سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

وہ تمام آیات جو اہل بیت رسالت کی شان میں نازل ہوئیں، اُن سب کا ایک بارز مصداق امام حسن مجتبیٰؑ بھی ہیں۔ آیت تطہیر آپ کی طہارت نفس کی شہادت دیتی ہے۔ آیت مباہلہ آپ کے فرزند رسول ہونے اور آپ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے اور آیت مودّت آپ کی مودت و محبت کے اجر رسالت ہونے کو بیان کرتی ہے۔ اسی طرح وہ تمام احادیث جو اہل بیت اطہار ؑکی شان و عظمت پر گواہ ہیں یا ان کی اطاعت کو امت پر فرض گردانتی ہیں، وہ آپ کے عظیم المرتبت ہونے اور امام مطاع ہونے پر شاہد عادل ہیں۔ نبی کریمؐ نے جس طرح اہل بیتؑ کے دیگر افراد کا نام لے لے کر ان کے مقام والا کو بیان کیا ہے، اُسی طرح امام حسن علیہ السلام کے علوّ شان کو نام کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔



 
سید اسد عباس

معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج و زوال کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر مادی کے ساتھ ساتھ معنوی اور سماجی ترقی اور تنزلی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو عروج و زوال کے معنی بدل جائیں گے۔ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ امریکہ میں بہت سے ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے اور موجودہ دہائی میں اس زوال میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

ویسے تو گذشتہ کئی برس سے اربعین حسینیؑ کے موقع پر پوری دنیا سے عشاق کشاں کشاں کربلا میں پہنچ رہے تھے، دل و دماغ سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ یہ کسی نئے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ کروڑوں انسان امام حسینؑ کی خدمت میں سلامِ نیاز پیش کرنے کے لیے جس والہانہ انداز سے گوشہ و کنار عالم سے اکٹھے ہو رہے تھے، انسان کو حیرت زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔ پھر اس کے ساتھ مشی اور اربعین واک کے سلسلے، بات کچھ زیادہ ہی آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کئی کئی دن پیدل چل کر خواتین و حضرات روز اربعین حسینؑ سید الشہداء کی بارگاہ میں عرض ادب اور اظہار عقیدت کے لیے پہنچتے تھے۔

Published in مذهبی


 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے ، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم اسے نازی ازم کاانڈین برانڈ سمجھتے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے ۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے ۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے ۔
 



 

تحریر: ڈاکٹر محمد حسین(امریکہ)
پاکستان ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت کی دہلیز پر پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔گزشہ  کچھ عرصے سے  تسلسل سے پیش آنے والے واقعات نے  فرقہ وارانہ ہوا کو  ایک بار پھر بھڑکایا ہے۔ جبکہ مسلم ممالک کی باہمی چپقلس  اور رسہ کشی میں پاکستانی عوام  جکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔     لاک ڈاؤن اور معاشی تنگدستی کی عوامی  نفسیاتی فرسٹریشن   اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دستیابی نے  فرقہ وارانہ  منافرت کو مزید ہوا دی ہے۔ خاص طور پر اس دفعہ  شیعہ سنی تقسیم  مزید گہری  ہوتی جا رہی ہے۔    



 

تحریر: ڈاکٹر حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے  میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا، اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں۔برصغیر میں اسلام حضرت علی کےدور میں ہی  آ چکا تھا اور  یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے  شیعہ بھی شامل تھے۔  لیکن یہاں  شیعہ  کلنگ  کے  واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے  حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو  ساتھیوں کا قتل ہے جو  تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری، میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005 ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کاملتا ہے[2] ۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔



 
سید اسد عباس

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو قرہ باخ کے تنازعے پر ایک مرتبہ پھر خونریز جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی اپیلیں کر رہی ہے۔ نگورنو قرہ باخ کا تنازعہ نیا نہیں 1918ء میں روسی سلطنت کے خاتمے کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا آزاد ہوئے تو اسی وقت دنوں ممالک کے مابین نگورنو قرہ باخ کا علاقہ متنازع ہوگیا۔ سوویت یونین کے زمانے میں یہ علاقہ آذربائیجان کی انتظامیہ کے تحت ایک خود مختار علاقہ قرار پایا۔ جیسے ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوا، ایک مرتبہ پھر نگورنو قرہ باخ کے مسئلہ نے سر اٹھایا، جو کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ اور پھر امن معاہدے پر منتہی ہوا۔ 2016ء میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خونریز مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور انسانی ہجرت محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ نفوس پر محیط تھی۔
 

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

”کرونا“ اگرچہ ایک عالمگیر وبا و ابتلا کی صورت میں دنیا میں رونما ہوئی ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا کرونا سے پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہوگی۔ اس عالمی وباء کے دوران میں ایسے ایسے معنوی و مادی حقائق سامنے آئے ہیں، جو اس سے پہلے اتنے نمایاں طور پر دنیا کے سامنے نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ کرونا کے دوران میں سرحدیں بے معنی ہوگئیں ہیں، قوموں کی تقسیم مٹ گئی ہے، مذاہب اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق بھی پا در ہوا ہوگئی ہے۔ کرونا نے جرنیلوں، سیاستدانوں، حکمرانوں، علماء، مشائخ، ڈاکٹروں اور عام لوگوں میں سے کسی کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دی۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کرونا کے ہاتھوں بے حال دکھائی دیے ہیں۔ گورے اور کالے، سب کے ساتھ کرونا ایک طرح سے برتاؤ کرتا رہا ہے اور اب بھی بہت سے مقامات پر اس کی حشر سامانیاں دیکھی جاسکتی ہیں اور بعض علاقوں میں اس کے لوٹ آنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔
 

Published in سیاسی

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے

  • امریکی زوال کی نشانیاں اور اعداد و شمار(2)
      گذشتہ سے پیوستہ جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا…
    Written on جمعرات, 22 أكتوبر 2020 15:42 in سیاسی Read more...
  • امریکی زوال کی نشانیاں اور اعداد و شمار(1)
      معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج…
    Written on جمعرات, 15 أكتوبر 2020 08:03 in سیاسی Read more...