بدھ, 23 ستمبر 2020 14:24


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں آجائیں گی، وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔

نئے قوانین میں انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2020ء بھی شامل ہے۔ اس بل کے تحت دہشت گردی میں ملوث یا کالعدم تنظیم کا کوئی رکن کسی بینک میں اکاونٹ نہیں کھول سکتا یا کوئی کریڈٹ کارڈ حاصل نہیں کرسکتا۔ نئے قوانین کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کی Category شیڈول 4 میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے اور ایسے افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا، جس شخص نے مشتبہ دہشت گرد کو قرض دیا، اس پر اڑھائی کروڑ جبکہ ادارے کو 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ انسداد دہشت گری ایکٹ کے تحت کسی شخص یا گروپ کو دہشت گردی مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں مدد یا مالی معاونت دینے والوں کو بھی اسی طرح جرمانے ہوں گے۔ کسی بھی کالعدم تنظیم یا اس کے نمائندے کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد فوری منجمد کی جائے گی۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں مزید ترمیم کرنے کے بل کے تحت تفتیشی طریقہ کار میں نئی تکنیکس استعمال کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ تفتیشی افسر عدالت کی اجازت سے 60 دن میں بعض تکنیکس استعمال کرکے دہشت گردی میں رقوم کی فراہمی کا سراغ لگائے گا۔ ان تکنیکس میں خفیہ آپریشنز، مواصلات کا سراغ لگانا، کمپیوٹر سسٹم کا جائزہ لینا شامل ہے، عدالت کو تحریری درخواست دے کر مزید 60 دن کی توسیع حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس بل کو متعارف کرانے کا اصل مقصد مذکورہ دفعہ کی شمولیت کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ عدالتوں کی بااختیار معاونت سے بعص انسدادی تکنیکوں کو اپنا کر ان جرائم کا قلع قمع کرسکیں۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور شور شرابا کیا گیا، مگر بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

مذکورہ قوانین کے علاوہ ٹرسٹ اور کمپنی قوانین میں بھی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں، ٹرسٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں رجسٹرڈ تمام ٹرسٹوں کو چھے ماہ کی مدت کے اندر اندر دوبارہ رجسٹر ہونا ہوگا۔ اس رجسٹریشن کے عمل میں ایف بی آر، کمشنر، عدلیہ اور انٹیلیجنس اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ شرائط کے مطابق اب کسی بھی ٹرسٹ کو مطلوبہ کاغذی کارروائی پوری کرنی ہوگی اور ہر سال ایک آڈٹ کمپنی سے اپنا آڈٹ کروا کر جمع کروانا ہوگا۔ ان تمام قوانین کا مقصد رقوم اور اثاثوں کی منتقلی کے عمل کی نگرانی کرنا ہے۔ یہ قوانین انتہائی تفصیلی ہیں، جن کا سطور ذیل میں فقط ایک مختصر جائزہ ہی پیش کیا جا سکتا تھا۔ ان قوانین کی تفصیلات یقیناً قانونی ماہرین ہی بہتر طور پر بیان کرسکتے ہیں، تاہم ایک چیز جو ان قوانین سے ظاہر ہے، یہی ہے کہ ان کا مقصد ملک میں مختلف تنظیموں، اداروں اور شخصیات کو ملنے والی داخلی و خارجی معاونت کی نگرانی کرنا ہے۔ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے کاروبار سے جڑے افراد کا پتہ لگانا اور ان کو قانون کے شکنجے میں لانا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ قانون پاس ہوتے ہی ہر چیز یکدم سے رک جائے گی بلکہ حکومت آہستہ آہستہ اور ایک ترتیب کے ساتھ ان قوانین پر عمل درآمد کروائے گی۔

ان قوانین کا فوری اثر بھی ہے، جس کے تحت اب اکاونٹ اوپننگ، ٹرسٹ رجسٹریشن، کمپنی رجسٹریشن جیسے امور وقوع پذیر ہوں گے۔ ان قوانین کو پاس کروانا آسان کام نہ تھا، ملک میں فرقہ وارانہ فضا کے سبب حکومت نے انتہائی سہولت کے ساتھ یہ قوانین پاس کروائے، جن میں سے اکثر کا تعلق اس گروہ سے تھا، جس کے افراد کافر کافر کے نعرے لگا رہے تھے اور اس کے جوابات دے رہے تھے۔ سیاسی حلقوں میں بھی ان قوانین کے حوالے سے بے چینی دیکھی گئی۔ سینیٹ کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سینیٹرز عطا الرحمٰن اور غفور حیدری نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی اداروں کی شرائط اس لیے مانی جا رہی ہیں کہ پاکستانی حکومت کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ریاستیں اس طرح سے کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتیں اور اگر کرتی ہیں تو اپنے کمزور ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی قانون سازی کے طریقہ کار پر تنقید کی۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر قوانین کے بل پارلیمان میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کے مدنظر فقط ایک چیز ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس جو کہ اکتوبر میں منعقد ہوگا، سے قبل ان تیرہ نکات پر عمل درآمد کر لے، جن کا تقاضا ایف اے ٹی ایف نے کیا ہے۔ میری نظر میں کسی بھی ملک میں کار سلطنت چلانے کے لیے قانون کی حکمرانی اور اداروں کا کنٹرول نہایت ضروری ہے، افسوس کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ایسا کبھی نہ تھا۔ ایف اے ٹی ایف کے قوانین جو کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے بنائے گئے ہیں، ان کا غلط استعمال نہیں ہوگا، یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔

صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں، تاہم اب یہ قوانین شدت پسندوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور میڈیا مالکان کے خلاف بھی استعمال ہوں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ جس طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے 1997ء میں انسداد دہشت گردی ایکٹ بنایا تھا اور اس کا مقصد شدت پسندوں کے خلاف قانون کو سخت کرنا تھا، لیکن آج بہت سی جماعتوں کے سربراہ اور کارکن اسی ایکٹ کا شکار بن چکے ہیں۔ اگر ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ڈو مور کی گردان ان اقدامات کے باوجود بھی جاری رہی تو یہ معاملہ کسی صورت تھمنے والا نہیں ہے۔ سیاسی حلقوں کو اس قانون سازی کے حوالے سے جو بے چینی لاحق ہوئی ہے، اس نے انھیں مجتمع ہو کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک امکان ہے کہ اگر یہ تحریک شدت اختیار کرتی ہے تو ملک میں فرقہ واریت کی دبی ہوئی چنگاری ایک مرتبہ پھر سر اٹھا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مشکل حالات میں پاکستانی عوام  کا حامی و ناصر ہو۔
 (ختم شد)



بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 46 times Last modified on جمعرات, 24 ستمبر 2020 14:27

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے