بدھ, 05 آگست 2020 16:17


 
سید ثاقب اکبر نقوی


نظام حکومت
اسلامی نظام حکومت کی بنیادیہ ہے کہ حق حاکمیت اصالتاً صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد ہے اور کوئی شخص، طبقہ یا گروہ اس پر حکمرانی نہیں رکھتا، لیکن انسان باذن خدا

* ارض خداپر تصرف کرتا ہے
* صرف حاملِ امانت کی حیثیت سے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔
* اسی تصور کی بناء پر اسلامی حکومت کے بنیادی اہداف یہ ہیں:
* اللہ کی زمین پر اللہ ہی کی حکومت ۔
* انسان پر انسان کے ناروا غلبے کا خاتمہ چاہے وہ فرد کی صورت میں ہو یا گروہ کی صورت میں۔
* فرد  اور معاشرے کو ہر قسم کے ظلم، جبر اور استحصال سے نجات ملے۔
* انسان باہمی محبت، احترام رواداری، مواخات اور مساوات کی بنیاد پر اس طرح سے زندگی گزاریں کہ انسانی معاشرہ جنت نظیر ہو جائے۔
* نظم معاشرہ برقرار رہے۔
* معاشرے میں تقویٰ کے علاوہ فضیلت و برتری کا ہر معیار باطل ہو جائے۔ 
اسی تصور حکومت اور الٰہی اہداف حکومت کے پیش نظر پاکستان میں نظام حکومت کے خدوخال اور خطوط یہ ہوں گے۔
سرچشمہ آئین و قانون
قرآن و سنت پاکستان کے آئین اور قانون کا سرچشمہ ہوں گے۔
آئین، آئین کو کوئی دفعہ یا کوئی قانون ہرگز خلاف قرآن و سنت نہیں ہوگا۔ ہر مسلمہ اسلامی مکتب فکر کے لیے قرآن و سنت کی وہی تعبیر معتبر ہوگی جو اس کے ہاں مسلم ہے۔
ریاستی  ادارے
ریاست کے تین بنیادی ادارے یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ باہم مربوط مگر کاملاً آزاد ہوں گے۔
مقننہ
* پارلیمانی نظام کے تحت دو ایوانی مقننہ ہوگی۔
* اراکین مقننہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ 
۔۔۔تعلیم یافتہ ہوں۔
۔۔۔کسی بھی شعبۂ زندگی ( سیاسی، سماجی معاشی، ثقافتی  اور اخلاقی) میں خلافِ شریعت کوئی کام سرانجام نہ دیتے ہوں۔
۔۔۔آئین اور قانون سازی کے  امور سے واقفیت رکھتے ہوں اور 
ضروریاسلامی احکام سے کافی حد تک آگاہ ہوں۔
انتخابات
انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے تاہم آزاد امیدواروں کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔
* پارلیمنٹ کے اراکین آزاد اور براہ راست انتخاب کے ذریعہ منتخب ہوں گے۔
ووٹر کی عمر
امورِ مملکت میں رائے دینے کے لیے ووٹرکی عمر کم از کم 16سال ہوگی ۔
سیاسی جماعتیں
مذکورہ اہداف کے حصول کے لیے سیاسی جماعت بنانے کی آزادی ہوگی۔ سیاست میں حصہ لینے والے کسی فرد یا گروہ کو مشرق و مغرب کی کسی استعماری طاقت سے وابستگی کی ہرگز اجازت نہ ہوگی  اور نہ اسے یہ اجازت ہوگی کہ وہ ملک دشمن اور غیر اسلامی نظریات کی بنیاد پر سیاست کرے۔ البتہ امور مملکت وسیاست میں شرکت کے لیے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ضروری نہ ہوگی۔
مارشل لاء
ملک  میں کسی صورت میں اور کسی حصے میں کسی بھی عرصے کے لیے مارشل لاء کے نفاذ کی ہرگز اجازت نہ ہوگی۔ کیونکہ مارشل لاء کا نفاذ اصطلاحِ قرآن میںخدا اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ کے مترادف ہے۔
قانون

