جمعرات, 22 أكتوبر 2020 15:42


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔


گو کہ ابھی تک امریکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہے اور چینی معیشت سے اس کا حجم بڑا ہے، لیکن چین بڑی تیزی سے ٓاگے بڑھ رہا ہے اور عالمی معیشت میں اسکا حصہ بھی دن بدن بڑھ رہا ہے۔ چینی کمپنیاں اور سرمایہ کار بڑی مقدار میں پوری دنیا میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور چین کا نیٹ ورک یورپ، افریقہ، وسطی ایشائی ریاستوں اور ایشیاء میں بڑی سرعت سے آگے بڑھ رہا ہے۔

کرونا جیسی صورتحال میں بھی چین نے اپنی ترقی کا سفر کم نہیں کیا، چین میں قائم بڑے برانڈز کی وہ کمپنیاں جو اپنی مصنوعات چین میں تیار کرکے اپنے نام کے ساتھ بیچ رہی تھیں، اپنے حصص چینی سرمایہ کاروں کو بیچنے پر مجبور ہوگئیں۔ معاشی میدان میں مقابلے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو روز بروز بڑھتے ہوئے قرضوں نے بھی گھیر رکھا ہے۔ مبصرین کے مطابق سال 2016ء کے اختتام پر امریکہ پر کل اندرونی اور بیرونی قرضے 22.4 ٹریلین ڈالر تھے۔ امریکہ پر بیرونی قرضوں کا بوجھ 4.046 ٹریلین ڈالر ہے، جس میں سے 1.243 ٹریلین ڈالر کا قرضہ چین سے لیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ بجٹ خسارہ بھی ہر سال بڑھ رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی معیشت بہت بڑی ہے لیکن جب ملکی معیشت اس کے اخراجات کو پورا کرنے سے قاصر ہو تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معیشت کی صحت ٹھیک نہیں اور اس میں ملکی اخراجات کو پورا کرنے کی سکت کم ہو رہی ہے۔ اس پر امریکی معیشت پر دفاعی اخراجات کا بوجھ مستزاد ہے، جو کہ ایک لایعنی خرچ ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قیام کا سہرا امریکہ کے سر جاتا ہے اور امریکہ اس کا سب سے بڑا ڈونر ہے، اسی لئے یہ ادارے امریکی اشاروں پر چلتے ہیں۔ چین نے ان اداروں کے مقابلے میں Asian infrastructure Investment Bank کے قیام کی بنیاد رکھی، جس کا ہیڈ کوارٹر بیجنگ چین میں ہے۔ امریکہ اور جاپان اس کی ممبر شپ اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، لیکن امریکہ کے قریبی ساتھیوں میں برطانیہ اور آسڑیلیا نے امریکہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس بینک میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس بینک کے قیام سے آنے والے چند سالوں میں عالمی مالیاتی نظام کا کنٹرول بتدریج مغرب بالخصوص امریکی اثر سے نکل کر مشرقی اقوام، جن میں چین سرCategory ہے، کے ہاتھ میں آجائے گا۔ امریکا کے ممتاز مورخ پال کینیڈی نے اپنی تصنیف ’’بڑی طاقتوں کا عروج و زوال‘‘ میں واضح لکھا ہے کہ سلطنت عثمانیہ، سلطنت برطانیہ اور سوویت یونین کی طرح امریکا بھی زوال پذیر ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکا نے خود کو اتنا پھیلا لیا ہے کہ وہ اپنے پھیلاؤ کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ امریکی پروفیسر ڈاکٹر جیفری ڈی سیکس کا کہنا ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ کثیر قطبی ہوگئی ہے۔ ایک طرف چین بڑی طاقت بن کر اُبھر چکا ہے تو دوسری جانب روس اپنے ماضی کی عظمت رفتہ کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اسی طرح بھارت اور برازیل بڑی معاشی طاقتیں بن کر ابھر رہے ہیں۔

امریکہ عروج کی دوسری بنیاد اس کی ثقافتی برتری گردانی جاتی ہے۔ امریکی قائدین عالمی اقدار، جمہوریت، لبرلزم، سیکولرزم، انسانی حقوق، نسلی برابری اور اسی قسم کے راگ الاپتے نہیں تھکتے، وہ اپنی ترقی کو انہی اقدار کا مرہون منت قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ہی ملک میں وہ ان اقدار کا منہ چڑا رہے ہیں۔ نسلی امتیاز کی مثالیں آج امریکی سڑکوں پر دیکھی جاسکتی ہیں، نسلی تعصب کی بنیاد پر سیاہ فام شہریوں کا قتل اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پوری مغربی دنیا بالخصوص امریکا نے کبھی مشترک اقدار کے تصور کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ مغربی اقوام بالخصوص امریکا کہتا ہے کہ مغربی جمہوریت پوری دنیا کی مشترک قدر ہے، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک مسلم دنیا میں جمہوریت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر جمہوری طریقے سے کوئی سیکولر یا لبرل شخصیت یا جماعت اقتدار میں آجاتی ہے تو مغربی دنیا اس پر بھنگڑا ڈالتی ہے، لیکن اگر انتخابات میں کوئی اسلامی تحریک کامیاب ہو جائے تو مغربی دنیا بالخصوص امریکا اس تحریک کی کامیابی کو قبول ہی نہیں کرتا۔

الجزائر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں اسلامی فرنٹ نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تو مغرب نے فوج کشی کرا دی اور انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ترکی میں نجم الدین اربکان کی حکومت کو ایک سال میں گرا دیا گیا۔ مصر میں صدر مرسی کو ایک سال میں اقتدار سے باہر کر دیا گیا۔ عرب دنیا جہاں بادشاہتیں قائم ہیں، وہاں امریکہ اور اس کے حواری نہ تو اس عالمی قدر کے پرچارک ہیں، نہ ہی ان ممالک سے قطع تعلق کرتے ہیں بلکہ عرب عوام کو کنڑول رکھنے کے لیے وہ بادشاہتوں اور ڈکٹیٹروں کے پشتی بان ہیں۔ مسلم دنیا میں ایک عیسائی پر آنچ آجائے تو انسانی حقوق پامال ہو جاتے ہیں اور اس ملک کو اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن اسرائیل اور بھارت میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، لیکن مغربی دنیا کے رہنما اس پر احتجاج کا حق تک ادا نہیں کرتے۔ خود امریکا کا حال یہ ہے کہ ابو غریب جیل اور گوانتاناموبے امریکی ایجاد ہیں۔

کچھ امریکی داشور ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کو خطرناک قوت قرار دے رہے ہیں، لیکن وہ شاید بھول گئے ریڈ انڈینز کو قتل کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ نہیں تھا۔ کوریا کی جنگ میں 30 لاکھ افراد کو ڈونلڈ ٹرمپ نے نہیں مارا تھا۔ ویت نام میں 15 لاکھ لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں لقمہ اجل نہ بنے تھے۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بم کا استعمال ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں نہیں ہوا تھا۔ ایسے ہی افغانستان، عراق میں لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کا ذمہ دار ٹرمپ نہیں بلکہ امریکی حکمران اور ادارے ہیں۔ اب تک امریکی اقدار، ثقافتی برتری اور حق پرستی کا نقاب فلسطین کے مقابل تو بالکل ہی غائب ہوچکا ہے۔ عالمی معاہدے، اقوام متحدہ کی قراردادیں سب ایک دوسرے کا منہ چڑا رہی ہیں اور امریکہ دو ریاستی کے بجائے یک ریاستی یعنی اسرائیلی اقتدار کا حل پیش کر رہا ہے۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ نہ فقط امریکہ بلکہ اس کے حواری بھی ایک ایک کرکے بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں۔

وہ لوگ جو برسوں تک عرب بن کر عربوں کا خون چوستے رہے، آج اسرائیل اور امریکا کی جھولی میں جا بیٹھے ہیں۔ بعض لوگ شاید اسے امریکی خارجہ پالیسی کی کامیابی سمجھیں، تاہم مجھے یہ امریکی اقتدار، خارجہ پالیسی، عالمی سیاست کا خاتمہ دکھائی دے رہا ہے، وہ جلدی میں بہت کچھ سمیٹنا چاہتا ہے، جبکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کی کشتی میں ہونے والا چھید کچھ بھی اس کی جھولی میں نہیں رہنے دے گا۔ امریکہ کو اپنی ہی بنائی ہوئی فضاء میں غرق ہونا ہے۔ اسے انہی وسائل کے بوجھ تلے دبنا ہے، جو اس نے جمع کر رکھا ہے۔ سائنسی میدان میں بھی امریکہ کی ترقی کا وہ عالم نہیں جو چند دہائیاں قبل تھا۔ کرونا نے امریکی سائنسی ترقی کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی۔ اس وباء نے جس قدر نقصان امریکہ کو پہنچایا ہے، شاید ہی اتنے وسائل کے حامل کسی اور ملک کو پہنچایا ہو، جو اس امریکی سورج کے غروپ کی واضح نوید ہے۔




بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 105 times Last modified on جمعرات, 22 أكتوبر 2020 15:45

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« November 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30            

تازہ مقالے