بدھ, 18 نومبر 2020 19:29


 
سید ثاقب اکبر نقوی

مولانا خادم حسین رضوی خادم نہیں مخدوم ہیں۔ وہ جب بھی لائو لشکر کے ساتھ تشریف لائے، حکومت نے ان کے چائو چونچلے اور ناز نخرے برداشت کیے۔ ان کی گالیاں گھی کی نالیاں قرار پائیں۔ ان کے کوسنے لوریاں بن گئے۔ بندوق والے بے چارے لشکر مخدوم کی واپسی کا کرایہ دینے کے ’’جرم‘‘ میں جناب قاضی فائز عیسیٰ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ ان کا عتاب ہے کہ کم ہونے کو نہیں آتا اور مخدوم ملت کا غصہ ہے کہ ایک بات پر کم ہوتا ہے تو دوسری طرف چڑھ آتا ہے۔ گویا فوارے کا پانی ہے آرام سے اترتا ہے تو نئے جوش سے چڑھتا ہے۔ مخدوم رضوی جو ان کے ماننے والوں کی نظر میں پیر طریقت بھی ہیں اور رہبر شریعت بھی، ان کی ہر ناسزا بھی سر جھکا کر سن لی جاتی ہے۔


’’رضوی‘‘ انھیں امام رضا علیہ السلام کی مناسبت سے نہیں بلکہ مکتب بریلویہ کے امام مولانا احمد رضا خان بریلوی سے نسبت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اگرچہ سادہ اندیش مسلمان گاہے اس عنوان کی وجہ سے انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کریم امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام سے نسبی نسبت کا حامل سمجھنے لگتے ہیں۔ تاہم اس مسئلے کو یہیں پر رہنے دیتے ہیں۔

مخدومِ پاکستان نے ملک میں موجود ان سب لوگوں کو حوصلہ دیا ہے، جو دس ہزار کا لٹھ بردار جتھہ اسلام آباد میں اکٹھا کرسکتے ہیں کہ وہ جب بھی ایسا کریں گے، ہر وہ مطالبہ جو وہ لے کر آئیں گے، آخرکار اس کے سامنے لشکری، عسکری، شہری، سماجی سب قوتیں سر جھکا دیں گی اور دستاویز پر ہاتھوں سے ہی نہیں پائوں سے بھی انگوٹھے لگا دیں گی۔ آپ لاکھ کہیں کہ یہ اچھی مثال نہیں ہے، لیکن یہ بری ہوتی تو ایک دفعہ ہوتی، دو دفعہ ہوتی، بار بار اس مثال کا دہرایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ مثال قائم کرنے والے اسے اچھا سمجھ کر ہی دہرائے چلے جا رہے ہیں، ورنہ مومن تو ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا، کوئی اور ہی ہوگا جو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسا جاتا ہے، بلکہ بڑی فاتحانہ شان سے ڈسا جاتا ہے اور دستخط کرنے کے بعد حکمران عوام کے سامنے اسی فاتحانہ شان سے نمودار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھیں ہم نے کیسے حکمت عملی سے مسئلے کو حل کر لیا۔

مولانا خادم حسین رضوی اس مرتبہ جو موضوع لے کر نمودار ہوئے، اس کے بارے میں پاکستان کے تمام مذہبی حلقے ہی نہیں حکومت بھی اپنی تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔ وزیراعظم نے باقاعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین پر مبنی کارٹونوں کی مذمت کی اور فرانس کے صدر اور حکومت نے اس سلسلے میں جو رویہ اختیار کیا، اسے بھی ہدف تنقید بنایا۔ صدر مملکت نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے مسلمان ممالک کے تمام سربراہوں کو باقاعدہ خطوط لکھے کہ وہ اسلامو فوبیا نیز نبی کریمؐ کی توہین کے روح فرسا واقعات کے خلاف ایک مشترکہ موقف اختیار کریں۔ انھوں نے نبی کریمؐ سے مسلمانوں کی والہانہ محبت اور توہین آمیز واقعات کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ہفتہ عشق رسولؐ منانے کا بھی اہتمام کیا۔ اس سلسلے میں حکومت کے دیگر ذمہ داروں نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا اور مختلف مواقع پر قومی سطح کے پروگراموں میں فرانس کی طرف سے اختیار کیے گئے طرز عمل کی مذمت کی۔ علاوہ ازیں فرانس کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے ان کی حکومت کے طرز عمل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

پارلیمنٹ میں بھی نبی پاکؐ کی شان میں گستاخی کے واقعات کی اتفاق رائے سے مذمت کی گئی اور حکومت فرانس کے طرز عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت کو اسی پر اکتفاء کرنا چاہیئے بلکہ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے کسی مثبت نتیجے تک پہنچانا چاہیئے۔ اس بارے میں حکومت کو مذہبی اور سیاسی راہنمائوں اور جماعتوں کی طرف سے تجاویز پیش کی جانا چاہئیں۔ جہاں تک مولانا خادم حسین رضوی کا تعلق ہے، ان کا ماضی بھی جلائو گھیرائو، مار دھاڑ، دنگا فساد، گالی گلوچ اور ہٹ دھرمی سے عبارت ہے۔ اس لیے ان کی مثبت باتوں کے اندر بھی انتہاء پسندی، شدت پسندی بلکہ فساد انگیزی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں دیگر مذہبی جماعتیں بھی مظاہرے، دھرنے اور اجتماعات کرتی ہیں، لیکن بالعموم ان کے ہاں یہ طرز عمل نہیں پایا جاتا۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا بہت بڑا اور طویل دھرنا رہا لیکن آپ کو کہیں بھی توڑ پھوڑ اور فساد دکھائی نہیں دے گا۔ جماعت اسلامی ملک بھر میں ریلیاں منعقد کرتی ہے لیکن ایک گملہ نہیں ٹوٹتا۔

اس لیے ہماری رائے میں وہ مذہبی راہنماء جو مولانا خادم حسین رضوی کے بارے میں یا ان کے مظاہروں کے ’’حق‘‘ کے لیے مثبت رائے کا اظہار کرتے ہیں، انھیں اس امر کا جائزہ لینا چاہیئے، ان کی تائید یا ہلہ شیری سے مذہب کے عنوان پر تشدد آمیز رویے کو تقویت تو نہیں ملے گی۔ ایسی ویڈیوز اور کلپس پاکستان کا بچہ بچہ دیکھ چکا ہے، جن میں حکمرانوں کا مخدوم مختلف مذہبی مکاتب فکر کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے۔ مولانا خادم حسین رضوی نے ایک امن پسند اور صلح جو مکتب فکر کے تصور کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ وہ فتوے کی زبان سے بڑھ کر مغلظات کی زبان تک آپہنچے ہیں۔ حد یہ ہے کہ وہ اپنی مغلظات اور ہذیان سرائی کو جائز ثابت کرنے کے لیے مقدس متون اور قابل احترام ہستیوں کا نام لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ مولانا کے ذہن کی ساخت ایک متشدد تکفیری سے ہم آہنگ ہے۔

ہمیں یہ دیکھ کر تشویش ہوتی ہے کہ بہت سے مذہبی راہنماء مولانا خادم حسین رضوی کی حمایت کرنے لگتے ہیں، اس دلیل پر کہ وہ جس موضوع کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں، مسلمانوں کے لیے وہ بہت حساس ہوتا ہے۔ شاید یہ راہنماء سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے مولانا خادم حسین رضوی کی مخالفت کی یا ان کی حمایت نہ کی تو ان کے اپنے پیروکار ان سے دور ہو جائیں گے، یہ ایک خطرناک مرحلہ ہے۔ موضوعات کو الگ اور طرز عمل کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ختم نبوت کا مسئلہ ہو یا آنحضرتؐ کی عزت و تکریم کا، ہماری جانیں آنحضرتؐ پر فدا ہیں لیکن آنحضرتؐ کی تعلیمات کو سامنے رکھ کر ہی تمام امور میں طرز عمل اختیار کیا جانا چاہیئے۔ دنیا میں ریاستوں، قوموں اور تہذیبوں کی ساختار کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا چاہئیں۔

مغرب کے حکمرانوں، وہاں کے انتہاء پسند اور متشدد گروہوں، اسلامو فوبیا کے پیچھے چھپے ہوئے عناصر اور مقاصد کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور مغرب کے سادہ دل عوام کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ سازشوں کا توڑ کرنا ہے اور عوام تک رحمت للعالمینؐ کا پیغام صحیح انداز سے پہنچانا ہے۔ کسی بھی واقعہ پر اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کو دانش مندی کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی رحمت للعالمینؐ سے محبت کا اظہار۔ اس سلسلے میں ماضی میں یا حالیہ دنوں میں جن لوگوں کانقصان ہوا ہے، ان کی تلافی بھی ضروری ہے۔ شدت پسندوں کی ناز برداری سے یقینی طور پر اچھے نتائج مرتب نہیں ہوں گے۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ متعلقہ اداروں، جماعتوں اور راہنمائوں کو سر جوڑ کر اس کا جائزہ لینا چاہیے اور پاکستانی سماج کو نئی انتہاء پسندی کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کرنا چاہیے۔





بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 94 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« November 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30            

تازہ مقالے