سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے ، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم اسے نازی ازم کاانڈین برانڈ سمجھتے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے ۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے ۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے ۔
 



 

تحریر: ڈاکٹر محمد حسین(امریکہ)
پاکستان ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت کی دہلیز پر پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔گزشہ  کچھ عرصے سے  تسلسل سے پیش آنے والے واقعات نے  فرقہ وارانہ ہوا کو  ایک بار پھر بھڑکایا ہے۔ جبکہ مسلم ممالک کی باہمی چپقلس  اور رسہ کشی میں پاکستانی عوام  جکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔     لاک ڈاؤن اور معاشی تنگدستی کی عوامی  نفسیاتی فرسٹریشن   اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دستیابی نے  فرقہ وارانہ  منافرت کو مزید ہوا دی ہے۔ خاص طور پر اس دفعہ  شیعہ سنی تقسیم  مزید گہری  ہوتی جا رہی ہے۔    



 

تحریر: ڈاکٹر حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے  میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا، اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں۔برصغیر میں اسلام حضرت علی کےدور میں ہی  آ چکا تھا اور  یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے  شیعہ بھی شامل تھے۔  لیکن یہاں  شیعہ  کلنگ  کے  واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے  حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو  ساتھیوں کا قتل ہے جو  تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری، میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005 ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کاملتا ہے[2] ۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
تعارف:

امت اسلامیہ کی صفوں میں اتحاد کے لیے اور انتشار پسند قوتوں کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں وقتاً فوقتاً کوششیں جاری رہتی ہیں۔کئی ایک قدآور مذہبی اورسیاسی شخصیات نے دلسوزی کے ساتھ امت کی اس سلسلے میں مختلف مواقع پر راہنمائی کی ہے۔جناب ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں ان کاوشوں اور دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ۔قارئین کے استفادہ کے لیے ان دستاویزات کو پیام میں شائع کیا جارہا ہے۔

الجمعة, 18 ستمبر 2020 20:18

فرقہ واریت اور سی پیک



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں بہت سے دانشور، علماء اور تجزیہ کار موجودہ فرقہ واریت کے مختلف اسباب پر اپنا نقطہ نظر بیان کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ فرقہ واریت کی موجودہ لہر کے پیچھے سی پیک کے مخالفین کا ہاتھ ہے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم لگتی ہے کہ حال ہی میں بھارت کے ایک میجر کی جو وڈیو وائرل ہوئی ہے، اس میں وہ واضح طور پر پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے اپنا منصوبہ بیان کر رہے ہیں۔ بھارت پہلے دن ہی سے سی پیک کا مخالف چلا آرہا ہے اور امریکا بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سی پیک جسے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کہا جاتا ہے، کی مخالفت میں بھارت اور امریکہ کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

متحدہ عرب امارات کی طرف سے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا منصوبہ آشکار ہوا تو عالم اسلام میں ایک ردعمل پیدا ہوا۔ امارات کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ ترکی نے بھی اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ اس کے بعد محرم الحرام آگیا اور حسب معمول امام حسینؑ اور ان کے اعوان و انصار کی یاد میں مجالس اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران میں صہیونی اور استعماری قوتوں نے اپنا کھیل جاری رکھا۔ سعودی عرب سے پرواز کرکے اسرائیل کا پہلا طیارہ امارات میں اترا۔ اس سے پہلے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سربراہ نے بھی امارات کا دورہ کیا اور اب اس امر کی تیاری ہو رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید امریکی صدر ٹرمپ کی خدمت میں پہنچیں اور مل کر اس دستاویز پر دستخط کریں، جس کے نتیجے میں امارات باقاعدہ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان ایک آزاد خود مختار اسلامی ریاست ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں معرض وجود میں آئی۔ اس کے قیام کا ایک بنیادی مقصد اسلامی نظریہ حیات کے مطابق ایک جدید فلاحی ریاست قائم کرنا تھا تاکہ تمام عالم اسلام کے لیے اسے نمونہ اور مثال بنایا جاسکے۔ اس کی روح میں اسلامی اتحاد اور عالم اسلام کے وقارو استقلال کی بحالی کا جذبہ کارفرما تھا۔یہی وجہ ہے کہ اول روز سے ہی پاکستان کا موقف دشمنان اسلام کی شرانگیزیوں کے مقابلے میں عالم اسلام کے اتحاد پر مبنی رہا۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

14 اگست کو جبکہ پاکستان کے عوام یوم آزادی منا رہے تھے، متحدہ عرب امارات نے فلسطینی مسلمانوں پر قید کی زنجیریں مزید کسنے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر فلسطین سے لے کر پورے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان میں سب سے پہلا آفیشل ردعمل جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کی طرف سے آیا، جنھوں نے منصورہ لاہور میں خطبہ جمعہ کے دوران میں کہا: ”ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

Published in سیاسی

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے