سید اسد عباس

بی بی سی اردو برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سائٹ ہے، جو برطانوی حکومت کے زیر اثر ہے اور انہی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتی ہے۔ میں کافی عرصے سے بی بی سی اردو کا قاری ہوں اور ان کی خبروں، تجزیات کو بغور دیکھتا ہوں۔ بی بی سی اردو میں لکھنے والے اگرچہ سب پاکستانی ہیں، تاہم ایڈیٹر برطانوی نشریاتی ادارے کی پالیسی کے مطابق ہی خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ اپنے مطالعہ کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ بی بی سی مسلمانوں کے مابین اختلاف کے حوالے سے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی رپورٹیں جہاں دلچسپ ہوتی ہیں، وہیں ان کے اندر ایسا مواد موجود ہوتا ہے، جو اردو دان طبقہ کے مابین کسی نئی بحث کا آغاز کر دے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔



تحریر: سید اسد عباس
آج اگر انسانیت کے زوال کا اندازہ کرنا ہو تو ایک نظر دنیا پر حکمران طبقے پر کر لیں۔ دنیا کے اکثر حکمران کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسے الزامات کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں جن کے ثبوت سامنے لائے جا چکے ہیں یا جن کے حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان جرائم کے علاوہ ان حکمرانوں میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کے بارے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاسی دنیا میں جھوٹ، بدعہدی، نفاق کو مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو جس قدر جھوٹا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ساری دنیا میں حکمران ایسے ہی ہیں، دنیا کے بعض ممالک میں ایسے حکمران بھی موجود ہیں، جن کی ایمانداری کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسے حکمرانوں کا برسر اقتدار آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی بھی ایک دلیل ہے۔ جب معاشرے کی ایک اکثریت کی نظر میں اخلاقی اقدار اپنا مقام کھو دیں تو پھر ان کے قومی نمائندے اور حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے۔ جب حاکم کرپٹ ہو تو پھر پورا ریاستی نظام کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے، جو معاشرے کو فساد کی جانب لے جاتا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

متحدہ عرب امارات کی طرف سے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا منصوبہ آشکار ہوا تو عالم اسلام میں ایک ردعمل پیدا ہوا۔ امارات کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ ترکی نے بھی اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ اس کے بعد محرم الحرام آگیا اور حسب معمول امام حسینؑ اور ان کے اعوان و انصار کی یاد میں مجالس اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران میں صہیونی اور استعماری قوتوں نے اپنا کھیل جاری رکھا۔ سعودی عرب سے پرواز کرکے اسرائیل کا پہلا طیارہ امارات میں اترا۔ اس سے پہلے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سربراہ نے بھی امارات کا دورہ کیا اور اب اس امر کی تیاری ہو رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید امریکی صدر ٹرمپ کی خدمت میں پہنچیں اور مل کر اس دستاویز پر دستخط کریں، جس کے نتیجے میں امارات باقاعدہ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان ایک آزاد خود مختار اسلامی ریاست ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں معرض وجود میں آئی۔ اس کے قیام کا ایک بنیادی مقصد اسلامی نظریہ حیات کے مطابق ایک جدید فلاحی ریاست قائم کرنا تھا تاکہ تمام عالم اسلام کے لیے اسے نمونہ اور مثال بنایا جاسکے۔ اس کی روح میں اسلامی اتحاد اور عالم اسلام کے وقارو استقلال کی بحالی کا جذبہ کارفرما تھا۔یہی وجہ ہے کہ اول روز سے ہی پاکستان کا موقف دشمنان اسلام کی شرانگیزیوں کے مقابلے میں عالم اسلام کے اتحاد پر مبنی رہا۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

14 اگست کو جبکہ پاکستان کے عوام یوم آزادی منا رہے تھے، متحدہ عرب امارات نے فلسطینی مسلمانوں پر قید کی زنجیریں مزید کسنے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر فلسطین سے لے کر پورے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان میں سب سے پہلا آفیشل ردعمل جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کی طرف سے آیا، جنھوں نے منصورہ لاہور میں خطبہ جمعہ کے دوران میں کہا: ”ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔



 
سید اسد عباس

1902ء میں عبد العزیز نے ریاض کے گورنر کو ایک چھاپہ مار کارروائی میں قتل کرکے ریاض پر قبضہ کر لیا اور امیر نجد و امام تحریک اسلامی کا خطاب اختیار کیا۔ یہ وہ دور ہے، جب برطانیہ ترکوں کے خلاف رزم آراء تھا، ترک برطانوی حملوں کے سبب اپنے اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ نہ دے سکتے تھے۔ 1915ء میں آل سعود کے تیسرے دور حکومت کے موسس شاہ عبد العزیز نے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ درین کیا، جو کہ تاروت جزیرے کے علاقے درین میں ہوا۔ اس معاہدے پر ملکہ تاج کی جانب سے سر پرسی کاکس نے دستخط کیے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات کا پاکستان کو فائدہ زیادہ ہے یا نقصان زیادہ۔ یہ بحث سعودی عرب کے مختلف مطالبات کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کے روابط نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور کشمیر کے بارے میں اس کی سرد مہری نے خاموش لبوں کو بھی حرکت دے دی ہے۔ گذشتہ دنوں پاکستان کے سینیئر سفارتکار شمشار احمد نے DW کو انٹرویو دیتے ہو کہا کہ ”سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ وہ مسلم امہ کا رہنما ہے، لیکن اس نے مسلم امہ کے لیے اب تک کیا کیا ہے۔؟ سوڈان اور انڈونیشیا کو توڑ دیا گیا۔ کشمیر میں لاکھوں افراد کو ایک بڑے زندان میں بند کیا ہوا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تجزیہ کار کئی روز سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کے بارے میں بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بہت بڑی شفٹ اور تبدیلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بعض سادہ اندیشوں کی رائے میں یہ بیان صرف سعودی عرب کو کشمیر کے موضوع پر او آئی سی کے تحت وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کے لیے دباﺅ کی خاطر دیا گیا ہے۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
گذشتہ قسط میں ہم نے کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے گذشتہ ایک سال میں کیے گئے چند اقدامات کا تذکرہ کیا، درج ذیل تحریر انہی اقدامات کے بیان کا تسلسل ہے۔ معروف کشمیری صحافی پیرزادہ مدثر شفیع جیلانی کے مطابق قابض حکام نے حال ہی میں مقبوضہ علاقے میں ایک نئی تعمیراتی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت کسی بھی علاقے کو ”اسٹریٹجک" نوعیت کا علاقہ قرار دیا جاسکتا ہے، جہاں بھارتی فوج بلا رکاوٹ تعمیرات کرنے کے علاوہ دیگر سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے اور اس کے لیے اسے انتظامیہ سے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« September 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30        

تازہ مقالے