تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

کائنات میں پیدا ہونے والا ہر با شعور انسان جو اس دنیا کے بارے میں غوروفکر کرتا ہے۔ اس کے آغاز و انجام پر تدبر کرتا ہے، دنیا میں موجود مختلف نظاموں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے موجود نظام انسانیت کا خون چوسنے والے دکھائی دیتے ہیں اور وہ موجود نظاموں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ 

 اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کوئی ایسا عادلانہ نظام ہونا چاہیے جو ان ظالمانہ نظاموں کو ختم کردے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کا ہر بڑا نظام اچھائی کے نعرے کے ساتھ آیا اور بعد میں خود ایک طاغوت کی شکل اختیار کر گیا۔

ایک عادلانہ حکومت کا خواب انسانی خواب ہے، ہر مذہب کے ماننے والے ایک ایسی حکومت کے منتظر ہیں جس کی بنیاد الٰہی اصولوں پر ہو، جسے ناصرف انسانی فطرت قبول کرے بلکہ جس کا تقاضا انسانی فطرت کرے۔ اس مثالی نظام حکومت کے بارے میں ہر الہامی مذہب نے بات کی ہے اور بتایا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ایک ایسا شخص اس دنیا میں آئے گا جو اس دنیا کے نظام کو اس انداز میں تبدیل کرے گا کہ اس دنیا کا ہر انسان یہ کہہ اٹھے گا، ہاں یہ عدالت ہے۔

وہ گروہ جو کسی مذہب کو نہیں مانتے، وہ بھی حکومت عادلانہ کا تصور رکھتے ہیں۔ ان کی بھی خواہش ہے کہ ایک ایسی حکومت قائم کی جائے یا اس کے لیے کوشش کی جائے جس میں تمام انسانوں کو انسانی بنیادوں پر برابری میسر ہو، جس میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہو، جس میں تمام انسان وسائل سے یکساں مستفید ہورہے ہوں۔ ایسے گروہ بھی ہمارے نقطۂ نظر سے دراصل امام مہدیؑ اور ان کی حکومت کے ہی منتظر ہیں کیونکہ ہمارے تصور کے مطابق آپؑ جس حکومت الٰہیہ کو تشکیل دیں گے وہ عدل و انصاف ہی کی بنیاد پر ہوگی۔ تمام انسانوں کے لیے قانونی مساوات کے نظریے پر قائم ہوگی اور ظلم و استحصال کا خاتمہ کردے گی۔

امام مہدیؑ اور قرآن

قرآن مجید کی بعض آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا، ظلم وجور کا خاتمہ ہوگا۔ ایسی آیات سے بہت سے مفسرین نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا دور مراد لیا ہے۔ متعددا حادیث کی روشنی میں ہم نمونے کے طور پر اس سلسلے کی چند آیات ذکر کرتے ہیں:

۱۔وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ (۱)

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

زمین کو اِرث میں لینے والوں سے مراد نیک اور صالح بندے ہیں جو امام مہدی علیہ السلام اوران کے ناصر ومددگار ہیں۔(۲)

۲۔ وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ(۳)

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کردیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دے دیں۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

مستضعفین سے مراد پیغمبر اکرمؐ کی آل ہے، خداوند عالم خاندان نبوی کو کوشش اور پریشانیوں کے بعد اس ’’مہدیؑ‘‘ کے ذریعہ انقلاب برپا کرائے گا اور ان کو اقتدار اور شکوہ و عظمت کی بلندی پر پہنچا دے گا نیز ان کے دشموں کو ذلیل و رسوا کر دے گا۔ (۴)

زمین اللہ کے نیک بندوں کو ملے گی اوراس ساری زمین پر ایک ہی نظام ہوگا یہ وہی وقت ہے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت امام مہدیؑ زمین پر تشریف لا کر ایک عادلانہ حکومت قائم کریں گے۔

۳۔ بَقِیَّتُ اللّٰہِ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۵)

اللہ کی طرف کا ذخیرہ تمھارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحب ایمان ہو۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

جس وقت امام مہدی ؑ ظہور فرمائیں گے خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے: ’’ انا بقیۃ اللہ فی ارضہ و خلیفۃ و حجۃ علیکم‘‘ میں زمین پر ’’بقیۃ اللہ ‘‘ اس کا جانشین اور تم پر اس کی حجت ہوں۔ پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اسی طرح کہے گا: السلام علیک یا بقیۃ اللہ فی ارضہ۔ (۶)

ان آیات اور ان کی تفسیری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن مجید کی کئی آیات حضرت امام مہدیؑ اور آپ کی حکومت کے بارے میں رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن مجید کی ایسی آیات اور محکم و صحیح احادیث کی کثرت کی وجہ سے امت اسلامیہ کا آخری زمانے میں امام مہدیؑ کی تشریف آوری پر اجماع ہے۔

امام مہدیؑ اور نبی اکرمؐ

اس سے حضرت امام مہدیؑ اور ان کی حکومت الٰہیہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ جس طرح آپؐ کے بارے میںآپؐ سے پہلے والے انبیاؑ بشارت دے کر گئے تھے اسی طرح خاتم الانبیاؑء نے حضرت امام مہدیؑ اور ان کی حکومت کی تفاصیل بتائی ہیں اور ان کی حمایت کرنے کاحکم دیا ہے۔ 

۱۔یکون من بعدی اثنا عشر خلیفۃ کلہم من قریش (۷)

میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔

۲۔ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ان خلفائی و اوصیائی و حجج اللہ علی الخلق بعدی الاثنا عشر و اولہم علی و آخر ہم ولدی المہدی فینزل روح اللہ عیسی بن مریم فیصلی خلف المہدی و تشرق الارض بنور ربہا ویبلغ سلطانہ المشرق و المغرب۔ (۸)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد میرے خلفا اور اوصیا بارہ ہیں وہ مخلوق پر اللہ کی حجت ہیں، پہلے حضرت علی ؑ اور آخری امام مہدیؑ ہیں، حضرت عیسیٰؑ بن مریم روح اللہ نازل ہوں گے تو مہدیؑ کے پیچھے نماز ادا کریں گے، یہ زمین کو رب کے نور سے روشن کردیں گے اور ان کی حکومت مشرق سے مغرب تک قائم ہوگی۔

۳۔لایزال الدین قائماً حتی یکون اثنا عشر خلیفۃ من قریش (۹)

یہ دین ہمیشہ کے لیے قائم و برقرار رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے۔

۴۔ حضرت علی علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

لولم یبق من الدھر الایوم لبعث اللہ رجلا من اھل بیتی یملا ھاعد کماملئت جورا(۱۰)

کہ اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ میری اہل بیت سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو دنیا کو قسط و عدل سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔

امام مہدیؑ کے ظہور اور ان کی حکومت کے قائم ہونے کے حوالے سے روایات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ علمائے کرام نے لکھا:

من انکر خروج المھدی فقد انکر بما انزل علی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(۱۱)

جس نے بھی امام مہدی کے خروج کا انکار کیا گویا اس نے ہر اس چیز کا انکار کیا جو پیغمبر اکرم ﷺپر نازل کی گئی۔

۵۔ عن عبداللہ قال: قال رسول اللہ ﷺلا تذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیٔ اسمہ اسمی۔(۱۲)

عبداللہ(بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: دنیا کا خاتمہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک میرے اہل بیت ؑمیں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے جس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا۔

امام مہدیؑ اور آئمہ اہل بیتؑ

آئمہ اہل بیتؑ سے امام مہدیؑ اور ان کی حکومت کے بارے میں بہت سے اقوال مروی ہیں۔

۱۔ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: جب حضرت امام مہدیؑ ظہور کریں گے تو مصر کی طرف جائیں گے اس شہر کی جامع مسجد میں داخل ہوں گے اور خطبہ دیں گے پس زمین کو عدل و انصاف کی خوشخبری دی جائے گی، آسمان بارش برسائے گا، درخت پھل دیں گے، زمین سبزہ اگائے گی اور اہل زمین کے لیے مزین ہوگی، لوگ درندوں سے بھی امان میں ہوں گے، مومنین کے دل علم و دانش سے بھر جائیں گے یہاں تک کہ ایک مومن دوسرے مومن کے علم کا محتاج نہ ہوگا، اس روز اس آیہ شریفہ کی تاویل محقق ہوگی ’’یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ‘‘(۱۳) خداوند عالم ہر ایک کواپنے فضل و کرم سے بے نیاز کرے گا۔(۱۴)

۲۔ امام زین العابدینؑ نے یزید کے دربار میں جو خطبہ دیا تھا اس میں فرمایا:

ایہاالناس أعطینا ستاً و فضلنا بسبع، اعطینا، العلم والحلم والسماحۃ والفصاحۃ والشجاعۃ والمحبۃ فی قلوب المومنین ، وفضلنا، بأن منا النبی المختار(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ومنا الصدیق ومناالطیار ومنااسد اللہ واسد رسولہ ومناسبطاہذہ الامت ومنا مہدی ہذہ الامۃ۔(۱۵)

اے لوگو! ہمیں چھ چیزیںعطا کی گئی ہیں اور سات کے ذریعے ہمیں دوسرے لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ ہمیں علم، حلم، سماحہ، فصاحہ، شجاعت دی گئی اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت ڈالی گئی ہے۔ ہماری فضیلت یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ،صدیق(حضرت علیؑ)، جعفر طیارؑ، اللہ اور رسول اللہ ﷺکے شیر(حضرت حمزہؑ)، نواسے (حضرت امام حسنؑ اور امام حسینؑ) اور اس امت کا مہدیؑ ہم میں سے ہیں۔

۳۔امام رضا فرماتے ہیں:

الامام البدر المنیر والسراج الزاھر(۱۶)

امام، چودھویں کے چاند اور چگمگاتے ہوئے چراغ کی مانند ہے۔

اس طرح آئمہ اہل بیتؑ میں امام مہدیؑ کی حکومت اور ان کی فضیلت کے بارے میں امت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ذاتی فضائل کے اعتبار سے بھی بلند مرتبہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ایک وسیع و عریض سلطنت عطا کرے گا جس طرح کی سلطنت آپ سے پہلے کسی کو بھی عطا نہیں کی گئی ہوگی۔

امام مہدیؑ اور ادیان عالم

دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں ایک خدائی نجات دہندہ یا ایک مصلح عالم کا تصور موجود ہے جو ایک زمانے کے بعد آئے گا۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اس کے مختلف نام رکھے ہیں۔ کچھ مذاہب میں تو بڑی گہرائی کے ساتھ اس کی صفات بتا دی گئی ہیں۔ کچھ مذاہب میں اس مصلح عالم کا باقاعدہ انتظار کیا جارہا ہے۔ لوگ شب و روز اس کے آنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ وہ کب پسی ہوئی انسانیت کو نجات دلائے، ہم دنیا کے چند بڑے مذاہب میں خدائی نجات دہندہ اور اس کی حکومت کے بارے میں تصورات کو پیش کرتے ہیں۔

۱۔ امام مہدیؑ زرتشتوں کی نظر میں

زرتشتوں کا عقیدہ ہے کہ آخری زمانے میں میں ایک خدائی نجات دہندہ آئے گا، اس کا تذکرہ زرتشتوں کے لٹریچر میں مسلسل ملتا ہے ،اس حوالے سے کتاب اوستا، کتاب زند، رسالہ جاماسب اور رسالہ زرداشت اہم ہیں، اس میں ہر موعود کو سوشیانت کا نام دیا گیا ہے اور تین موعودوں کا سوشیانت کے نام سے ذکر ہے اور سب سے اہم جس موعود کو کہاگیا ہے وہ تیسرا موعود ہوگا اوراسے سوشیانت المنتصر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (۱۷)

۲۔ امام مہدیؑ ہندوئوں کی نظر میں

ہندوئوں کی مذہبی کتاب مہابھارت میں آیا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ انسان روحانی طور پر انتہائی پستی کا شکار ہو جاتا ہے، جب انسان پست ترین سطح تک پہنچ جاتا ہے تو اس وقت ایک دن ایسا آتا ہے کہ ایک ایسی روحانی و معنوی شخصیت آتی ہے جو اس ظلم و بربریت کی شکار انسانیت کو ہدایت کی راہ دکھائی ہے اور لوگوں کو جہالت سے نکالتی ہے۔ العصر الکالی اسی زمانہ کو کہا جاتا ہے۔ (۱۸)

۳۔امام مہدیؑؑ بدھ مت والوں کی نظر میں

مہاتما بدھ کے ماننے والوں کو بدھ کہا جاتا ہے یہ دنیاکا ایک اہم مذہب ہے ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں ایک پانچواں بدھا آئے گا اور دنیا بھر میں بسنے والے بدھ اس کے منتظر ہیں۔ (۱۹)اگر ٹیکسلا کے میوزیم میں جانا ہو تو وہاں ایک مجسمہ رکھا ہے جس کے بارے میں یہ تفصیل دی گئی ہے کہ یہ مستقبل کا بدھا ہے۔

۴۔ امام مہدیؑ یہودکی نظر میں

ان کے لٹریچر کے مطابق تین شخصیات کا انتظار کیا جارہا ہے۔(i) حضرت مسیحؑ(ii)خاتم الانبیاؑء(iii)امام مہدی منتظرؑ ۔ ان میں سے پہلی دو عظیم شخصیات تو دنیا میں تشریف بھی لا کر اپنا پیغام دے چکی ہیں اور اب خاتم الانبیاؑء کے وارث حضرت امام مہدیؑ نے دنیا میں تشریف لانا ہے۔ (۲۰)

قرآن مجید میں جہاں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی حکمران دین دار لوگوں کو دینے کا وعدہ کیا ہے وہاں زبور سے حکایت کرتے ہوئے بتایا ہے:وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ (۲۱)

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔

۵۔ امام مہدیؑ مسیحیوں کی نظر میں

مسیحیت میں موعود کا تصور موجود ہے اور وہ بھی نجات دہندہ کی آمد کے منتظر ہیں مسیحیوں کے بنیادی لٹریچر میں یہ بات موجود ہے۔

انجیل کے مختلف مقامات میں حضرت مسیحؑ نے اپنے حواریوں کو آنے والے زمانے کے حالات سے آگاہ کیا ہے اور انھیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا کہا ہے اور جس طرح اسلام میں امام مہدیؑ کے زمانے کے اوصاف بیان کیے گئے بالکل اسی طرح یہاں بھی آنے والے کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں اور ان سے پہلے آنے والی تباہی اور ہولناکی کے بارے میں بتایا گیا ہے اس حوالے سے مندرجہ ذیل لٹریچر پر یہ پیشگوئیاں موجود ہیں۔

۱۔ کتاب حیقوق نبی، فصل۲، بندہای ۳ ۲۔ انجیل متی، باب ۲۴

۳۔ انجیل مرقس،باب ۱۳ ۴۔ انجیل لوقا، باب۱۲

۵۔ انجیل یوحنا، باب۵

سیداسد اللہ ہاشمی کی تحقیق کے مطابق انجیل میں اسی بار انسان کے بیٹے سے خطاب کیا گیا ہے۔ تیس بار تو حضرت مسیحؑ پر قابل تطبیق ہے مگر اس کے علاوہ پچاس جگہوں پر حضرت عیسیؑ پر قابل تطبیق نہیں ہے۔ اس کے لیے آخری زمانے میں ایک نجت دہندہ کی بات کی گئی ہے۔(۲۲)

اس طرح دنیا کے تمام بڑے ادیان ایک نجات دہندہ کے منتظر ہیں جو نظام عدل کو زمین پر قائم کرے گا جو ایک طاقتور حکومت کا مالک ہوگا اس کے دور میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

امام مہدیؑ اور لامذہب

لامذہب:

جو لوگ کسی بھی مذہب کے قائل نہیں ہیں ان کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ مذہب نے انسان میں تفریق پیدا کردی ہے، اس کی وجہ سے انسانی معاشروں میں تباہی آئی ہے، ہم مذہب کو نکال کر ایک عادلانہ حکومت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ جب یہ لوگ امام مہدیؑ کی حکومت کو بچشم خود دیکھیں گے اور ان کے عادلانہ نظام کا مشاہدہ کریں گے تو پکار اٹھیں گے کہ ہم جس مقصد کے لیے مذہب چھوڑ چکے تھے اور جس نظام کے لیے جدوجہد کررہے تھے یہی نظام ہے اس لیے دنیا کی آبادی کا یہ حصہ بھی آپ کی حکومت کو قبول کر لے گا۔ کارل مارکس کی فکر کاخلاصہ بہت خوبصورت الفاظ میں کیا گیا ہے:

Marx believed that a truly utopian society must be classless and stateless۔ (It should be noted that Marx died well before any of his theories were put to the test۔) Marx's main idea was simple: Free the lower class from poverty and give the poor a fighting chance۔ How he believed it should be accomplished, however, was another story۔ In order to liberate the lower class, Marx believed that the government would have to control all means of production so that no one could outdo anyone else by making more money۔ Unfortunately, that proves to this day to be more difficult than he might have realized۔ 

مارکس کا خیال تھا کہ ایک واقعی خیالی اور مثالی معاشرہ کو غیر طبقاتی اور غیر ریاستی ہونا چاہیے۔ (یہ ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے کہ مارکس کے کسی نظریے کو پرکھا جاتا اور یہ دیکھ لیا جاتا کہ یہ کتنا با اثر اور کارآمدہے۔ اس کی موت واقع ہوئی) مارکس کا بنیادی نظریہ سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا تھا: نچلے طبقے کو غربت سے نجات دو اور غریب کو اپنے حالات سنوارنے کا ایک بھرپور موقع دو لیکن یہ ایک اور کہانی تھی کہ مارکس کے ذہن میں اس نظریہ کو عملانے کے حوالے سے کیا تھا۔ مارکس کی رائے تھی کہ نچلے طبقے کوآزاد کرانے کے لیے حکومت کو پیداوار کے تمام ذرائع اور وسائل کو اپنے اختیار میں لانا ہوگا تاکہ کوئی بھی زیادہ پیسہ کمانے کے سبب کسی سے آگے نہ نکل سکے۔ بدقسمتی سے آج تک اس نظریہ کو عمل میں لانا اس سے زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے جو مارکس نے سوچا ہوتا۔

اب مارکس نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اور جو اس کی پوری فکری کا خلاصہ ہیں، یہ بنیادی طور پر پسے ہوئے طبقات کو غلامی جیسی زندگی سے نکالنے کی بات ہے، لوگوں کو غربت سے نکالنے کی بات ہے، اس سے دنیا کا کوئی باشعور انسان انکار نہیں کر سکتا، اسی لیے کارل مارکس کی فکر نے ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا اور اس کی فکر کے نتیجے میں بہت سی جگہوں پر انقلابات برپاکیے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اسی فکر کے ذریعے لوگوں کے بڑے حصے کو اپنی غلامی میں جڑ لیا، انفرادی غلامی کا یہ سفر اچھے نعروں سے طے کیا گیا۔ 

امام مہدی جب ظہور فرمائیں گے تو دنیا کی اکثریت مظلوم اور پسے ہوئے طبقات پر مشتمل ہوگی، وہ جیسے ہی آپ کا پیغام عدل سنے گی تو آپ کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہو گی تاکہ وہ اپنے ان حقوق کو بازیاب کرا سکے جو استعمار قوتوں نے دبا رکھے ہیں، اس لیے بظاہر دین کے مخالف لوگ بھی دنیا میں عادلانہ نظام کی روشن کرن دیکھ کر اس کی حمایت کریں گے۔

کیا عقلی طورپر ایسی حکومت ممکن ہے؟

اس سوال پر کئی حوالوں سے لکھا جا سکتا ہے، دنیا کا ہر با شعور انسان اپنے ذہن میں ایک مثالی حکومت کی تصویر لیے ہوئے اور یہ چاہتا ہے کہ کاش ایسی حکومت قائم ہو جائے جس میں ہر انسان کو برابر حقوق ملیں، کسی پر ظلم نہ کیا جائے ، جس میں معاشی نظام اس طرح کا قائم ہو جس کے ذریعے غریب کا استحصال نہ ہو، جس میں دولت کا چند ہاتھو ں میں ارتکاز نہ ہو، جس میں امن و سلامتی کی زندگی ہو، جہاں کی عدالتیں انصاف کریں، جہاں معاشرے میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں، ایک دوسرے کو اذیت پہنچانے کو برا خیال کریں۔غرض وہ اپنے ذہن میں اس کے نقشے بناتا رہتا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں بھی کرتا رہتا ہے۔ یہ حکومت حکومت کب اور کیسے معرض وجود میں آئے گی؟ آئے گی بھی نہ نہیں آئے گی ؟ اسے اس کا علم نہیں مگر یہ اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے امام مہدیؑ کی حکومت کی سب سے خاص بات ہی یہی ہو گی کہ جب یہ قائم پذیر ہو گی تو کائنات میں بسنے والے انسان پکار اٹھیں گے کہ ہم جس حکومت کے تانے بنتے تھے وہ یہی حکومت ہے ۔

اصل مسئلہ قبولیت کا ہے کہ لوگ اسے کیسے قبول کریں گے؟

امام مہدیؑ کی حکومت کو قبول کرنے کی بنیادی وجہ اس حکومت کا ان اصل الہی پیمانوں پر قائم ہونا ہے جن پر اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کی ہے،جو پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ انبیاؑء نے بھی انسانوں کو یہ پیغام الہی پہنچانے آئے تھے۔

امام مہدیؑ کے ظہور کی علامات میں سے ایک علامت دنیا کا ظلم وجور سے بھر جانا ہے۔ جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی، ہر انسان وہ کالا ہو یا گورا، اس کا مذہب اسلام ہو یا وہ لامذہب ہو، وہ اس ظلم و جور سے تنگ ہو گا اور سارے انسانوں میں یہ تڑپ ہو گی کہ کاش کوئی ایسا انسان آ جائے جو ہمیں اس ظلم و ستم سے نجات دلائے یعنی زمین آمادہ ہو چکی ہو گی۔ جیسے ہی آپ اعلان فرمائیں گے تو پسی ہوئی انسانیت بے ساختہ آپ کی اطاعت کی طرف چلی آئے گی ۔

یہ حکومت عقلی طور پر ممکن بھی ہے یا خیال محض ہے؟

اہل مذہب کیوں امام مہدیؑ کو قبول کریں گے؟

دنیا میں سب سے زیادہ مسیحی ہیں۔ روایات امام مہدی ؑ میں ہے کہ جب امام مہدی ؑ تشریف لائیں گے تو حضرت مسیحؑ بھی دنیا میں تشریف لے آئیں گے، جب اہل کلیسا حضرت مسیحؑ پہچان لیں گے تو وہ حضرت امام مہدیؑ کی حمایت و نصرت کریں گے۔ اس طرح دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس حکومت کو تسلیم کر لے گا جب کہ مسلمان عوام کا ایک بڑا حصہ اس بنیادی عقیدہ پر پہلے ہی ایمان رکھتا ہے کہ امام مہدیؑ تشریف لائیں۔اسی طرح دیگر مذاہب کے ماننے والے انھیں اپنا موعود سمجھ کر تسلیم کریں گے اور راہ راست پر آجائیں گے۔

امام مہدیؑ اور اہل سنت

شیعہ او ر اہل سنت کے ہاں عقیدہ مہدویت ایک مشترکہ عقیدہ ہے تمام مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت امام مہدیؑ آخری زمانے میں دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اہلسنت اور اہل تشیع میں ان کے نام پر اتفاق ہے،ان کے اولاد فاطمہؑ ہونے پر اتفاق ہے ،ان کے حکومت الہی کے قائم کرنے پر اتفاق ہے،ان کے آنے کے زمانے کی علامات پر اتفاق ہے۔ان کی حکومت میں نعمتوں کی فروانی ہو گی ۔میرے لیے یہ بات باعث حیرت تھی کہ ان کے رکن و مقام کے درمیان بیعت لیے پربھی اتفاق ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ نقل کرتے ہیں ۔

یبایع لرجل مابین الرکن والمقام(۲۳)  لوگ ان کی رکن و مقام کے درمیان بیعت کریں گے۔

اسی طرح جابر بن یزید جعفیؒ حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت کرتے ہیں کہ

یبایع القائم بین الرکن والمقام(۲۴)امام مہدیؑ کی بیعت رکن ومقام کے درمیان ہوگی۔

عقیدہ مہدویت تمام امت مسلمہ کا مشترکہ عقیدہ ہے۔ ہر مسلمان ان کی حکومت کا منتظر ہے اور چاہتا ہے کہ ان کی حمایت و نصرت کرے۔ اس عقیدہ کی وضاحت اور تشریح کے لیے علمائے اہل سنت نے امام مہدیؑ کے موضوع پر کئی کتب بھی تحریر کی ہیں۔

۱۔ الاحتجاج بالاثر علی من انکرالمھدی المنتظر، جامعہ مدینہ کے استاد شیخ حمود بن عبداللہ تو یجری، یہ کتاب شیخ ابن محمود قاضی قطری کی کتاب کے جواب میں تحریر ہوئی ہے۔ 

۲۔ الی مشیخۃ الازھر، شیخ عبداللہ سبیتی عراقی، یہ کتاب سعد محمد حسن ’’المھدویۃ فی الاسلام‘‘ کی جواب میں تحریر ہوئی ہے۔ مطبوعہ ۱۳۷۵، دارالحدیث بغداد۔

۳۔ تخدیق النظر فی أخبارالامام المنتظر، ابن خلدون کے دعوئوں کے جواب میں شیخ محمد عبدالعزیز بن مانع نے لکھے اور ۱۳۸۵ہجری کو شاثع ہوئی ہے۔

۴۔ الرد علی من کذب بالاحادیث الصحیحۃ الواردۃ فی المہدی، جامعہ اسلامی مدینہ منورہ کے استاد اور اس کے تعلیمی بورڈ کے رکن عبدالمحسن العباد، نے لکھی ہے اوراسی جامعہ کے رسالہ شمارہ ۵۴ ص ۲۹۷۔۳۲۸ و شمارہ ۴۶ ص ۳۶۱۔۳۸۳،میں چھپی ہے۔

اردو کتب

۱۔ امام مہدی کے بارے احادیث نبوی کا ذخیرہ مع تحقیق و تخریج (عربی، اردو) از ڈاکٹر محمد طاہر القادری

۲۔ الامام المھدیؑ رضوان اللہ علیہ، سید بدر عالم میرٹھی

۳۔ اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد ظفر اقبال

۴۔ علامات قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام از مفتی محمد شفیع

۵۔ الخلیفۃ المھدی فی الاحادیث الصحیحہ ،سید حسین احمد مدنی

نتیجہ

دنیا میں بسنے والے تمام انسان امام مہدی ؑ کی حکومت کی حمایت کریں گے ،ہر ایک کی حمایت کی وجہ الگ ہوگی۔ ایک لامذہب اس حکومت کی حمایت اس لیے کرے گا کہ جیسا عدل و انصاف پر مبنی نظام امام مہدیؑ لائیں گے وہ اسے اپنا نظام بتائے گا۔اسی طرح الہامی مذاہب کے ماننے والوں کی اکثریت امام ؑ کی اطاعت ان پیشگوئیوں کی وجہ سے کرے گی جو ان کی کتب میں موجود ہیں، جب وہ تمام علامات پوری ہو جائیں گی جو ان کی کتب میں لکھی ہوئی ہیں تو وہ لوگ اطاعت کریں گے کچھ غیر الہامی مذاہب جیسے بدھ مت اور ہندو مت بھی اپنے اپنے مذہب کے مطابق ایک موعود کے انتظار میں ہیں، وہ بھی آپ ؑ کی اطاعت کریں گے کچھ شقی لوگ آپؑ کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے جس کی وجہ سے ان کے خلاف جنگ کی جائے گی اور ایک بہت بڑا معرکہ برپا ہوگا جس میں اللہ کی مدد سے امامؑ کامیاب ٹھہریں گے۔

 حوالہ جات

۱۔ انبیاء:۱۰۵ ۲۔ تفسیر قمی، ج۲،ص ۵۲

۳۔ قصص: ۵ ۴۔ غیبت طوسی، ح۱۴۳،ص ۱۸۴

۵۔ ھود:۸۶ ۶۔ کمال الدین، ج۱،باب ۳۲،ح۱۵،ص۶۰۲

۷۔ مسند احمد،ج۵، ص ۹۲،مسند ابن جعد، ص ۳۹۰، صحیح ابن حبان، ج۵،ص۴۴

۸۔ فرائد السمطین،ص۹۲

۹۔ احمد بن حنبل،مسند، دارصادر، بیروت، ج۵، ص ۸۶،مسند ابو یعلی،ج۱۳،ص ۴۵۶

۱۰۔ سنن ابی دائود، ج ۳، ص ۲۸۳،دارالاشاعت پاکستان

۱۱۔ ابن حجر، لسان المیزان،ج۴،ص۱۳۰۔ ابن حجر مکی، القول المعتبرفی علامات المہدی المنتظر،ص۵۶

۱۲۔ جامع الترمذی،باب ماجاء فی المھدی، ح۲۰۵۲،چاپ دارالاشاعت:منہاج السنۃ،ص۶۶۹،چاپ منہاج القرآن پبلشرز

۱۳۔ النساء:۱۳۰ ۱۴۔ علامہ مجلس بحار الانوار،ج۵۳،ص۲۳۸

https://www۔dorar-aliraq۔net/threads/231209-%D8%AE%D8%B7%D8%A8%D9%87۔ ۱۵ 

۱۶۔ اصول کافی، جلد۱،ص ۳۸۷

۱۷۔ حکیمی،محمد رضا، الامام المہدیؑ فی کتب الامم السابقہ و عند المسلمین، دارالاسلامیہ للطباعۃ، بیروت، طبع اولی ۲۰۰۳، ص ۵۲

۱۸۔ حکیمی،الامام المہدی، ص۵۳

۱۹۔ حکیمی،الامام المہدی، ص۵۴

۲۰۔ حکیمی،الامام المہدی، ص۵۴

۲۱۔ انبیاء:۱۰۵

۲۲۔ سید اسد اللہ ہاشمی، ظہور حضرت مہدی ازدیدگاہ، اسلام ومذاہب و ملل جہان، ص ۸۷

۲۳۔ احمد،مسند،ج۲،ص۲۹۱،ح۷۸۹۷ ۲۴۔ طوسی،غیبت، ص۴۷۶

تازہ مقالے