سید ثاقب اکبر نقوی

کرونا کی وبا شروع ہونے کے چند ہفتے بعد ہی بہت سے دانشوروں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ کرونا کے بعد کی دنیا مختلف ہوگی، جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ خیال پختہ بھی ہوتا گیا اور اس پر یقین کرنے کے لیے شواہد بھی سامنے آنے لگے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (22 مئی 2020ء) کو جب عالمی یوم القدس منایا جا رہا ہے، ہمیں جہاں فلسطینیوں کی کربناک صدائیں سنائی دے رہی ہیں، وہاں کشمیریوں کی فریادیں بھی بلند ہیں اور سینوں کو چھلنی کئے دیتی ہیں۔ شاید ابھی کم لوگ اس مسئلے کی طرف متوجہ ہیں کہ بھارتی برہمن سامراج اور صہیونی درندہ صفت گماشتوں کے باہمی روابط دیرینہ ہیں اور دونوں فلسطینیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کے حقوق کو غصب کرنے کے لیے ایک جیسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک بہت طاقتوراورمضبوط ریاست ہے۔ اس لئے بھی کہ اسے دنیا کی بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے نیز وہ ایک ایسی متحد قوم ہے جو بے پناہ اقتصادی وسائل رکھتی ہے، جس کا امریکہ جیسی طاقت کے اوپر بہت اثرورسوخ ہے اورجس کے پاس نہایت جدید اورطاقتور ذرائع ابلاغ موجود ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

کرونا کے دور میں لگتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے اور شاید بہت کچھ بدل جائے، کیونکہ پیش گوئیاں تو یہ ہو رہی ہیں کہ کرونا کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں اور روابط کے انداز بدل گئے۔

سوموار, 11 مئی 2020 15:52

صدی کا سودا: صہیونی سو(100) دا



تحریر:سید ثاقب اکبر 

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 

تازہ مقالے

تازہ مقالے