تحریر: سید اسد عباس
آج اگر انسانیت کے زوال کا اندازہ کرنا ہو تو ایک نظر دنیا پر حکمران طبقے پر کر لیں۔ دنیا کے اکثر حکمران کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسے الزامات کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں جن کے ثبوت سامنے لائے جا چکے ہیں یا جن کے حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان جرائم کے علاوہ ان حکمرانوں میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کے بارے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاسی دنیا میں جھوٹ، بدعہدی، نفاق کو مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو جس قدر جھوٹا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ساری دنیا میں حکمران ایسے ہی ہیں، دنیا کے بعض ممالک میں ایسے حکمران بھی موجود ہیں، جن کی ایمانداری کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسے حکمرانوں کا برسر اقتدار آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی بھی ایک دلیل ہے۔ جب معاشرے کی ایک اکثریت کی نظر میں اخلاقی اقدار اپنا مقام کھو دیں تو پھر ان کے قومی نمائندے اور حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے۔ جب حاکم کرپٹ ہو تو پھر پورا ریاستی نظام کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے، جو معاشرے کو فساد کی جانب لے جاتا ہے۔

Published in سیاسی



تحریر: عماد ابو عواد

سنہ 1948ء میں فلسطین میں قیام اسرائیل کے منحوس اقدام کے بعد امریکا اور اور اس کے فوری بعد سابق سوویت یونین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سنہ 1950ء میں بھارت نے بھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیا۔ اس وقت کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون نے بھارت کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے ایک روز قبل کہا کہ ’بھارت سفارتی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل کو تسلیم کررہا ہے‘۔سنہ 1951ء میں بھارت نیاسرائیل میں اپنا قونصل خانہ قائم کر کے یہ ثابت کردیا کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر کے فلسطینی قوم کے حقوق کے باب میں نئی پالیسی پر چلنا چاہتا ہے۔

Published in القدس



مرکز اطلاعات فلسطین

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی شرانگیزیوں سے عرب اور مسلم ممالک کبھی محفوظ نہیں رہے - اس کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے - موساد یہودی پناہ گزینوں کی مخفی تحریکوں کی بھی ذمہ دار ہے جو شام ،ایران اور ایتھوپیا کے باہر موجود ہیں -مغرب اور اقوام متحدہ میں موجود کئی سابقہ کمیونسٹ ممالک میں موساد کے ایجنٹ متحرک ہیں- موساد کاہیڈ کوارٹر تل ابیب میں ہے - 1980ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس تنظیم کے اراکین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار کے قریب تھی ۔

Published in القدس
سوموار, 11 مئی 2020 15:52

صدی کا سودا: صہیونی سو(100) دا



تحریر:سید ثاقب اکبر 

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 

Published in القدس

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے