امام مہدی ؑکی انبیاء سے شباہتیں



تحریر: سیدہ ندا حیدر
احادیث و روایات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرمﷺ اور آئمہ معصومین علیہم السلام نے جہاں امام مہدیعلیہ السلام کی آخری زمانے میں ظہور کے بارے میں خبر دی ہے وہیں امام مہدی علیہ السلام کی ایسی صفات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو انبیاء علیہم السلام میں بھی موجود ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی انہیں صفات میں سے چند ایک کا ہم یہاں ذکر کررہے ہیں:


ولادت کی بشارت:
حضرت رسول اکرم ﷺ نے امام مہدی علیہ السلام کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا:
 مہدی میرے فرزندوں میں سے ہیں ، ان کا نام میرا نام ، کنیت میری کنیت، اور خَلق (خلقت) اور خُلق (اخلاق) کے لحاظ سےلوگوں میں وہ مجھ سے زیادہ شبیہ ہیں۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام ظاھری شکل اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے لوگوں میں حضرت محمدﷺ کے شبیہ ہیں۔
 (موسوی اصفہانی ، سید محمد تقی، مکیال المکارم ، ج ۱، ص ۳۲۰)
تمیم الدارمی نے حضرت رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
مہدی کا اخلاق میرے اخلاق سے مشابہ ہوگا اور ان کی شکل و صورت بھی میری طرح ہوگی۔
(تاریخ بغداد (خطیب بغدادی) : ۱۷۴/۹، ح۱۵۰۱، عقد الدرر فی اخبار المنتظر (حافظ یوسف بن یحییٰ مقدسی الشافعی): باب ۹، فصل۳، ص۲۱۸)
شکل و صورت ، اخلاق و کردار میں حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت رسول اکرم ﷺ سے اس قدر مشابہ ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے آباء کے توسط سے نبی پاک ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:
(حضرت امام مہدی علیہ السلام) صورت و سیرت میں سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہیں۔ (فرائد السمطین (شیخ الاسلام حموئی شافعی) ۲ / ۳۳۵۔۳۳۴، ح۵۸۶۔ ینابیع المودۃ، باب ۹۴ / ۴۸۸ ۔ ۴۹۳)
 خداوند متعال نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت کی بشارت دی ہے اسی طرح ولادت حضرت مہدی (ع) کی بھی بشارت دی ہے۔ (موسی اصفھانی ، سید محمد تقی ، مکیال المکارم ص ۳۶۶)
رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ O فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ﴿
 اے میرے پروردگار! مجھے صالحین میں سے (اولاد) عطا کر۔ چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔(سورہ صافات، آیت ۱۰۱۔۱۰۰)
 حضرت امام باقر علیہ فرماتے ہیں:
حضرت اسماعیل (ع) کےلئے زمین سے زمزم کا چشمہ نکل آیا حضرت قائم [عج ]کے لیے سخت پتھر سے پانی پھوٹ جائے گا۔(موسی اصفھانی، سید محمد تقی، مکیال المکارم)
ولادت کا مخفی ہونا:
امام زین العابدین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
اما من ابراهیم فخفاء الولادة و اعتزال الناس
قائم (علیہ السلام) سنت حضرت ابراہیم علیہ السلام جوپائی جاتی ہے وہ ولادت کا لوگوں سے مخفی ہونا ہے ۔(امین الاسلام، فضل بن حسن طبرسی، اعلام الوری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ج۱، ص۳۲۲)
