محمدیؐ کے لیے اس کی سیاست دانی کا ذکر کیا تو میں سمجھتا ہوں  تم چاہتے ہو کہ یزید کے بارے میں لوگوں کو ایسے دھوکے میں رکھو گویا تم ان کے سامنے کسی پوشیدہ شخصیت والے کی صفت بیان کر رہے ہو اور کسی غائب کی تعریف کر رہے ہو یا تم کسی ایسی چیز کا ذکر کر رہے ہو جسے تم نے مخصوص ذرائع سے حاصل کیا ہے ۔حالانکہ اس ( یزید) نے اپنا   تعارف(اعمال سے) خود کرا دیا ہے۔لہذا تم بھی یزید کے لیے وہی چیزیں اختیار کرو جو اس نے خود اپنے لیے اختیار کی ہیں ۔جیسے لڑائی کے لیے کتوں کا پالنا،کبوتروں کی پرورش،گانے بجانے والیاں اور اسی قسم کے دیگر شغل ۔ ہاں یزید ان شغلوں میں کافی مہارت رکھتا ہے ۔اس(یزید کی بیعت)خیال کواپنے سے دور کرو۔ 
مخالفین کا قتل ،بد عہدی اور ظلم میں تیزی
کتب تاریخ میں امیر شام کے خط کے جواب میں امام حسین علیہ السلام کا ایک خط بھی ملتا ہے جس میں امام عالی مقام نے عرب معاشرے کی کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
۔۔۔۔ الست القاتل حجر بن عدی اخا کندہ و اصحابہ المصلین العابدین ، کانوا ینکرون و یستفظعون البدع ویامرون بالمعروف ، و ینھون عن المنکر۔ولا یخافون فی اللہ لومۃ لائم ؟
۔۔۔۔او لست قاتل عمر و بن الحمق صاحب رسول اللہ ؐ العبد الصالح، الذی ابلتہ العبادہ فنحل جسمہ و اصفر لونہ؟
۔۔۔ولقد نقضت عھدک بقتل ھو لاء النفر الذین قتلتھم بعد الصلح والایمان ، و العھود و المواثیق فقتلتھم من غیر ان یکونوا قاتلو ا و قتلوا ، ولم تفعل بھم الا لذکر ھم فضلنا و تعظیمھم حقنا فقتلتھم مخافۃ امر لعلک لو لم تقتلھم مت قبل ان یفعلوا و ماتوا قبل ان یدرکوا۔
۔۔۔ ولیس اللہ بناس لاخذک بالظنۃ ، وقتلک اولیاءہ علی التھم ، ونفیک اولیائہ من دورھم الی دار الغربۃ ، و اخذک للناس ببیعۃ ابنک غلام حدث ، یشرب الشراب ، و یلعب بالکلاب۔ ۹
کیا تو حجر بن عدی ان کے بھائیوں اور نماز گزار ساتھیوں کا قاتل نہیں ہے جو تجھے ظلم کرنے سے روکتے تھے اور بدعتوں کے مخالف تھے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتے تھے  ؟
کیا تو صحابی رسول عمرو بن حمقؓ جیسے عبد نیک خصال کا قاتل نہیں ہے جن کا جسم عبادت خدا کی وجہ سے نڈھال ہو چکا تھا اور کثرت عبادت کے سبب ان کا رنگ زرد پڑ چکا تھا  ؟
یقینا تو نے عہد شکنی کی اس جماعت سے اور ان کو صلح کرنے، عہد کرنے  اور اس کی توثیق کے  بعد قتل کر ڈالا،تو نے ایسا نہیں کیا مگر فقط اس لیے کہ یہ لوگ ہمارے فضائل و مناقب بیان کرتے تھے اور ہمارے حق کو عظیم جانتے تھے پس تو نے ان کو صرف اس لیے قتل کیا کہ مبادا تو ان کو قتل کیے بغیر مر نہ جائے۔خدا نہیں بھولا ان گناہوں کو جو تو نے کیے،کتنوں کو محض گمان پر تو نے قتل کیا ۔ کتنے اولیائے خدا پر تو نے تہمت لگا کر انہیں قتل کیا ۔کتنے اللہ والوں کو تو نے ان کے گھروں سے نکال کر شہر بدر کیا اور کس طرح تو نے یزید جیسے شرابی اور کتوں سے کھیلنے والے کے لیے لوگوں سے زبردستی بیعت لی۔
عوام کی حالت اور ظالم کی اطاعت
امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے راستے نیز میدان کربلا میں متعدد خطبے دئیے جن میں بیان کردہ مطالب سے بھی عرب معاشرے اور عوام کی حالت کی تصویر کشی ہوتی ہے انہی خطابات میں ایک خطبہ مقام ذوحسم پر حر کے لشکر کے سامنے دیا گیا:
الا ترون ان الحق لا یعمل بہ و ان الباطل لا یتناھی عنہ، لیرغب المومن فی لقاء اللہ محقا فانی لا اری الموت الا شھادہ ولا الحیاۃ مع الظالمین الا برما۔ ۱۰
اے لوگو ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے پرہیز نہیں کیا جا رہا۔ ایسے میں مومن کو خدا سے ملاقات کا مشتاق ہونا  چاہیے ۔ میں موت کو شہادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو ننگ و عار سمجھتا ہوں۔
مقام بیضہ پر امام عالی مقامؑ نے حر کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا :
ایھا الناس ! ان رسول اللہ قال : من رای سلطانا جائرا مستحلا لحرام اللہ ناکثا عھدہ مخالفا لسنۃ رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان فلم یغیر علیہ بفعل ولا قول ، کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ ۔ الا و ان ھولاء قد لزموا طاعۃ الشیطان و ترکوا طاعۃ الرحمن و اظھروا الفساد و عطلو الحدود و استاثروا با لفی ء و احلو ا حرام اللہ و حرموا حلالہ وانا احق ممن غیر ۔ ۱۱
اے لوگو! رسول ؐ نے فرمایا: جو شخص ظالم بادشاہ کو خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال قرار دیتے، خدا کے عہد کو توڑتے، سنت رسول کی مخالفت کرتے اور خدا کے بندوں پر ظلم روا رکھتے ہوئے دیکھے اور قول و فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
انھوں (بنی امیہ )نے شیطان کے حکم کے تحت خدا کی اطاعت سے روگردانی کرلی ہے، فساد پھیلا رہے ہیں، خدا کی حدود کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کرتے بیت المال کو خود سے مخصوص کر لیا ہے، خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھ لیا ہے انھیں ان بدکاریوں سے روکنے کا میں خود کو سب سے زیادہ حق دار سمجھتا ہوں۔
مقام نبوت اور معدن رسالت ﷺ سے اغماض
امام حسین علیہ السلام رحلت رسول اللہ کے چند برسوں بعد ایک ایسے معاشرے سے دوچار تھے جنھوں نے منصب رسالت اور ان کے گھرانے کے شرف کو فراموش کر دیا تھا۔ ان کا یہ اغماض خاندان رسالت کے لیے نہیں بلکہ معدن رسالت سے دوری کے سبب خود ان کے لیے برے اثرات کا حامل تھا۔ اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے متعدد مواقع پر اس معدن کی جانب عوام کو متوجہ کیا۔مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ نے امام عالی مقام کو اس بیعت کے لیے دربار میں طلب کیا۔ بیعت کے سوال پر امام عالی مقام نے فرمایا:
ایھا الامیر انا اھلبیت النبوۃ و معدن الرسالۃ و مختلف الملائکہ وبنا فتح اللہ و بنا ختم اللہ ۔ ویزید ! رجل فاسق ، شارب الخمر ، قاتل النفس المحترمۃمعلن بالفسق ۔۔۔مثلی لا یباع بمثلہ۔ ۱۲
اے حاکم (مدینہ) ! میں نبی کی اہلبیت سے ہوں، میں رسالت کی کان سے ہوں ہمارا گھر ہی فرشتوں کی آماجگاہ ہے جبکہ یزید! ایک فاسق شخص ہے جو شراب پیتا ہے صاحب حرمت انسانوں کا قاتل ہے فسق و فجور کا کھلم کھلا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ 
اسی طرح کربلا میں امام ؑ نے لشکر یزید سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
ایھا الناس ! انسبونی من انا ثم ارجعوا الی انفسکم و عاتبوھا و انطروا ھل یحل لکم قتلی و انتھاک حرمتی؟ الست ابن بنت نبیکم و ابن وصیہ و ابن عمہ و اول المومنین باللہ والمصدق لرسولہ بما جاء من عند ربہ؟ او لیس حمزۃ سید الشھداء عم ابی؟او لیس جعفر الطیار عمی؟او لم یبلغکم قول رسول ؐ لی ولاخی : ھذان سید ا شباب اھل الجنۃ۔ ۱۳
اے لوگو ! میرا نسب یاد کرو، سوچو میں کون ہوں، ہوش میں آؤ اپنے نفسوں پر ملامت کرو اور غور کرو کیا مجھے قتل کرنا اور میری حرمت کو پامال کرنا تمھارے لیے روا ہے؟کیا میں تمہارے نبی ؐ کی بیٹی کا بیٹا اور رسول ؐ کے وصی اور چچا زاد کا بیٹا نہیں ہوں ؟ کیا میں اس کا بیٹا نہیں ہوں جو سب سے پہلے  اللہ پر ایمان لایا اور جس نے رسول ؐ کی باتوں کی سب سے پہلے تصدیق کی؟کیا سید الشہداء حضرت حمزہ میرے بابا کے چچا نہیں ہیں ؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہیں ہیں ؟کیا تم لوگوں تک رسول ؐ کا میرے اور میرے بھائی کے بارے میں یہ قول نہیں پہنچا کہ یہ دونو ں جوانان جنت کے سردار ہیں؟
اسی اغماض سے نکالنے کے لیے فرزند امام حسین علیہ السلام نے دربار یزید میں جو خطبہ دیا اس کے جملے بھی لائق توجہ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں :
لوگو! خدا نے ہمیں چھ امتیازات اور سات فضیلتوں سے نوازا ہے؛
ہمارے چھ امتیازات علم، حلم، سخاوت، فصاحت، شجاعت، اور مؤمنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں۔
ہماری ساتھ فضیلتیں یہ ہیں:
خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد ؐہم سے ہیں۔صدیق (امیرالمؤمنین علیؑ) ہم سے ہیں۔جعفر طیار ہم سے ہیں۔شیر خدا اور شیر رسول خدا حضرت حمزہ سیدالشہداء ہم سے ہیں۔اس امت کے دو سبط حسن و حسین ؑ ہم سے ہیں۔زہرائے بتول سلام اللہ ہم سے ہیں اورمہدی امت ہم سے ہیں۔
لوگو! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کروا کر اپنا تعارف کرواتا ہوں۔
لوگو! میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں،میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں،میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجر الاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھا کر اپنے مقام پر نصب کیا،میں بہترینِ عالم کا بیٹا ہوں،میں اس ‏عظیم ہستی کا بیٹا ہوں جس نے احرام باندھا اور طواف کیا اور سعی بجا لائے،میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں؛میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے،میں ان کا بیٹا ہوں جنہوں نے معراج کی شب مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی میں اس ہستی کا بیٹا ہوں جن کو جیرئیل سدرۃ المنتہی تک لے گئے،میں ان کا بیٹا ہوں جو زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ تھے دو کمان یا اس سے کم تر کے فاصلے پر [اور وہ پروردگار کے مقام قرب پر فائز ہوئے]میں ہوں اس والا صفات کا بیٹا جنہوں نے آسمان کے فرشتوں کے ہمراہ نماز ادا کی۔
میں ہوں بیٹا اس رسول کا جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی؛میں محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور علی مرتضی (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں۔میں اس شخصیت کا بیٹا ہوں جس نے مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کی ناک خاک پر رگڑ دی حتی کہ کفار و مشرکین نے کلمہ توحید کا اقرار کیا؛میں اس عظیم مجاہد کا بیٹا ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے اور آپ ؐکے رکاب میں دو تلواروں اور دو نیزوں سے جہاد کیا اور دوبار ہجرت کی اور دوبار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ پر بیعت کی؛ بدر و حنین میں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کیا اور لمحہ بھر کفر نہیں برتا؛میں اس پیشوا کا بیٹا ہوں جو مؤمنین میں سب سے زيادہ نیک و صالح، انبیاء علیہم السلام کے وارث، ملحدین کا قلع قمع کرنے والے، مسلمانوں کے امیر، مجاہدوں کے روشن چراغ، عبادت کرنے والوں کی زینت، خوف خدا سے گریہ و بکاء کرنے والوں کے تاج، اور سب سے زیادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل یسین (یعنی آل محمد ؐ ) میں سب زیادہ قیام و عبادت کرنے والے ہیں۔میرے دادا (امیرالمؤمنین ؑ) وہ ہيں جن کو جبرائیل ؑ کی تائید و حمایت اور میکائیل ؑ کی مدد و نصرت حاصل ہے،میں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بیٹا ہوں؛ وہی جو مارقین (جنگ نہروان میں دین سے خارج ہونے والے خوارج)، ناکثین (پیمان شکنوں اور اہل جمل) اور قاسطین (صفین میں امیرالمؤمنین ؑ کے خلاف صف آرا ہونے والے اہل ستم) کو ہلاک کرنے والے ہیں، جنہوں نے اپنے ناصبی دشمنوں کے خلاف جہاد کیا۔میں تمام قریشیوں کی سب سے افضل اور بر ترو قابل فخر شخصیت کا بیٹا ہوں اور اولین مؤمن کا بیٹا ہوں جنہوں نے خدا اور رسول ؐکی دعوت پر لبیک کہا اور سابقین میں سب سے اول، متجاوزین اور جارحین کو توڑ کر رکھ دینے والے اور مشرکین کو نیست و نابود کرنے والے تھے۔میں اس شخصیت کا فرزند ہوں جو منافقین کے لئے اللہ کے پھینکے ہوئے تیر کی مانند، عبادت گذاروں کی زبان حکمت ، دین خدا کے حامی و یار و یاور، اللہ کے ولی امر(صاحب ولایت و خلافت)، حکمت الہیہ کا بوستان اور علوم الہیہ کے حامل تھے؛ وہ جوانمرد، سخی، حسین چہرے کے مالک، تمام نیکیوں اور اچھائیوں کے جامع، سید و سرور، پاک و طاہر، بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشیت پر بہت زیادہ راضی، دشواریوں میں پیش قدم، والا ہمت اور ارادہ کرکے ہدف کو بہرصورت حاصل کرنے والے، ہمیشہ روزہ رکھنے والے، ہر آلودگی سے پاک، بہت زیادہ نمازگزار اور بہت زیادہ قیام کرنے والے تھے؛ انھوں نے دشمنان اسلام کی کمر توڑ دی اور کفر کی جماعتوں کا شیرازہ بکھیر دیا؛ سب سے زیادہ صاحب جرأت، سب سے زیادہ صاحب قوت و شجاعت ہیبت، کفار کے مقابلے میں خلل ناپذیر، شیر دلاور، جب جنگ کے دوران نیزے آپس میں ٹکراتے اور جب فریقین کی اگلیں صفیں قریب ہو جاتی تھیں وہ کفار کو چکی کی مانند پیس دیتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کر دیتے تھے۔ وہ حجاز کے شیر اور عراق کے سید و آقا ہیں جو مکی و مدنی و خیفی و عقبی، بدری و احدی اور مہاجری ہیں جو تمام میدانوں میں حاضر رہے اور وہ سید العرب ہیں، میدان جنگ کے شیر دلاور، اور دو مشعروں کے وارث (اس امت کے دو) سبطین "حسن و حسین ؑ" کے والد ہیں؛ ہاں! یہ میرے دادا علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
امام سجاد علیہ السلام نے مزید فرمایا: 
میں فاطمہ زہراؑ کا بیٹا ہوں میں عالمین کی تمام خواتین کی سیدہ کا بیٹا ہوں۔ ۱۴
خوف، دنیا پرستی، لالچ اور سستی کے اثرات
شہادت سید الشہداء کے بعد خانوادہ عصمت کا قافلہ کوفہ لے جایا گیا جہاں امیر المومنین علیہ السلام کی دختر نے اہل کوفہ کی حالت کو ان کے سامنے کھول کر بیان کیا۔ یہ توضیح بھی انسانی رویوں کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
اے اہلِ کوفہ! اے اہل مکر و فریب!
کیا اب تم روتے ہو؟ (خدا کرے) تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغاں کبھی بند نہ ہو! تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بنائی اور پھر خود ہی اسے کھول دیا اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم (منافقانہ طور پر) ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو، جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، ڈینگ مارنے والے، پیکرِ فسق و فجور اور فسادی، کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کے غماز ہو۔ تمہاری یہ کیفیت ہے کہ جیسے کثافت کی جگہ سبزی یا اس چاندی جیسی ہے جو دفن شدہ عورت (کی قبر) پر رکھی جائے۔  ۱۵
آج کا دور
61 ہجری کا عرب معاشرہ اور 2020 کی دنیا بہت سے موارد میں ایک دوسرے سے جدا نوعیت کے زمانے ہیں۔ پہلا مورد تو خود انسانی ترقی ہے، ذرائع رسل و رسائل، ذرائع ابلاغ، معلومات تک رسائی، روزگار کے حصول کے طریقے، ہتھیار، جنگیں، حکومتی نظام وہ چیزیں ہین جو 61 ہجری جیسی نہیں ہیں۔ تاہم بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن میں زمانے کی تبدیلی کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ 61 ہجری کا انسان جتنا وحشی تھا آج تعلیم یافتہ انسان اپنی بربریت میں کسی طور کم نہیں بلکہ بعض موارد میں تو اس سے بھی زیادہ شقی ہے۔ کرپشن، اقرباء پروری، عدم مساوات، معاشرتی تفاوت، حقوق کی پامالی، حلال و حرام کی تمیز کا خاتمہ، جان و مال، عزت و ناموس کا غیر محفوظ ہونا، دین کا ایک رسم کی صورت اختیار کر جانا اور اس رسم کو ادا کروانے والوں کا ایک گروہ سب اسی طرح سے ہے۔ امارت اسلامی کا شعبہ بھی تنزلی سے دوچار ہے، عدل و انصاف ناپید ہیں۔ وہ طبقہ جس سے امام عالی مقام نے منٰی میں خطاب کیا، بھی اس ساری بے اعتدالی اور معاشرتی خرابی پر منٰی والوں کی مانند خاموش ہے۔
معیشت آج بھی قبائل اور اقوام خریدتی ہے
آج عالمی معیشت پر ایک مخصوص طبقے کا اثر و رسوخ ہے اور اسی معاشی ہتھیار کو قوموں کی خرید و فروخت کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ آج ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشیا بینک اور اسی طرح کے دسیوں ادارے ریاستوں کی مجبوریوں کو خرید کر اقوام کو غلام بنا رہے ہیں۔ ادھار کے نام پر قوموں کے داخلی معاملات اور خارجہ تعلقات پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ وہ ملک جو کسی بھی ایسے ادارے یا ملک سے قرض لے لیتا ہے اس کے لیے مشکل ہے کہ وہ ان ممالک کی خارجہ پالیسی سے ہٹ کر کوئی پالیسی اختیار کرے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار اقوام کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ وہ ممالک جو اس عالمی اقتصادی نظام کو قبول نہیں کرتے ان پر معاشی پابندیاں لگا کر مطیع کرنے یا کم از کمزور رکھنے کی کوششیں جاری ہے یہ وہی حالات ہیں جو امیر شام نے عرب معاشرے میں قائم کر رکھے تھے۔ جو رشوت ، انعام ، زن ، زر ، زمین کے لالچ میں آجائے اسے خالی ہاتھ نہ بھیجا جائے اور جو مال و دولت کی ہوس کو ٹھکرا دے اسے دھمکی اور دھونس کے ذریعے اپنے زیر نگیں کرنے کی کوشش کی جائے۔  
ذرائع ابلاغ پر کنٹرول(جھوٹ،فریب،دھوکہ کی حکومت)
امیر شام کی پراپیگنڈہ مشینری جو حکومت کی طاقت، تسلط، رعب و دبدبہ نیز دشمن کے بارے غلط معلومات پھیلانے یا کم از کم اس کے بارے میں حقیقی معلومات کو چھپانے میں سرگرم عمل تھی، کی مانند آج بھی ذرائع ابلاغ وہی کام انجام دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر مختلف طریقوں سے استعماری طاقتوں کا غلبہ ہے۔ ذرائع ابلاغ پر اسی تسلط کا سبب ہے کہ جس کو استعمار حق کہتا ہے اسے دنیا میں عمومی طور پر حق سمجھا جاتا ہے اور جسے آج کا میڈیا غلط کہ دے وہ غلط ہو جاتا ہے۔ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے اصل مسائل اور حقائق کبھی بھی دنیا کے سامنے پیش نہیں کیے جاتے۔ کشمیر، فلسطین، یمن ، 
افغانستان، لیبیا، شام، بحرین، سعودیہ میں عوام کن حالات سے دوچار ہیں دنیا اب تک لاعلم ہے۔ دنیا کی اکثریت نہیں جانتی کہ اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم روا رکھے ہوئے ہے۔ اس دنیا کے اکثر انسانوں کو نہیں معلوم کہ یمن کا حقیقی مسئلہ کیا ہے۔ اس کے برعکس دنیا کے بہت سے افراد اور اقوام کے لیے اسرائیلی ایک مظلوم قوم ہیں جن کو یورپ سے بے دخل کیا گیا اور یمنی ایک پراکسی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ آج بھی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کو حق جاننے کا کوئی شوق نہیں ہے وہ اپنی دنیا میں مست ہیں۔ انہیں حق سے کوئی سروکار نہیں۔
سامراجی منصوبوں میں تیزی
ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج استعماری اور سامراجی طاقتوں نے اپنے اقدامات میں تیزی لانی شروع کی ہے، گولان کی پہاڑیاں جو گذشتہ 53 برس سے متنازع حیثیت کی حامل تھیں اچانک  امریکہ نے اسرائیل کو بخش دینے کا اعلان کیا ہے حالانکہ امریکہ کو سکی ملک کی زمین پر کیا اختیار ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے اقتدار کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور صدی کی ڈیل کے نام سے فلسطینیوں کی غلامی کا منصوبہ پیش کرکے لوگوں کو اس کی بیعت کے لیے آمادہ کیا جارہا ہے۔ چھپے ہوئے اتحادیوں کو ظاہر کیا جارہا ہے۔ کشمیر کی الگ ریاست کی حیثیت کو ختم کر کے اسے ہندوستان کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یمن کے عوام گذشتہ کئی برسوں سے خاک و خوں مین غلطاں ہیں اور استعماری طاقتیں نیز ان کے حواری بغیر کسی رکاوٹ کے اس قوم کو سرنگوں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ بحرین، قطیف، نائجیریا میں عوام کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا ہے۔ لیبیا، عراق ،افغانستان کے عوام امن و سکون کو ترستے ہیں۔ 
پورے عالم اسلام میں حالات کا دباو روز افزوں بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں دنیا کی ہر ریاست جو پہلے کسی نہ کسی وجود کے پیچھے چھپ کر اپنا وقت گزار رہی تھی اب مجبور ہے کہ سامراج کے فیصلوں کے بارے میں کوئی ایک موقف اختیار کرے۔ You are with us or against us اب ہر کسی کو یہ فیصلہ کرنا ہے۔ ہر قوم، ہر قبیلہ اپنے معاشی مسائل کے ہاتھوں مجبور ہے کہ وہ ایسا فیصلہ انجام دے جس سے اس کے قومی مفادات کا تحفظ ہو سکے خواہ اس کے لیے انسانی اخلاقیات اور اصولوں پر سودے بازی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ یہ ویسے ہی حالات ہیں جس سے کوفہ، شام اور حجاز کے مسلمان 61 ہجری میں دوچار تھے، آج فیصلے کی گھڑی ہے۔ یقینا یہ وقت گزر جائے گا لیکن اگر مسلم امہ نے اس دور میں درست راہ کا انتخاب نہ کیا تو شہادت امام عالی مقامؑ کے بعد کوفہ، شام اور حجاز کے مسلمانوں کے حصے میں آنے والی ذلت یقینا ایک مرتبہ پھر طویل عرصے تک مسلمانوں کا مقدر ہوگی۔
خواص کے فیصلوں کا معیار
آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان ریاستوں کے فیصلے کا معیار اصول ، انسانی حقوق، امت مسلمہ کا مفاد نہیں بلکہ قوموں کا مفاد بلکہ اس سے بھی کم تر یعنی حکمران خاندانوں کی حکومت اور اقتدار کا تحفظ بن چکا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی بہتر برس کی قربانیاں، ان کی مہاجرت، کشمیری مسلمانوں کا حق خود ارادیت، یمنی مسلمانوں کی آزادی اور استقلال اپنے مفادات کے بدلے بیچ دی گئی ہے۔ یہ معاشرہ اپنی تنزلی کی کم تر سطح پر ہے۔ ان سے توقع کی جانی چاہیے کہ فلسطینی مسلمانون کے قتل کے لیے استعمال کی جانے والی گولیاں اور کشمیری مسلمانوں کو دھماکوں سے اڑانے والے بارود کی قیمت انہی مسلمان حکمرانوں کی جیبوں سے ادا کی جائے گی۔ ایسا ہو بھی رہا ہے یمن، لیبیا، شام، افغانستان کی جنگیں انہی مسلمان حکمرانوں کے وسائل سے لڑی گئیں۔ اب صدی کی ڈیل میں بھی انہی مسلمان ریاستوں کا سرمایہ استعمال ہوگا۔
وہ لوگ جو ذلت کو قبول کرچکے ہیں تو اپنی قسمت کا فیصلہ کر چکے ہیں تاہم یہ مقام ان اقوام کے لیے اہم ہے جو تاحال اصول اور مفاد کی وادی میں تذبذب کا شکار ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد اس وادی میں کھڑے رہنے کے بعد ایسی اقوام کی حالت وہی ہوگی جو کوفہ والوں کی شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد تھی۔ ہمیں ضرورت ہے کہ تاریخ بالخصوص واقعہ کربلا سے درس زندگی اخذ کریں اور وہ فیصلہ کریں جس سے عزت و سربلندی کو پا سکیں۔
مقاومت موجود ہے
یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ مقاومت اور ظلم کے مقابل مزاحمت کا محاذ بھی موجود ہے، ہمیں مقاومت کا مظاہرہ کرنے والوں سے مختلف امور میں اختلاف ہو سکتا ہے تاہم اصولوں کی بنیاد پر وہ اور اصول پرست لیکن متذبذب مسلمان ایک ہی نقطہ پر موجود ہیں۔ فلسطینی، کشمیری، یمنی،افغانی، بحرینی، نائجیرین، عراقی، شامی غرضیکہ دنیا کے گوش و کنار میں بسنے والے ایسے مسلمان بھی موجود ہیں جو  مزاحمت کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کربلا کی قربانی آج بھی مسلمانوں کو حق و صداقت کی جانب راہنمائی مہیا کر رہی ہے۔ کربلا کی تاریخ اور واقعہ یہی درس دیتا ہے کہ حق والوں کا گروہ خواہ کس قدر ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، ان کی قربانی کو کتنا ہی چھپایا جائے اس کے برعکس ان کا دشمن جتنا طاقتور ہو اس کے پاس خواہ کتنے ہی وسائل ہوں بہرحال جیت حق اور حق والوں کی ہے۔ حق و باطل کی دنیا میں جنگوں کے ظاہری نتائج کوئی اہمیت نہیں رکھتے جیت بہرحال حق و صداقت کی ہی ہے۔ اسی حقیقت کی عکاسی مولانا محمد علی جوہر نے اس شعر میں کی :
قتل حسین ؑ اصل میں مرگ یزید ہے 
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حرف آخر
الا ان حزب اللہ ھم الغالبون
حق کو غالب ہونا ہے اور باطل کے نصیب میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ طاقت و قوت وقتی ہے جسے بہرحال ختم ہونا ہے۔ حق ابدی ہے جسے تا قیام قیامت زندہ رہنا ہے۔ اگر انسان ایمان باللہ کا حامل ہو تو کبھی بھی وقتی مفادات کو مدنظر نہیں رکھے گا، اس کے پیش نظر ہمیشہ ابدیت ہوگی تبھی تو امام حسین علیہ السلام نے وقتی زندگی کی جگہ ابدی زندگی کو ترجیح دی۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے بھی انسان کے اس مسئلہ کا ادراک کرتے ہوئے دعا کے ذریعے انسانوں کے خدا سے ربط کو استوار کرنے کی کوشش کی۔ آج قطیف کے عالم شیخ نمر باقر النمر نے بھی یہی فیصلہ کیا اور مسکراتے ہوئے سولی پر جھول گئے۔ نائجیریا کے شیخ زکزاکی نے بھی ابدی زندگی کو مدنظر رکھا اور اپنے چھے فرزندوں کی قربانی پیش کی اور آج زخمی اور بیماری کے باوجود خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ یمن سے حسین بدر الدین الحوثی نے بھی امام عالی مقامؑ کے پیغام کو سمجھا اور پرچم حق کو بلند رکھتے ہوئے جان اپنے پروردگار کے سپرد کی۔ اسی طرح آج فلسطینی، کشمیری، بحرینی ، یمنی، شامی، عراقی اور افغان مجاہدین حق کی سربلندی کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے ہوئے ہیں۔
جو سمجھتے ہیں کربلا کسی خاص زمانے کا واقعہ ہے ان کو یہ معلوم ہونا چاہییے کہ قافلہ حسین علیہ السلام آج بھی رکا اور تھما نہیں ہے بلکہ اسی زور و شور سے رواں دواں ہے جس قوت و طاقت کے ساتھ 61 ہجری کو کربلا پہنچا تھا۔ 
حوالہ جات 
۱۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر۲۶
۲۔نہج البلاغہ،خطبہ ۱۹۱
۳۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۲۶
۴۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۲۶
۵۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر۲۶
۶۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر۱۹۲
۷۔  تحف العقول طبع بیروت ص ۱۷۱
۸۔  الامامۃ والسیاسۃ ج ۱ ص ۱۸۶
۹۔  الامامۃ والسیاسۃ ج ۱ ص ۱۹۰
۱۰۔  تاریخ طبری ج ۵ ص ۴۰۳
۱۱۔  مقتل الحسین مقرم ص ۱۸۴
۱۲۔  لھوف ص ۱۰
۱۳۔  حیات الحسین  ج ۳ ص ۱۸۴
۱۴۔  ابن شہر آشوب، مناقب، قم، انتشارات (یہ خطبہ کئی ایک کتب میں درج ہے۔ )
۱۵۔  طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی، أہل اللجاج، مشہد، مرتضی، ۱۴۰۳ق


 
* * * * *
Read 114 times Last modified on ہفته, 29 آگست 2020 10:11

تازہ مقالے