بدھ, 05 آگست 2020 16:14


 
سید ثاقب اکبر نقوی


اس پس منظرمیں ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔۔۔ کہ:
پاکستان میں جدوجہد اور جنگ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ جنگ کس کے خلاف ، کس کی حمایت میں کس کس کو، کس انداز سے لڑنا ہے۔

یہ جدوجہد۔۔۔
* بیک وقت سامراج، وطن میں موجود اس کے گماشتوں اورمفاد پرست نمائندوں  اور حکمرانوں کے خلاف ہے۔ سب سے پہلے ہمیں سامراج پر ضرب کاری لگانا ہے کیونکہ سامراج ہی تمام تربرائیوں اور سیاہیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس سرچشمے کو بند کئے بغیر اور سامراج کے خونخوار ہاتھ کاٹے بغیر کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یہ جنگ۔۔۔
* عوام کو وسیع پیمانے پر انقلابی شعور دیے بغیر ہرگز نہیں لڑی جاسکتی  اس کے لیے کہ یہ تمام تر سازشیں در حقیقت عوام ہی کے خلاف ہیں اور بالآخر یہ جنگ عوام ہی کو لڑنا ہے۔
یہ معرکہ۔۔۔
* پاکباز، صاحب بصیرت، با ایمان، متقی، مجاہد اور با ایثار قیادت کے بغیر نہیں لڑا جاسکتا۔ عوام کو اپنی اس قیادت کو پہچاننا ہوگا اور ’’ امام وامت‘‘ کو ہم آہنگ ہو کر حوصلے اور جذبے سے نجات کا راستہ  اختیار کرنا ہوگا۔
یہ جہاد۔۔۔
* وطن پرستی کی بنیاد پرنہیں خدا پرستی کی بنیاد پر کرنا ہوگا کیونکہ ’’وطن‘‘ کی حدود تو پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہیں جب کہ خدا پرستی دائمی ، ہمہ گیر اور آفاقی جذبوں سے سرشار کرکے پوری انسانیت کے دکھ کر ہر انسان کا دکھ بنا دیتی ہے اور پھر خدا کی قوت پربھروسہ ہر قوت سے بے نیاز اور بے خوف کر دیتا ہے۔
زیر نظر منشور
اس جدوجہد کے مقاصد اور خطوط واضح کرتا ہے، حقیقی اسلامی تحریک کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور اسلامی حکومت کے اہداف اور پروگرام کی عکاسی کرتا ہے۔

 
Read 125 times

تازہ مقالے