سیاسی

سیاسی (120)



 
سید ثاقب اکبر نقوی

سیف الدین سیف نے کہا تھا:
خریدتا  تھا  بھلا  کون  ٹھیکرا  دل  کا
وہ لے گئے ہیں کہ پیالہ بہت ہی سستا ہے

لیکن تیل کی صورت حال عالمی سطح پر بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص اس سے بھی مختلف ہے۔ اس کے لیے ایک مبصر نے یہ مثال دی ہے:



 
سید ثاقب اکبر نقوی

کرونا کے دور میں لگتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے اور شاید بہت کچھ بدل جائے، کیونکہ پیش گوئیاں تو یہ ہو رہی ہیں کہ کرونا کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں اور روابط کے انداز بدل گئے۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ دنوں ایک اسرائیلی صحافی اور کالم نویس ایڈین لیوی کی تقریباً پندرہ منٹ کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ ایڈین لیوی نے یہ تقریر امریکہ میں یہودی لابی AIPAC کے اجلاس میں کی۔ یہ تقریر سننے کے قابل ہے، جسے یوٹیوب پر سرچ کیا جاسکتا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (9 نومبر 2020ء) علامہ اقبال کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ وہ 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں حکیم نور محمد کے ہاں متولد ہوئے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ آج ایک عام مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ کل کو اپنے دور کے نوابغ میں شمار کیا جائے گا۔ علامہ اقبال کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، مصور پاکستان اور دانائے روزگار جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ جس دور میں تشریف لائے، برصغیر انگریز سامراج کی غلامی سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر انگریزوں کا اقتدار ہمہ گیر بھی ہوچکا تھا اور گہرا بھی۔ عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا اور رہا سہا مسلم اقتدار زلزلوں کی زد میں تھا۔ علامہ اقبال کے دیکھتے دیکھتے ترکوں کی عثمانی خلافت زمین بوس ہوگئی۔ انھوں نے اپنی جوانی میں جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کیا۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند پورے عالم کو متاثر کر رہی تھی۔ افکار کہنہ لرزہ براندام تھے۔ سائنس اور کائنات کے مادی تصور کی بنا پر تشکیل پانے والی مغربی تہذیب نئی نسلوں کے ذہنوں کو مسخر کر رہی تھی۔ صدیوں سے رائج تصورات و افکار ایک بڑے چیلنج کے سامنے دفاعی حیثیت سے کھڑے تھے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

علامہ اقبال عالمی سطح کے ایک مفکر کی حیثیت سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس دور کی عالمی حرکیات کو پہچانا، ان کی ماہیت کو سمجھا، سماج پر اس کے اثرات پر گہری نظر ڈالی اور انسانی معاشرہ مستقبل میں کس سمت کو اختیار کرے گا، کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ انھوں نے جہاں مغربی تہذیب کا تجزیہ کیا اور اس کی اٹھان اور تشکل میں سرمایہ داری نظام کی کارفرمائی کا جائزہ لیا، وہاں اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی اشتراکیت کو بھی اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان دونوں اقتصادی اور سماجی نظاموں، نیز ان کے تصور کائنات کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا، جو یقینی طور پر ان کے فہم اسلام سے ماخوذ ہے۔ اس کے لیے ان کی فکر کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

29 دسمبر 2019ء کو امریکی فضائیہ نے شام کی سرحد کے قریب صوبہ الانبار کے ضلع القائم میں عراق کی سرکاری ملیشیاء الحشد الشعبی کے ایک بریگیڈ کتائب حزب اللہ کی چھائونی پر فضائی حملہ کیا،



 
سید اسد عباس

افغانستان میں امریکہ عجیب و غریب کشمکش کا شکار ہے، وہ اپنی تنصیب کردہ حکومت کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاکہ وہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرسکے، تاہم وہ مخالفین کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے سے قاصر ہے،



 
سید ثاقب اکبر نقوی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران میں عالمی ادارہ صحت کے لئے فنڈنگ روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان کئی دنوں سے متوقع تھا۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکہ میں کل (3 نومبر2020ء) کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دو بوڑھے پہلوانوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف ریپبلکن کے نمائندے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو گذشتہ چار سال میں اپنے سارے ہنر دکھا چکے ہیں اور دوسری طرف ڈیموکریٹس کے کہنہ کار امیدوار جوبائیڈن ہیں، جو باراک اوبامہ کے دور میں ان کے نائب رہ چکے ہیں اور افغان امور سے گہری شناسائی رکھتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں کی داخلہ پالیسیوں میں کچھ نہ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن بین الاقوامی سیاست کے اہم مسائل پر ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ان انتخابات پر ہمارا میڈیا دیوانہ ہوا جاتا ہے۔



 
سید اسد عباس

معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج و زوال کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر مادی کے ساتھ ساتھ معنوی اور سماجی ترقی اور تنزلی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو عروج و زوال کے معنی بدل جائیں گے۔ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ امریکہ میں بہت سے ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے اور موجودہ دہائی میں اس زوال میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

تازہ مقالے