سوموار, 09 دسمبر 2019 17:30




 
سید ثاقب اکبر نقوی

7 دسمبر کی صبح میں لاہور میں تھا، موبائل فون پر نظر پڑی تو کئی مس کالز تھیں اور کئی ایک پیغامات آئے ہوئے تھے۔ خواجہ شجاع عباس بچھڑ گئے تھے۔ ان کے بچھڑنے کی دہائی دی جا رہی تھی۔ جو پہلا جملہ بے ساختہ زبان پر آیا وہ قلم نے عام کر دیا۔کیا درد بھری صبح ہے، جو کبھی رخ نہ موڑتا تھا، آج رخ موڑ گیا۔ شجاع بھائی! آپ ایسے تو نہ تھے۔“ دل رنج و غم میں ڈوب گیا، عجیب دن چڑھا تھا، 7 دسمبر ہمیشہ اندوہ میں ڈوبا ہوا طلوع ہوگا۔


ویسے تو مہ و سال نے جی بھر کے ستایا
اک اور بھی دن درد کا پیغام ہی لایا
اس نے بھی کیا سر پہ غم و رنج کا سایا
اس روز جو غم پایا کسی روز نہ پایا
لو سات دسمبر بھی ستمگر نکل آیا

چند روز پہلے انہوں نے فون کیا کہ میں آنا چاہتا ہوں، میں نے کہا کہ کیا بھابھی اور بچے بھی ساتھ ہوں گے، کہنے لگے نہیں، میں اکیلا آﺅں گا۔ عموماً ایسا نہ ہوتا تھا۔ راولپنڈی آفندی کالونی سے آنا ہوتا تھا اور وہ بھی ان دنوں شاہ اللہ دتہ اسلام آباد میں تو پھر وہ یہی بہتر سمجھتے تھے کہ فیملی کے ساتھ آئیں، تاکہ سب گھر والے ایک دوسرے سے مل لیں، لیکن اس مرتبہ انھوں نے اکیلے ہی آنے کا ارادہ کیا۔

وہ آئے تو عجیب بات ہوئی، اپنی گاڑی میں بہت سی کتابیں لاد کر لائے تھے، ان میں سے بعض تو البصیرہ کی لائبریری سے لے گئے ہوئے تھے اور بعض ان کی اپنی تھیں۔ ساری سمیٹ کر لے آئے تھے۔ ایک پڑھنے لکھنے والے آدمی کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ساری کتابیں سمیٹے اور جا کر اپنے کسی دوست کے حوالے کر دے، لیکن اس وقت ان کی یہ عجیب حرکت سمجھ نہیں آئی۔ یہ تو سات دسمبر کو کھلا کہ پڑھنے لکھنے کا کام اب وہ سمیٹنے لگے ہیں۔ جس رات انہوں نے وفات پائی، ان کے سرہانے چھوٹی میز پر ایک گلاس پانی کے ساتھ اس ناچیز کی کتاب ”اسلام، ایک زاویہ نگاہ“ پڑی تھی۔ اب تک ویسے ہی پڑی ہے اور آنے جانے والوں کو دو محبت کرنے والوں کی آخر دم تک محبت پر باقی رہنے کی گواہی دے رہی ہے۔

دکھ درد انسانی زندگی میں آتے رہتے ہیں اور حوصلوں کو آزماتے رہتے ہیں۔ اگر اللہ نے دل دیا ہے تو ہو نہیں سکتا کہ درد نہ دے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کوئی شخص اس درد سے کیسے نباہتا ہے اور درد میں کون کون نباہتا ہے۔ شجاع عباس ان دنوں میں بھی نباہتے رہے، جب اپنے پرائے سب چھوڑ گئے تھے۔ دہائیوں سے جاننے پہچاننے والے رخ موڑ گئے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے ایسے ہی تھے۔ ایسے ہی تو یہ نظم سرزد نہیں ہوئی:

 

شجاع عباس! ابھی نہ جاﺅ
میں جانتا ہوں جو آخری درد تم نے بانٹے تھے
آخری درد و غم نہیں تھے
اگرچہ آنکھوں نے اور سراپا نے کہہ دیئے تھے جو
کم نہیں تھے
جو میں نے چھیڑی تھی غم کہانی
ابھی ادھوری تھی میرے جانی!
ابھی تو الفاظ ڈھونڈنا تھے کہ جن میں تابِ بیان ہوتی
کہاں بھلا ناتمام قصے صبور ہونٹوں نے وا کیے تھے
ابھی نہ جاﺅ
اے میرے خواجہ شجاع عباس! ابھی نہ جاﺅ
ابھی تو باقی ہیں ان کہے درد لوٹ آﺅ

1995ء میں ہم نے اسلام آباد میں اخوت اکادمی کی بنیاد رکھی۔ اکادمی میں جن کے آنے سے دل کے دریچے وا ہو جاتے تھے اور محبت کے جذبے مہکنے لگتے تھے، ان میں سے ایک خواجہ شجاع عباس تھے۔ اس زمانے میں وہ حزب المومنین کے کمانڈر تھے، جو آزادی کشمیر کے لیے نبرد آزما تھے۔ ان کا پورا گھرانہ ہی تحریک حریت کا حصہ تھا۔ اسی بات کی گواہی کشمیر جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ پیر سید صلاح الدین نے کمانڈر خواجہ شجاع عباس کے جنازے پر کھڑے ہو کر دی، انھوں نے کہا: ”ان کا گھرانہ مملکت خداداد پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر سے محبت کرنے والا گھرانہ ہے، آج اس گھرانے کا ایک چشم و چراغ دنیا سے رخصت ہوگیا ہے۔ اس گھرانے کے مجاہد شجاع عباس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ خدا ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔“

ان کے خاندان کے بارے میں کچھ ذکر مفتی امجد عباس نے بھی اپنی فیس بک کی ایک پوسٹ میں کیا ہے، ان کی پوسٹ میں خواجہ صاحب کی شخصیت کے چند اور اہم پہلو بھی بیان ہوگئے ہیں، ملاحظہ کیجیے: ”دل صبح سے اداس ہے۔ آج کے دن کا آغاز ہی اس تکلیف دہ خبر سے ہوا کہ برادر گرامی خواجہ شجاع عباس اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ انا للّٰہ وانا الہ راجعون۔  خواجہ صاحب مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد سرینگر میں جج رہے، نانا بہت بڑے عالم، ایک بھائی وکیل جبکہ ایک بھائی انگلینڈ میں ڈاکٹر ہیں۔ خواجہ صاحب نے اوائلِ جوانی میں تحریک آزادی کشمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا؛ بعد ازاں اکیلے پاکستان آگئے۔ یہاں آپ نے اردو زبان کے فروغ اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ خواجہ صاحب کا شمار پاکستان میں موجود نمایاں حریت رہنماوں میں ہوتا تھا۔ آج آپ کے جنازے میں بڑی تعداد میں حریت رہنماء؛ بشمول سید صلاح الدین، شریک ہوئے۔

خواجہ صاحب تحقیقی ذہن والے تھے۔ دقت سے تاریخ اسلام کو پڑھا۔ مختلف مذاہب اور فرقوں سے متعلق گہری معلومات کے حامل تھے۔ عالم عرب کے علماء کی تحقیقات پر خصوصی نظر رکھتے۔ سعودی عالم حسن فرحان المالکی کی تقریباً سبھی کتب ان کے پاس موجود تھیں۔ اہل علم سے رابطے میں رہتے۔ مجھے جب کبھی کال کرتے؛ لمبی کال کرتے۔ بہت سے مسائل پر بات ہوتی۔ علمی و سیاسی مصروفیات کے ساتھ ساتھ خواجہ صاحب نے کشمیری شالوں کی تجارت کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا۔ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے جوانوں سے ہمیں ملواتے۔ میرے پاس کئی مرتبہ جامعہ الکوثر میں تشریف لائے۔ ہر بار ان کے پاس نئی علمی معلومات ہوا کرتی تھیں۔ حالیہ دنوں میں عہد بنی امیہ سے متعلق ایک شامی ڈاکٹر کی ضخیم تحقیقی کتاب کا انہوں نے مجھے بتایا تھا ( مجھے اب کتاب اور مصنف کا نام یاد نہیں ہے) چند روز قبل وہ مختصر سے وقت کے لیے ملنے آئے؛ حسب معمول جلدی میں تھے۔ رسمی دعا، سلام کے بعد تفصیلی ملاقات کے وعدے کے ساتھ وہ رخصت ہوئے؛ لیکن افسوس وہ وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ آج خواجہ صاحب، ہمیں سوگوار چھوڑ کر چپ چاپ سو گئے۔"