سدیر صیرفی سے روایت ہے:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے کتاب جفر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا:
یہ بات مقدر تھی کہ ان کی ولادت حضر ت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہو۔ جب فرعون کو یہ معلوم ہوا کہ اس کا خاتمہ بنی اسرائیل کے ایک فرد کے ذریعہ ہوگا تو اس نے بنی اسرائیل کے ایک فرد کے ذریعہ ہوگا تو اس نے بنی اسرائیل کے جنم لیتے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ بیس ہزار سے زیادہ بچے قتل کردیئے لیکن خدا نے جناب موسیٰؑ کی حفاظت کی۔ اسی طرح جب بنی اُمیہ اور بنی عباس کے سفاک حکمرانوں کو یہ معلوم ہوا کہ ان کا زوال ہمارے قائمؑ کے ذریعہ ہوگا تو انہوں نے ان کے قتل کا بندوبست کیا۔ لیکن خدا یہ نہیں چاہتا تھا کہ ظالمین آپؑ (مہدیؑ) کی جائے استقرار سے واقف ہوجائیں اور اس نے آپؑ کو ان کے ظالم پنجوں سے محفوں رکھا۔ یقیناً خدا تو اپنے نور کو کامل کرنا چاہتا ہے۔(ینابع المودۃ: ج۳، باب۸۰، س۱۱۶، مطبوعہ بیروت نقل از مناقب)
امام علیہ السلام کا رُشد :
حضرت امام صادقؑ سے روایت ہے کہ :
حضرت ابراہیم ؑ کا رشد عام بچوں کی طرح نہیں تھا ۔ وہ ایک دن میں میں اتنا بڑھتے تھے کی دوسرے بچے ایک ہفتےمیں بڑھتے تھے۔ ( بحارالانوار، ج ۱۲، ص ۱۹) حضرت قائم ؑبھی حضرت حکیمہ خاتون کی روایت کے مطابق ایسے ہی تھے۔( مجلسی ، محمد باقر ، بحار، ج ۵۱ ص و ج ۱۲ ص ۱۹، یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ وہ غیر معمولی طور پر بڑھے ہوتے تھے۔)
بچپن میں امامت کا ملنا:
 خداوند متعال کسی انسان کو بچپن میں ہی اپنی جانب سے خاص مقام عطا فرما دے تو لوگوں کو اس بات کا تابع ہونا چاہیے۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
خدا نے بچپنے میں ہی ان (مہدیؑ)کو عظمت اور تقریر کا خداداد وصف عطا کرتے ہوئے امامت سے نوازا۔ ا نکو دنیا کے لیے علامت قرار دیا جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو حکم دیتا ہے کہ:
يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا
 اے یحییٰ!کتاب (خدا)کو محکم تھام لو اور ہم نے انہیں بچپن ہی سے حکمت عطا کی تھی۔(سورہ مریم، آیت 12)
اسی طرح حضرت عیسی (علیہ السلام) جن کو اللہ تعالی نے بچپن میں نبوت عطا فرمائی۔ حضرت عیسی ابن مریم (علیہماالسلام) کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جناب مریم (علیہا السلام) نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کردیا:
 فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا   قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا
 انہوں نے اس بچہ کی طرف اشارہ کردیا تو قوم نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گہوارے میں بچہ ہے، بچہ نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔
( سورہ مریم، آیت 29، 30)
عمر کا طولانی ہونا:
اس دنیا میں صرف امام مہدیؑ ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ کئی لوگ طولانی عمر کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں اور انہیں بھی ہمارے امام کے ظہور کا انتظار ہے جیسے برادران اہلسنت کے عقیدہ کے مطابق اللہ کے نبی حضرت الیاس اور ادریس ابھی تک زندہ ہیں اہل سنت حضرات جناب ادریس کے زندہ ہونے پر سورہ مریم کی آیت 57 سے استناد کرتے ہیں:
وَّ رَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا
 اور ہم نے انہیں اعلیٰ مقام پر اٹھایا۔
بعض سائنسدانوں کی تجرباتی حصول یابیوں سے استناد کرتے ہوئے ثابت کیا ہے جاسکتا ہے کہ طویل عمر ممکن ہے۔ مثلا لطف اللہ صافی گلپایگانی نے مغربی سائنسدانوں کے متعدد اقوال نقل کئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ انسان 800 سے 1000 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔(صافی، نوید امن و امان، ص167-205)
اہل سنت حضرات اس بات کے قائل بھی ہیں کہ دنیا میں ابھی چار (4)انبیاء زندہ ہیں جو اپنے اپنے امور میں انجام دے رہے ہیں اور مراسم حج میں ہر سال شرکت بھی کرتے ہیں۔ شیعوں کے مطابق دو نبی زندہ ہیں جن میں پہلے جناب عیسیؑ اور دوسرے جناب خضرؑ ہیں۔ اس بات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا اپنے چار نبیوں کو زندہ رکھ سکتا ہے کیا وہ اپنے محبوب حضرت ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی ﷺکے نائب و جانشین اور ان کے خلیفہ کو زندہ نہیں رکھ سکتا ! حالانکہ ہمیں تاریخ میں جناب آدم ؑسے لیکر حضرت خاتمﷺ تک اور حضرت خاتمﷺ سے لیکر اب تک طول عمر کی بہت ساری مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جیسے یہودیوں کی کتاب توریت میں ان لوگوں کے نام بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر طولانی تھیں  جیسے:
(1) جناب آدم ـ 930 سال۔
(2) جناب شیث ـ فرزند جناب آدم ـ 912 سال
(3) جناب لوش ـ فرزند شیث ـ 905 سال
(4) جناب قنیان ـ فرزندانوش ـ 910 سال
(5) جناب مہلائیل ـ فرزند قنیان ـ 895 سال
(6) جناب یارد ـ فرزند مہلائیل ـ 962سال
(7) جناب خنوخ ـ(جناب ادریس ـ کو ہی خنوخ کہتے ہیں جنکی طولانی عمر کا ذکر سورۂ مریم کی57 آیت ہے ملاحظہ کریں)۔فرزند یارد- 365
                        سال دنیا میں رہے پھر اٹھا لئے گئے۔
(8) جناب متو شالح (ع) فرزند خنوخ ـ 969سال
(9) جناب لمک ـ فرزند متو شالح ـ777سال
(10) حضرت نوح (ع) فرزند لمک ـ 950سال(مہدی پور، راز طول عمر امام زمانؑ، ص89)
ان اسماء کے ملاحظہ کرنے کے بعد ہمیں پتہ یہ چلتاہے کہ انسان کی عمر توریت کے مطابق فقط 70 سال کی نہیں بلکہ حد اقل 900 سال کی ہے اور یہ تو یہودیوں کی کتاب کا بیان ہے۔ اب ہم اپنی مقدس اور محکم کتاب کا مطالعہ کریں کہ اس بارے میں اسکا نظریہ کیاہے ؟ قرآن مجید نے طولانی عمر کا کئی جگہو ں پر ذکر کیا ہے جیسے سورۂ انبیاء آیت 44 ، سورۂ صافات آیت 144، سورۂ عنکبوت آیت 14،سورۂ قصص آیت 45، سورۂ نساء 157۔ان آیات کا مطالعہ کرنے کے بعد امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
فی القائم سنة من نوح و هو طول العمر
قائم میں سنت نوح علیہ السلام پائی جاتی ہے اور وہ عمر کا طولانی ہونا ہے ۔( مجلسی، محمد باقر،‌ بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۴ق، ج۵۱، ص۲۱۷۔ عن کمال الدین، ج۱، ص۳۲۷)
سدیر صیرفی کابیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
