سید اسد عباس

بی بی سی اردو برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سائٹ ہے، جو برطانوی حکومت کے زیر اثر ہے اور انہی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتی ہے۔ میں کافی عرصے سے بی بی سی اردو کا قاری ہوں اور ان کی خبروں، تجزیات کو بغور دیکھتا ہوں۔ بی بی سی اردو میں لکھنے والے اگرچہ سب پاکستانی ہیں، تاہم ایڈیٹر برطانوی نشریاتی ادارے کی پالیسی کے مطابق ہی خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ اپنے مطالعہ کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ بی بی سی مسلمانوں کے مابین اختلاف کے حوالے سے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی رپورٹیں جہاں دلچسپ ہوتی ہیں، وہیں ان کے اندر ایسا مواد موجود ہوتا ہے، جو اردو دان طبقہ کے مابین کسی نئی بحث کا آغاز کر دے۔



تحریر: سید اسد عباس
آج اگر انسانیت کے زوال کا اندازہ کرنا ہو تو ایک نظر دنیا پر حکمران طبقے پر کر لیں۔ دنیا کے اکثر حکمران کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسے الزامات کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں جن کے ثبوت سامنے لائے جا چکے ہیں یا جن کے حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان جرائم کے علاوہ ان حکمرانوں میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کے بارے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاسی دنیا میں جھوٹ، بدعہدی، نفاق کو مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو جس قدر جھوٹا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ساری دنیا میں حکمران ایسے ہی ہیں، دنیا کے بعض ممالک میں ایسے حکمران بھی موجود ہیں، جن کی ایمانداری کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسے حکمرانوں کا برسر اقتدار آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی بھی ایک دلیل ہے۔ جب معاشرے کی ایک اکثریت کی نظر میں اخلاقی اقدار اپنا مقام کھو دیں تو پھر ان کے قومی نمائندے اور حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے۔ جب حاکم کرپٹ ہو تو پھر پورا ریاستی نظام کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے، جو معاشرے کو فساد کی جانب لے جاتا ہے۔



تحریر: سید اسد عباس
مقدمہ:انسانی تاریخ اور اس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حادثات اپنی نوعیت کے اعتبار سے  چاہے جس قدر نئے ہوں، اکثر ایسے حادثات یا واقعات کی نظیر تاریخ انسانیت میں ضرور ملتی ہے تبھی تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ انسانی تاریخ میں خون ریزی کا پہلا واقعہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہے۔ آج بھی انسانی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والا ہر بے گناہ مقتول ہابیل کی یاد تازہ کرتا ہے اور قاتل قابیل کے کردار کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔  اسی طرح بعض تاریخی واقعات اور حادثات نہ فقط انسان کی انفرادی روش سے متعلق ہوتے ہیں بلکہ یہ واقعات نسل انسانی کی منزل اور سمت کے تعین میں بھی راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا، اس کی وجوہات، پس منظر ، اثرات اور امام حسین علیہ السلام کے اقدامات بھی انسانی تاریخ کی ایسی انوکھی مثال ہیں جس سے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں نے راہنمائی لی۔ اس عظیم سانحہ کے بعد جب بھی کوئی انسان ایسی مشکل سے دوچار ہوا جہاں اسے اصولوں اور زندگی میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑا تو امام حسین علیہ السلام کا اسوہ ہمیشہ ایک معیار کے طور پر اس شخص کے پیش نظر رہا۔

ہفته, 29 آگست 2020 09:37

اداریہ



ہجری سال1442 ء آغاز ہو چکا ہے۔ ہجری تقویم کی ابتداء ماہ محرم سے ہوتی ہے جو اہل بیت رسول ؐ اور ان کے پیروکاروں نیز محبین کے لیے غم و حزن کا مہینہ ہے ۔ ماہ محرم الحرام اور ماہ صفر امت رسول ؐ کے مابین ایام عزا کے طور پر معروف ہیں۔عرب معاشرے میں یہ مہینے حرمت والے مہینے تصور کیے جاتے تھے جن میں عرب قبائل جنگوں اور کشت و خون کا سلسلہ ترک کر دیتے تھے، تاہم واقعہ کربلا میں یہ روایت بھی ترک کی گئی اور خانوادہ رسول اکرم ؐ کو میدان کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاساتہ تیغ کر دیا گیا۔



 
سید اسد عباس

1902ء میں عبد العزیز نے ریاض کے گورنر کو ایک چھاپہ مار کارروائی میں قتل کرکے ریاض پر قبضہ کر لیا اور امیر نجد و امام تحریک اسلامی کا خطاب اختیار کیا۔ یہ وہ دور ہے، جب برطانیہ ترکوں کے خلاف رزم آراء تھا، ترک برطانوی حملوں کے سبب اپنے اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ نہ دے سکتے تھے۔ 1915ء میں آل سعود کے تیسرے دور حکومت کے موسس شاہ عبد العزیز نے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ درین کیا، جو کہ تاروت جزیرے کے علاقے درین میں ہوا۔ اس معاہدے پر ملکہ تاج کی جانب سے سر پرسی کاکس نے دستخط کیے۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« September 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30        

تازہ مقالے