بدھ, 05 آگست 2020 16:42


 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسئلہ کشمیر
تقسیم ہندوستان کے طے شدہ اصول کی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔ شروع ہی سے برطانیہ اور کانگرس کی ملی بھگت سے آزادیٔ کشمیر کا طے شدہ مسئلہ  الجھ کر رہ گیا۔ فوجی مداخلت کے ذریعے بھارت نے کشمیر کے وسیع حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ آج بھی کشمیرکا ایک حصہ آزاد ہے مگر بیشتر حصہ بھارت کے غاصبانہ قبضے میںہے جس کے نتیجے میں کشمیر کے مظلوم عوام ہر لحاظ سے ایک ہونے کے باوجود تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام خاص طور پر اپنی آزادی کی طویل جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں پیش کر چکے ہیں۔

یہ مسئلہ بین الاقوامی اداروں تک پہنچا تو انھوں نے بھی اصولی طور پر پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصوابِ رائے اور حقِ خود ارادیت کا موقع فراہم کرنے کے حق میں قراردادیں پاس کیں مگر بھارت نے بین الاقوامی رائے عامہ کو بھی در خورِ اعتناء نہ جانا۔
پاکستان کو یہ مسئلہ زندہ رکھنے اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہر میدان میں کوشش کرنے کا حق ہے۔ البتہ یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے بیشتر اس مسئلے کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا یا پھر اسے سرد خانے میں ڈالے رکھا لہٰذا کشمیری عوام کو چاہیے کہ وہ حکومتوں کی امید پر خاموش نہ بیٹھے رہیں ورنہ ذلت و غلامی کا یہ عرصہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا جائے گا۔
پاکستان کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے اس حصے کی آزادی کے لیے قیام کریں۔


بھارت کے مسلمان

پاکستان کی آزادی اور قیام کے لیے ہندوستان کے تمام علاقوں کے مسلمانوں نے جدوجہد کی لیکن قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھارت میں رہ گئی۔ بھارت کے متعصب ہندو کبھی بھی قیام پاکستان کے حق میں نہ تھے۔ لہٰذا جہاں پاک بھارت تعلقات میں ان کی یہ ذہنیت کار فرما رہی ہے وہاں وہ بھارتی مسلمانوں سے انتقام لینے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا رہے ہیں۔  آزادیٔ  پاکستان کے بعد سے اب تک سینکڑوں مرتبہ بھارتی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ہے اور مسلم کش فسادات برپا کیے گئے ہیں اور بھارت کے مسلمان مسلسل عدم تحفظ کے عالم میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارتی حکومت مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں قطعاً ناکام ثابت ہو چکی ہے۔
پاکستان کی آزادی ہندوستان کے مسلمانوں کے ایک حصہ کی آزادی تھی اور آزادی حاصل کرنے والے مسلمانوں کی ذمہ داری تھی کہ آزادی کی اس جنگ میں شریک اپنے دیگر بھائیوں کی نجات یا کم ازکم ان کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان کا حکمران ٹولہ اپنی اس ذمہ داری سے مجرمانہ غفلت کا شکار رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کے مسلم کش فسادات کو عملاً بھارت کا ’’اندرونی معاملہ‘‘  قرار دے رکھا ہے یہاں تک کہ ہمارے حکمران بھارتی مسلمانوں کی بین الاقوامی سطح پر زبانی حمایت سے بھی دستبردار ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے مسلمان عوام کو چاہیے کہ بھارت میں موجود اپنے مظلوم بھائیوں کی نجات کے لیے اجتماعی جدوجہد کا آغاز کریں۔{ FR 810 } البتہ یہ امر واقعہ ہے کہ بھارتی مسلمانوں کی نجات کے لیے پاکستان میں اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھنے والی حقیقی اسلامی حکومت کا قیام ناگزیر ہے۔


