بدھ, 05 آگست 2020 16:00


 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسائل کا آغاز
لا الہ الا اللہ کے ولولہ انگیز انقلابی نعروں کی گونج میں پاکستان معرض وجود میں آ گیا لیکن اس نوزائیدہ  مملکت کو بہت سے مسائل بھی حصہ میں ملے۔ مہاجرین کی آباد کاری، اثاثوں کی تقسیم، معاشی مشکلات اور موثر انتظامی ڈھانچہ کی عدم موجودگی اور زیر خطر سالمیت جیسے سنگین مسائل پر عوام کی پرجوش شرکت اور ہمہ گیر اعتماد کے بغیر صحیح طور پر قابو پانا ممکن نہ تھا۔ ضروری تھا کہ عوام کے اسلامی انقلابی جذبے کو بروئے کار لا کر اس مملکت کی تعمیر کا آغاز کیا جاتا۔ مگر حکمران طبقہ آہستہ آہستہ عوام سے دور ہوتا چلا گیا۔ شاید حکمران چاہتے بھی یہی تھے کہ عوام  امور مملکت میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوںمیں جو چاہیں کر سکیں۔ حکمرانوں کی اس روش نے مزید کئی ایک سنگین مسائل اور مشکلات کو جنم دیا

آئین سازی
ان میں سب سے اہم مسئلہ  آئین سازی کا تھا۔ پاکستان کی آئینی تاریخ انتہائی دردناک ہے۔ پہلا آئین تخلیقِ پاکستان کے نو سال بعد سامنے آیا پھر اُس کے بعد آئین بنتے رہے۔۔۔ آمریت کے ہاتھوں ان میں ظالمانہ ترامیم ہوتی رہیں آئین منسوخ ہوتے رہے آئین کا مسئلہ آج بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے ملکی سالمیت کو خطرہ ہے۔
مسئلہ کشمیر
ابتدا ہی سے مسئلہ کشمیر بھی پاکستان کا سنگین مسئلہ رہا ہے اور اس کے داخلی سیاست، خارجہ تعلقات، قومی سلامتی  اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس حساس قضیہ کو حکمران اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔
نظام حکومت و سیاست
ترجیحات کی ترتیب کے اعتبار سے یہ معاملہ کسی طور بھی ثانوی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ پاکستان کا نظام حکومت و سیاست کبھی کوئی معین و مشخص صورت اختیار نہیں کر سکا۔ اس کی وجوہات کچھ بھی پیش کی جائیں یہ امر مسلمہ  ہے کہ بالادست طبقوں نے کئی روپ بدلے ہیں۔ کبھی جمہوریت کا راگ الاپا گیا، کبھی عوام کی مالا جپی گئی، کبھی اپنی منشا کے مطابق نظریہ ضرورت تراشا گیا اور کبھی اسلام کو مسند اقتدار کا زینہ بنایا گیا۔  البتہ  یہ ایک حقیقت ہے کہ اختیارات کی تقسیم میں کمی بیشی کے ساتھ بہروپ، صورتیں اور ظاہری وابستگیاں بدل بدل کر مخصوص طبقے ہی آج تک حکمران رہے ہیں۔ یہ طبقے اس جاگیردار و سرمایہ دار، فوجی جرنیل اور نوکر شاہی۔ پاکستان پرعوام کے نمائندوں کی نہیں بلکہ زر اور زور والوں کی حکومت رہی ہے۔ اقتدار کا حامل طبقہ ہر قسم کی سیاسی اخلاقیات سے ماورا ہوکر صرف اور صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے جوڑ توڑ، سازش اور منافقانہ گٹھ جوڑ میں ہمہ وقت مبتلا رہا ہے۔ البتہ زیادہ عرصہ ملک طالع آزما فوجی آمروں۔۔۔ کے قبضے میں رہا ہے۔ 
ان حالات میں کیونکر ممکن تھا کہ ۔۔۔۔۔
خدا کی زمین کے اس حصے پر قانون الٰہی نافذ ہو اور اس کے مطابق دولت کی منصفانہ تقسیم ہو،
* پسے ہوئے محروم طبقوںکو ان کے چھنے ہوئے حقوق ملیں۔
* انتظامیہ عوام کی ہمدرد اور پولیس خدمت گزار ہو۔
کیونکہ ۔۔۔تمام تر وسائل تو حکمران طبقوں کے خدمت گزار تھے۔ مختلف ادوار میں پاکستان کے بجٹ میں سرمائے کی تقسیم اور عدلیہ وانتظامیہ کی عملی صورت حال اس بات کی شاہد ہے۔
بڑی طاقتوں سے وابستگی
ظاہر ہے عوام سے بے نیاز  بلکہ عوام کو گمراہ کرنے اور دبانے کی پالیسی پر گامزن حکومتوں کو ادھر ادھر سے سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی اسی ضرورت نے پاکستان کو بڑی طاقتوں کا کاسہ لیس اور طفیلی بنا دیا۔۔۔ یہاں تک کہ پاکستان کی حکومت پوری طرح امریکا کی حاشیہ نشیں اور کٹھ پتلی بن کر رہ گئی ہے۔ امریکا سے وابستگی کی پاکستان کی تاریخ بہت سیاہ ہے۔ امریکا نے مختلف طریقوں سے حکمرانوں سے ساز باز کرکے پاکستانی وسائل کو لوٹا ہے، عہد شکنی کی ہے، ظلم و جبر کی قوتوں کو تقویت دی ہے اور گمراہ کرنے کی اپنی عالمی پالیسی پر عمل کیا ہے۔
سیاہ ثقافت کے منحوس سائے
یہ امر مسلمہ ہے کہ ثقافت سے اجتماعی شعور کے خدوخال ابھرتے ہیں اور تہذیب و تمدن کے حوالے ہی سے قوموں کے انداز فکر و عمل کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ  ازیں ثقافت ارتقائی سفر کی سمت اور منزل کے امکان کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ابتدا ہی سے پاکستان میں مغرب کے سیاسی اثر و نفوذ اور معاشی اور مخصوص فکری تربیت نے ثقافتی سامراجیت کوبھی پروان چڑھایا اور رفتہ رفتہ ہمارا معاشرہ مغربی تہذیب و تمدن کی غلیظ دلدل میں اس درجہ اترگیا کہ اسلام کی پاکیزہ اقدار اور الٰہی روایات  یکسر فراموش ہو گئیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم انسان دشمن مغربی ثقافت کی بھونڈی نقالی کرتے ہوئے اپنا تشخص اور اپنی شناخت بھلا بیٹھے ہیں۔ اجنبی اور غیر مانوس رسموں  اور رواجوں کو اپنانے نے ہماری اجتماعی زندگی کو فکری انتشار کا شکار بنا کر بے مقصدیت کی راہ پر گامزن کر دیا اور اس ساری صورت حال کا فائدہ براہ راست حکمرانوں اور سامراجی طاقتوں نے اٹھایا ہے۔
غیر اسلامی بلکہ دین دشمن اور انسانیت کش ثقافتی یلغار نے فحاشی، عریانی، بے حیائی کے جن رویوں کو جنم دیا ہے انھوں نے ہماری معاشرتی زندگی کے ہر گوشہ کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ خصوصا نوجوانوں کو گمراہ کن سرگرمیوں اور لایعنی کھیل تماشے میں الجھا کر ملک کو ذلت اور تباہی کی طرف لے جانا اسی ثقافت کا شاخسانہ ہے۔ ذہن اور فکر کی اس روش کے نتیجہ میں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد منشیات کا شکار ہو رہی ہے اور زندگی کے حقائق سے فرار کے لیے تباہ کن راستے تلاش کر رہی ہے۔
معیشت کی زبوں حالی
پاکستان کی معیشت اس وقت سامراجی طاقتوں اوران کے قائم کردہ نام نہاد بین الاقوامی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ زراعت، صنعت، تجارت غرضیکہ تعمیر و ترقی کے تمام تر منصوبوں کی منصوبہ بندی کا انحصار انہی طاقتوں اور اداروں کی شرائط پر ہے۔ دن بدن پاکستان پر قرضوں اور ان کے سود در سود کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
جب کہ داخلی طور پر بھی ذرائع پیداوار سامراجی ایجنٹوں کے کنٹرول میں ہیں۔ ملک کی وسیع آبادی محرومیوں کا شکار ہے۔ دیہی اور شہری زندگی کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ خود شہروں  میں پس ماندہ شہریوں کے وسیع طبقوں اور امراء کے علاقوں میں نمایاںفرق ہے۔ یہ فرق وسائل اور دولت کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ تقسیم کا مظہر ہے۔
مروجہ نظام تعلیم
پاکستان میںرائج نظام تعلیم مروجہ استعماری نظام کو مستحکم کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ ایک دوہرا تہرا نظام ہے۔ یہ نظام مغرب کے مادی فلسفے اور مادی تقاضوں کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کا  نصاب اور تشکیلات تمام تر علوم انسان تیار کرنے کے لیے وضع کی گئی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے تعلیم کو ’’ دینی‘‘ اور ’’دنیاوی‘‘ کے نام پر تقسیم کرکے ان میں اس قدر بُعد پیدا کر دیا گیا ہے کہ ایک طبقہ دوسرے کو ’’ تعلیم یافتہ‘‘ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس نظام  میں بھی آج تک ملک میں تعلیمی بجٹ نامعقول حد تک کم رہا ہے اور غریبوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ یہ نظام  ملک میں حکمران، ان کے معاون اور غلام طبقے پیدا کرتا ہے۔
عدلیہ کی ناگفتہ بہ حالت
ایک اسلامی معاشرے میں عدلیہ انسانی حقوق کی محافظ اور عوام کی دادرسی کا ایک اہم ادارہ ہوتی ہے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی عدلیہ اپنے یہ فرائض پورا کرنے میں قطعاً ناکام رہی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ تو عدلیہ سے متعلق امور میں انتظامیہ کی ناروا مداخلت  ہے جس نے عدلیہ کے آزاد کردار کو بالکل مسخ کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں مروجہ قوانین کا ایک بہت بڑا حصہ غیر اسلامی قوانین پر مشتمل ہے جو انسان کے فطری تقاضوں سے ہرگز ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان نقائص کے علاوہ حصول انصاف کے طویل اور گراں بہا طریقہ کار  نے عدلیہ کو بہت حد تک مفلوج کر رکھا ہے۔ جب کہ دوسری طرف اراکین عدالت  کی دیانت کے بارے میں بھی شکایات عام ہیں۔ ان حالات میں مجموعی طور پر عوام  عدالتوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ان سنگین مسائل کے چند پہلو ہیں جنھوں نے وطن عزیز کو اپنی منحوس گرفت میں لے رکھا ہے۔ ان مسائل کے سائنسی تجزیہ کے نتیجہ میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان تمام  خرابیوں کی وجہ اور موجودگی کا سبب یہ تین عناصر ہیں:
* عالمی سامراج،
* حکمران طبقہ اور
* مروجہ نظام۔

ان عناصر کے باہمی تعلق کی اس حوالے سے تشریح کی جاسکتی ہے کہ عالمی سامراج پاکستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حکمران طبقہ کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور حکمران طبقہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے سامراج کی کاسہ لیسی اور مروجہ نظام کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل رہا ہے۔
Read 194 times

تازہ مقالے