Items filtered by date: اتوار, 04 أكتوبر 2020


 
سید اسد عباس

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو قرہ باخ کے تنازعے پر ایک مرتبہ پھر خونریز جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی اپیلیں کر رہی ہے۔ نگورنو قرہ باخ کا تنازعہ نیا نہیں 1918ء میں روسی سلطنت کے خاتمے کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا آزاد ہوئے تو اسی وقت دنوں ممالک کے مابین نگورنو قرہ باخ کا علاقہ متنازع ہوگیا۔ سوویت یونین کے زمانے میں یہ علاقہ آذربائیجان کی انتظامیہ کے تحت ایک خود مختار علاقہ قرار پایا۔ جیسے ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوا، ایک مرتبہ پھر نگورنو قرہ باخ کے مسئلہ نے سر اٹھایا، جو کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ اور پھر امن معاہدے پر منتہی ہوا۔ 2016ء میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خونریز مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور انسانی ہجرت محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ نفوس پر محیط تھی۔
 

Published in سیاسی

تازہ مقالے

تازہ مقالے