تاریخ پاکستان اور تحریک پاکستان پر ان کا مطالعہ بہت گہرا اور وسیع تھا۔ وہ کانگریس اور اس کے راہنماﺅں کی حقیقت کو بہت سے محققین سے بہتر سمجھتے تھے۔ پاکستان ان کی آرزو اور منزل ہی نہ تھا بلکہ ان کا عشق تھا، اسے ڈاکٹر ندیم عباس نے عمدگی سے اپنی ایک پوسٹ میں بیان کیا ہے: ”دل اداس ہے، آج مقبوضہ کشمیر کی پاکستان میں ایک توانا آواز، پاکستان کا مقدمہ خود اہل پاکستان کے سامنے لڑنے والے اور کانگرس و تاج برطانیہ کے گٹھ جوڑ سمجھانے اور قائد اعظم کی بصیرت کی روشنی سے لوگوں کو آگاہی دینے والے، ہر طرح کی آمریت کے خلاف برہنہ تلوار، جنھوں نے صرف اور صرف اسلام و پاکستان کے لیے ہجرت کی اور گھر بار چھوڑ کر مہاجر بنے اور پھر پوری زندگی اپنے وطن کو دیکھ نہ سکے، ہمارے دوست خواجہ شجاع عباس کا انتقال ہوگیا۔ خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ ان کے دو عشق تھے، پاکستان اور علیؑ، اب پاکستان کی زمین میں دفن ہوں گے اور علیؑ کی شفاعت پائیں گے۔ خواجہ صاحب اب ہمیں کون سمجھائے گا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر ادھورا ہے۔"

خواجہ شجاع عباس کشمیر سے گریجویشن کرکے آئے تھے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، براہمن سامراج کے ظلم کو دیکھا تو جہاد کے جذبے نے سینے میں انگڑائی لی۔ انہوں نے بندوق تان لی۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ براہمن سامراج شیعہ سنی اختلاف پیدا کرکے یہ تاثر دینے کے درپے ہے کہ حریت و آزادی کی تحریک فقط بعض سنی گروہوں نے برپا کر رکھی ہے، شیعوں کا اس تحریک سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس گمراہ کن پراپیگنڈہ کے جواب کے لیے انہوں نے حزب المومنین کی بنیاد رکھی۔ حزب المومنین کا آزادی کشمیر کی تحریک میں ایک بہت بڑا حصہ ہے، سینکڑوں مجاہدین نے اس پلیٹ فارم پر جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کیں۔ بہت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، جن میں سے ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں موجود ہے۔ شجاع عباس جہاں ظلم کے خلاف ایک توانا آواز تھے، وہاں مظلوم کے حامی اور محروم طبقوں کے لیے بے قرار رہنے والی روح تھے۔

اتحاد امت کے لیے بھی ان کی کوششیں قابل قدر ہیں۔ انہوں نے مختلف مسالک کا وسیع مطالعہ کیا۔ صدر اسلام کی تاریخ پر تو اتھارٹی کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔ عربی و فارسی انہوں نے پاکستان آکر سیکھی اور اس میں کمال حاصل کیا۔ عربی کا ذوق زیادہ پروان چڑھا، فارسی بھی پڑھ لکھ لیتے تھے۔ ان کے ایک اور چاہنے والے فہد رضوان نے ان کی زندگی کے ایسے ہی چند گوشوں کو اپنی تحریر میں آشکار کیا ہے: ”کشمیر میں پیدا ہوئے۔ والد سرینگر میں جج تھے، ماموں پولیس میں اعلیٰ عہدے پر تھے، بھائی وکیل تھے، ان سے بڑے بھائی انگلستان میں ڈاکٹر ہیں۔ اسی کی دہائی کا آخر تھا۔ مادر وطن سے محبت تھی۔ بندوق تھام لی۔ کشمیر کی مسلح جدوجہد آزادی میں سب جوانی گزری۔ دلبرداشتہ ہوئے۔ علم و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ عربی سیکھی اور ایسا کمال کیا کہ ہم نالائقوں کی عالم عرب کے محققین کی کتابوں، آراء کی بابت رہنمائی کرتے۔

عرب دنیا کے نامور سکالر جناب فرحان المالکی سے مجھے شجاع عباس بھائی کی نسبت تعارف ملا۔ ان سے خوب مباحث رہتی تھی۔ خود برہمنی ریاست کے جبر کا شکار رہے۔ بہت پختہ پاکستانی تھے۔ دو قومی نظریئے کے پکے شیدائی۔ میری تحریریں بخوبی پڑھتے، مجھے کال کرتے کہ آئیں، آپ کو کشمیری قہوہ پلاتے ہیں۔ نقد کرتے، اختلاف کرتے۔ اذان ہوتی تو کہتے رکو، میں خدا سے بات کر آﺅں۔ آپ اس معاملے کو فلاں زاویے سے بھی دیکھیے۔ فارسی کا ادبی ذوق بھی بہت اچھا تھا۔ ان سے تاریخ اسلامی، فلسفہ پر بہت اچھی گفتگو رہتی تھی۔ خود اثناء عشری پس منظر سے تھے، مگر زیدیہ سے بہت متاثر تھے۔ اکثر ان کی آراء کو صائب جانتے تھے۔ یہاں کشمیری شالوں کا کاروبار جمایا تھا۔ جموں کشمیر کے مہاجرین کو بزنس وغیرہ میں ایڈجسٹ کروایا۔ لوگوں کے روزگار کے مسائل حل کروائے۔

رات سوئے اور صبح فجر کو بھابھی نے جگایا تو نہیں اٹھے۔ انتقال کی خبر ملی، دوستوں کو بتایا، کسی کو یقین نہ آیا۔ دن بہت بے چین، بوجھل گزرا۔ اب اپنے ہاتھوں سے دفنا آئے ہیں۔ کیا معلوم صبر آجائے۔ ایسے لوگ رہے ہی کتنے ہیں، جو علم دوست ہوں، جن سے مکالمہ ہوسکتا ہو۔؟ خیر کراچی کا ایک نوجوان ملا۔ بولا میں روزگار کے سلسلے میں ملنے آیا تھا۔ کل پہنچا۔ شجاع صاحب نے کہا تھا صبح آ جانا۔ اب وہ تو قبر میں جا سوئے۔ ملے بغیر چلے گئے۔ ان سے بہت امید تھی، کہیں کوئی دکان ڈلوا دیں گے۔ دنیا میں مشکل وقت میں کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ زبانی باتیں تو بہت کریں گے، مگر لوگوں کی معاشی مدد، رہنمائی۔ شجاع بھائی! آپ نے جانے میں بہت جلدی کی۔ بہت سوں کا نقصان ہوگیا ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔


بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 141 times Last modified on الجمعة, 13 دسمبر 2019 12:21

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« January 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
    1 2 3 4 5
6 7 8 9 10 11 12
13 14 15 16 17 18 19
20 21 22 23 24 25 26
27 28 29 30 31    

تازہ مقالے

  • ایک نئے انقلاب کا آغاز(2)
      نماز جمعہ ہم نے مشہد مقدس میں امام جمعہ و نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ کی امامت میں ادا کی۔ جنوری کی 17 تاریخ تھی۔ تہران میں ایک غلغلۂ انقلابی اور ولولۂ جانبازی کے مناظر ہم اپنی رہائش گاہ سے نکلتے ہوئے ٹی وی کے…
    Written on الجمعة, 24 جنوری 2020 18:51 in سیاسی Read more...
  • ایف اے ٹی ایف پاکستان کیلئے اہم کیوں ہے؟
      چین میں 21 جنوری 2020ء کو بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، جس کی سربراہی چین اور انڈیا مشترکہ طور پر کریں گے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت…
    Written on منگل, 21 جنوری 2020 12:09 in سیاسی Read more...