خداوند عالم نے جناب خضرؑ کو اس لیے طولانی عمر نہیں دی کہ وہ نبی ہیں یا ان پر کوئی کتاب نازل ہوئی ہے یا ان کی شریعت کے ذریعے سے کسی گزشتہ شریعت کو منسوخ کرنا ہے یا کسی اُمت کو ان کی اقتداء کرنا ہے یاکسی پر ان کی اطاعت واجب ہے بلکہ ان (حضرت خضرؑ) کو طولانی عمر اس لیے دی کہ اس کے ذریعہ حضرت قائم علیہ السلام کی طولانی عمر پر استدلال کیا جاسکے اور مخالفین کی دلیلیں رد کی جاسکیں۔(ینابع المودۃ : باب ۸۰، ص۴۵۴۔ نقل از مناقب)
غیبت انبیاء میں شباہت:
جب خداوند عالم لوگوں کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو لوگوں کا فریضہ ہے کہ اس نعمت کی قدر دانی کریں اور اس نعمت کے سلسلہ میں اپنے وظیفہ اور ذمہ داری کو پورا کریں ورنہ خداوند عالم کی یہ سنت ہے کہ وہ لوگوں سے وہ نعمت چھین لیتا ہے، اسی لیے بعض روایات میں سنت الٰہی کے اجراء کو بھی غیبت کی ایک علت قرار دیا گیا ہے۔ بنابرایں غیبت کو سنن انبیاء علیہم السلام سے شباہت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ہجرت و غیبت دو ایسی چیزیں ہیں جو مسئلہ نبوت میں نہایت روشن و واضح اور مشہور ہیں۔انبیاء علیہم السلام کی کثیر تعداد میں ہجرت کا مشاہدہ کرکے یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ہجرت سنن انبیاء علیہم السلام میں سے ایک سنت رہی ہے۔بطور مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ہجرت پیش کی جاسکتی ہے۔اسی طرح انبیاء علیہم السلام ماسلف میں غیبت بھی کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاًتاریخ کے صفحات پر حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی غیبتوں کا ذکر دیکھا جاسکتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی غیبت کا مقصد اور اس کا لازمہ لوگوں کا امتحان اور ان کی شناخت تھی اسی لیےغیبت سنن انبیاء علیہم السلام میں سے قرار دی گئی ہے۔پس چونکہ ہجرت وغیبت سنن انبیاء علیہم السلام میں سے ہے اور خداوند عالم حضرت مہدی علیہ السلام کے حق میں بھی سنن انبیاء علیہم السلام جاری کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے ان کے حق میں غیبت جاری کرنے کا ارادہ کیا ہے۔(معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۱۹۲، ح ۷۱۴ و ص ۲۴۰، ح ۷۷۰ – ۷۶۹ و ص ۳۹۳، ح ۹۵۱ – ۹۴۸ و ص ۱۶۵، ح ۱۲۲۵)
 الف: اولیاء واوصیاء کی غیبت پر دلالت کرنے والی آیات کریمہ:
حضرت خضر علیہ السلام:

اکثر مسلمانوں کے عقیدے اورمورخین کی تحریروں کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے لیکر آج تک زندہ ہیں لیکن نہ کسی کو ان کے محل زندگی کے بارے میں علم ہے اورنہ ہی کسی کو ان کے اصحاب کے بارے میں کوئی خبر ہے۔(بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۰۳ )  صرف ہم ان کے بارے میں اتنا جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ انکا تذکرہ آیاہے ۔( سورہ کہف(۱۸) آیت ۸۲۔ ۵۹)
حضرت موسی علیہ السلام:
حضرت موسی ٰ ؑکی غیبت کی داستان موجود ہے کہ آپ فرعون اور اپنی قوم سے دور چلے گئے اور غائب ہوگئے تھے اورجسے قرآن کریم نے اپنے دامن میں سمویا ہے ۔ اس دوران کسی کو ان کے بارے میں اطلاع نہیں تھی اورکوئی حضرت موسیٰ ؑکو نہیں پہچانتا تھا اورجب تک خداوند عالم نے انھیں مبعوث نہیں کیا اور لوگوں کو خد ا کی طرف دعوت دینے کا حکم نہیں دیا یہی کیفیت اور صورت حال جاری رہی ۔ اوریوں بعد از بعثت دوست ودشمن نے آپ کوپہچان لیا ۔( سورہ قصص (۲۸) آیت ۱۸ و ۲۱، سورہ شعراء (۲۶) آیت ۲۱؛ بحار ، ج۵۱، ص ۲۰۴)
حضرت یوسف علیہ السلام:
حضرت یوسف ابن یعقوب پیغمبر علیہ السلام کی داستان معروف ہے نیز قرآ ن کریم نے ایک سورہ مبارکہ میں ان کے والد سے دوری اور غیبت کا تذکرہ کیاہے ۔اگرچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نبی خدا بھی تھے اور ان پر وحی نازل ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود وہ غیبت یوسف سے باخبر نہیں تھے ۔ یہ ماجرا ان کے فرزندوں سے بھی پوشیدہ تھا بلکہ حضرت یعقوب کے فرزندان تو فلسطین سے مصر بھی آئے حضرت یوسف سے ملاقات بھی کی اورانکے ساتھ انہوں نے معاملہ بھی انجام دیا لیکن اس کے باوجود وہ لوگ حضرت یوسف کو پہچان نہیں سکے حضرت یوسف کی غیبت کے کئی برس بعد خداوند عالم نے انھیں حقیقت حال سے مطلع کردیا اورحضرت یوسف کے زندہ ہونے کی اطلاع عام ہوگئی اورپھر جناب یوسف اپنے والد اوربھائیوں کے ساتھ مل گئے ۔( بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۰۴)
حضرت یونس علیہ السلام:
داستان حضرت یونس پسرمتی علیہ السلام قرآن کریم میں مذکور ہے ۔ جب حضرت یونس کی قوم نے انکی سخت مخالفت اور سرزنش کی تو آپ ان سے دور چلے گئے اور سب کی نگاہوں سے اس طرح پوشیدہ ہوگئے کہ کسی کو ان کی جائے قرار کے بارے میں علم نہیں تھا۔ خداوند عالم نے انھیں مچھلی کے شکم میں پوشیدہ رکھا اوراپنی مصلحت ومشیت کی بنا پر انھیں زندہ رکھا پھر انھیں صحیح وسالم مچھلی کے پیٹ سے نکال کر قوم کی طرف واپس بھیج دیا یہ واقعہ بھی ہماری آج کی عادت وعرف سے عاری ہے ۔( بحار، ج۵۱، ص ۲۰۴)
اصحاب کہف:
اصحاب کہف وہ حضرات ہیں جو اپنے دین کی حفاظت کی خاطر اپنی قوم سے فرار ہوئے تھے اگر ا ن کی داستان قرآن مجید میں مذکور نہ ہوتی تو امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا انکار کرنے والے انکی غیبت کا بھی انکار کردیتے لیکن قرآن کریم نے ان کے بارے میں خبردی ہے کہ اصحاب کہف تین سونو (309)سال اپنی قوم سے غائب رہے اورخوف کی حالت میں غار میں رہے یہاں تک کہ خداوند عالم نے انھیں زندہ کرکے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹایا ۔( بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۰۴)
ب: اولیاء واوصیاء کی غیبت پر دلالت کرنے والی  روایات:
روایات میں کثرت سے ایسی احادیث موجود ہیں جو انبیاء و اولیاء گذشتہ کی غیبت پر دلالت کررہی ہیں شیخ صدو ق نے اپنی کتاب کمال الدین میں غیبت انبیاء کے بارے میں ایسے ابواب ترتیب دیئے ہیں جن میں ایسی ہی روایات معصومین کو جمع کیاہے ان احادیث میں مندرجہ ذیل انبیاء کی غیبت کا تذکرہ موجود ہے :
۱ ۔ حضرت ادریس؛۲ ۔ حضرت نوح ؛۳ ۔حضرت صالح ؛۴ ۔ حضرت ابراہیم ؛۵ ۔ حضرت یوسف ؛۶ ۔ حضرت موسیٰ ؛۷ ۔ حضرت عیسیٰ ۔( کمال الدین، ج۱، ص ۱۲۷۔ ۱۶۱)
بطور نمونہ ان میں سے فقط چند کی طرف اشارہ کررہے ہیں :
غیبت حضرت صالح علیہ السلام:
شیخ صدوق اپنی اسناد کے مطابق زید شحّام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق ؑنے ارشاد فرمایا:اِنّ صالِحاً غابَ عن قومہ زماناً ؛ صالح پیغمبر ایک عرصہ تک اپنی قوم سے غائب رہے اورجب حضرت صالح ؑنے ظہور فرمایا تو ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور اس میں شک نہیں کہ حضرت قائم ( آل محمد ؑ) کی مثال صالح کی طرح ہے۔ (کمال الدین، ج۱، باب ذکر غیبۃ صالح، ص ۱۳۶، ح ۶؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب ۱۳، ص ۲۱۶، ح۱)
غیبت حضرت یوسف علیہ السلام:
الف : ابو بصیر نے امام باقر (ع) سے روایت کی ہے کہ آپؑنے فرمایا: حضرت قائم ؑکو حضرت یوسفؑ کے ساتھ شباہت تھی۔ ، راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی وہ کیا ہے؟ فرمایا: غیبت اور انتظار فرج کا ہونا۔
ب: امام باقرؑنے ایک اور روایت میں فرمایا: جیسا کہ خدا کے امر سے حضرت یوسف ؑاور ان کے والد کے درمیان فاصلے کو پوشیدہ رکھا تھا اس کے باوجود کہ وہ آپس میں نزدیک تھے ۔ حضرت مہدیؑکو بھی شیعوں کے ساتھ نزدیک ہونے کے باوجود بھی ان کی نظروں سے غائب رکھا ہے۔
ج: حضرت یوسف(ع) بھی کافی طولانی مدت کے لیے غائب ہوئے یہاں تک اس کے بھائی داخل ہوئے اور ان کو پہچان لیا ، لیکن وہ حضرت یوسف (ع) کو نہیں پہچانتے تھے، امام مہدیؑ بھی غائب رہیں گے اور جبکہ وہ شیعوں کے درمیان موجود ہیں اور چل پھر رہے ہیں لیکن وہ امام ؑکونہیں پہچانتے ہیں، لیکن امامؑ انہیں پہچانتے ہیں۔(موسی اصفھانی ، سید محمد تقی ، مکیال المکارم )
شیخ صدوق کتا ب اکمال الدین اورعلل الشرائع میں سدیر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق ؑ سے سناہے ، آپؑ نے فرمایا:"ہمارے قائم میں ایک سنت حضرت یوسف کی بھی ہے " میں نے عرض کیا : شاید آپ ان کے بارے میں یا انکی غیبت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں ؟ " فرمایا : اس امت کے صرف خنزیر صفت افراد ہی اس امر کو جھوٹ سمجھیں گے۔( علل الشرائع، باب ۱۷۹، ص ۲۴۴، ح۳؛ کمال الدین، ج۱، باب فی غیبۃ یوسف، ص ۱۴۴، ح ۱۱؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب۶، ص ۱۴۲ ح ۱)
ابوبصیر نے حضرت مام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:فی القائم شبہٌ من یوسف؛ قائم میں یوسف کی ایک شباہت ہے ۔ میں نے عرض کیا : وماهو ؟ وہ شباہت کیاہے ؟ حضرت نے فرمایا : الحیرة والغیبة ، وہ شباہت حیرت وغیبت ہے ۔( شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۶۳)
غیبت حضرت موسیٰ علیہ السلام:
امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک روایت کے مطابق فرمایا: حضرت موسی (ع) کی اپنی قوم کے درمیان دو غیبتیں انجام پائی ہیں ، کہ ان میں سے ایک غیبت دوسری سے طولانی ترتھی ، پہلی غیبت مصر میں تھی اور دوسری غیبت اس وقت تھی جب وہ کوہ طور پر اپنے پروردگار کے میقات پر چلے گئے، حضرت قائم علیہ السلام کی بھی دو غیبتیں ہیں، جن میں سے ایک غیبت دوسری سے طولانی ترہوگی۔(موسی اصفھانی ، سید محمد تقی ، مکیال المکارم ،ص ۲۸۹)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت مرقوم ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
اِنَّ للقائم مِنّا غيبة يَطُولُ أَمَدُها فقلت له: و لم ذاک يابن رسول‏الله؟ قال اِنّ الله عزّوجلّ أبی الّا أن يجری فيه سنن الأنبياء عليهم السلام فی غيباتهم و أنّه لا بدّ له يا سدير من استيفاء مدد غيباتهم قال الله عزوجل: لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ  علی سنن من کان قبلکم
ہم لوگوں میں سے جو امام قائم ہوگا اس کے لیے غیبت ہے اور یہ غیبت بہت طولانی ہوگی۔ میں نے عرض کیا: یہ کیوں؟ آپؑ نے فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں جو غیبت کا دستور جاری تھا وہی دستور ان میں بھی جاری کرے اور اے سدیر! یہ لازمی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام نے جس جس مدت کے لیے غیبت اختیار کی ان کی مجموعی مدت تک یہ بھی غیبت میں رہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ (سورہ انشقاق(۸۴)آیت: ۱۹) کہ تم یونہی ایک ایک منزل طے کرو گے۔ یعنی بے شک جو لوگ تم سے پہلے گذر چکے ہیں تمہیں بھی ان کی طرح منزلیں طے کرنا پڑیں گی۔(کمال الدین، ج ۲، باب ۴۴، ح ۲؛ علل الشرائع، ج ۱، ص ۲۴۵، باب ۱۷۹، ح ۷؛ بحار الانوار، ج ۵۱، ص ۱۴۲، ح ۲ و ج ۵۲، ص ۹۰، ح ۳، معجم احادیث المہدی، ج ۵، ص ۴۸۸، ح ۱۹۲۱)
ظہور امام مہدی ؑ :
الف: بیان میں شباہت:

جب امام مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گےان کا بیان نبی پاک ﷺ کا بیان ہوگایعنی امامؑ جو بات بھی کریں گے وہ رسول اکرمﷺ ہی کی بات ہوگی، جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
حضرت امام مہدی علیہ السلام عشاء کے وقت مکہ سے ظہور فرمائیں گے۔ ان کے پاس:
ژ          رسول اکرمﷺ کا پرچم
ژ          رسول اکرمﷺ کا پیراہن
ژ          رسول اکرمﷺ کی تلوار
ژ          رسول اکرمﷺ کی نشانیاں
ژ          رسول اکرمﷺ کانور
ژ          رسول اکرمﷺ کا بیان ہوگا۔(عرف الوردی اخبار المہدی (حافظ جلال الدین سیوطی) :۲ ۱۴۴/ )
ب: زمین کا وارث ہونے میں شباہت:
خداوند متعال نے حضرت آدمؑ کو زمین پر اپنا خلیفہ قرار دیا، اور اسے زمین کا وارث بنایا جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت 30 میں فرمایا ہے: اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً میں نے زمین پر اپنا جانشین مقرر کیا ہے، حضرت حجتؑکو بھی زمین کا وارث اور خلیفہ مقرر کیا جائے گا، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے سوہ نور کی ۵۵ آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ " اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے"۔۔وہ حضرت قائم اور اس کے اصحاب ہیں جو ظہور کے وقت مکہ میں اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے : الحمد للہ الذی صدقنا و وعدہ و اورثنا الارض اس خدا کا شکر ہے کہ جس نے ہمارے بارے اپنے وعدے پر عمل کیا اور زمین کو ہماری میراث قرار دیا۔(موسی اصفھانی ، سید محمد تقی ، مکیال المکارم )
ج: خوبصورتی میں شباہت:
 حضرت یوسف علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے خوبصورت فرد تھے پیغمبر اکرم ﷺنے فرمایا:
 المهدی طاووس اهل الجنة
مہدی اہل جنت کے طاووس ہیں۔( فیروزی، سید مرتضی، فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ، ج3، ص343، اسلامیہ،1410ق؛ بحارالانوار، ج51،  ص 105،باب اول،حدیث 41 ، مؤسسہ الوفا،لبنان، 1404ق؛ شیخ یوسف، بن یحیی، بن علی، مقدسی، شافعی، عقد الدرر، فی اخبار المہدی المنتظر، ج1، ص 34)
امام ؑ کی خوبصورتی کو حضرت رسول خدا ﷺ نے یوں بھی بیان کیا ہے:
مہدی میری نسل سے ہے۔ اس کا چہرہ ایسا ہے جیسے چمکتا ستارہ۔۔۔(الصواعق المحرقہ: ۹۸، البیان فی اخبار صاحب الزمان : باب ۱۱۸/۸، لسان المیزان (ابن حجر عسقلانی): ۲۳/۵، میزان الاعتدال (شمس الدین ذھبی شافعی): ۴۴۹/۳)
امام حسین ؑ پر گریہ کرنے میں شباہت:
حضرت زکریا(ع) نے حضرت ابا عبد اللہ حسین (ع) پر تین دن گریہ کیا۔ ( جیسا کہ احمد بن اسحاق نے روایت کی ہے۔) (طبرسی ، ابو مںصور احمد بن علی ، الاحتجاج ج ۲ ص ۲۶۸)حضرت قائم علیہ السلام بھی پوری عمر اور پورے زمانے(بہت زیادہ رونے سے کنایہ)میں امام حسین پر گریہ کر رہے ہیں، جیسا کہ زیارت ناحیہ میں آیا ہے :
لاندبنک صباحا و مساء و لابکین علیک بدل الدموع دما
 دن رات آپ کے اوپر گریہ کروں گا اور آنسووں کے بدلے خون بہاونگا۔ ( موسی اصفھانی ، سید محمد تقی ، مکیال المکارم ج ۱، ص ۳۱۳)
سختیوں اور آسانیوں میں شباہت:
امام زین العابدین علیہ السلام کا ارشاد ہے:
اما من ایوب فالفرج بعد البلوی
ایوب علیہ السلام کی سنت میں سے یہ ہے کہ انہیں سختیوں اور مشکلات کے بعد آسانیاں ملیں اور مہدی ؑکے ساتھ بھی یہی ہو گا۔ (کمال الدین وتمام النعمہ - شیخ صدوق - ج ۱-ص۳۵۰)
ظہور کے وقت جوان ہونے میں شباہت:
امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے:
حضرت یونس علیہ السلام غیبت سے جب پلٹے تھے تو جوان تھے مہدی ؑبھی جوانی کی حالت میں ظہور کریں گے ۔( بحار الانوار، ج ۵۱، ص ۲۷)
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ:
حضرت شعیب نے اپنی قوم کو خدا کی طرف دعوت دی یہاں تک کہ بوڑھے ہو گئے اور پھر غیبت میں چلے گئے جب ظہور کیا تو جوانی تھی ،مہدی ؑبھی ایسے ہی ظہور کریں گے۔( مکیال المکارم، ج ۱، ص ۳۰۱)
گواہ کی ضرورت نہ ہونے میں شباہت:
امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے : حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح مہدی ؑجب قیام کریں گے تو لوگوں پر حکم جاری کریں گے اور انہیں کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہو گی ۔( اعلام الوری، همان، ج ۱، ص ۳۲۲)
ظہور کی آواز میں شباہت:
امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: حضرت ہارون علیہ السلام کی طرح جب مہدی ؑکا ظہور ہو گا تو ہر انسان تک خداوند متعال ان کے ظہور کی آواز پہنچا دے گا ۔( بحار الانوار، ج ۱۲، ص ۳۸۵)
خلاصہ کلام:
آیات و روایات کے پڑھنے کے بعد بہت سی باتیں سمجھ میں آتی ہیں جن میں سے خلاصہ کے طور پر چند ایک کا ذکر کرتے ہیں :
۱۔امام مہدی ؑکی غیبت کوئی انہونی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی انبیاء غیبت میں رہے ہیں ۔
۲۔ جب امام مہدی ؑکا ظہور ہو گا تو وہ جوان ہونگے ۔
۳۔ کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جب امام ؑکا ظہور ہو گا تو خود خداوند متعال کی طرف سے نداء آئی گی ۔
۴۔امامؑمظلوم انسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بہت پریشان ہیں ۔
۵۔ امام ؑزمین پر قیام کریں گے اور عدل انصاف قائم کریں گے۔
پروردگار عالم سے دعا ہے کہ اپنے ولی ؑ کو بھیج دے کہ جس کا تو نے اور تیرے رسول ﷺ نے وعدہ کیا ہے۔ جو تیرے انبیاء اور اوصیاء کا وارث ہے۔ کاش! ہمیں بھی ظہور امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ دیکھنا نصیب ہو۔ (الٰہی آمین)

تازہ مقالے