منگل, 04 آگست 2020 16:06



انسان اپنے پروردگار کے حسن تخلیق کا شاہکار ہے۔{ FR 797 }   وہ انسان جو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے۔{ FR 798 }
جسے اس زمین پر اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرتے ہوئے کمال کی طرف بڑھنا ہے۔ اس منزل کمال کے حصول کے لیے اللہ نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس مقصد کو پانے کے لیے زمین بلکہ کائنات کے وسائل اور امکانات اس کے دست تصرف میں دیے ہیں۔{ FR 799 } اشرف المخلوق ہونے کے ناتے دیگرتمام مخلوقات بھی انسانی مقصد کے حصول کے ذریعہ اور معاون و مددگار کے طور پر تخلیق کی گئی ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ قدرت کاملہ نے انسان کو اوج اور کمال کی ان بلندیوں کی جانب سفر کرنے کے لیے ارادہ کی آزادی کو ایک صحیح سمت میں مرکوز رکھنے کے لیے  انسان کو باطنی{ FR 800 } اور ظاہری { FR 801 }ہدایت کی سہولت بھی عطا کی ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس آزادی، صلاحیت اور ہدایت سے کس طرح استفادہ کرتا ہے۔{ FR 802 }
افسوس کہ انسانی تاریخ کی بہت ابتدا ہی میں قابیل نے خود پرستی، حسد اور ظلم کے ذریعے انسانی مقصد تخلیق سے انحراف کی بنیاد رکھ دی۔{ FR 803 }
لیکن حق و صداقت کی راہ میں ہابیل کی سرخ موت نے خدائی راستے کے  نقوش کچھ اور بھی واضح کر دیے۔{ FR 804 }
پھر انسانی معاشرہ دو قبیلوں میں بٹ گیا۔ قابیل والوں نے ہر دور میں چاہا کہ کائنات کے وسائل اور اس زمین کی صلاحیتیں اپنے زیر نگیں اور زیر تصرف کرلیں چاہے اس مقصد کے لیے انھیں دوسروں کا استحصال کرنا پڑے، ظلم روا رکھنا پڑے اور ہابیل والوں کا خون بہانا پڑے۔ دوسری طرف ہابیل کے وارث اس  جدوجہد میں رہے کہ انسان اپنے فطری راستے پر باقی رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ خدا کی نعمتیں خدا کے سب بندوں کے لیے وقف ہوں۔ کوئی غاصب نہ ہو  اور کوئی محروم نہ ہو، کوئی ظالم نہ ہو  اور کوئی مظلوم نہ ہو ۔ وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتے تھے کہ وسائل و دولت کی غیر عادلانہ تقسیم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک معاشرے کی قیادت قابیل نما افراد سے چھین کر ان صالح اور الٰہی صفات کے حامل افراد کے سپرد نہ کردی جائے جو ہر پہلو سے ذاتی اور طبقاتی مفادات سے بالاتر ہو کر تمام انسانوں سے عادلانہ سلوک کر سکیں۔ ایسے مجاہد اور متقی افراد جو ظالموں کے لیے تیغ براں اور مظلوموں کے لیے محبت و شفقت کے شجر الٰہی کی گھنی اور ٹھنڈی چھائوں ہوں۔{ FR 805 }
انبیاء الٰہی انسانیت کے ایسے ہی با حوصلہ، با استقامت اور عظیم رہبر تھے۔ انھوں نے انسانی نجات کے لیے ایثار و قربانی کی روشن تاریخ مرتب کی ہے۔ ان خود آگاہ اور خدا پرست ہادیوں کا سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوتا ہے۔ ان کے بعد حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ  حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیٰؑ جیسے عالی  حوصلہ انبیاء تشریف لائے ۔ انھوں نے اپنے اپنے زمانے کے طاغوتی نظاموں اور طاغوتی حکمرانوں سے ٹکر لی اور انسانی نجات کے لیے شاندار جدوجہد کی۔ انبیاء میں سے بعض تو نئی اور تازہ شریعت لے کر آئے اور بعض نے ان کے جانشین اور نائبین کی حیثیت سے ان کی پیش کردہ الٰہی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کی۔ ان پروگراموں کے اصول اور بنیادی اہداف میں بھی کوئی فرق نہیں رہا کیونکہ سب ایک ہی خدا کے فرستادہ تھے البتہ انسانی شعور کی ترقی اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بعض احکام میں تغیر ہوتا رہا۔ 
بالآخر خاتم الانبیاء{ FR 806 } حضرت محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری اور کامل ترین{ FR 807 } پروگرام لے کر تشریف لائے۔  آپؐ نے قرآن کو اپنی معجزانہ صداقتوں میں سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ آپؐ نے اپنی بعثت کے بعد مختصر عرصے میں انتہائی کٹھن حالات اور مصائب کی انتہائوں سے گزر کر عرب کے ایک وسیع خطے میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھ دی ۔  آپؐ  ہی کا اسوہ اور آپؐ ہی کی حکومت رہتی دنیا تک ہر فرد اور معاشرے کے لیے بہترین اور کامل ترین نمونہ ہے۔ { FR 808 }قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے اور اہتمام الٰہی کے تحت  ہر قسم کی کمی بیشی  اور تحریف سے محفوظ ہے۔{ FR 809 } یہی کتاب آپؐ کی لائی ہوئی تعلیمات کی بنیادی کتاب اور آئین اسلام کی حیثیت رکھتی ہے۔
آپؐ کے بعد آپؐ کے اہل بیت علیہم السلام اور آپؐ کے مخلص و پاکباز اصحاب رضوان اللہ علیہم نے آپؐ کے عالمی اور دائمی مشن کو جاری رکھا۔
زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ حالات بدلتے گئے، یزید جیسا سفاک ظالم اور فاسق و فاجر، شخص اسلامی معاشرے کا حکمران بن گیا۔ وہ اسلامی اقدار کو پامال کرنے  اور الٰہی تعلیمات کو مٹانے پر تلا بیٹھا تھا۔ اس کے لیے اس نے فیصلہ کیا کہ ہر اس شخص کو راستے سے ہٹا دے جس کا وجود اس کے ان مذموم مقاصد میں حائل ہو۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم نواسے اور جوانان جنت کے سردار امام حسینؑ حفظ اسلام اورحق و باطل میں امتیاز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ ۱۰محرم ۶۱ھ کو امام حسینؑ اور آپ کے انصار و اہل بیت نے اپنے خون سے کربلا میں وہ سرخ خط کھینچا جو رہتی دنیا تک حق و باطل میں امتیاز کا نشان بن گیا۔ اہل حریت کے لیے کربلا جذب و آگہی کے سرمدی چشمے کی حیثیت رکھتی ہے۔
دوسری طرف یہ حقیقت تاریخ انسانی کا ایک عظیم المیہ ہے کہ طول تاریخ میں انسانیت زیادہ تر ظالموں کے زیر تسلط رہی ہے کیونکہ خود پرست اور جاہ طلب ظالموں نے ہر سازش، ہر ظلم اور ہر ہتھکنڈا روا رکھا۔ اس طرح بندوں پر بندوں کی حکمرانی کا سلسلہ جاری رہا اور الٰہی و فطری قوانین پامال ہوتے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات آگے بڑھی، بڑی قوتوں نے چھوٹی قوتوں کو اپنے زیر تسلط لانے، اپنے اقتدار کووسعت دینے  اور تمام تر انسانی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ انسانیت گروہوں، قوموں ، رنگوں، نسلوںاور علاقوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ جغرافیائی مملکتیں وجود میں آئیں ۔ بڑی حکومتوں نے چھوٹی حکومتوں پر اور طاقتوروں نے کمزوروں پر تسلط جمانے کی جدوجہد کی۔ اس طرح بڑی استعماری اور سامراجی قوتیں وجود میں آنے لگیں۔  ماضی قریب  کی ایسی استعماری قوتوں میں برطانیہ سب سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے انسانی وسائل پر دھاندلی، ظلم اور فریب کے ذریعے اس طرح سے قبضہ جمایا کہ ایک دور آیا کہ ’’برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا برصغیر بھی برطانیہ کے نو آبادیاتی نظام کا ایک حصہ بن گیا۔ ہماری دولت تقریباً دو صدیوں تک لندن منتقل ہوتی رہی۔ برصغیر کے عوام ان غیر ملکی آقائوں کے ظلم کا شکار رہے۔ کہیں کہیں کبھی کبھار آزادی کی تحریکیں جنم لیتی رہیں۔ ان تحریکوںمیں مسلمانوں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا۔ اس لیے کہ مسلمان تاریخی اعتبار سے حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیؑ،  حضرت محمدؐ،امام علیؑ اور امام حسینؑ  جیسے بت شکنوں، حریت پسندوں اور وحدت و توحید کے علمبرداروں کے وارث ہیں اور عملی طور پر بھی برطانیہ نے برصغیر کی حکومت مسلمانوں ہی سے ہتھیائی تھی۔ ان تحریکوں میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی جہاد و حریت کی ایک روشن علامت کی حیثیت رکھتی ہے۔
برطانوی سامراج کے غاصبانہ تسلط کے خلاف برصغیر کے عوام بالخصوص مسلمانوں نے جدوجہد تیز تر کر دی جس کے نتیجے میں ۱۴اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیرمیں پاکستان کے نام پر مسلمانوں کی ایک آزاد مملکت وجود میں آئی۔ اس مملکت کے قیام کے لیے مسلمانان ہند کو نہ صرف تاریخ انسانی کی عظیم ہجرت کرنا پڑی بلکہ آزادی کے اس عمل میں لاکھوں عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان بھی کام آئے۔ مگر یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا وہ وعدہ پورا نہ ہو سکا جس کا خواب تحریک پاکستان کے دوران میں دیکھا جاتا تھا۔
Read 97 times

تازہ مقالے