تکامل کی راہ میں انسانی معاشرے کے ہموار سفر کے لیے کچھ اصول و ضوابط ناگزیر ہیں۔ چنانچہ ہر انسانی معاشرہ میں امن و سکون اور توازن کے لیے مختلف نظام قانون وضع کیے گئے ہیں مگر یہ نظام
معاشرتی فساد  اور ناہمواریوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ یہ قوانین خود انسان نے وضع کئے ہیں۔ ان میں شعوری یا لا شعوری طور پر انسان کے انفرادی و گروہی مفادات کی چھاپ نمایاں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں ایسی عالم، مدبر اور حکیم ہستی کے تجویز کردہ اصول و قوانین کو رائج کیا جانے جوہر قسم کے انفرادی اور طبقاتی مفادات سے بالاتر ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کے فطری تقاضوں اور ضروریات سے بھی آگاہ ہو۔ ایسی ذات صرف اور صرف اللہ ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ہمارے ملک میں بھی قانون الٰہی کی حکمرانی نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پاکستان کا نظام قانون ان اصولوں پر استوار ہو۔
*قانون کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔
* اللہ کے قانون کا منبع قرآن اور سنت ہیں۔
* کوئی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
ہمہ گیر قانون
قانون کی ہمہ گیری کے لیے ضروری ہے کہ وہ جامع اور مدون ہو۔ اس مقصد کے لیے قانون ساز ادارہ یہ اقدامات کرے گا:
*ہر وہ قانون اور قانون کی ہر اس بنیاد کو ختم کر دے گا جو قرآن و سنت کے خلاف ہو۔
* مسلمہ اسلامی مکاتب فکر کی متفقہ آراء کو اجتماعی قوانین کی حیثیت سے مدون کرے گا۔
*مسلمہ اسلامی مکاتب فکر کی اختلافی آراء کو ہر مکتب فکر کے مختص قوانین کے زمرے میںمدون کرے گا۔
* وہ تمام موضوعات جنھیں شریعت نے انسانوں کے تکامل و ارتقاء اور معاشرتی تغیرات کے پیش نظر لوگوں کی صوابدید پرچھوڑ دیا ہے اور وہ واجب یا حرام کے قطعی احکام میں شامل نہیں ہیں ان میں قرآن و سنت کے راہنما اصولوں کی روشنی میں عوام کی بہبود اور ملی مصالح کے پیش نظر قانون سازی کرے گا۔ قانون سازی کا یہ شعبہ ’’شعبہ آزاد قانون سازی‘‘ کہلائے گا۔
اسلامی نظریاتی کونسل
آئین اور ہر قانون کے نفاذ سے  پیشتر ضروری ہوگا کہ اس کے اسلام کے مطابق یامنافی ہونے کا تعین نظریاتی کونسل کرے۔ اس کی تشکیل اس طرح سے کی جائے گی کہ اس میں ہر مسلمہ اسلامی مکتب فکر کے ماہرین فقہ کو مساوی نمائندگی دی جائے گی نیز آئین کی تطبیق کے لیے ماہرین قانون کو بھی کونسل میں شامل کیا جائے گا۔ اس کونسل کے اراکین کا انتخاب سینٹ کرے گی ۔کونسل کے نظریے کو مشورے کی نہیں فیصلے کی حیثیت حاصل ہوگی۔کونسل کا نظریہ حتمی اور ناقابل تنسیخ ہوگا۔

 
عدالت

عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق عامہ کی محافظ ہو، قانون کی حکمرانی کا ذریعہ ہو، لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ قانون اپنی روح اور مقاصد کے ساتھ نافذ ہو۔ عدلیہ صرف اس لیے نہیں کہ مجرم کو سزا دے بلکہ اس کے ذمہ ہے کہ وہ ایسے اقدامات بھی کرے جن کے ذریعے ارتکاب جرم کی حوصلہ شکنی ہو اور مجرم اصلاح کی طرف مائل ہو۔ اسلامی ریاست میں عدلیہ کی اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ کو خلافِ اسلام اقدامات سے رو کے۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کا نظام عدالت ان بنیادوں پر تشکیل دیا جائے گا۔ 
* مفت حصولِ انصاف ہر فرد کا بنیادی حق ہے لہٰذا کورٹ فیس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
* غلط اور بے مقصد مقدمہ بازی معاشرے پر بوجھ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے ضوابط بنائے جائیں گے۔
* انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ جلد انصاف کے حصول کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ضابطہ کی الجھنیں دور کی جائیں گی۔
* عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرکے مکمل طور پر آزاد اور خود مختار بنا دیا جائے گا۔
* عدالتوں کی درجہ بندی از سر نو کی جائے گی۔ ابتدائی سماعت جس سطح پر بھی ہو اُس کے خلاف صرف ایک اپیل ہو گی۔ 
* پورے ملک میں یکساں عدالتی نظام رائج کیا جائے گا۔
* ججوں کی تنخواہیں ا س حد تک بڑھا دی جائیں گی کہ ان کی مالی ضروریات پوری ہو سکیں اورو ہ اپنا سماجی مقام برقرار رکھ سکیں۔
سپریم جوڈیشل کونسل
سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی جائے گی جس کے اختیارات اور ذمہ داریاں درج ذیل ہوں گی۔
۱۔ ملک کی تمام عدالتوں کی نگرانی
۲۔ عدالتوں میں ججوں کا تعین
۳۔ ججوں کی ترقی اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی۔
۴۔ عدالتوں کو متعلقہ قوانین کا ابلاغ۔
اس کونسل کا انتخاب سینٹ کرے گی۔
انتظامیہ
۱۔ ریاست کے لیے لازم ہوگا کہ وہ انتظامی عہدوں پر جن افراد کو متعین کرے وہ ضروری شرعی احکام سے آگاہ ہوں۔
۲۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں خلاف شریعت کوئی کام سرانجام نہ دیتے ہوں۔
۳۔ ملک و ملت کے وفادار اور مخلص ہوں۔

 
نظام معیشت

زمین اور اس کے وسائل اللہ کی ملکیت ہیں۔ انسان زمین پرنائب الہی کی حیثیت سے سے ان وسائل کا امین ہے۔ ان وسائل کی تقسیم اور ان کا تصرف انسانی بقا اور ارتقا کے نقطہء نظر سے عادلانہ طور پر ہونا چاہیے تھا لیکن دنیا کا موجودہ معاشی نظام انتہائی ظالمانہ ہے۔ اس نظام نے دنیا کی کثیر  اور وسیع آبادیوں کو محرومیوں کا شکار کررکھا ہے۔ 
خود پاکستان میں رائج معاشی نظام بڑی طاقتوں اور ان کے زیر تسلط اداروں کی استعماری پالیسیوں کے تقاضے پورے کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے اور یہ نظام ظلم و استحصال اور استمثار و احتکارکا سبب بن رہا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ
* ملک میں موجودہ معاشی نظام کو یکسر تبدیل کرکے اسلام کے عدل اجتماعی کی بنیاد پر قائم اقتصادی نظام نافذ کیا جائے جس میں:
* ہر قسم کے معاشی استبداد کی نفی۔
* طبقاتی تفاوت کا خاتمہ۔
* بنیادی ضروریات کی فراہمی۔
* ہر شخص کو روزگار کی فراہمی۔
* ملک کے خود کفیل ہونے کی ضمانت موجودہو۔
نیز یہ بھی ضروری ہے۔۔۔کہ
* قومی اقتصادی منصوبہ بندی اس انداز میں کی جائے کہ فرد اپنی معاشی جدوجہد کے ساتھ معنوی و روحانی خود سازی کے مواقع بھی حاصل کر سکے۔
اسلامی احکام کی روشنی میں یہ اقدامات کیے جائیں گے:
۱۔ مالکیت کی حد بندی
مالکیت کی حدود کا تعین کیا جائے گا تاکہ وسائل و آلات پیداوار کی عادلانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔
۲۔ ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ
ذخیرہ اندوزی اور احتکار چونکہ معاشرے میں استحصال و استثمارکو جنم دیتا ہے لہٰذا تمام بنیادی ضروریات زندگی کی نجی سطح پر ذخیرہ اندوزی ممنوغ قرار دے دی جائے گی۔ اشیائے خوردنی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے اسباب ختم کر دیے جائیں گے۔
۳۔ اسراف کا خاتمہ
اشیائے صرف کے بے جا استعمال اور انھیں ضائع یا تلف کرنے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
۴۔ ناجائز منافع خوری اور اجارہ داری کا خاتمہ
ہر قسم کی اور ہر حیلے سے کی جانے والی ناجائز منافع خوری اور اجارہ داری کو ختم کر دیا جائے گا۔
۵۔پیشے کا انتخاب
ہر فرد کو پیشے کے انتخاب کی آزادی ہوگی البتہ خلافِ اسلام اور مفادِ عامہ کے منافی پیشہ اختیار کرنے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی نیز ہر طرح کے حرام کاروبار کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
۶۔ قدرتی وسائل
تمام قدرتی وسائل قوم کی ملکیت میں ہوں گے۔
۷۔ نظام مالیات
نظام مالیات کو اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سود کی ہرشکل کو ختم کر دیا جائے گا۔ تجارتی منافع کی شرح کا تعین بھی کیا جائے گا تاکہ زیادہ منافع سود (ربا) کی شکل  اختیارنہ کر سکے۔

معیشت کے مختلف شعبوں میں مندرجہ پالیسیاں اختیار کی جائیں گی۔
تجارتی پالیسی
* بین الاقوامی تجارت قومی کنٹرول میں ہوگی۔
* بین الاقوامی سودی نظام کے مہلک اثرات سے بچنے کے لیے اشیاء کے بدلے اشیاء کی طرز تجارت اختیار کی جائے گی۔
* درآمدات و برآمدات کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور اشیائے تعیش کی درآمد مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔  نیز ملکی ضروریات کی ملک میں پیداوار کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
صنعتی پالیسی
انفرادی صنعتی مالکیت کی حدود کا تعین کیا جائے گا۔
تمام بنیادی صنعتیں قومی ملکیت میں ہوں گی۔
آلات تولید پیدا کرنے والے کارخانے حکومتی کنٹرول میں ہوں گے۔
بیرونی سرمایہ کاروں کو اسلامی اور ملکی مفادات کی روشنی میں مشروط طور پر سرمایہ کاری کی اجازت دی جاسکے گی۔
زرعی پالیسی 
* ملکیت زمین کی حدود کا تعین کیا جائے گا اوربڑی بڑی زمینداریاں اور جاگیریں ختم کر دی جائیں گی۔
* ایسی زمینیں جنھیں خود کاشت نہیں کیا جاتا انھیں قومی ملکیت میں لے لیا جائے گا۔
* بنجر قدیم اراضی کو وفاقی حکومت اپنی تحویل میں لے کر آباد کاروں میں تقسیم کرے گی۔
* نظام حقیت اراضی کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور اسے عدل اسلامی کی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
* اسلامی  اصولوں کے مطابق مزارعین کو ان کے حقوق دلوائے جائیں گے۔
* زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں گے اور ملکی معیشت میں زرعی شعبہ کا کردار مؤثربنایا جائے۔
* مشینی کاشت اور جدید زرعی آلات کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے تعاونی کاشت (COOPEREATIVE FARMING) کے نظام کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ 
لیبر پالیسی
لیبر پالیسی کے بنیادی نکات یہ ہوں گے۔
* سرمائے کو محنت کی جگہ نہیں لینے دی جائے گی۔
* مزدور کو کارخانے کے منافع میں حصہ دار بنایا جائے گا۔
* انتظامی معاملات میںمزدوروں کو مؤثر نمائندگی دی جائے گی۔
* مزدوروں کو مکمل سماجی تحفظ دیا جائے گا۔
* مزدور کے بچوں کی مفت تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا۔
* مزدور اور اس کے اہل ذمہ کی صحت کی ضروریات کی مفت فراہمی کا انتظام کیا جائے گا۔
* مزدور کی تنخواہ کا تقرر اجتماعی معیار زندگی کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔
* مزدور کو اس وقت تک ملازمت سے نہیں نکالا جاسکے گا جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے اپنی ذمہ داریوں کے خلاف کردار ادا کیا ہے۔
* عیر ہنر مند مزدوروں کو ہنر مند بننے کے مواقع کارخانہ مفت مہیا کرے گا۔
ملازمین کے حقوق
* لیبر پالیسی میں مزدور کو حاصل تمام حقوق و مراعات ملازمین کو بھی حاصل ہوں گی۔
* طبقاتی تفاوت پیدا کرنے والا مروجہ گریڈ سسٹم ختم کرکے انتہائی مختصر انتظامی درجوں پر مشتمل نیا نظام رائج کیا جائے گا۔
* سول ملازمین کو  امور مملکت و سیاست میں حصہ لینے کا حق دیا جائے گا۔

 
خارجہ پالیسی

اسلام الٰہی اور آفاقی دین ہے جو بنی نوع انسان کو ایک برادری قرار دیتے ہوئے ہر قسم کے جبر، ظلم، استحصال اور محکومیت سے انسانی نجات اور سلامتی کا ضامن ہے اور اپنے اس پروگرام کی راہ میں حائل تمام انفرادی واجتماعی رکاوٹوں کے خلاف جدوجہد پر غیر متزلزل ایمان رکھتا  ہے تاکہ اللہ کے قانون عدل کی عالمگیر حکومت قائم ہو جائے کہ جو نوعِ انسانی کا دیرینہ خواب ہے۔
لیکن۔۔۔ معروضی عالمی نظام قومی ریاستوں کے تصور پر استوار ہے جس کے تحت انسان کو رنگ، نسل، زبان اور جغرافیہ کے اعتبار سے مختلف قوموں اور مملکتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا عالمی اسلامی حکومت کے لیے ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے۔
چنانچہ۔۔۔ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی درج ذیل خطوط پر استوار ہوگی۔
ملک کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ’’لاشرقیہ لا غربیہ‘‘ کا اسلامی اصول ہوگا۔ اس کی روشنی میں:
۔۔۔ کسی بھی طاقت کی اقتصادی، ثقافت، فوجی اور /یا سیاسی بالادستی ہرگز قبول نہیں کی جائے گئی۔
کسی بھی طاقت کے مفادات کی نگہداشت اور ترویج نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے ناوابستگی کے اصول پر سختی سے کاربند رہا جائے گا۔
۔۔۔استعماری اور سامراجی عزائم کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔
۔۔۔ ملکی مفاد کا تحفظ خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہوگا۔ اس کے تحت:
۔۔۔ علاقائی سالمیت، ملکی سلامتی، سیاسی خود مختاری اور معاشی آزادی کے حصول اور بقا کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ اس طرح سے کہ ملکی مفادات کا تعین اسلامی تقاضوں کی روشنی میں ہو۔
دیگر ممالک سے تعلقات عدم مداخلت اور پر امن بقائے باہمی کے اصول پر مبنی ہوں گے، جس کے تحت:
۔۔۔ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور کسی بھی ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا۔
۔۔۔ تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ بنیادوں پر قریبی، خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں گے۔
ماسوائے:
*   ان ممالک کے جو نسل پرستانہ، صہیونی، سامراجی اور توسیع پسندانہ عزائم کے حامل ہوں یا اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسی اپنائے ہوں۔
البتہ:
* تمام مواقع پر اسلامی مفادات کو ترجیح دی جائے گی ۔
* محض حکومتوں سے تعلقات کے بجائے دنیا بھر کے عوام سے قریبی رابطے قائم کیے جائیں گے۔
خارجہ پالیسی کے ان خطوط کی روشنی میں مندرجہ ذیل اقدامات کیے جائیں گے۔
* تمام تر سیاسی، اقتصادی، فوجی اور ثقافتی نوعیت کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی اور ایسے تمام معاہدے یا کسی بھی معاہدے یا کسی بھی معاہدے کے ایسے حصے کالعدم قرار دے دیے جائیں گے جو خارجہ پالیسی کے مذکورہ بالا بنیادی اصولوں سے متصادم ہوں گے۔
* قرضوں کی شرائط پر نظر ثانی کی جائے گی اور سامراجی سرمایہ کاری اورقرضے ضبط کر لیے جائیں گے۔
* ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا اور نہ روبہ عمل لایا جائے گا جس کے تحت کوئی غیر ملکی طاقت ملک کے قدرتی وسائل پر تسلط یا تصرف حاصل کر سکے۔
* کسی سامراجی طاقت کو فوجی مقاصد کے لیے پاکستان کی زمین، فضا اور پانی استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
* دنیا بھر میں محروموں اور مظلوموں کی آزادی کی تحریکوں بالخصوص اسلامی تحریکوںکی حمایت کی جائے گی اور ان سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
* عالمی  امن کے قیام اور فروع نیز بنی نوع انسان کی خوشحالی اور ترقی کے لیے عالمی تنظیموں اور اداروں میں موثر کردار  ادا کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ان تنظیموں اور اداروں میں استعماری اثر و نفوذ کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
* استحصال، استعمار اور ظلم سے پاک ایک نئے عالمی اقتصادی اور سیاسی نظام کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
* مختلف ممالک میں موجود مسلم اقلیتوں کے حقوق کی بحالی/تحفظ کی کوشش کی جائے گی۔
* مسلم اکثریت کے وہ علاقے جو اغیار کے زیر تسلط ہیں ان کی  آزادی کے لیے تعاون کیا جائے گا۔
* القدس  اور دیگر مقاماتِ مقدسہ کی حرمت و آزادی کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
* کشمیر کی آزادی  اور اس کے پاکستان سے الحاق کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
* بیرونی مداخلت یا فوج کشی کے خلاف مزاحمت میں اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
* علاقے میں ہر قسم کی فوجی مہم جوئی یا بیرونی مداخلت کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
* پاکستان کو اس کےجغرافیائی، تاریخی اور دینی تقاضوں کی روشنی میں مغربی ایشیا کا حصہ قرار دے کر مسلمان ممالک سے قریبی روابط کا احیاء کیا جائے گا۔

 
تعلیم

علم اور ذوق تحقیق انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حصول علم ہر فرد  کا بنیادی حق بھی ہے اور فطری ذمہ داری بھی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس حق کے حصول اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہر فرد کی سرپرستی کرے تاکہ ہر شخص آزادانہ تحقیق وجستجو اور آگہی و بصیرت کے ذریعے اپنا مقصد تخلیق پورا کرتے ہوئے ارتقاء و کمال کی طرف بڑھ سکے۔
لیکن۔۔۔فروغِ شعور کے ساتھ ساتھ تعمیر سیرت و کردار بھی ناگزیر ہے لہٰذا نظامِ تعلیم کو اندر کے انسان کی تربیت کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔ جب کہ پاکستان میں رائج  نظامِ تعلیم نہ فقط ان مقاصد کو پورا نہیں کرتا بلکہ ان کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔ ان حالات میں تعلیمی وثقافتی انقلاب برپا کرنے کے لیے اس نظام تعلیم کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اسلامی ریاست میں نظامِ تعلیم کا ان خطوط پر استوار ہونا ضروری ہوگا۔
* نصاب تعلیم اس نہج پر ترتیب دیا جائے گا کہ:
۔۔۔تعلیم اور تربیت کے تمام تقاضے پورے ہوں۔
۔۔۔ وسعت نظر اور ادراک حقیقت کے لیے تقابلی مطالعہ پیش کرے۔
۔۔۔ دنیاوی اور مذہبی تعلیم کے درمیان پیدا کردہ تفاوت دور کرنے کا ذریعہ ہو۔ 
* طبقاتی درجہ بندی کے خاتمے کے لیے:
۔۔۔ نصاب میں یکسانیت،
۔۔۔ لباس میں برابری،
۔۔۔ ذریعہ تعلیم میں ہم آہنگی اور
۔۔۔سہولیات میں مساوات قائم کی جائے گی۔
* عمرانی علوم اور فنی تعلیم میں ربط اور توازن پیدا کیا جائے گا تاکہ:
۔۔۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ انسان شناسی کا شعور بھی پروان چڑھے۔
۔۔۔سائنس کی ترقی انسانی تقاضوں اور اخلاقی اقدار سے گریزاں نہ ہو۔
اس نظام میں تعلیم کو ثمر آور بنانے کے لیے پاکستان میں درج ذیل اقدامات کیے جائیں گے۔ 
* مذہبی تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا اور عام تعلیمی اداروں کے نصاب اور پروگرام کو انہی تقاضوں کےمطابق ڈھالا جائے گا ۔
عام تعلیمی اداروں میں ہر سطح پر اور ہر شعبے میں قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے گا اور اس مقصد کےلیے نصابی کتب اور متعلقہ کتب کا فی الفورقومی زبان میں ترجمہ کیاجائے گا۔
* ہر سطح پر انگریزی کو بحیثیت لازمی مضمون ختم کردیا جائے گا اور اس کی جگہ علاقائی زبان کی تعلیم لازمی قرار دی جائے گی۔
* حصول تعلیم کے مواقع اور سہولیات لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے یکساں ہوں گے۔
* لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی ادارے الگ الگ قائم کیے جائیں گے۔
* تعلیمی پالیسی موثر عملدرآمد کے لیے تعلیمی بجٹ میں ہر ممکن اضافہ کیا جائے گا۔
* میٹرک تک تعلیم لازمی اور بلا معاوضہ ہوگی۔
* فنی تعلیم عام کی جائے گی اور اس شعبہ کی تیز رفتار اور ہمہ گیر ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، یہ پیش نظر رکھتے ہوئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغرب کی بالادستی کا خاتمہ ہو سکے۔
* عرصۂ تعلیم میں اضافے کے سبب نوجوانوں کے لیے تشکیل خاندان میں تاخیر اور مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت شادی کے لیے طالب علموں کو آسان شرائط پر خصوصی قرضے فراہم کرے گی۔
* ملازم پیشہ افراد کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت میں اضافے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔ 
* شرح خواندگی میں اضافے کے لیے تعلیم بالغاں کا ہمہ گیر انقلابی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ جس کے تحت مزدوروں، کسانوں، خواتین حتیٰ کہ جیل میں موجود قیدیوں تک کے لیے تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے گا اور اس پروگرام پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ تعلیمی اداروں کے طالب علموں کی صلاحیتوں سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔
* ذوق مطالعہ کے فروغ اور شوق تحقیق کی تکمیل کے لیے تعلیمی اداروں کے علاوہ مقامی اور دیہی سطح پر لائبریریوں کا جال بچھایا جائے گا اور موجود لائبریریوں کا معیار بلند کیا جائے گا۔
* اساتذہ کی پیشہ ورانہ اور نظریاتی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے توسیعی پروگرام شروع کیا جائے گا۔
* اساتذہ کی سنیارٹی ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور تعلیمی خدمات کی بنیاد پر متعین کی جائے گی۔ 
* تعلیمی ماحول کو با مقصد، پاکیزہ اور ارتقاء پذیر بنانے کے لیے نیز تعلیمی مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں اساتذہ، طلبہ اور والدین کی موثر شرکت یقینی ہو۔
* طلبہ کے لیے صحت مندانہ غیر نصابی علمی و تفریحی سرگرمیوں کی سرپرستی کی جائے گی البتہ ان سرگرمیوں کو تعلیم وتربیت کے بنیادی نظریاتی مقاصد سے ہم آہنگ رکھا جائے گا۔
* امور مملکت و سیاست میں طلبہ  کے اجتماعی موقف اور رائے کو قومی پالیسیوں کی تشکیل میں ملحوظ رکھا جائے گا۔
* میٹرک اور اس سے بالا درجے کے ہر طالب علم کے لیے ابتدائی عسکری تربیت لازمی ہوگی۔
* عربی زبان کی تعلیم و ترویج کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن حکیم اوراسلامی تعلیمات کے دیگر سرچشموں سے براہ راست استفادہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
* نظام تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کی سطح اور عمومی معلومات میں اضافے کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔
* ملک میں بسنے والے غیر مسلموں کو اپنے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت ہوگی لیکن ان میں مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
* غیر اسلامی مشنری اداروں کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
* نظامِ تعلیم اس طرح سے وضع کیا جائے گا کہ عرصہ تعلیم ممکن حد تک کم ہو جائے۔

