جمعرات, 19 مارچ 2020 15:53



قرآن مجید راہنما ہے۔ الٰہی راہنمائی ہے۔ یہ راہنمائی ایسی ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔ قرآن مجید تمام مسلمانوں کے درمیان متفقہ آسمانی کتاب ہے۔ اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس کے ہر لفظ و حرف پر ایک مسلمان کا ایمان محکم ہے۔ کسی آیت کا انکار کفر ہے۔ اس کے ہر حکم پر عمل ضروری ہے۔ آج جس قدر امت پریشان بلکہ ذلیل و خوار اور انتشار و افتراق کے چنگل میں پھنس چکی ہے اس کا ایک سبب قرآن مجید سے دوری ہے۔ علامہ اقبالؒ جواب شکوہ میںاس مفہوم کو یوں ادا کرتے ہیں:

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
آیئے قرآن مجید سے پوچھتے ہیں کہ اتحاد امت کیوں ضروری ہے اور اس کے لیے الٰہی راہنمائی کیا ہے:
                سورہ آل عمران آیت نمبر۱۰۳ میں ہے:
 وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَاکَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ
 اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامو اور جدا جدا نہ ہو جائو اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے جب کہ تم آپس میں دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت پیدا کی تو اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے بالکل کنارے پر تھے تو اس نے تمھیں اس سے چھٹکارا دیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمھارے لیے ظاہر کرتا ہے شاید کہ تم سیدھے راستے پر لگ جائو۔
                ’’اللہ کی رسی کو تھامنے‘‘ کے معنی ہیں سب کا اس نظام پر قائم رہنا جو اللہ کا قائم کردہ ہے۔ اسی نظام کا نام ’’دین‘‘ ہے۔ اسی نظام کا دستور العمل قرآن ہے اور اسی نظام کے رہبر انبیاء اور اولیاء ہیں۔
                اس میں مسئلہ اتحاد اور ہر قسم کے اختلاف اور تفرقہ بازی سے اجتناب کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ سبھی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائو۔
                توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ ان امور کو حبل اللہ سے تعبیر کرنے سے ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ انسان عام حالات میں جب کوئی مربی اور راہنما نہ ہوتو وہ جہل و نادانی کے تاریک کنوئیں میں پڑا رہتا ہے۔اس پستی سے نجات حاصل کرنے اور اس تاریک کنوئیں سے باہر نکلنے کے لیے ایک مضبوط رسی کی ضرورت ہے جسے وہ پکڑ سکے اور اس سے باہر آسکے۔ یہ مضبوط رسی وہ خدائی رابطہ ہے جو قرآن، اس کے لانے والے اور ان کے حقیقی جانشینوںتک پہنچتا ہے اور یہ لوگوں کو مادیت کی پستی سے نکال کر معنویت اور روحانیت کے عروج تک پہنچا دیتا ہے۔
                 مزید برآں اللہ نے مومنین کی تالیف قلوب کو اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے تمھارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دی۔ اس آیت میں نعمت کے تکرار سے اتفاق و اخوت کی نعمت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
                پیغمبر اکرمؐ اور بزرگ اسلامی راہنمائوں نے بھی احادیث و عبارات میں اتحاد و وحدت کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
                المومن للمومن کا لبنیان یشد بعضہ بعضا۔ (صحیح بخاری جلد اول، کتاب الصلاۃ، حدیث:۴۸۱)
                مومنین ایک دوسرے کے لیے ایک عمارت کے اجزا کے مانند ہیں کہ جن میں ہر ایک جزو دوسرے کی مضبوطی سے نگہبانی کرتا ہے۔
                آپ نے یہ بھی فرمایا:
                المومنون کا لنفس الواحدہ۔(تفسیر نمونہ ج دوم، ص ۲۱۷)
مومنین ایک نفس و روح کی طرح ہیں۔
مثل المومنین فی توادھم و تراحمھم و تعاطفھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الاعضاء بالعمی والسھر (المسلم)
صاحبان ایمان افراد دوستی اور ایک دوسرے پر رحم کرنے اور نیکی کرنے میں ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ جب ان میں ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو باقی اعضا و جوارح کو قرار و آرام نہیں آتا۔
وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (آل عمران:۱۰۵)
اور ان لوگوں کے ایسے نہ ہونا جو تفرقہ میں پڑ گئے اور کھلی ہوئی دلیلوں کے آنے کے بعد اختلافات میں مبتلا ہو گئے اور یہ وہ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔
اس آیت میں از سر نو مسئلۂ اتحاد اور تفرقہ بازی سے اجتناب کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کو گذشتہ اقوام مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح تفرقہ اور اختلاف کی راہ اختیار کرنے اور اپنے لیے عظیم عذاب مول لینے سے ڈراتی ہے اور در حقیقت انھیں اختلاف و تفرقہ بازی کے بعد کی گزشتہ لوگوں کی تاریخ کے مطالعہ کی دعوت دیتی ہے کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوئے تھے۔
                سورہ حجرات کی دوآیات میں اتحاد پر زور دینے اور تفرقہ سے اجتناب کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمھارے معاشرے میں بھی ایسا ہونے والا ہے۔
 وَاِِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِِنْم بَغَتْ اِِحْدٰہُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِِلٰٓی اَمْرِ اللہِ فَاِِنْ فَآئَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوا اِِنَّ اللہِ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (سورہ الحجرات:۹)
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کرائو پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر تعدی و زیادتی کرے تو تم سب ظلم و زیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ حکم الٰہی کی طرف لوٹ آئے پس اگر وہ لوٹ آئے تو پھر تم ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کروا دو اور انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
 اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللہِ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (سورہ الحجرات:۱۰)
 بے شک اہل اسلام اور ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو تم اپنے دو بھائیوں میں صلح کرائو اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
                آیت نمبر۹ میں جس بات کا حکم دیا گیاہے آیت نمبر۱۰ میں اس کی تاکید مزید ہے یعنی جب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان سب کی اصل ایمان ہوگی، اس لیے اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرے کے دست و بازو ، ہمدرد و غم گسار اور مونس و خیر خواہ بن کر رہیں اور کبھی غلط فہمی سے ان کے درمیان بُعد اور نفرت پیدا ہو جائے تو اسے دور کرکے انھیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے۔
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًام بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَ اللہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(سورہ بقرہ: ۲۱۳)
(ابتدا) میں لوگوں کا ایک ہی گروہ تھا۔ (اور ان کے درمیان کوئی تضاد نہ تھا، رفتہ رفتہ گروہ اور طبقات پیدا ہوتے گئے) پھر ان میں اختلافات (اور تضادات) وجود میں آئے۔ اللہ نے انبیاء کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو بشارت دیں اور ڈرائیں نیز ان پر اپنی آسمانی کتاب بھی نازل کی جو انھیں حق کی طرف دعوت دیتی تھی۔ یہ کتاب لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے تھی (ایمان والوں نے اس سے اختلاف نہیں کیا) صرف ایک گروہ نے حق سے انحراف اور ستمگری کرتے ہوئے اس سے اختلاف کیا جب کہ انھیں کتاب دی گئی تھی اور واضح نشانیاں ان تک پہنچ چکی تھیں۔ جو لوگ ایمان لاچکے تھے خدا نے انپے حکم سے ان کی رہبری کی(لیکن بے ایمان لوگ اسی طرح گمراہی اوراختلاف پر باقی رہے) اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست کی طرف ہدایت کرتاہے۔
                یہ آیت کہتی ہے کہ موجودہ اختلاف اور پہلے تضاد میں فرق ہے۔ پہلے اختلاف کا سرچشمہ جہالت، نادانی اور بے خبری تھی اور یہ وجہ بعثت انبیا سے ختم ہو گئی لیکن بعدازاں اختلافات کی بنیاد دیگر چیزیں مثلاً ظلم و ستم، ہٹ دھرمی وغیرہ بن گئیں جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے اختلافی راہ پر اپنا سفر جاری رکھا، جو مومنین ہدایت اور حق کی راہ پر چل کھڑے ہوئے انھوں نے اپنے اختلافات ختم کردے۔
 اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَھُمْ وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللہِ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(سورہ آل عمران:۱۹)
یقیناً دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔ جن کے پاس آسمانی کتاب تھی انھوں نے علم و آگاہی کے بعد بھی اختلاف کیا اور وہ بھی اپنے درمیان ظلم و ستم کی بنا پر اور جو آیات خدا سے کفر اختیار کرے تو اللہ سریع الحساب ہے۔
                اس آیت میں ایک نکتہ مذہبی اختلاف کے سرچشمے کا ہے کہ وہ لوگ جو حقیقت سے آگاہ تھے اس کے باوجود انھو ںنے دین خدا میں اختلاف پیدا کیا۔ ان کے اس عمل کا سبب طغیان، سرکشی، ظلم و ستم اور حسد کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَمُ وَکَانُوْ اشِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ اِنَّمَآ اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(سورہ انعام، آیت نمبر۱۵۹)
وہ لوگ جنھوں نے اپنے آئین کو پرگندہ کر دیا اور وہ مختلف جتھوں (اور مختلف مذہبوں) میں بٹ گئے تمھیں( اے رسولؐ) ان سے کوئی واسطہ نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے لہٰذا اللہ ہی ان کے کرتوتوں سے آگاہ کرے گا۔
                مفسرین میں سے کچھ کا خیال ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے لیے ہے جو مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے۔
                بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت اسی امت محمدیؐ کے تفرقہ انداز افراد کی طرف اشارہ کررہی ہے جنھوںنے مختلف تعصبات اور جذبۂ تفوق طلبی اور جاہ پسندی کی وجہ سے اس امت مسلمہ کے درمیان نفاق و افتراق کا بیج بویا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ آیہ کریمہ میں عمومی طور سے ان تمام تفرقہ پسند افراد کا حکم بیان کیا گیا ہے جنھوں نے طرح طرح کی بدعتیں ایجاد کرکے بندگان خدا کے درمیان نفاق و اختلاف پھیلایا ہے، چاہے وہ پچھلی امتوں میں گزرے ہوں یا ان کا تعلق اس امت سے ہو۔
 وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہِ وَ رَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی وَ اللہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (التوبہ:۱۰۷)
(مزید برآں) وہ لوگ جنھوں نے (مسلمانوں کو) نقصان پہچانے کے لیے اور مومنین میں تفرقہ ڈالنے کی خاطر اور ایسے افراد کے لیے کمین گاہ مہیا کرنے کے لیے جنھوں نے نے پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی ہے، مسجد بنائی ہے وہ قسم کھاتے ہیں کہ ہمارا مقصد سوائے نیکی (اور خدمت) کے اور کچھ نہیں لیکن خدا گواہ وہ جھوٹے ہیں۔
                اس آیت میں متوجہ کیا گیا ہے کہ تفرقہ باز مقدسات کو استعمال کرکے مسلمانوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ مسجد جیسی مقدس جگہ کو بھی اس کے لیے استعمال کیا گیاکیونکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے تھے کہ کچھ لوگ جمع ہونے لگتے تو اس سے مسجد قبا جو اس کے نزدیک یا مسجد نبوی جو اس سے کچھ فاصلے پر تھی کی رونق ختم ہو جاتی۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مساجد کے درمیان فاصلہ اتنا کم نہیں ہونا چاہیے کہ دوسری مسجد کے اجتماع پر اثر انداز ہو۔ اس بنا پر وہ لوگ جو قومی تعصب یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر مسجد کے پاس ایک مسجد بنا لیتے ہیں اور یوں وہ مسلمانوں کے اجتماعات کو منتشر کرتے ہیں اور ان کے اس اقدام سے دوسری مساجد کی صفیں خالی، بے رونق اور بے روح ہو جاتی ہیں وہ اہداف اسلامی کے خلاف عمل کرتے ہیں۔
 شَرَعَ لَکُمَ مِّنْ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَا اِِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ اِِلَیْہِ اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْٓ اِِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ(سورہ شوریٰ: آیت نمبر۱۳)
تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کے متعلق نوح کو ہدایت کی تھی اور وہ جو ہم نے تیری طرف وحی بھیجی اور جو ہدایت ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسی کو کی (وہ یہ تھی) کہ دین کو قائم و برقرار رکھو اور اس میں تفرقہ ایجاد نہ کرو۔ ہر چند کہ تیری یہ دعوت مشرکین پر سخت گراں ہے۔ اللہ جسے چاہے منتخب کر لیتا ہے اور جو اس کی طرف لوٹے اس کی ہدایت کرتا ہے۔
 وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ (سورہ البینۃ آیت ۴)
اورجن لوگوں کوکتاب دی گئی تھی (اور وہ اہل کتاب تھے) وہ تو واضح دلیل کے آجانے کے بعد ہی تفرقہ میں پڑے رہے۔
                یعنی جب واضح دلیل آ جائے تو اس بعد تفرقہ میں پڑے رہنا یا تفرقہ میں پڑ جانا، اس کا پہلا مصداق تو اہل یہود ہیں مگر آج امت محمدی بھی اسی طریقہ پر گامزن ہے کہ اللہ کی واضح کتاب اور اس کے آخری ہادی کی آمد کے باوجود تفرقہ میں پڑ گئی۔ اس تفرقہ کی وجہ سے جو قتل و غارت گری بپا ہوتی ہے اس پر تجزیہ نگار رائے قائم کرتے ہیں کہ اتنے مسلمان کافروں کے ہاتھ لقمہ اجل نہیں بنے جتنے مسلمانوں کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ باعث تعجب ہے۔


 
* * * * *
Read 346 times Last modified on جمعرات, 19 مارچ 2020 15:57

تازہ مقالے