سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
گذشتہ قسط میں ہم نے کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے گذشتہ ایک سال میں کیے گئے چند اقدامات کا تذکرہ کیا، درج ذیل تحریر انہی اقدامات کے بیان کا تسلسل ہے۔ معروف کشمیری صحافی پیرزادہ مدثر شفیع جیلانی کے مطابق قابض حکام نے حال ہی میں مقبوضہ علاقے میں ایک نئی تعمیراتی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت کسی بھی علاقے کو ”اسٹریٹجک" نوعیت کا علاقہ قرار دیا جاسکتا ہے، جہاں بھارتی فوج بلا رکاوٹ تعمیرات کرنے کے علاوہ دیگر سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے اور اس کے لیے اسے انتظامیہ سے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

بھارت پر حاکم انتہاء پسند ہندو جماعت بی جے پی نے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی راہ میں حائل بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 5 اگست 2019ء کو یعنی ایک برس قبل ختم کیا، اگرچہ یہ دفعات بھی کشمیریوں کے اطمینان کے لیے آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں، جو غیر قانونی ہی تھیں، تاہم اس سے کشمیر کے باسیوں کو کم از کم یہ تحفظ حاصل تھا کہ باہر سے کوئی ہندوستانی باشندہ آکر ان کی ریاست میں زمین نہیں خرید سکتا یا مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو بدلنے کا کوئی حربہ بروئے کار نہیں لایا جاسکتا ہے، تاہم اب ہندوستان کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔

Published in سیاسی
الجمعة, 26 جون 2020 09:53

کشمیر کی حالت زار اور راہ حل



 
سید اسد عباس

کشمیری پانچ اگست 2019ء سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فوج نے وادی میں، مارکیٹیں، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے ہیں۔ اپنے گھروں میں بھی کشمیریوں کو سکھ کا سانس لینے کی اجازت نہیں ہے۔

Published in سیاسی
سوموار, 22 جون 2020 16:02

آہنی سلاخوں سے جنگ



 
سید اسد عباس

گذشتہ دنوں لداخ کی وادی گلوان میں چین اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والی جھڑپ میں ایک کرنل سمیت بیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد بھارتی فوجی چین کی گرفت میں چلے گئے، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

Published in سیاسی
الجمعة, 29 مئی 2020 14:30

چین کی لداخ میں پیشقدمی



 
سید اسد عباس

بھارت اور چین کا سرحدی تنازع قدیم ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

Published in سیاسی



تحریر: عماد ابو عواد

سنہ 1948ء میں فلسطین میں قیام اسرائیل کے منحوس اقدام کے بعد امریکا اور اور اس کے فوری بعد سابق سوویت یونین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سنہ 1950ء میں بھارت نے بھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیا۔ اس وقت کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون نے بھارت کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے ایک روز قبل کہا کہ ’بھارت سفارتی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل کو تسلیم کررہا ہے‘۔سنہ 1951ء میں بھارت نیاسرائیل میں اپنا قونصل خانہ قائم کر کے یہ ثابت کردیا کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر کے فلسطینی قوم کے حقوق کے باب میں نئی پالیسی پر چلنا چاہتا ہے۔

Published in القدس

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے