ہفته, 03 أكتوبر 2020 06:17


 
سید ثاقب اکبر نقوی

”کرونا“ اگرچہ ایک عالمگیر وبا و ابتلا کی صورت میں دنیا میں رونما ہوئی ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا کرونا سے پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہوگی۔ اس عالمی وباء کے دوران میں ایسے ایسے معنوی و مادی حقائق سامنے آئے ہیں، جو اس سے پہلے اتنے نمایاں طور پر دنیا کے سامنے نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ کرونا کے دوران میں سرحدیں بے معنی ہوگئیں ہیں، قوموں کی تقسیم مٹ گئی ہے، مذاہب اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق بھی پا در ہوا ہوگئی ہے۔ کرونا نے جرنیلوں، سیاستدانوں، حکمرانوں، علماء، مشائخ، ڈاکٹروں اور عام لوگوں میں سے کسی کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دی۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کرونا کے ہاتھوں بے حال دکھائی دیے ہیں۔ گورے اور کالے، سب کے ساتھ کرونا ایک طرح سے برتاؤ کرتا رہا ہے اور اب بھی بہت سے مقامات پر اس کی حشر سامانیاں دیکھی جاسکتی ہیں اور بعض علاقوں میں اس کے لوٹ آنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔
 


اس دوران میں یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ پوری دنیا پر ایک ہی ہستی کی حاکمیت ہے اور وہ ہے پروردگار عالم، جس کے بارے میں قرآن حکیم میدان حشر میں اٹھائے جانے والے سوال اور اس کے جواب کو یوں بیان کرتا ہے: لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ کرونا کی قیامت صغریٰ کے دور میں اس کی حقیقت دنیا پر آشکار ہوگئی ہے۔ وہ لوگ جو پہلے ہی اللہ رب العالمین کے کائنات پر غلبے اور قہاریت پر ایمان رکھتے ہیں، ان کے لیے موقع ہے کہ وہ بندگان خدا کو اس امر کی طرف متوجہ کریں کہ سپر پاور اس کائنات میں صرف اللہ ہے، انسان کو اسی سے ڈرنا ہے، اس کی نافرمانی کے برے نتائج سے ڈرنا ہے۔ ہم نے اس سے پہلے اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے نتیجے میں یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ دنیا پر ظلم و استبداد کا جو نظام قائم تھا اور جسے قائم رکھنے کے لیے ناٹو کا فوجی اتحاد، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے قائم کیے گئے تھے، ناکام ہوچکا ہے۔ اگر اب بھی دنیا کی بڑی طاقتیں اور اس نظام سے مستفیض ہونے والے ادارے، لوگ اور گروپس بیدار نہ ہوئے تو یقیناً ان کی بیداری کے لیے اس سے بڑے جھٹکے کی ضرورت ہوگی۔

موقع ہے کہ ہم انسانوں کو متوجہ کریں کہ کائنات کا ایک باطن اور غیب ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کرونا کی وباء کے سامنے دنیا کی مادی طاقتوں کا ضعف آشکار ہوگیا ہے۔ دنیا میں مادی، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے بڑی طاقتیں اس بیماری کے دوران میں بے بس دکھائی دیں۔ اتنا ہی نہیں امریکہ نے اس دوران میں جس وحشی گری کا مظاہرہ کیا، اس نے خود اس کے دوستوں کو حیران کر دیا۔ وہی امریکہ جس سے اس کے کم از کم اتحادیوں کو ہمیشہ یہ امید رہی کہ وہ مشکل کے وقت میں ان کے کام آئے گا، اس نے اپنے مفادات کی خاطر اپنے اتحادیوں پر ہاتھ صاف کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی توجہ دلا چکے ہیں کہ اس دوران میں امریکی صدر ٹرمپ پاگل پن کے مظاہرے پر اتر آئے۔ ان کی دماغی صحت پر ویسے تو پہلے روز سے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں لیکن کرونا کی شدت کے دوران میں وہ بالکل باؤلے معلوم ہو رہے تھے۔

وہ اپنے قریب ترین دوستوں کو دھمکیاں دیتے رہے۔ وہ اپنے اتحادیوں کی لوٹ مار پر کمربستہ رہے۔ انھوں نے یو این او کے اہم ترین اداروں کے خلاف اقدامات شروع کر دیے۔ امریکہ نے جرمنی اور کینیڈا کے طبی وسائل لوٹنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے کرونا کی دوا کے لیے اپنے یار غار بھارتی وزیراعظم مودی کو بھی دھمکی دے ڈالی، پھر مختلف حیلوں بہانوں سے انھوں نے ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی امداد بھی روک دی۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا تو ہوسکتا ہے کہ امریکہ جو اقوام متحدہ کو سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے اور جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ میں زیادہ اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے، کسی موقع پر وہ اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لے۔ جس دن امریکہ نے یہ فیصلہ کیا، اس دن موجودہ عالمی نظام کے گویا سرکاری طور پر خاتمے کا اعلان ہو جائے گا۔

اس دوران میں ہم نے دیکھا کہ اگرچہ شروع شروع میں بعض اسلامی ملکوں کو اس بیماری کے پھیلنے کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی گئی، لیکن جوں جوں وقت گزرتا رہا، اس پروپیگنڈا کی حقیقت آشکار ہوتی گئی۔ اسلاموفوبیا کے نعرے بھی اس دوران میں پیچھے رہ گئے۔ اس بیماری کے دوران میں گوبل ویلج کا تصور زیادہ ابھر کر سامنے آیا۔ عالمی اداروں سے لے کر قومی اداروں تک، بلکہ تنظیموں اور گروہوں تک نے رابطے کے لیے انٹرنیٹ اور ویب سے استفادہ کیا۔ اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مختلف وزارتوں اور محکموں نے رابطے کے لیے اس سے فائدہ اٹھایا اور یہ تجربہ اس لحاظ سے بھی بہت کامیاب رہا کہ اس میں وقت اور پیسے کی بچت بھی ہے۔ رابطہ آسان، موثر اور فوری بھی ہے۔ اس تجربے سے اسلامی دانشوروں، علماء اور اداروں کو کرونا کے بعد کے دور میں موثر اور بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہیئے۔ دین کی حقیقت نوع انسانی تک پہنچانے اور دین کے خلاف دشمنوں کی سازشوں اور منفی پراپیگنڈا کو بے نقاب کرنے کے لیے اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جن خطوں اور لوگوں تک پہلے پیغام پہنچانا مشکل تھا، اب وہاں تک اپنی بات پہنچانا بھی آسان ہوگیا ہے۔

دوسری طرف یہ امر بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ دنیا میں یہ جدید وسائل اب بھی زیادہ تر استعماری اور صہیونی قوتوں کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کی طاقت سے عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور معاشروں میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ انھوں نے ماضی میں جہاں فوجی طاقت کو مسلمان ملکوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، وہاں میڈیا اور اب سوشل میڈیا کو بھی موثر طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمان اور استعمار دشمنی کے شکار دیگر ملکوں کو مل کر کوئی حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ مسلمانوں کو متحد ہو کر اس صورت حال کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت بھی ضروری ہے۔ عالم اسلام کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی اپنے وسائل پیدا کرے اور انھیں گہری اور جامع حکمت عملی کے ذریعے بروئے کار لائے۔

آخر میں یہ نکتہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ کرونا کے تجربے سے گزرنے والا انسان آج آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ موجودہ نظام نہایت کمزور ہے اور یہ کسی بڑی مشکل میں انسانیت کے کام نہیں آسکتا بلکہ الٹا اسے مزید مشکلات میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ایسے میں انسانیت کے سامنے متبادل نظام پیش کرنے کی ضرورت ہے، ایسا نظام جو انسان کے روشن مستقبل کا ضامن ہو۔ آئیے ایک مرتبہ پھر ہم اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر ایمان لائیں کہ وہ اپنے کمزور اور پسے ہوئے بندوں کو ظالموں اور مستکبرین سے نجات دے گا۔ عالمی سطح پر ایک ایسا نظام معرض وجود میں آئے گا، جو ظلم و جور کے خلاف اپنی طاقت صرف کرے گا اور مظلوموں کی نجات کا باعث بنے گا۔ ایسا خدا پرست اور الٰہی قیادت ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی کو ہم اپنی مذہبی اصطلاح میں مہدویت کہتے ہیں اور اس کے قائد و رہبر کو مہدی یعنی خدا کی طرف سے ہدایت یافتہ شخص کہا جاتا ہے۔




بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 142 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« November 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30            

تازہ مقالے