سید اسد عباس

یہ نشان آئی آف پراویڈینس ہے۔ مسیحی عبادت گاہوں، فری میسنز اور الومیناٹی کی یادگار عمارتوں پر یہ نشان دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک ڈالر کے نوٹ کی پچھلی طرف بھی یہی علامت موجود ہے اور تو اور یہ امریکہ کی سیل پر بھی کندہ ہے۔ یہ سیل امریکہ کی اہم دستاویزات، پاسپورٹ، جھنڈوں، امریکی صدر کی سیل پر بھی موجود ہوتا ہے۔ آنکھ کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ قدیم تہذیبوں میں موجود رہا ہے، ان میں ہندو تہذیب میں تیسری آنکھ والی مورتیاں، مصری تہذیب میں ہورس کی آنکھ، رے کی آنکھ شامل ہیں۔ ہورس کی آنکھ تحفظ، شاہی طاقت اور اچھی صحت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ چند ماہ سے بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے اور روابط کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس عنوان سے ان عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی واقعہ ہوگی اور وہ اسرائیل سے بہتر طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بات کرسکیں گے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے روابط اس شرط پر بحال ہوئے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ارادے کو ترک کر دے گا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ارادے کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ آپشن ہماری میز پر موجود ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

2 جنوری کو بغداد سے القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے کمانڈر مہندس ابو مہدی کی امریکہ کے ہاتھوں شہادت کی بہت بڑی خبر کے بعد سال کے آخر میں ان دنوں پھر بڑی بڑی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بڑی خبروں کا اصل سرچشمہ وائٹ ہائوس میں بیٹھے ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اصولی طور پر 21 جنوری 2021ء کو وائٹ ہائوس کو ترک کرنا ہے لیکن وہ مسلسل ایسی تدابیر پرغور کر رہے ہیں یا ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن سے انھیں کچھ عرصہ مزید اقتدار رہنے کا موقع مل جائے۔ تاہم انھیں جتنے دن بھی ملیں گے، وہ اپنے عالمی سطح کے طاغوتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے اقدام کرتے رہیں گے۔



 
سید اسد عباس

شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی و فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ درس و تدریس کے علاوہ لاہور کی مسجد میں خطیب تھے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی منظر عام پر آئے۔ اس رویئے اور بعد کے اقدامات کے سبب وہ ایک عالم دین سے زیادہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرمت رسول (ص) کے لیے قربانی دینے والے شجاع بزرگ اور قائد کے طور پر سامنے آئے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

مولانا خادم حسین رضوی خادم نہیں مخدوم ہیں۔ وہ جب بھی لائو لشکر کے ساتھ تشریف لائے، حکومت نے ان کے چائو چونچلے اور ناز نخرے برداشت کیے۔ ان کی گالیاں گھی کی نالیاں قرار پائیں۔ ان کے کوسنے لوریاں بن گئے۔ بندوق والے بے چارے لشکر مخدوم کی واپسی کا کرایہ دینے کے ’’جرم‘‘ میں جناب قاضی فائز عیسیٰ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ ان کا عتاب ہے کہ کم ہونے کو نہیں آتا اور مخدوم ملت کا غصہ ہے کہ ایک بات پر کم ہوتا ہے تو دوسری طرف چڑھ آتا ہے۔ گویا فوارے کا پانی ہے آرام سے اترتا ہے تو نئے جوش سے چڑھتا ہے۔ مخدوم رضوی جو ان کے ماننے والوں کی نظر میں پیر طریقت بھی ہیں اور رہبر شریعت بھی، ان کی ہر ناسزا بھی سر جھکا کر سن لی جاتی ہے۔



 
سید اسد عباس

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار یکم نومبر کو گلگت بلتستان کی آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جی بی کو عبوری صوبائی حیثیت اور آئینی حقوق دینے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان کا واضح لفظوں میں کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس فیصلے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کیا واقعی مسئلہ کشمیر کے حل میں یہ اقدام موثر ہوگا؟ پاکستان کے پاس اس اقدام کے علاوہ کیا آپشن ہے۔؟ تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن 1948ء میں مقامی لوگوں کی مدد سے یہ پاکستان کے زیر کنٹرول آگیا۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

علامہ اقبال عالمی سطح کے ایک مفکر کی حیثیت سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس دور کی عالمی حرکیات کو پہچانا، ان کی ماہیت کو سمجھا، سماج پر اس کے اثرات پر گہری نظر ڈالی اور انسانی معاشرہ مستقبل میں کس سمت کو اختیار کرے گا، کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ انھوں نے جہاں مغربی تہذیب کا تجزیہ کیا اور اس کی اٹھان اور تشکل میں سرمایہ داری نظام کی کارفرمائی کا جائزہ لیا، وہاں اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی اشتراکیت کو بھی اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان دونوں اقتصادی اور سماجی نظاموں، نیز ان کے تصور کائنات کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا، جو یقینی طور پر ان کے فہم اسلام سے ماخوذ ہے۔ اس کے لیے ان کی فکر کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (9 نومبر 2020ء) علامہ اقبال کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ وہ 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں حکیم نور محمد کے ہاں متولد ہوئے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ آج ایک عام مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ کل کو اپنے دور کے نوابغ میں شمار کیا جائے گا۔ علامہ اقبال کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، مصور پاکستان اور دانائے روزگار جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ جس دور میں تشریف لائے، برصغیر انگریز سامراج کی غلامی سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر انگریزوں کا اقتدار ہمہ گیر بھی ہوچکا تھا اور گہرا بھی۔ عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا اور رہا سہا مسلم اقتدار زلزلوں کی زد میں تھا۔ علامہ اقبال کے دیکھتے دیکھتے ترکوں کی عثمانی خلافت زمین بوس ہوگئی۔ انھوں نے اپنی جوانی میں جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کیا۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند پورے عالم کو متاثر کر رہی تھی۔ افکار کہنہ لرزہ براندام تھے۔ سائنس اور کائنات کے مادی تصور کی بنا پر تشکیل پانے والی مغربی تہذیب نئی نسلوں کے ذہنوں کو مسخر کر رہی تھی۔ صدیوں سے رائج تصورات و افکار ایک بڑے چیلنج کے سامنے دفاعی حیثیت سے کھڑے تھے۔



 
سید اسد عباس

امریکہ کے حالیہ انتخابات متنازعہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی روکنے کیلئے درخواستیں دائر ہوچکی ہیں۔ مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔ امریکی آر ٹی ایس سسٹم جو کرونا کے سبب ڈاک ووٹ پر مشتمل تھا، فلاپ ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں بائیڈن آتا ہے یا ٹرمپ دونوں اس صورتحال میں نہیں ہونگے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں سے تجاوز کرسکیں اور اپنی من مانیاں کرتے پھریں۔ میں تو کہوں گا کہ بائیڈن اور ٹرمپ دونوں یہ انتخاب ہار چکے ہیں اور امریکی اسٹیبلشمنت جسکا بڑا حصہ صہیونیوں پر مشتمل ہے کامیاب ہوچکی ہے



 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکہ میں کل (3 نومبر2020ء) کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دو بوڑھے پہلوانوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف ریپبلکن کے نمائندے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو گذشتہ چار سال میں اپنے سارے ہنر دکھا چکے ہیں اور دوسری طرف ڈیموکریٹس کے کہنہ کار امیدوار جوبائیڈن ہیں، جو باراک اوبامہ کے دور میں ان کے نائب رہ چکے ہیں اور افغان امور سے گہری شناسائی رکھتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں کی داخلہ پالیسیوں میں کچھ نہ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن بین الاقوامی سیاست کے اہم مسائل پر ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ان انتخابات پر ہمارا میڈیا دیوانہ ہوا جاتا ہے۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

تازہ مقالے