مسئلہ افغانستان

ہمارے ہمسایہ مسلمان ملک افغانستان میں ۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء کو روس کی سرپرستی میں ایک کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا۔ اس انقلاب کو افغان مسلمانوں کی عظیم اور غالب اکثریت کی حمایت ہرگز حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ افغان عوام نے حکومت پر قابض کمیونسٹوں کے خلاف مسلح مزاحمت کا آغاز کر دیا جس کے نتیجہ میں روس نے اپنی گماشتہ حکومت کی بقاء کے لیے دستمبر ۱۹۷۹ء میں اپنے فوجی دستے بڑی تعداد میں افغانستان میں داخل کر دیے۔ روس کے ان فوجیوں نے افغان مسلم عوام پر بے پناہ مظالم کا آغاز کردیا۔
یہ ظلم و ستم لاکھوں افغان عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی کسمپرسی کے عالم میں پاکستان، ایران اور دیگر ممالک کی طرف ہجرت کا سبب بنا۔
افغان عوام کے خلاف روس کی یہ شرمناک فوجی جارحیت انسانی تقاضوں کی پامالی اور بین الاقوامی اور تمام اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب مظلوم اور کم وسائل افغان عوام کی مسلح جدوجہد دفاع کے انسانی تقاضوں، جہاد کے اسلامی اصولوں اور آزادی کے مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔
اس مسئلہ کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ دیگر سامراجی قوتوں نے افغان عوام کی بے بسی اور مظلومیت نیز افغان مسلم حریت پسند شہداء کے مقدس لہو کو اپنے مذموم استحصالی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ قضیۂ افغانستان میں نام نہاد امریکی حمایت کو بھی مظلوموں کی دادرسی کے برعکس اس کی منافقانہ سامراجی ذہنیت کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ فلسطینی مسلمانوں کے حقیقی قاتل اسلام دشمن امریکہ کو افغان مسلمانوں کا خیر خواہ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا افغانستان میں روسی پٹھو حکومت کے خاتمہ کے بعد ایک امریکی پٹھو حکومت کا قیام افغان مسلم انقلابی عوام کی جدوجہد اور مسلم شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود افغان راہنما امریکی مفادات کو یکسر ٹھکرا کر اللہ کے بھروسے سے اپنی متحدہ طاقت سے افغانستان کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اور حریت پسند عوام مظلوم افغانوں کی عملی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔
ہمیں یقین ہے کہ مسئلہ افغانستان کا ایک حقیقی اور پائیدار حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ:
* روسی جارح افواج فی الفور واپس نہیں چلی جاتیں۔
* امریکہ اس مسئلہ میں سازش پر مبنی جوڑ توڑ سے باز نہیںآتا۔
* تمام افغان مہاجرین اپنے وطن میں باعزت طور پر واپس نہیں چلے جاتے۔
* افغان عوام کے تمام حقیقی نمائندوںکی شرکت سے کوئی  نمائندہ حکومت قائم  نہیں ہو جاتی۔
* افغانستان کا آزاد، غیر جانبدارانہ اور اسلامی تشخص بحال نہیں ہوجاتا۔


انقلاب اسلامی ایران

۱۱ فروری ۱۹۷۹ء کو ایران میں اسلامی قیادت میں بھرپور عوامی جدوجہد کے نتیجے میں ایک عظیم الشان انقلاب برپا ہوا ہے۔ یہ انقلاب موجودہ دورکا ایک انتہائی اہم واقعہ ہے۔ پاکستان کے ایک ہمسایہ اور اسلامی ملک میں رونما ہونے والے اس انقلاب سے فطری طور پر ہمارا ملک اور ہمارے عوام لا تعلق نہیں رہ سکتے اور نہ اس کے اثرات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایران سے ہمارے تاریخی، تہذبی، مذہبی، لسانی، نظریاتی اور جغرافیائی روابط ہیں۔
اس انقلاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوامی اتحاد میں یہ قوت موجود ہے کہ وہ جدید نو آبادیاتی نظام کی جڑیں اکھاڑ کر رکھ دے۔ اس انقلاب کی کامیابی میں ایک با بصیرت پاکباز مجاہد اسلامی قیادت{ FR 811 } اور عوام میں اسلامی جذبے کے کردار کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کے اندر رونما ہونے والی ہمہ گیر معاشرتی تبدیلیوں نے اس امر کو بھی پایۂ ثبوت تک پہنچا دیا ہے کہ انقلاب کی تحریک کھوکھلے نعروں پر نہیں بلکہ اسلام سے حقیقی وابستگی  اور گہرے شعور پر مبنی تھی۔
انقلاب کے بعد ایران میںقائم ہونے والی اسلامی حکومت نے عملاً لاشرقیہ ولا غربیہ کا جرأت مندانہ اور ایثار طلب موقف اختیار کرکے دنیا بھر کی پسماندہ قوموں کو زبردست اعتماد عطا کیا ہے  اور سامراجی پراپیگنڈا پر مبنی اس نظریے کو باطل کر دیا ہے کہ کوئی حکومت مشرق و مغرب کی سرپرستی قبول کیے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔
علاوہ ازیں وحدت مسلمین، سامراج دشمنی، اسلامی تحریکوں کی حمایت و تعاون اور دنیا بھر کے مظلوموں اور محروموں کی حمایت کی پالیسی اپنا کر ایران کے اسلامی انقلاب نے دور حاضر میں اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے ناگزیر طرزعمل کو مشخص کیا ہے، نیز انقلاب نے عالمی اسلامی حکومت اور عالمی اسلامی قیادت کا تصور ابھار کر جغرافیائی، لسانی، نسلی اور ایسی دیگر حد بندیوں پر خط بطلان کھینچ دیا ہے۔
اس بات سے انکار ممکن  نہیں کہ عالمی سیاست کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص مسلم علاقوں اور مسلمان عوام پر اس انقلاب نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے عوام پر بھی اس انقلاب نے اپنے مجموعی اثرات ڈالے ہیں دوسری طرف انقلاب کے پیغام اور اثرات کو روکنے کے لیے تمام عالمی سامراجی اور طاغوتی طاقتوں نے ایکا کر لیا ہے۔ وہ ثقافتی، تبلیغاتی، اقتصادی اور فوجی ہر لحاظ سے انقلاب کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
اس ضمن میں یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ مسلمان خطوں میں ان طاقتوں کے ایجنٹ حکمرانوں اور دیگر افراد نے بھی مسلسل اس  انقلاب کو بدنام اور ناکام کرنے کی کاوشوں میں حصہ لیا ہے۔
ان حالات اور اس پس منظر میں ضروری ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت ہر محاذ پر کھل کر اس اسلامی انقلاب اور ایران کی اسلامی حکومت کی نہ صرف حمایت کریں بلکہ عملی تعاون بھی کریں۔ 
نیز خود پاکستان کو جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے کے باوجود تاحال اسلامی نظام سے محروم ہے، ایران کے ان تجربات سے عملی اور نظریاتی طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔


مسلم اقلیتیں

مسلمان، خواہ دنیا کے کسی بھی جغرافیائی خطے کا باسی ہو، ایک عظیم امت کا جزولاینفک ہے۔ لہٰذا کسی بھی جگہ کسی مسلمان پر، اس کے مسلمان ہونے کی بنیاد پر ظلم و ستم در حقیقت اس امت واحدہ کا مسئلہ ہے اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسئلہ سے چشم پوشی کرے۔
وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیاء، یورپ اور دیگر کئی  ایک خطوں کہ جن میں روس، بھارت، برما، فلپائن، بلغاریہ اور یوگو سلاویہ وغیرہ جیسے ممالک شامل ہیں، میںمسلمانوں کو ان کے عقیدہ و نظریہ کی بنیاد پر قتل و غارتگری، جبر و تشدد اور تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایسے مختلف ممالک میں مسلمان اقلیتوں سے غیر انسانی سلوک ساری امت مسلمہ کا دکھ ہے۔ اس لحاظ سے مسلمان حکمرانوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ان ایمانی بھائیوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ چاہے اس کی بڑی قیمت ہی ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔ مسلمان حکمران اس سنگین مسئلے کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا نام دے کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ اسلامی اور انسانی مسئلہ ہے۔
دوسری طرف ان ممالک کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی مسلمان اقلیت کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کریں اور ایسا ماحول پیدا کریں کہ جس میں مسلمان اقلیتیں اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ اور بے خوف و خطر اپنے مذہبی امور بجا لا سکیں۔
اس ضمن میں سب سے بڑھ کر مسلمان امت کی ذمہ داری ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں خصوصا ظلم و ستم  اور تعصب کا نشانہ بنے ہوئے اپنے بھائیوں کے حالات سے باخبر رہے۔ افراد امت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے رنج و الم میں ان کی مدد کے لیے تیار رہیں اور حتی المقدور ان کی نجات کے لیے اقدام کریں۔


مسئلہ قومیت

اسلام کے ہاں رنگ، نسل، زبان اور علاقہ کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق کسی طور پر روا نہیں{ FR 812 }(۱) بلکہ اسلام صرف اور صرف دین کو انسانی وحدت کی بنیاد تصور کرتا ہے۔ اسلام کا یہ فلسفۂ قومیت نہایت منطقی ہے۔ { FR 813 }
یہ امر واقعی ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں الگ الگ رنگوں اور جدا جدا زبانیں بولنے والے لوگ  پست ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ علاقوں کے باسی دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ غربت اور پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیںمگر ان لوگوں کی اس غربت و محرومی کی وجہ دوسری علاقوں کے عوام نہیں ہیں بلکہ اس کا سبب زیادہ تر خود انہی کی نسل سے تعلق رکھنے والا اور انہی کی زبان بولنے والا بالادست استحصالی طبقہ ہے۔ ظالموں اور جابروں کے یہ طبقات ہر علاقہ ہر گروہ اور ہر نسل میں موجود ہیں۔ لہٰذا عوامی جدوجہد اور عوامی جنگ کا رُخ اس استحصالی ٹولہ کی طرف ہونا چاہیے۔
اسلام مختلف تہذیبی، نسلی اور جغرافیائی گروہوں کے درمیان ایک ایسا بندھن ہے جو ان سب گروہوں کے سب محروموں اور مظلوموں کو متحد کرکے جابر و حاکم استحصالی طبقوں کے خلاف جدوجہد اور انقلاب کا درس دیتا ہے۔
لہٰذا ہمارے نزدیک ظالم نہ تو کسی قوم کا نمائندہ ہوتا ہے اور نہ قومیت کا اس کے ظلم کو اس کے ’’حوالہ گروہ‘‘ سے منسوب کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔
آج پاکستان میں چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کاچرچا ہے۔ اس کا سبب کسی بڑے صوبے کے عوام نہیں کیونکہ  وہ تو خود بھی ظلم اور استحصال کا شکار ہیں، بلکہ اس کا سبب وہ طبقہ ہے جو ہر علاقے اور نسل کے بد باطن اور عوام دشمن افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس لیے۔۔۔ پاکستان کے مختلف صوبوں کے عوام کو متحد ہو کر غربت، ظلم اور پسماندگی سے نجات کے لیے اس طبقہ کے خلاف جنگ کا آغاز کرنا ہوگا جو نسلی اور علاقائی ترجیحات سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں کا یکساں استحصال کررہا ہے۔


بین الاقوامی ادارے

موجودہ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کا سرسری جائزہ بھی اس حقیقت کی نشاندہی کے لیے کافی ہے کہ ’’عالمی امن کے قیام‘‘ اور ’’انسانی ترقی اورخوشحالی‘‘ کے نام پر قائم یہ ادارے اور تنظیمیں تمام اقوام کی فلاح و بہبود کی بجائے چند بڑی طاقتوں کے استعماری مفادات کے تحفظ کا آلۂ کار بن چکی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں پر بڑی طاقتوں کی اجارہ داری اور ظالمانہ گرفت کا خاتمہ ہو اور تمام اقوام کو برابری، مساوات اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر ان میں آزادانہ اور بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع میسر ہوں تاکہ دنیا کے تمام عوام یکساں طور پر امن اور ترقی کی برکتوں سے فیض یاب ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک نیا عادلانہ عالمی سیاسی اور معاشی نظام معرض وجود میں لایا جائے۔۔۔ ایسا نظام کہ جو رقبہ، آبادی اور اقتصادی و فوجی طاقت کے حوالے سے ممالک میں امتیاز کا قائل نہ ہو۔
ہم یقین رکھتے ہیں کہ۔۔۔ موجودہ حالات میں بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے فقط قوموں کی آرزو اور التماس سے اپنا حقیقی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے لیے، غریب، مظلوم اور پسماندہ اقوام کو باہمی ہم آہنگی اورجرأت و استقامت کے ساتھ سامراجی تسلط کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔


مسئلہ فلسطین

خلافت عثمانیہ کی تباہی کے لیے اس وقت کی سب سے بڑی سامراجی طاقت برطانیہ نے اقدامات کیے۔ اس مقصد  کے لیے اس نے منافقوں کی مدد سے علیحدگی کی مختلف تحریکوں کی بنیاد رکھی۔ نتیجتاً  خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے ہو گئے۔ شام بھی اس کا ایک حصہ تھا۔ شام کو مزید کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ فلسطین کو اس سے الگ کردیا گیا۔
اس سلسلے میں برطانیہ کا سیاہ ترین منصوبہ مسلمانوں کی ارض فلسطین پر ایک صہیونی ریاست کا قیام تھا۔ یہ ریاست عالمی صہیونی تحریک سے ہم آہنگی کے ساتھ ۱۹۴۸ء میں معرض وجود میں آئی اور ساتھ ہی لاکھوں فلسطینی مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے اپنی سرزمین سے در بدر ہو گئے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر مغربی سامراج نے اس صہیونی ریاست کی تشکیل کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے تو مشرقی سامراج بھی اس میں اپنا حصہ ادا کرنے میں پیچھے نہیں رہا۔ اس نے فلسطین میں روسی یہودیوں کی آباد کاری میں بھرپور مدد کی۔
اس طرح اسرائیل کے نام پر صرف ایک ناجائز ملک تشکیل نہیں دیا گیا بلکہ طولِ تاریخ میں یہودیوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں پہنچنے والی ہزیمتوں کے طویل  اور سنگین انتقام کی بنیاد رکھ دی گئی۔
اس وقت تک عالمی سامراج بالخصوص امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل مسلمانوں کے خلاف تین جارحانہ جنگیں لڑ چکا ہے۔ فلسطین اور دیگر عرب مسلمانوں پر اسرائیل کے مظالم تاریخ انسانی کا دردناک باب ہیں۔ اسرائیل مسلسل عالمی سامراج کے پالتو غنڈے کا کردار ادا کررہا ہے۔ اسرائیل کے مقابلے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے تنظیم آزادی فلسطین کے نام پر ایک تحریک مزاحمت معرض وجود میں آئی۔ یہ تنظیم وطنیت اور قومیت کے نام پر قائم ہوئی۔ شروع ہی سے یہ تنظیم اپنی تربیت اور پروگرام کے حوالے سے اسلامی جذبے سے عاری رہی ہے۔ یہ ایک مزاحمتی تحریک تھی جو آہستہ آہستہ اپنے مزاحمتی موقف سے ہٹ کر سامراجی طاقتوں کی منشا کے مطابق ’’ڈپلومیسی‘‘ کی ’’سیاست‘‘ کا مزاج اختیار کر چکی ہے۔
عالم اسلام کا پہلے دن سے یہ موقف رہا ہے کہ فلسطین اہل فلسطین کا ہے اور اسرائیل کی تخلیق ناجائز اور ظالمانہ ہے ۔ لہٰذا اسرائیل کو بہرحال ختم ہوجانا چاہیے۔ لیکن طاغوتی طاقتوں کے کاسہ لیس اور ایجنٹ نام نہاد مسلمان حکمرانوں نے آہستہ آہستہ امت مسلمہ کے اس متفقہ موقف  سے انحراف شروع کیا۔ اس سلسلے میں عربوں میں پہلے مصر کے حکمرانوں نے امریکا کی زیر سرپرستی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اب دیگر حکمران بھی ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ اوردیگر پر فریب ناموں سے اسرائیل سے روابط کرنے کے لیے راہ ہموار کررہے ہیں۔

ہم یقین رکھتے ہیں کہ:

* فلسطین ایک مسلمان خطہ ہے۔
* اسرائیل کا ناجائز وجود بہرصورت ختم ہوجانا چاہیے۔
* سالہا سال سے بے وطن فلسطینیوں کو اپنے وطن میں آباد ہونے کا حق ملنا چاہیے۔
* فلسطین اور القدس کی آزادی پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔
نیز ہمارا ایمان ہے کہ اسرائیل سے کسی قسم کے روابط کا قیام اسلام اور مسلمانوں سے غداری کے مترادف ہے۔
* فلسطین اور القدس کی آزادی اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر مسلح جہاد کیے بغیر ممکن نہیں۔


اتحاد اسلامی

اللہ، رسولؐ، قرآن اور کعبہ سب مسلمانوں کا ایک ہے۔ اسی حوالے سے ساری امت مسلمہ کے دشمن بھی مشترک ہیں۔ خارجی دشمنوں کو مسلمانوں کے خلاف اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تھی
جب تک کہ وہ خود مسلمانوں میں منافقوں کے ذریعے دراڑیں پیدا نہ کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے منافقوں کو کافروں سے بدتر قرار دیا ہے۔
مسلمانوں کے مابین تعبیرات کے بعض اختلافات اور بعض فروعی امور میں مختلف نظریات اس قدر اہم نہیں کہ اسلام کی ٹھوس مشترک بنیادوں کو نظرانداز کر دیا جائے۔
آج بھی دنیا کی تمام استعماری طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے خود غرض کوتاہ اندیش حکمرانوں اور مسلمانوں کی صفوں میں موجود طاغوتی طاقتوں کے ایجنٹوں نے اہل اسلام کومختلف جغرافیوں اور قوموں میں بانٹ رکھا ہے اور مختلف مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کر رکھا ہے۔
اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب نفوس سے زیادہ ہے  اور مسلمان بے پناہ مادی اور معنوی وسائل کے مالک ہیں لیکن اس کے باوجود پسماندگی اور ذلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ایسے میں ضروری ہے کہ مسلمان اپنی حیثیت اور مسئولیت کا احساس کریں، اپنے خارجی و داخلی دشمنوں کو پہچانیں اور امت واحدہ بن کر اٹھ کھڑے ہوں۔
اس قیام اور اس میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم باہمی اعتماد، اخوت اور محبت کا ثبوت دیں۔ اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ رواداری اور احترام روا رکھیں۔ ایک  دوسرے کی مذہبی رسوم کو گوارا کریں۔
وطن عزیز پاکستان میں بھی ترقی و خوشحالی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہمیںہی فضا پیدا کرنی ہوگی۔ نیز اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ناگزیر ہے کہ مشترک اورمسلمہ اسلامی بنیادوں پر مشتمل اجتماعی قوانین تشکیل دیے جائیں اور امتیازی امور میں ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ آزادیٔ عمل کا حق قانوناً اور عملاً تسلیم کیا جائے۔
ہم پوری دیانتداری سے محسوس کرتے ہیں کہ اگر اس پہلو سے کام کا آغاز کیا جائے تو پھر نہ ملک میں نظام اسلام کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ رہے گی اور نہ ہی فرقہ وارانہ مسائل کی تلخی ۔
انہی حالات میں رہبر عالم اسلام حضرت امام خمینی مدظلہ العالی کی اتحاد المسلمین کے لیے تحریک در حقیقت ہر با شعور اور صاحبِ درد مسلمان کے دل سے اٹھنے والی آواز ہے۔ ہم بھی انہی افکار کی روشنی میں تمام مسلمان بھائیوں کو دوستی، افہام و تفہیم اور قربت کا پیغام دیتے ہیں۔


امریکی مداخلت

دنیا میں جہاں جہاںبرطانوی سامراج کا زوال ہوا وہاں وہاں امریکی سامراج نے اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیے۔ اسی حوالے سے پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت امریکا کے لیے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ ترکی، ایران اور عراق میں امریکا برطانوی خلاء کو پہلے ہی پر کر چکا تھا۔ لہٰذا اس نے پاکستان کو بھی فوری طور پر سیٹو کے بدنام زمانہ فوجی معاہدے میں شریک کر لیا۔ شروع ہی سے پاکستان میں سیاسی حکومتوں کے عدم استحکام اور ناکامی نیز فوجی انقلابات کا سبب امریکہ سے پاکستان کا یہی تعلق رہا ہے۔
اس کے بعد امریکہ پاکستان کے سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں پر بھی حاوی ہوتا چلا گیا لیکن وہ ہر میدان میں پاکستان کا ناقابل اعتماد دوست ثابت ہوا۔
فوجی اور دیگر معاہدوں کے باوجود ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ میں امریکہ  نے تعاون سے ہاتھ کھینچ لیا اور دسمبر ۱۹۷۱ء میں امریکہ پر بھروسہ ملک کے دولخت ہوجانے کا باعث بنا۔ نیز امریکہ ہی پاکستان کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا۔
موجودہ حالات میں پاکستان کے تمام شعبے امریکہ کے محتاج ہو کررہ گئے ہیں۔ امریکہ کے ان استعماری ہتھکنڈوں سے نجات کے لیے پاکستان کے عوام کو پورے عزم و استقلال سے جہد مسلسل کرنا ہوگی۔ پاکستان کی بقاء اور ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ تمام طاقتوں سے مفادِ اسلامی کی روشنی میں منصفانہ اور برابری کے تعلقات قائم کرے۔


موجودہ حکومت

پاکستان میں رائج موجودہ حکومت در حقیقت ۵ جولائی ۱۹۷۷ء کو مسلط ہونے والے مارشل لاء کا بدلی ہوئی صورت میں تسلسل ہے۔ اس حکومت کو ایک نام نہاد غیر آئینی ریفرنڈم میں عوام اور سیاسی جماعتیں اپنی اجتماعی قوت سے مسترد کر چکے ہیں۔ اس حکومت نے مکارانہ طریقے سے غیر جماعتی انتخابات کروا کر ایوان اقتدار میں اپنے نظریۂ ضرورت کے تحت ایک جعلی سیاسی پارٹی بنا کر نام نہاد جمہوریت کی داغ بیل ڈالی ہے۔ ظلم  اور جبر سے برسراقتدار آنے والی یہ حکومت غیر اسلامی، غیر آئینی، غیر قانونی  اور غیر نمائندہ ہے۔ اس حکومت کے دور میں:
* ملک پر استعماری معاہدوں اور روابط کی گرفت سخت تر ہوئی ہے۔
* اقتصادی طورپر ملک کھوکھلا ہوگیا ہے۔
* تعلیم اور صحت کا معیار مزید گر گیا ہے۔
* بنیادی ضروریات کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی بلا اسی صورت حال کا نتیجہ ہے۔
* منشیات کو تیزی سے فروغ حاصل ہوا ہے۔
* مہنگائی نے محروم عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔
* غیر قانونی اسلحہ عام ہو گیا ہے۔
* امن و امان کی صورت حال ابتر ہو گئی ہے۔
* فرقہ واریت، قومیت پرستی، علاقائی تضادات اور نسلی کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔
* علیحدگی اور وطن دشمنی کے رجحانات پروان چڑھے ہیں۔
اس حکومت کا بدترین فعل اسلام کے پاکیزہ نام پر عوام کو دھوکا دینا اور منافقت کا فروغ ہے۔ 
ان حالات میں اس حکومت کا قائم رہنا نہ فقط مفادِ اسلامی کے منافی ہے بلکہ ملک کی بقاء کے لیے بھی خطرہ ہے۔ضروری ہے کہ عوام کے وسیع اتحاد اور جدوجہد کے ذریعے عوام کی حقیقی نمائندہ اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔


دعوت
آئیے اعتراف کریں کہ:
* نوع انسانی اللہ کے راستے سے بھٹک چکی ہے۔
* انسان انسان پر حاکم بن بیٹھا ہے۔
* طاقت ور کمزوروں کو لوٹ رہے ہیں۔
* انسانیت کے مہربان ہادیوں، انبیاء اور آئمہ اطہارؑ کے تذکرے قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں۔
* گمراہی اور بے راہ روی کی انتہا ہو گئی ہے۔
* نیکی اور بدی اپنا مفہوم کھو چکی ہے۔
* پسماندہ قومیں سامراجی پنجوں میں گرفتار ہیں۔
* غلام آزادی کے شعور اور تڑپ سے محروم ہو گئے ہیں۔
* محروموں نے محرومیوں پرقناعت کر لی ہے۔
* امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جرأت ناپید ہو گئی ہے۔
* انسانی اقدار اور دین کے بندھن ٹوٹ چکے ہیں۔
* نوع انسانی رنگوں، نسلوں، گروہوں اور علاقوں میں بٹ چکی ہے۔

آئیے اعتراف کریں کہ:
* ہم مسلمان اپنا مقصدِ وجود فراموش کر چکے ہیں۔
* قرآن کی تعلیم سپردِ طاق نسیاں ہو چکی ہے۔
* پیغمبر خاتمؐ اور ان کے وارثوں کی سنت سے ہمارے معاشرے خالی ہو چکے ہیں۔
* اغیار کی اندھا دھند تقلید نے ہماری بصیرت چھین لی ہے۔
* فرقہ پرستی سے ہم اپنی ہی قوت گنوا چکے ہیں۔
* باہمی محبت اور اخوت کی گرمیاں سرد پڑ چکی ہیں۔
* جہاد اسلامی بزرگوں کی عادت گم گشتہ ہو چکا ہے۔
* قیامت پر ایمان قوت عمل سے خالی ہو گیا ہے۔
* سستی، کاہلی اور مایوسی کی پرچھائیاں گہری ہوتی جارہی ہیں۔
* ہمارے حکمران غیروں سے ہماری بربادی کے سودے کررہے ہیں۔
* ہماری ثروت اسلام دشمن قوتیں لوٹ رہی ہیں۔
* قبلہ اول کی پامالی بھی ہماری خوابیدہ غیرت بیدار کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

آئیے اعتراف کریں کہ:
* پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے۔
* یہ ملک اسلام کے  نام پر معرض وجود میں آیا ہے۔
* آج بھی اس ملک میں غیر اسلامی قانون کی حکمرانی ہے۔
* ہمارے حکمران اسلام دشمن قوتوں کے کاسہ لیس ہیں۔
* عوام کی دولت چند لٹیرے لوٹ رہے ہیں۔
* ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر ملک سامراج کے شکنجے میں گرفتار ہوچکا ہے۔
* عاقبت نااندیش حکمرانوں کے ہاتھوں دو لخت ہو جانے والا یہ ملک آج بھی تباہی کے 
دہانے پر کھڑا ہے۔

آئیے تجدید ایماں کریں کہ :
* اللہ کی طاقت ہر قوت سے بالا ہے۔
* اللہ کے سوا کسی کو حاکمیت کا حق نہیں۔
* اللہ کی زمین اللہ کے سارے بندوں کے لیے۔
* اللہ کی بندگی ہر غلامی سے آزادی کا ذریعہ ہے۔
* اللہ کی راہ میں قیام کرنے والا نصرتِ الٰہی سے محروم نہیں رہتا۔
* انبیاء اور آئمہؑ انسان کی نجات کے داعی ہیں۔
* اسلام ہمارا مشترکہ سرمایہ ہے۔
* قرآن ہمارا متفقہ دستور ہے۔
* پیغمبر خاتمؑ کی سنت اسوۂ حسنہ ہے۔
* کعبہ ہم سب کا مرکز ہے۔
* اسلام نوع انسانی کی آخری اور حقیقی پناہ گاہ ہے۔
* اسلامی اخوت کائنات کا مضبوط ترین رشتہ ہے۔
* آزادی کی راہ میں شہادت بہترین موت ہے۔
* دنیا میں بسنے والا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔
* رنگ، نسل، زبان اور علاقہ انسانوں کی تقسیم کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
* تقویٰ امتیاز کا حقیقی معیار ہے۔

آئیے تجدید ایماں کریں کہ:
* اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے کہ:
* ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ
وہ وہی جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے۔
* ایک روز ظلم وجہالت کی تاریکیاں چھٹنے والی ہیں۔
* عدلِ اسلامی کی عالمگیر حکومت کا دور آنے والا ہے۔
* وہ مہدیؑ نوید سحر بن کر ضرور آئے گا جس کا وعدہ پیغمبر اسلامؐ نے کیا ہے۔
* ہم سے ہماری ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
* جنت ایفائے عہد کرنے والوں کے لیے ہے۔
* دوزخ بد عہدوں کا بہت بڑا ٹھکانا ہے۔

آئیے عزم کریں کہ:
* ہم اللہ کے بھروسہ پر دنیا کی ظلمتوں کے خلاف جہاد کریں گے۔
* ہم ہر طاغوت اور ہر سامراج کی غلامی کا طوق اتار پھینکیں۔
* ہم ذلت  کی  زندگی پر عزت کی موجت کو ترجیح دیں گے۔
* ہم دنیا میں ایک مرتبہ پھر اسلامی اخوت کا نور پھیلا دیں گے۔
* ہم انسانوں میں ہر غیر الٰہی تقسیم اور تفریق کے خلاف قیام کریں گے۔
* ہم دنیا کے ستم رسیدہ انسانوں کی جبر و استبداد اور استحصال سے نجات دلائیں گے۔
* ہم اللہ کے قانون کے علاوہ کوئی قانون قبول نہیں کریں گے۔
چاہے۔۔۔
اس کے لیے ہمیں امام حسین علیہ السلام کی طرح اپنے دوستوں، عزیزوں اور پیاروں کی قربانی کیوں نہ پیش کرنی پڑے۔
چاہے۔۔۔
اس راستے میں ہمارا اپنا سر نوک نیزہ پر بلند کیوں نہ ہو جائے۔
چاہے۔۔۔
ہمارے جسموں کو فرزندِ زہراؑ کے جسم کی طرح پامال کیوں نہ کر دیا جائے۔
۔۔۔ کیونکہ یہ راستہ صبر و استقامت اور توکل علی اللہ کا راستہ ہے۔
فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ
جب تم نے عزم کیا تو پھر اللہ پر بھروسہ کر یقیناً تو کل کرنے والے اللہ کو بہت محبوب ہیں۔ (آل عمران:۱۵۹)

حرف آخر
قرآن و سنت کی بالادستی، محروموں کی نجات اور ملک کی بقا و استحکام تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے مگر اس میں کار فرما روح اور ہر سطر اس امر کی غماز ہے کہ یہ کسی  ایک گروہ یا کسی ایک مکتب فکر کے لیے نہیں۔
ہم یہ پروگرام پاکستان میں بسنے والے تمام اسلامی  مکاتب فکر، تمام علاقوں کے باسیوں، تمام سیاسی کارکنوں اور سارے عوام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
اس میں پیش کیے گئے اصول اور مقاصد کا سرچشمہ قرآن و سنت ہے اور یہ ناقابل تغیر ہیں البتہ اصلاحِ احوال اور فلاحِ عوام کے لیے مجوزہ اقدامات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے  ہم ہر تجویز اور رائے کو خوش آمدید کہیں گے۔
ظلم واستحصال کے خاتمے، سامراجیت سے  نجات اور قانون الٰہی کے سائے میں آزادی کے اس سفر میں ہم پاکستان کے سارے عوام کو رفیقِ سفر ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
إِنَّ هَـٰذِهِ تَذْكِرَةٌ  فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا 
یقیناً یہ تو تذکرہ ہے۔ اب جو چاہے اپنے پروردگار کا راستہ اپنا لے۔ (مزمل:۱۹)

 
Read 131 times
More in this category: « نظام

تازہ مقالے