مذهبی

مذهبی (11)



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں جس طرح کے فتنے مذہب کے نام پر رونما ہو رہے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان لگاتار اپنے اولیاء، نمائندگان اور دوستوں کو وحی کر رہے ہیں۔ قرآن حکیم اس بات کی پہلے ہی خبر دے چکا ہے کہ شیطان اپنے اولیاء کو وحی کرتے ہیں۔ سورہ انعام کی آیت 112 میں ہے:



 
سید ثاقب اکبر نقوی

یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ افراد یا گروہ نئے سرے سے فرقہ واریت کو پھیلانے میں سرگرم ہوگئے ہیں یا فرقہ واریت کے سلیپر سیلز پھر سے متحرک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ تمام افراد جنھوں نے پاکستان میں فرقہ واریت کے خلاف سالہا سال جدوجہد کی ہے، انھیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی طاقتوں کو نئے سرے سے مجتمع کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ فرقہ واریت کی نئی لہر کا مقابلہ کیا جاسکے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ایک تو بے ادبی اتنی بڑی بارگاہ میں اور دوسرا اس پر اصرار۔ افسوس صد افسوس بات اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم اس موضوع پر کلام نہ کرتے۔حضرت فاطمۃ الزہراؑ کے مقام اور مرتبے پر مسلسل گفتگو ہو رہی ہے اور بے ادبی کرنے والے جسور کی خبر لینے والے خبر لے رہے ہیں۔ ہم چند گذارشات خصوصی توجہ کے لیے پیش کرتے ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

یہ سوال نیا نہیں

            یہ سوال اب کوئی نیا نہیں رہا کہ مذہب ایک مشکل ہے یا مشکل کا حل۔ اشتراکی فکر کا آغاز اسی نظریے سے ہوا کہ مذہب انسانی ترقی میں حائل ہے۔ مذہب ایک افیون ہے، مذہب کو ترک کیے بغیر تنزل یافتہ معاشرہ ارتقا پذیر نہیں ہوسکتا۔ اشتراکیت نے مذہب کے خلاف بڑی جنگ لڑی، یہاں تک کہ آدھی دنیا کو فکری طور پر ہی نہیں عملی طورپربھی تسخیر کر لیا۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

جب دین کو ایک انسانی تہذیب کے طور پر نہ دیکھا جائے تو پھر مذہبی کتابوں میں موجود عبارات میں سے انفرادی طور پر احکام و مسائل کے استنباط اور استخراج کا طریقہ رواج پا جاتا ہے۔ ہر شخص مختلف عبارتوں سے اپنے ذوق اور انداز فکر کے مطابق مفاہیم اخذ کرتا ہے۔ اپنی پسندیدہ شخصیات یا جن کی عظمت کا تصور ذہن پر چھایا ہوتا ہے۔۔۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

اجتماعی اجتہاد کا موضوع ایک عرصے سے فقہی اور علمی مجالس کا عنوان بنا ہوا ہے؛ البتہ عملی لحاظ سے اس پر پیشرفت کم ہی دکھائی دیتی ہے اور زیادہ تر مسائل میں انفرادی فقہی آراء کی طرف عوام کو رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ بیشتر ریاستی قوانین ایسے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کا علما و فقہا کی طرف رجوع کم ہو گیا ہے تاہم بعض مسائل ایسے ہیں جن میں ابھی تک مفتیانِ کرام اور فقہا عظام کی طرف ہی مراجعت کی جاتی ہے۔ اجتماعی اجتہاد کی ضرورت کئی پہلوو ¿ں سے بیان کی جا سکتی ہے۔۔۔




 

گذشتہ تحریر میں یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے برپا ہونے والی تحریکوں کے پیچھے جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان ہوتے ہیں، جو معاشرے کے بنیادی اور عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں، رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں اور ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر لاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی سوچ کا منبع ان کا تعلیمی نظام ہے، جس سے وہ نکل کر آرہے ہوتے ہیں، وہی نظام ان کے مابین نقطہ اشتراک بن جاتا ہے۔ جمہوریت، سیکولر نظام، قانون کی حکمرانی، کرپشن کا خاتمہ، عوامی مسائل پر اظہار نظر وہ چیزیں ہیں جو ان نوجوانوں اور عوام کو ایک سوچ اور محور پر لاتی ہیں۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک خاص طرز فکر کے حامل افراد کی ایک تحریک جنم لے لیتی ہے۔۔۔




جماعت اہل حرم پاکستان کے زیراہتمام جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں ایک کانفرنس ‘‘ رسول رحمت، مظہر اتحاد امت’’ کے عنوان سے منعقد ہوئی جس کی صدارت جماعت کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کی۔ اس میں دیگر علماءاور دانشوروں کے علاوہ البصیرہ کے سربراہ سید ثاقب اکبر نے بھی خطاب کیا۔ ان کی گفتگو کو شعبہ تحقیق کی ریسرچ فیلو محترمہ عابدہ عباس نے سن کر قارئین کے لیے قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ اسے ہم قارئین پیام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔ (ادارہ)




تعارف:امیر المومنین علیہ السلام نے رسالت ماب ؐ کی صفات اور خصائل کو متعدد خطبات میں بیان کیا ہے جسے طوالت اور وقت کی کمی کے باعث مکمل طور پر درج نہیں کر پایا تاہم اس موضوع پر محققین اور صاحبان علم کے لیے دعوت ہے کہ وہ اس میدان میں قلم اٹھائیں اور نفس رسول ؐ جس طرح ختمی مرتبت کو دیکھتے تھے ، جیسے انھوں نے ان کے پیغام کو اخذ کیا معلوم کریں تاکہ معرفت امیر المومنین کی روشنی میں ہم بھی اپنے قلوب کو عشق پیغمبر سے منور کر سکیں ۔مولاعلی علیہ السلام کے کلام سے ایک بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ ؑ رسالت ماب کے مشن ، ان کی شخصیت ، ان کی رسالت ، ان کے مقام سے بہت گہرائی سے آگاہ تھے۔۔۔




سید اسد عباس

دنیا میں پہلا شخص جس نے کسی دوسرے شہر سے قبر امام حسین علیہ السلام کی جانب سفر کیا، صحابی رسول ص حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں، آپ چہلم سید الشہداء کے موقع پر مدینہ سے سفر کرکے کربلا تشریف لائے اور چند روز اس مقام پر قیام کیا، دوسرا قافلہ جو اس قبر کی زیارت کے لیے کربلا میں اترا اسیران کوفہ و شام کا قافلہ ہے، جو رہائی کے بعد مدینہ جاتے ہوئے کربلا میں چند روز مقیم رہے۔ توابین بھی کوفہ سے کربلا آئے اور نہر فرات پر انھوں نے غسل شہادت کے بعد اپنی تحریک کا آغاز کیا، جس کا نعرہ یا لثارات الحسینؑ تھا۔ زیارت امام حسین علیہ السلام کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے ۔۔۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے

  • یہ ٹرمپ کی خلافت کا دور ہے
      اے گرفتار ابو بکر و علی ہشیار باش ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ دونوں گروہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کسی کے مقام و مرتبہ کو…
    Written on جمعرات, 24 ستمبر 2020 22:41 in سیاسی Read more...
  • ایف اے ٹی ایف اور مسلکی بے چینی (3)
      گذشتہ سے پیوستہ نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو…
    Written on بدھ, 23 ستمبر 2020 14:24 in سیاسی Read more...