 
جہاد

اسلام کے بنیادی نظریات و عقائد میں جہاد کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جہاد اسلام کے فروع دین میں سے ہے۔ اس کا مقصد اسلام، مسلمانوں اور سرزمینِ اسلام کا دفاع ہے۔ یہ صفحہ ارض سے ظلم کے خاتمے اور مظلوم کی نجات کے لیے ہے۔ جہاد اللہ کے راستے میں اللہ کے قانون کی بالادستی اور اللہ کے بندوں کی حمایت میں ہے۔
اسلام کے داخلی اور خارجی دشمنوں نے مسلمانوں کو اسلام کے نظریۂ جہاد سے دور کرنے کی ایسی سازشیں کی ہیں کہ آج مسلمان روح جہاد سے عاری ہو چکے ہیں۔ اسی سبب سے مسلمان ذلت و پستی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں۔ مسلمانوں کی نجات جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت زندہ کیے بغیر ممکن نہیں۔ جہاد پوری امت کا فریضہ ہے۔ کسی  ایک گروہ کی ذمہ داری نہیں۔ البتہ دور حاضر میں فوجی اور عسکری تربیت اور فوجی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی نے باقاعدہ اور مستقل فوج کی ضرورت سے دوچار کر دیا ہے۔ لہٰذا مستقل فوج آج کی اسلامی ریاست کی بھی ناگزیر ضرورت ہے لیکن جہاد کے اسلامی فلسفے کا تقاضا ہے کہ یہ فوج کاملاً نظریاتی ہو  اور ساتھ ساتھ عوام کی فوجی تربیت کا بھی موثر نظام ضروری ہے تاکہ اسلامی جہاد کے تمام تر تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔ جب کہ پاکستان میں صورت حال یہ ہے کہ فوج عملاً غیر نظریاتی ہو کر رہ گئی ہے۔ اسے عوام سے کاٹ کر سامراج کی عالمی حکمت عملی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ان حالات میں پاکستان میں نظام جہاد کو ان بنیادوں پر از سر نو استوار کیا جائے گا۔
* پاکستان کی تمام افواج کا ۔۔۔۔۔۔
ڈھانچہ، نظامِ تربیت، حربی حکمت عملی اور اہداف کا اسلامی مقاصد اور اسلامی ریاست کی ضروریات کے اعتبار سے سرے سے تعین کیا جائے گا۔
* مسلح افواج اور عوام کے درمیان حائل فاصلوں کو کم کرنے اور جہاد کی ذمہ داریوں سے با حسن عہدہ بر آ ہونے کے لیے ’’عوامی اسلامی فوج‘‘  تیار کی جائے گی۔
* فوجی قوانین پر نظر ثانی کرکے اسلامی احکام کی روشنی میں نئے قوانین وضع کیے جائیں گے۔
* فوج میں درجہ بندی کے موجودہ طریقے کو یکسر تبدیل کرکے ذمہ داری کے اعتبار سے عہدوں کا اصول اپنایا جائے گا۔
* بیرون ملک فوجی خدمات کی شرائط کا تعین اسلامی مفاد اور ملکی تقاضوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔
* پاکستانی فوج آمر حکمرانوں کے اقتدار کے تحفظ  اور ایسے کسی بھی سامراجی مفاد کے لیے ہرگز استعمال نہیں کی جائے گی البتہ اسلامی مفادات مثلاً قبلۂ اول کی آزادی کے لیے پاکستانی فوج بیرون ملک خدمات سرانجام دے سکے گی۔
* سیاسی عمل میں فوجی مداخلت کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔
مذکورہ مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ 
* ملک کے تمام صحت مند مردوں کی لازمی فوجی تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔
* ہر بالغ صحت مند پاکستانی مرد پردو سال کے لیے فوجی خدمت سرانجام دینا لازمی ہو گا اس طرح دس کروڑ کی آبادی کے لیے پہلے دو سال میں تیس لاکھ عوامی اسلامی فوج مہیا ہو جائے گی۔
* دفاعی صنعتوں میں خود کفالت کے لیے تیز رفتار اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکنالوجی اور ریسرچ کے لیے مناسب رقوم مختص کی جائیں گی۔
* بڑی فوجی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے جہاں اور جس حد تک ضروری ہوا نظریاتی اسلامی ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
* غیر ممالک میں اس وقت فوجی خدمات سرانجام دینے والے تمام پاکستانیوں کو فی الفور واپس بلا لیا جائے گا۔

 
حقوق عامہ

آزادی ہر انسان کا فطری اور اسلامی حق ہے۔ اس لیے کہ انسان فاعل مختار پیدا کیا گیا ہے لیکن آزادی کا مفہوم کسی قانون اور ضابطے کے بغیر منفی بھی ہے اور ناقابل عمل بھی۔ انسان کی یہی آزادی اسے کچھ حقوق و مراعات عطا کرتی ہے۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مفاد اسلامی کے تقاضوں کی روشنی میں ہر فرد کی آزادی کا تحفظ اور اس کے حقوق کی نگہداشت کرے، اس طرح سے کہ کسی دوسرے کی آزادی اور حق پر آنچ نہ آنے پائے۔
آزادی کے اس مفہوم کی روشنی میں پاکستان کے شہریوں کو مندرجہ ذیل حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔
* ہر شخص کو اپنے ضمیر کے مطابق عقیدہ اور مذہب کے اختیار کی آزادی ہوگی۔
* ہر شخص کو اپنی مذہبی رسوم کی بجا آوری اور تبلیغ کی آزادی فراہم کی جائے گی جیسے عید میلاد النبیؐ اور عزاداری وغیرہ۔
* ہر شخص کو حصول انصاف کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔
* ہر شہری کو روزگار، تعلیم اور صحت کا تحفظ فراہم کیا جائے گا نیز اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے کہ ہر شہری کی خوراک، لباس اور رہائش کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
* سماجی، سیاسی، ثقافتی اور معاشی میدان میں عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
* حکومت کی ذمہ داری ہو گی کہ ہر شہری کی جان و مال اور عزت کو تحفظ فراہم کرے۔
* ہر شہری کو نقل و حرکت، تحریر و تقریر، اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی حاصل ہوگی۔
* شہریوں کے ذاتی خطوط اور ٹیلی فون گفتگو وغیرہ کی راز داری کا تحفظ کیا جائے۔
* کھلی عدالت میں مقدمہ چلائے بغیر کسی شخص کو گرفتار یا نظر بند نہیں رکھا جائے گا۔

 
ثقافت

نظریاتی اور عملی لحاظ سے اسلام اپنی نہایت قیمتی، ترقی یافتہ اور متنوع ثقافت رکھتا ہے۔ آج مجموعی طور پر انسانی معاشرہ ثقافتی المیے سے دوچار ہے۔ ثقافت بڑی طاقتوں کے سامراجی مقاصد کا ذریعہ بن چکی ہے اور ثقافت ہی انسانی صلاحیتوں  اور فکر و فن کے انحراف اور خاتمے کا وسیلہ بن چکی ہے ۔ ضروری ہے کہ اسلامی ریاست  میں خود اس کی بقا  اور ترقی کے لیے اجتماعی اور انفرادی حوالے سے اسلام کی زبردست طاقتور اور متحرک نظریاتی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔
اسلامی ثقافت کی بنیادیں یہ ہیں:
(۱) اسلام کے احکام اور تعلیمات اسلامی ثقافت کی بنیاد ہیں۔ اسلام کے اجتماعی اور انفرادی ضوابط اسلامی ثقافت کی حدود متعین کرتے ہیں۔
(۲) اسلام کے نزدیک انسان محض ایک لوہے کی مشین نہیں بلکہ یہ دل بھی رکھتا ہے اور دماغ بھی۔ اس کے روحانی اور معنوی تقاضے بھی ہیں۔
(۳) اسلام کے نزدیک تفریح برائے تفریح کا کوئی مفہوم نہیں بلکہ اسلام ثقافت کے تفریحی اور جمالیاتی پہلو کے تکامل و ارتقاء کے لیے ایک ناگزیر معاون و مددگار ہے۔
(۴) اسلام اپنے فروغ کے لیے اپنی ثقافت کو ایک نہایت اہم اور موثر ذریعہ سمجھتا ہے نیز اس کے ساتھ ساتھ اسلام اپنے ثقافتی پروگرام کے ذریعے علم و آگہی کی سطح بلند کرتا ہے۔
(۵) اسلام انسان کے فطری تقاضوں کو دبانے پرنہیں بلکہ انھیں باقاعدہ و باضابطہ بنانے پر یقین رکھتا ہے۔
اسلامی ثقافت کے انہی اصولوں اور بنیادوں کی روشنی میں پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اس محاذ پر یہ اقدامات کیے جائیںگے:
* تمام غیر ملکی ثقافتی معاہدوں پر نظرثانی کی جائے گی اور پاکستان کی اسلامی اساس سے متصادم غیر ملکی ثقافتی سرگرمیوں کو بند کر دیا جائے گا۔
* ثقافت کے نام پر اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے فحاشی، عریانی، بے حیائی اور دیگر اخلاقی گمراہیوں کی ترویج کو کچل دیا جائے گا۔
* علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
* شعر و سخن اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں کی سرپرستی کی جائے گی۔
* ملک میں ایک ایسا ماحول مہیا کیا جائے گا کہ فنکار معاشی اور سیاسی جبر سے آزاد ہو کر معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔
* صحت مندانہ کھیل اور تفریحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

متفرقات
صحت پالیسی
* صحت پالیسی کے بنیادی نکات یہ ہوں گے۔
* جسمانی اور ذہنی صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
* علاج سے پہلے مدافعت (PREVENTION) کا اصول اپنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے ماحول کی پاکیزگی اور صفائی کا موثر اہتمام کیا جائے گا۔
* تمام  آبادی کا سالانہ طبی معائنہ حکومت کے ذمہ ہوگا۔
* میڈیکل کی بنیادی تعلیم میٹرک تک کے لیے لازمی ہوگی۔
* پیرا میڈیکل سٹاف میں خاطر خواہ اضافہ کر کے عوام کے علاج معالجے کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
* گھر گھر طبی سہولیات پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔
* طبِ اسلامی کو رواج دیا جائے گا۔
* ادویات سازی کی صنعت کو اس  نہج پر قائم کیا جائے گا کہ عوام کو معیاری اور سستی ادویات میسرآسکیں۔
* میڈیکل ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا۔
اوقاف
* اوقاف جس مسلک کے افراد سے متعلقہ ہوں گے ان کا انتظام و انصرام اسی مسلک کے پیروکاروں کے سپرد کیا جائے گا۔
خاندان
* خاندان اسلامی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اس کی تشکیل، استحکام  اور تقدس کو قائم اور برقرار رکھا جائے گا۔
دیہی علاقوں کی ترقی
پاکستان میں مجموعی طور پردیہی علاقوں کی حالت بہت پس ماندہ ہے جب کہ تقریباً ستر فیصد عوام دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔ غلط اقتصادی منصوبہ بندی اور سہولیات کی غیر متوازن فراہمی کی وجہ سے ملک کی زراعت روبہ زوال ہے اور شہروں کی طرف نقل مکانی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے باعث خود شہروں کی حالت مزید ابتر ہو رہی ہے اس صورت حال کی اصلاح اور دیہی ترقی کے لیے زرعی پالیسی اور دیگر عنوانات کے تحت دیے گئے امور کے علاوہ مندرجہ ذیل اقدامات کیے جائیں گے۔
* دیہی علاقوں میں زرعی بنیادوں کی حامل صنعتوں (AGRO BASED INDUSTRIES) کا جال بچھا دیا جائے گا۔
* بجلی کی فراہمی میں دیہی علاقوں کو ترجیح دی جائے گی۔
* دیہات کی سڑکوں کے ذریعے منڈیوں اور شہروں سے منسلک کر دیا جائے گا۔
* دیہات کی تعلیمی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔
پولیس
* پولیس کی از سر نو تشکیل و تنظیم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے پولیس میں درجہ بندی کو کم سے کم تر کر دیا جائے گا۔ بھرتی کے نظام میں بھی بنیادی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
* پولیس کی دینی بنیادوں پر موثر تربیت کی جائے گی اور اسے معاشرتی امن و سکون اور عدل اجتماعی کا ہمدرد و محافظ بنایا جائے گا۔
* پولیس میں ترقی کے لیے تقویٰ و پرہیز گاری  اور عوامی خدمت کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
* دوران تفتیش ہر قسم کے تشدد کو سختی سے ختم کر دیا جائے گا۔
* ملزم کے اعزا و اقرباء کو پریشان کیے جانے کے عمل کا سختی سے خاتمہ کر دیا جائے گا۔
قید خانے
* قید خانوں اور جیلوں کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں کی جائیں گی اور انھیں تصور اسلام کے مطابق مراکز اصلاح میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان کی عمارات کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا جائے گا نیز ان کا نام بھی تبدیل کر دیا جائے گا۔
* ان میں ہر قسم کے تشدد اور غیر انسانی و غیر اسلامی سلوک کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
* مراکز اصلاح کے عملے کو جدید اسلامی تقاضوں کی روشنی میں تربیت دی جائے گی۔
* مجرموں اور قیدیوں کی اسلامی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔
* ان پڑھ اور بے ہنر قیدیوں کی تعلیم اور فنی تربیت کا انتظام کیا جائے گا۔
* وہ مجرم اور قیدی جو اپنے اہل ذمہ کی کفالت نہ کر سکیں گے ان کے  اہل ذمہ کی کفالت حکومت کرے گی۔
* شادی شدہ قیدیوں کو اپنے ازدواجی تقاضوں کی ادائیگی کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
* قیدیوں کو قوم  پر مالی طور پر بوجھ بنانے کی بجائے انھیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق روزگار کی فراہمی کے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
Read 201 times

تازہ مقالے