سید اسد عباس

جیسا کہ ہم نے اپنی گذشتہ تحریروں میں اعداد و شمار اور امریکی دانشوروں اور ماہرین کے اقوال کے ذیل میں دیکھا کہ امریکی ریاست، سیاست اور فوجی طاقت کے زوال کا عندیہ تقریباً ہر پیرائے سے عیاں ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال کرونا کے دوران امریکہ میں میڈیکل پراڈکٹس کی پیداواری صلاحیت کی کمی ہے، جس کے لیے یا تو امریکہ کو پیداوار بڑھانی تھی یا پھر ان مصنوعات کو چین سے درآمد کرنا تھا۔ چین گذشتہ کئی برسوں سے امریکی منڈی سمیت اینٹی بائیوٹکس کے خام مال کی برآمد میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ چین نالج شیئرنگ، طبی سامان، عملے اور مالی اشتراک سے پوری دنیا کو اپنی کثیر الجہتی سفارتی امداد میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔ 

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج و زوال کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر مادی کے ساتھ ساتھ معنوی اور سماجی ترقی اور تنزلی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو عروج و زوال کے معنی بدل جائیں گے۔ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ امریکہ میں بہت سے ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے اور موجودہ دہائی میں اس زوال میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو قرہ باخ کے تنازعے پر ایک مرتبہ پھر خونریز جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی اپیلیں کر رہی ہے۔ نگورنو قرہ باخ کا تنازعہ نیا نہیں 1918ء میں روسی سلطنت کے خاتمے کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا آزاد ہوئے تو اسی وقت دنوں ممالک کے مابین نگورنو قرہ باخ کا علاقہ متنازع ہوگیا۔ سوویت یونین کے زمانے میں یہ علاقہ آذربائیجان کی انتظامیہ کے تحت ایک خود مختار علاقہ قرار پایا۔ جیسے ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوا، ایک مرتبہ پھر نگورنو قرہ باخ کے مسئلہ نے سر اٹھایا، جو کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ اور پھر امن معاہدے پر منتہی ہوا۔ 2016ء میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خونریز مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور انسانی ہجرت محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ نفوس پر محیط تھی۔
 

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں آجائیں گی، وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے چند ایک اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اگر ان کو تجاویز کے بجائے احکامات قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 27 نکات میں سے پاکستان 14 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرچکا ہے جبکہ 13 مزید نکات پر اسے عمل کرنا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والے پاکستانی معاشرے اور اس کے مسائل کو ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں، تبھی تو پاکستانی حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کر رہے ہیں۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دنیا پر حکومت کا نیا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے دنیا کے معاشی ادارے دنیا میں کاروبار، پیسے کی نقل و حمل، معاشی بے ضابطگیوں اور جرائم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جس ملک کا نظام درج بالا شعبوں میں کمزور ہے، وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہیں، جس کے سبب دنیا کے معاشی ادارے، بینک اور ممالک اس ملک سے کاروبار نہیں کرتے یا اس کی سفارش نہیں کرتے۔ اس فورس کی ایک لسٹ بلیک لسٹ بھی ہے، جس میں ایران اور شمالی کوریا ہیں۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

بی بی سی اردو برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سائٹ ہے، جو برطانوی حکومت کے زیر اثر ہے اور انہی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتی ہے۔ میں کافی عرصے سے بی بی سی اردو کا قاری ہوں اور ان کی خبروں، تجزیات کو بغور دیکھتا ہوں۔ بی بی سی اردو میں لکھنے والے اگرچہ سب پاکستانی ہیں، تاہم ایڈیٹر برطانوی نشریاتی ادارے کی پالیسی کے مطابق ہی خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ اپنے مطالعہ کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ بی بی سی مسلمانوں کے مابین اختلاف کے حوالے سے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی رپورٹیں جہاں دلچسپ ہوتی ہیں، وہیں ان کے اندر ایسا مواد موجود ہوتا ہے، جو اردو دان طبقہ کے مابین کسی نئی بحث کا آغاز کر دے۔

Published in سیاسی



تحریر: سید اسد عباس
آج اگر انسانیت کے زوال کا اندازہ کرنا ہو تو ایک نظر دنیا پر حکمران طبقے پر کر لیں۔ دنیا کے اکثر حکمران کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسے الزامات کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں جن کے ثبوت سامنے لائے جا چکے ہیں یا جن کے حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان جرائم کے علاوہ ان حکمرانوں میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کے بارے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاسی دنیا میں جھوٹ، بدعہدی، نفاق کو مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو جس قدر جھوٹا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ساری دنیا میں حکمران ایسے ہی ہیں، دنیا کے بعض ممالک میں ایسے حکمران بھی موجود ہیں، جن کی ایمانداری کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسے حکمرانوں کا برسر اقتدار آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی بھی ایک دلیل ہے۔ جب معاشرے کی ایک اکثریت کی نظر میں اخلاقی اقدار اپنا مقام کھو دیں تو پھر ان کے قومی نمائندے اور حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے۔ جب حاکم کرپٹ ہو تو پھر پورا ریاستی نظام کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے، جو معاشرے کو فساد کی جانب لے جاتا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

1902ء میں عبد العزیز نے ریاض کے گورنر کو ایک چھاپہ مار کارروائی میں قتل کرکے ریاض پر قبضہ کر لیا اور امیر نجد و امام تحریک اسلامی کا خطاب اختیار کیا۔ یہ وہ دور ہے، جب برطانیہ ترکوں کے خلاف رزم آراء تھا، ترک برطانوی حملوں کے سبب اپنے اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ نہ دے سکتے تھے۔ 1915ء میں آل سعود کے تیسرے دور حکومت کے موسس شاہ عبد العزیز نے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ درین کیا، جو کہ تاروت جزیرے کے علاقے درین میں ہوا۔ اس معاہدے پر ملکہ تاج کی جانب سے سر پرسی کاکس نے دستخط کیے۔

Published in سیاسی

تازہ مقالے

تازہ مقالے