تحریر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ایک مستند امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق امریکہ کے 16 خفیہ اداروں نے 82 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے جس کاعنوان’’بعدازاسرائیل، مشرق وسطیٰ کی تیاری ہے۔ان خفیہ اداروںمیں بدنام زمانہ سی آئی اے،ڈی ای اے،این ایس اے اور ایف بی آئی بھی شامل ہیں۔اس رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ اسرائیل کی صہیونی ریاست اب امریکی سلامتی اور امریکی معیشت کے لئے دنیامیں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔اس رپورٹ پر امریکہ کے اعلیٰ ترین جمہوری و انتظامی و دفاعی ادارے غوروخوض کررہے ہیں۔رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی علاقائی،سیاسی اور معاشی حالات کا تفصیلی تجزیہ کرچکنے کے بعد مذکورہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔



تحریر: عماد ابو عواد

سنہ 1948ء میں فلسطین میں قیام اسرائیل کے منحوس اقدام کے بعد امریکا اور اور اس کے فوری بعد سابق سوویت یونین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سنہ 1950ء میں بھارت نے بھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیا۔ اس وقت کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون نے بھارت کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے ایک روز قبل کہا کہ ’بھارت سفارتی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل کو تسلیم کررہا ہے‘۔سنہ 1951ء میں بھارت نیاسرائیل میں اپنا قونصل خانہ قائم کر کے یہ ثابت کردیا کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر کے فلسطینی قوم کے حقوق کے باب میں نئی پالیسی پر چلنا چاہتا ہے۔



تحریر: پولندہ نل

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ایک مشکل محلے میں پھنسا ہوا ہے لیکن حال ہی میں عرب دنیا کے کچھ ممالک سے اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔اکتوبر کے آخری دنوں میں اچانک ہی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمان کے سلطان سے ملنے پہنچ گئے۔



مرکز اطلاعات فلسطین

شیخ احمد یاسین شہید کے دست راست اور اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے دوسرے اہم راہنماء ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی شہید مقبوضہ شہر عسقلان میں 23 اکتوبر 1947ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے- ان کا خاندان 1948ء میں غزہ ہجرت کرگیا اور ان کی خان یونس مہاجر کیمپ میں مستقل سکونت اختیار کرلی- اس وقت ان کی عمر صرف 6 ماہ تھی- شیخ رنتیسی کے نو بہن بھائی تھے۔



مرکز اطلاعات فلسطین

ہر سال 22مارچ کا دن ہمیں سوگوار کرتا رہے گااس روز ہم اپنے مرشد اور مثالی قائد شیخ احمد یاسین سے جدا ہوئے تھے- فلسطین کے بچے بوڑھے جوان اور خواتین انکی عادات طاہرہ سے خوب واقف ہیں- یہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان اس مرد حق سے متعارف ہیں اور انکے القدس کی حفاظت کیلئے جاری جہاد کو اسلام کہ بہترین خدمت قرار دیتے ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کا ایک وفدشیخ کی برسی کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پہنچا،جہاں شہید کی یادیں خوشبو بن کر چہار سو بسیرا کئے ہوئے تھیں- انکا نرم و شیریں لہجہ اور حد درجہ محبت کی یاد میں ہر آنکھ اشکبار نظر آرہی تھی۔



مرکز اطلاعات فلسطین

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی شرانگیزیوں سے عرب اور مسلم ممالک کبھی محفوظ نہیں رہے - اس کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے - موساد یہودی پناہ گزینوں کی مخفی تحریکوں کی بھی ذمہ دار ہے جو شام ،ایران اور ایتھوپیا کے باہر موجود ہیں -مغرب اور اقوام متحدہ میں موجود کئی سابقہ کمیونسٹ ممالک میں موساد کے ایجنٹ متحرک ہیں- موساد کاہیڈ کوارٹر تل ابیب میں ہے - 1980ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنظیم کے اراکین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار کے قریب تھی ۔



تحریر:سید ثاقب اکبر 

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 



تحریر:فیروز عالم ندوی 

بالفور سے ٹرمپ تک، 1917 سے 2017 تک ظلم و جبر اور استبداد کی صدی رہی۔ اس مدت میں عالم اسلام عموماً اور فلسطین خصوصاً حق تلفی، نا انصافی، دھوکہ، خیانت، ظلم اور استحصال کا شکار رہا۔ اس سو سالہ مدت میں بڑی چالاکی اور عیاری کے ساتھ شہر مقدس کو امت اسلامیہ کے جسم سے کاٹ کر الگ کر نے کی کوشش کی گئی۔ اس کو رفتہ رفتہ اس کے دھڑ سے جدا کیا گیا۔ 



تحریر: سید حیدر نقوی
روشن مستقبل کی اُمیدانسانوں کے لیے اپنی بقاء و ارتقاءکا ایسا روح افزاء تصور ہے جس کے لیے انسان اپنے اوپر آنے والی کئی مشکلات کو ہنسی خوشی برداشت کرجاتا ہے۔ اگر انسانیت کا مستقبل روشن ہی نہ ہو اور انسان کی اس سلسلے میں اُمید باقی نہ رہے تو وہ اپنے حال کو اپنےہی ہاتھوں برباد کربیٹھے گا۔



تحریر:افتخار گیلانی 

مشرق وسطیٰ میں جہاں اس وقت امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، وہیں فلسطین کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ، یورپی یونین، ان کے عرب حکمران اور اسرائیل ایک فارمولے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جس کو ’ڈیل آف سنچری‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔  چند ماہ قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے عندیہ دیا تھا کہ: 
’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔

تازہ مقالے