سید اسد عباس

ایران اور وینزویلا کا ایک درد مشترک امریکی پابندیاں ہیں، نیز ان کی اقدار مشترک امریکی سامراجی عزائم کی مخالفت، آزاد اقتصاد اور حق خود مختاری ہیں۔ وینزویلا جنوبی امریکا کا ایک اہم ملک ہے، جو انیسویں صدی میں فرانس کی کالونی تھا۔ یہ جنوبی امریکہ کے ممالک میں سے پہلا ملک ہے، جس نے فرانس سے آزادی حاصل کی۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ ستر سے زائد برس سے اسرائیل کو فوجی حمایت مہیا کرنے، سفارتی سطح پر اسرائیل کے وجود کو عالمی برادری سے تسلیم کروانے کی کاوشیں کرنے، اقوام متحدہ میں اسرائیلی ظلم اور بربریت کے خلاف آنے والی ہر قرارداد کو ویٹو کرنے، عملی طور پر اسرائیل کے لیے دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی ممالک میں بالخصوص سفارت کاری کرنے، اسرائیل کے وجود کے مخالفین پر اقتصادی پابندیاں لگوانے، ان کو مختلف سطح پر دہشت گرد قرار دلوانے کے بعد امریکا نے اپنے سب نقاب الٹ دیئے اور واضح طور اس جارح اور ناجائز اکائی کی پشت پر آن کھڑا ہوا ہے۔



 
سید اسد عباس

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قضیہ فلسطین فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ صہیونی اور ان کے سرپرست اسی طرح اس ریاست کو ناجائز اور خطے میں مسائل کا سرچشمہ قرار دینے والے تقریباً حتمی کاوشیں سرانجام دے رہے ہیں۔



 
سید اسد عباس

آج انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے، اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ کرونا ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے یا بھوک اور معاشی تعطل۔ دنیا کا خیال تھا کہ چند ہفتوں کے لاک ڈاون سے کرونا کی وبا کو کنٹرول کر لیا جائے گا، کئی ممالک کو تو یہ توقع ہی نہیں تھی کہ کرونا ان کے ممالک پر یوں حملہ آور ہوگا۔ 



تحریر:افتخار گیلانی 

مشرق وسطیٰ میں جہاں اس وقت امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، وہیں فلسطین کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ، یورپی یونین، ان کے عرب حکمران اور اسرائیل ایک فارمولے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جس کو ’ڈیل آف سنچری‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔  چند ماہ قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے عندیہ دیا تھا کہ: 
’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔

تازہ مقالے

تازہ مقالے