سید اسد عباس

یہ نشان آئی آف پراویڈینس ہے۔ مسیحی عبادت گاہوں، فری میسنز اور الومیناٹی کی یادگار عمارتوں پر یہ نشان دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک ڈالر کے نوٹ کی پچھلی طرف بھی یہی علامت موجود ہے اور تو اور یہ امریکہ کی سیل پر بھی کندہ ہے۔ یہ سیل امریکہ کی اہم دستاویزات، پاسپورٹ، جھنڈوں، امریکی صدر کی سیل پر بھی موجود ہوتا ہے۔ آنکھ کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ قدیم تہذیبوں میں موجود رہا ہے، ان میں ہندو تہذیب میں تیسری آنکھ والی مورتیاں، مصری تہذیب میں ہورس کی آنکھ، رے کی آنکھ شامل ہیں۔ ہورس کی آنکھ تحفظ، شاہی طاقت اور اچھی صحت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ چند ماہ سے بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے اور روابط کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس عنوان سے ان عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی واقعہ ہوگی اور وہ اسرائیل سے بہتر طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بات کرسکیں گے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے روابط اس شرط پر بحال ہوئے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ارادے کو ترک کر دے گا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ارادے کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ آپشن ہماری میز پر موجود ہے۔



 
سید اسد عباس

شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی و فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ درس و تدریس کے علاوہ لاہور کی مسجد میں خطیب تھے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی منظر عام پر آئے۔ اس رویئے اور بعد کے اقدامات کے سبب وہ ایک عالم دین سے زیادہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرمت رسول (ص) کے لیے قربانی دینے والے شجاع بزرگ اور قائد کے طور پر سامنے آئے۔

اتوار, 15 نومبر 2020 07:18

مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان



 
سید اسد عباس

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار یکم نومبر کو گلگت بلتستان کی آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جی بی کو عبوری صوبائی حیثیت اور آئینی حقوق دینے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان کا واضح لفظوں میں کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس فیصلے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کیا واقعی مسئلہ کشمیر کے حل میں یہ اقدام موثر ہوگا؟ پاکستان کے پاس اس اقدام کے علاوہ کیا آپشن ہے۔؟ تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن 1948ء میں مقامی لوگوں کی مدد سے یہ پاکستان کے زیر کنٹرول آگیا۔



 
سید اسد عباس

امریکہ کے حالیہ انتخابات متنازعہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی روکنے کیلئے درخواستیں دائر ہوچکی ہیں۔ مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔ امریکی آر ٹی ایس سسٹم جو کرونا کے سبب ڈاک ووٹ پر مشتمل تھا، فلاپ ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں بائیڈن آتا ہے یا ٹرمپ دونوں اس صورتحال میں نہیں ہونگے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں سے تجاوز کرسکیں اور اپنی من مانیاں کرتے پھریں۔ میں تو کہوں گا کہ بائیڈن اور ٹرمپ دونوں یہ انتخاب ہار چکے ہیں اور امریکی اسٹیبلشمنت جسکا بڑا حصہ صہیونیوں پر مشتمل ہے کامیاب ہوچکی ہے

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

تازہ مقالے