سید ثاقب اکبر نقوی

وہ تمام آیات جو اہل بیت رسالت کی شان میں نازل ہوئیں، اُن سب کا ایک بارز مصداق امام حسن مجتبیٰؑ بھی ہیں۔ آیت تطہیر آپ کی طہارت نفس کی شہادت دیتی ہے۔ آیت مباہلہ آپ کے فرزند رسول ہونے اور آپ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے اور آیت مودّت آپ کی مودت و محبت کے اجر رسالت ہونے کو بیان کرتی ہے۔ اسی طرح وہ تمام احادیث جو اہل بیت اطہار ؑکی شان و عظمت پر گواہ ہیں یا ان کی اطاعت کو امت پر فرض گردانتی ہیں، وہ آپ کے عظیم المرتبت ہونے اور امام مطاع ہونے پر شاہد عادل ہیں۔ نبی کریمؐ نے جس طرح اہل بیتؑ کے دیگر افراد کا نام لے لے کر ان کے مقام والا کو بیان کیا ہے، اُسی طرح امام حسن علیہ السلام کے علوّ شان کو نام کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے ، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم اسے نازی ازم کاانڈین برانڈ سمجھتے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے ۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے ۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے ۔
 



 

تحریر: ڈاکٹر محمد حسین(امریکہ)
پاکستان ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت کی دہلیز پر پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔گزشہ  کچھ عرصے سے  تسلسل سے پیش آنے والے واقعات نے  فرقہ وارانہ ہوا کو  ایک بار پھر بھڑکایا ہے۔ جبکہ مسلم ممالک کی باہمی چپقلس  اور رسہ کشی میں پاکستانی عوام  جکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔     لاک ڈاؤن اور معاشی تنگدستی کی عوامی  نفسیاتی فرسٹریشن   اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دستیابی نے  فرقہ وارانہ  منافرت کو مزید ہوا دی ہے۔ خاص طور پر اس دفعہ  شیعہ سنی تقسیم  مزید گہری  ہوتی جا رہی ہے۔    



 

تحریر: ڈاکٹر حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے  میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا، اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں۔برصغیر میں اسلام حضرت علی کےدور میں ہی  آ چکا تھا اور  یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے  شیعہ بھی شامل تھے۔  لیکن یہاں  شیعہ  کلنگ  کے  واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے  حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو  ساتھیوں کا قتل ہے جو  تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری، میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005 ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کاملتا ہے[2] ۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

”کرونا“ اگرچہ ایک عالمگیر وبا و ابتلا کی صورت میں دنیا میں رونما ہوئی ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا کرونا سے پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہوگی۔ اس عالمی وباء کے دوران میں ایسے ایسے معنوی و مادی حقائق سامنے آئے ہیں، جو اس سے پہلے اتنے نمایاں طور پر دنیا کے سامنے نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ کرونا کے دوران میں سرحدیں بے معنی ہوگئیں ہیں، قوموں کی تقسیم مٹ گئی ہے، مذاہب اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق بھی پا در ہوا ہوگئی ہے۔ کرونا نے جرنیلوں، سیاستدانوں، حکمرانوں، علماء، مشائخ، ڈاکٹروں اور عام لوگوں میں سے کسی کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دی۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کرونا کے ہاتھوں بے حال دکھائی دیے ہیں۔ گورے اور کالے، سب کے ساتھ کرونا ایک طرح سے برتاؤ کرتا رہا ہے اور اب بھی بہت سے مقامات پر اس کی حشر سامانیاں دیکھی جاسکتی ہیں اور بعض علاقوں میں اس کے لوٹ آنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔
 

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی


یہ بات تو دشمنوں نے بھی سرعام کہہ دی ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے سب سے آسان اور سستا ہتھیار فرقہ واریت ہے اور فرقہ واریت کی آگ تکفیریت کے تیل سے مزید شعلہ ور ہوتی ہے۔ پھر تکفیریت شدت پسندی کا روپ دھارتی ہے تو داعش، القاعدہ، بوکو حرام، جبھۃ النصرہ، لشکر جھنگوی وغیرہ جیسے ناموں سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ پھر نہ وہ دائیں پہلو کو چھوڑتی ہے نہ بائیں پہلو کو۔ اسی کو کہتے ہیں اسلام کا گلا اسلام کے نام سے کاٹنا۔ کسی نے کہا کہ امام حسین ؑ کو ان کے ناناؐ کی تلوار سے شہید کیا گیا۔ یعنی ان کے ناناؐ کا کلمہ پڑھنے والوں نے انھیں تہ تیغ کر دیا۔ ایک شاعر نے اسی بات کو موزوں کیا ہے:

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
تعارف:

امت اسلامیہ کی صفوں میں اتحاد کے لیے اور انتشار پسند قوتوں کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں وقتاً فوقتاً کوششیں جاری رہتی ہیں۔کئی ایک قدآور مذہبی اورسیاسی شخصیات نے دلسوزی کے ساتھ امت کی اس سلسلے میں مختلف مواقع پر راہنمائی کی ہے۔جناب ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں ان کاوشوں اور دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ۔قارئین کے استفادہ کے لیے ان دستاویزات کو پیام میں شائع کیا جارہا ہے۔

جمعرات, 24 ستمبر 2020 22:41

یہ ٹرمپ کی خلافت کا دور ہے



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اے گرفتار ابو بکر و علی ہشیار باش
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ دونوں گروہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کسی کے مقام و مرتبہ کو بھی تبدیل نہیں کرسکتے اور شاید ایک دوسرے کی آراء کو بھی نہیں بدل سکتے لیکن مختلف آراء کی بنیاد پر جنگ و جدل کرسکتے ہیں اور تاریخ میں کرتے چلے آرہے ہیں، جبکہ کئی صدیوں سے دونوں گروہوں پر مشترکہ طور پر غیر مسلم حکومت کر رہے ہیں۔ عصر حاضر میں ”خلیفہ ٹرمپ“ کی حکومت ہے۔ یہ خلافت انھیں 21 مئی 2017ء کو ریاض میں 54 مسلمان ممالک نے مل کر پیش کی۔

Published in سیاسی
الجمعة, 18 ستمبر 2020 20:18

فرقہ واریت اور سی پیک



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں بہت سے دانشور، علماء اور تجزیہ کار موجودہ فرقہ واریت کے مختلف اسباب پر اپنا نقطہ نظر بیان کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ فرقہ واریت کی موجودہ لہر کے پیچھے سی پیک کے مخالفین کا ہاتھ ہے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم لگتی ہے کہ حال ہی میں بھارت کے ایک میجر کی جو وڈیو وائرل ہوئی ہے، اس میں وہ واضح طور پر پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے اپنا منصوبہ بیان کر رہے ہیں۔ بھارت پہلے دن ہی سے سی پیک کا مخالف چلا آرہا ہے اور امریکا بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سی پیک جسے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کہا جاتا ہے، کی مخالفت میں بھارت اور امریکہ کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے

Published in سیاسی

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے