سوموار, 21 ستمبر 2020 14:21


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے چند ایک اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اگر ان کو تجاویز کے بجائے احکامات قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 27 نکات میں سے پاکستان 14 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرچکا ہے جبکہ 13 مزید نکات پر اسے عمل کرنا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والے پاکستانی معاشرے اور اس کے مسائل کو ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں، تبھی تو پاکستانی حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کر رہے ہیں۔

ایسے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے پاس ایسے کون سے ذرائع ہیں، جن سے وہ ہمارے مسائل کو سمجھ اور جان سکے؟ بہرحال پاکستان ان 13 نکات پر عمل درآمد شروع کرچکا ہے اور اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ فقط کاغذی اقدامات ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان نے حافظ سعید اور ان کے ایک ساتھی ملک ظفر اقبال کو پانچ برس قید کی سزا سنائی، اسی طرح جماعۃ الدعوۃ کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے۔

حال ہی میں حکومت پاکستان نے چند ایک قوانین میں ترامیم کی ہیں، جن میں منی لانڈرنگ، انٹی ٹریرزم ایکٹ، ٹرسٹ ایکٹ، کمپنی ایکٹ اور وقف کے قوانین شامل ہیں۔ وقف اگرچہ صوبائی معاملہ ہے، لہذا موجودہ ترمیم فقط وفاقی دارالحکومت پر لاگو ہوگی مگر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ترمیم اس وقت تک بے اثر ہے، جب تک اس کا دائرہ کار پورے ملک تک نہ پھیلایا جائے، جس کے لیے امید کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی صوبائی سطح پر بھی ایسی ہی قانون سازی سامنے آئے گی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی ترامیم میں ایف اے ٹی ایف کا لفظ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، یعنی چونکہ قوانین میں سقم تھا اور ایف اے ٹی ایف کے مطالبات اس ترمیم کے متقاضی تھے، لہذا اس کو عمل میں لایا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کو ان قوانین کو دونوں ایوانوں سے پاس کرنے کی فرصت کی کہانی بھی عجیب و غریب ہے، کچھ قوانین قومی اسمبلی میں پیش ہوکر رد کیے گئے تو اس کے لیے قانون میں دی گئی سہولت یعنی دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ان ترامیم کو منظور کروایا گیا۔

یہ تمام قوانین ایک ایسے وقت میں پاس ہوئے، جب ملک کی مذہبی قیادت کی ایک بڑی اکثریت فرقہ وارانہ مسائل سے نبرد آزما تھی۔ کسی کی توجہ اس جانب نہ گئی کہ ان قوانین میں حکومت کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اگر ملک میں فرقہ وارانہ مسائل نہ ہوتے تو یقیناً مذہبی قیادت متوجہ ہوتی کہ قانون ساز اداروں میں کیا چل رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں اور قائدین کو اب کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے کہ ان قوانین کا مقصد و ہدف کیا ہے۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کی جانے والی ترامیم کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی مدد اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ہے، چنانچہ اس کی زد میں مالیاتی امور سے متعلق طبقات زیادہ آئے ہیں اور کاروباری افراد کے حوالے سے دستاویزات کی شرائط بہت بڑھا دی گئی ہیں۔ تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ اکاونٹ رکھنے والے ہر فرد کی مکمل چھان بین کریں۔ فنانشنل سیکٹر میں اپنے کسٹمر کو پہچانیں۔ اگر کوئی کاروباری فرد روپے کی کوئی بڑی ترسیل یا وصولی کرتا ہے تو اس پر بینک اس سے ذریعہ آمدن پوچھیں گے اور معمول سے زائد ہر ٹرانزیکشن پر نظر رکھی جائے گی۔

بدھ کو منظور ہونے والے انسداد منی لانڈرنگ بل کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو دس سال تک قید اور اڑھائی کروڑ جرمانہ ہوسکے گا۔ اس بل  کے تحت وزیر خزانہ کی نگرانی میں ایک طاقتور نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی قائم کی جا رہی ہے، جو کہ ان قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اس حوالے سے قواعد و ضوابط متعین کرے گی۔ اس قانون کے تحت تمام بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک مقررہ حد سے زائد مشکوک رقم کی ٹرانسفر پر فوراً فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو اطلاع فراہم کریں۔ اس سلسلے میں ایف ایم یو کو ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی بھی فراہم کی جائے گی، جس سے مشکوک ٹرانزیکشن کو فوری ڈھونڈا جا سکے۔ اسی طرح دیگر ممالک کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹس سے معلومات کا تبادلہ بھی کیا جائے گا، تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم جمع کرنے کا پتا لگایا جاسکے۔

اس طرح اس قانون کے تحت ہر بینک اور مالیاتی ادارہ اپنے صارف کے ذرائع آمدن اور اس کے کاروباری شراکت داروں کی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کرے گا اور ہر اکاونٹ کے حقیقی مالک کا پتہ رکھے گا، جس سے بے نامی اکاونٹس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی املاک بھی ضبط کی جا سکیں گی۔ انگریزی اخبار دی نیوز سے وابستہ معاشی امور کے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق نئے قواعد پاکستانی کی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے، اس سے حکومت کو معلوم ہوگا کہ کس کے پاس قانونی پیسے ہیں اور کس کے پاس غیر قانونی۔ اسی طرح ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھے گی اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی، مگر ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یقینی بنانا چاہیئے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جا سکے اور اسے سیاسی مخالفین کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

ایف اے ٹی ایف مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن کے مطابق نئے قواعد میں زیادہ تر پیسے کی ترسیل کو شفاف بنانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ مکمل طور پر معلوم ہوسکے کہ سرمایہ کہاں سے آرہا ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں رقم کی ترسیل بینکوں اور قانونی چینلز کے ذریعے ہی کریں اور حوالہ اور ہنڈی کی حوصلہ شکنی ہو۔ ایک ماہر معاشیات کے مطابق نئے قوانین میں پاکستان پیسے آنے کے حوالے سے شرائط اتنی سخت نہیں، جتنی پاکستان سے پیسے باہر بجھوانے کے لیے ہیں، کیونکہ اس صورت میں آپ کو کیش لے جانے پر ڈکلیئر کرنا ہوگا جبکہ بینکوں سے پیسے بھیجنے کی صورت میں دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ "مثلاً میرا بھائی مجھے ہر سال پاکستان پانچ ہزار ڈالر بھیجتا ہے، مگر اچانک وہ ایک لاکھ ڈالر بھیج دے تو پھر مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ بن جائے گی، جو کہ ایف ایم یو کو بھیجی جائے گی، جہاں سے یہ ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اور انسداد دہشت گردی پر کام کرنے والے اداروں سے شیئر کر دی جائے گی، تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیسے کسی غیر قانونی مقصد میں استعمال نہیں ہوں گے۔"

بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلقہ نئے قوانین میں ایک باہمی قانونی اشتراک (برائے فوجدرای امور) کا بل 2020ء بھی ہے۔ اس قانون کے تحت پاکستان کی حکومت ملک میں ہونے والے کسی بھی جرم کی صورت میں بیرون ملک سے قانونی دستایزات، مدد وغیرہ حاصل کرسکتی ہے اور اسی طرح دیگر ممالک کو اسی طرح کی قانونی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس بل کا مقصد جرائم کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اشتراک اور جرائم کرکے دوسرے ملک بھاگ جانے والوں کا تدارک ہے۔ پاکستان میں دیگر ممالک کو عدالت کی اجازت سے شواہد اکٹھے کرنے اور تفتیشن کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ اسی طرح دیگر ممالک کی درخواست پر کسی جرم میں ملوث شخص کی پاکستان میں جائیداد وغیرہ کو ضبط بھی کیا جا سکے گا، تاہم اس کے لیے پاکستانی عدالت کی منظوری ضروری ہوگی۔

اسی طرح نئے قواعد میں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 2020ء بھی شامل ہے، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے آںے والی غیر ملکی کرنسی کے حوالے سے قواعد بنا سکے اور ہدایات جاری کرسکے۔ اس کے علاوہ اس قانون کی خلاف ورزی پر سزائیں سخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی قانون کی وجہ سے بعض اوقات بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم بینک روک لیتے ہیں اور وصول کنندہ سے اس حوالے سے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نئے قواعد میں ایک "کمپنیز ایکٹ 2017ء میں ترمیم کا بل" بھی شامل ہے، جس کے  تحت یقینی بنایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے مالکان کی اصلیت واضح ہو اور بے نامی کمپنیاں بنا کر خفیہ طریقے سے کاروبار نہ کیا جا سکے۔

اس قانون کے تحت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ کوئی بھی کاروباری کمپنی ملکیتی یا بئیرر حصص کسی دوسرے شخص کو فروخت نہیں کرسکے گی کہ خفیہ طریقے سے کمپنی دوسرے ہاتھ میں چلی جائے۔ ایس ای سی پی کے ایک سینیئر افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس قانون مطابق ایسا کرنے کا مقصد کمپنی کی ملکیت خفیہ رکھنے سے روکنا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت بیئرر شیئرز رکھنے والے تمام موجودہ مالکان بھی متاثر ہوں گے، کیونکہ ایسے شیئرز اب منسوخ تصور ہوں گے۔ اس ترمیمی بل کے تحت کمپنیوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے تازہ ترین حقیقی مالک یا بینیفشل اونر کا ریکارڈ فراہم کریں گی، جو کہ کمپنی کے نفع نقصان کا اصل مالک ہوگا۔ اس کا مقصد بے نامی کمپنیاں رکھنے کی پریکٹس کو روکنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے گذشتہ اجلاسوں میں اس حوالے سے قانونی نقائص کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ایسے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے پاس ایسے کون سے ذرائع ہیں، جن سے وہ ہمارے مسائل کو سمجھ اور جان سکے؟ بہرحال پاکستان ان 13 نکات پر عمل درآمد شروع کرچکا ہے اور اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ فقط کاغذی اقدامات ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان نے حافظ سعید اور ان کے ایک ساتھی ملک ظفر اقبال کو پانچ برس قید کی سزا سنائی، اسی طرح جماعۃ الدعوۃ کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے۔

حال ہی میں حکومت پاکستان نے چند ایک قوانین میں ترامیم کی ہیں، جن میں منی لانڈرنگ، انٹی ٹریرزم ایکٹ، ٹرسٹ ایکٹ، کمپنی ایکٹ اور وقف کے قوانین شامل ہیں۔ وقف اگرچہ صوبائی معاملہ ہے، لہذا موجودہ ترمیم فقط وفاقی دارالحکومت پر لاگو ہوگی مگر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ترمیم اس وقت تک بے اثر ہے، جب تک اس کا دائرہ کار پورے ملک تک نہ پھیلایا جائے، جس کے لیے امید کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی صوبائی سطح پر بھی ایسی ہی قانون سازی سامنے آئے گی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی ترامیم میں ایف اے ٹی ایف کا لفظ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، یعنی چونکہ قوانین میں سقم تھا اور ایف اے ٹی ایف کے مطالبات اس ترمیم کے متقاضی تھے، لہذا اس کو عمل میں لایا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کو ان قوانین کو دونوں ایوانوں سے پاس کرنے کی فرصت کی کہانی بھی عجیب و غریب ہے، کچھ قوانین قومی اسمبلی میں پیش ہوکر رد کیے گئے تو اس کے لیے قانون میں دی گئی سہولت یعنی دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ان ترامیم کو منظور کروایا گیا۔

یہ تمام قوانین ایک ایسے وقت میں پاس ہوئے، جب ملک کی مذہبی قیادت کی ایک بڑی اکثریت فرقہ وارانہ مسائل سے نبرد آزما تھی۔ کسی کی توجہ اس جانب نہ گئی کہ ان قوانین میں حکومت کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اگر ملک میں فرقہ وارانہ مسائل نہ ہوتے تو یقیناً مذہبی قیادت متوجہ ہوتی کہ قانون ساز اداروں میں کیا چل رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں اور قائدین کو اب کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے کہ ان قوانین کا مقصد و ہدف کیا ہے۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کی جانے والی ترامیم کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی مدد اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ہے، چنانچہ اس کی زد میں مالیاتی امور سے متعلق طبقات زیادہ آئے ہیں اور کاروباری افراد کے حوالے سے دستاویزات کی شرائط بہت بڑھا دی گئی ہیں۔ تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ اکاونٹ رکھنے والے ہر فرد کی مکمل چھان بین کریں۔ فنانشنل سیکٹر میں اپنے کسٹمر کو پہچانیں۔ اگر کوئی کاروباری فرد روپے کی کوئی بڑی ترسیل یا وصولی کرتا ہے تو اس پر بینک اس سے ذریعہ آمدن پوچھیں گے اور معمول سے زائد ہر ٹرانزیکشن پر نظر رکھی جائے گی۔

بدھ کو منظور ہونے والے انسداد منی لانڈرنگ بل کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو دس سال تک قید اور اڑھائی کروڑ جرمانہ ہوسکے گا۔ اس بل  کے تحت وزیر خزانہ کی نگرانی میں ایک طاقتور نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی قائم کی جا رہی ہے، جو کہ ان قوانین پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے گی اور اس حوالے سے قواعد و ضوابط متعین کرے گی۔ اس قانون کے تحت تمام بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ایک مقررہ حد سے زائد مشکوک رقم کی ٹرانسفر پر فوراً فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو اطلاع فراہم کریں۔ اس سلسلے میں ایف ایم یو کو ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی بھی فراہم کی جائے گی، جس سے مشکوک ٹرانزیکشن کو فوری ڈھونڈا جا سکے۔ اسی طرح دیگر ممالک کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹس سے معلومات کا تبادلہ بھی کیا جائے گا، تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم جمع کرنے کا پتا لگایا جاسکے۔

اس طرح اس قانون کے تحت ہر بینک اور مالیاتی ادارہ اپنے صارف کے ذرائع آمدن اور اس کے کاروباری شراکت داروں کی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کرے گا اور ہر اکاونٹ کے حقیقی مالک کا پتہ رکھے گا، جس سے بے نامی اکاونٹس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی املاک بھی ضبط کی جا سکیں گی۔ انگریزی اخبار دی نیوز سے وابستہ معاشی امور کے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق نئے قواعد پاکستانی کی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے، اس سے حکومت کو معلوم ہوگا کہ کس کے پاس قانونی پیسے ہیں اور کس کے پاس غیر قانونی۔ اسی طرح ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھے گی اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی، مگر ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یقینی بنانا چاہیئے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جا سکے اور اسے سیاسی مخالفین کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

ایف اے ٹی ایف مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن کے مطابق نئے قواعد میں زیادہ تر پیسے کی ترسیل کو شفاف بنانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ مکمل طور پر معلوم ہوسکے کہ سرمایہ کہاں سے آرہا ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں رقم کی ترسیل بینکوں اور قانونی چینلز کے ذریعے ہی کریں اور حوالہ اور ہنڈی کی حوصلہ شکنی ہو۔ ایک ماہر معاشیات کے مطابق نئے قوانین میں پاکستان پیسے آنے کے حوالے سے شرائط اتنی سخت نہیں، جتنی پاکستان سے پیسے باہر بجھوانے کے لیے ہیں، کیونکہ اس صورت میں آپ کو کیش لے جانے پر ڈکلیئر کرنا ہوگا جبکہ بینکوں سے پیسے بھیجنے کی صورت میں دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ "مثلاً میرا بھائی مجھے ہر سال پاکستان پانچ ہزار ڈالر بھیجتا ہے، مگر اچانک وہ ایک لاکھ ڈالر بھیج دے تو پھر مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ بن جائے گی، جو کہ ایف ایم یو کو بھیجی جائے گی، جہاں سے یہ ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اور انسداد دہشت گردی پر کام کرنے والے اداروں سے شیئر کر دی جائے گی، تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ پیسے کسی غیر قانونی مقصد میں استعمال نہیں ہوں گے۔"

بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلقہ نئے قوانین میں ایک باہمی قانونی اشتراک (برائے فوجدرای امور) کا بل 2020ء بھی ہے۔ اس قانون کے تحت پاکستان کی حکومت ملک میں ہونے والے کسی بھی جرم کی صورت میں بیرون ملک سے قانونی دستایزات، مدد وغیرہ حاصل کرسکتی ہے اور اسی طرح دیگر ممالک کو اسی طرح کی قانونی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس بل کا مقصد جرائم کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اشتراک اور جرائم کرکے دوسرے ملک بھاگ جانے والوں کا تدارک ہے۔ پاکستان میں دیگر ممالک کو عدالت کی اجازت سے شواہد اکٹھے کرنے اور تفتیشن کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ اسی طرح دیگر ممالک کی درخواست پر کسی جرم میں ملوث شخص کی پاکستان میں جائیداد وغیرہ کو ضبط بھی کیا جا سکے گا، تاہم اس کے لیے پاکستانی عدالت کی منظوری ضروری ہوگی۔

اسی طرح نئے قواعد میں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 2020ء بھی شامل ہے، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے آںے والی غیر ملکی کرنسی کے حوالے سے قواعد بنا سکے اور ہدایات جاری کرسکے۔ اس کے علاوہ اس قانون کی خلاف ورزی پر سزائیں سخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی قانون کی وجہ سے بعض اوقات بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم بینک روک لیتے ہیں اور وصول کنندہ سے اس حوالے سے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نئے قواعد میں ایک "کمپنیز ایکٹ 2017ء میں ترمیم کا بل" بھی شامل ہے، جس کے  تحت یقینی بنایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے مالکان کی اصلیت واضح ہو اور بے نامی کمپنیاں بنا کر خفیہ طریقے سے کاروبار نہ کیا جا سکے۔

اس قانون کے تحت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ کوئی بھی کاروباری کمپنی ملکیتی یا بئیرر حصص کسی دوسرے شخص کو فروخت نہیں کرسکے گی کہ خفیہ طریقے سے کمپنی دوسرے ہاتھ میں چلی جائے۔ ایس ای سی پی کے ایک سینیئر افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس قانون مطابق ایسا کرنے کا مقصد کمپنی کی ملکیت خفیہ رکھنے سے روکنا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت بیئرر شیئرز رکھنے والے تمام موجودہ مالکان بھی متاثر ہوں گے، کیونکہ ایسے شیئرز اب منسوخ تصور ہوں گے۔ اس ترمیمی بل کے تحت کمپنیوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے تازہ ترین حقیقی مالک یا بینیفشل اونر کا ریکارڈ فراہم کریں گی، جو کہ کمپنی کے نفع نقصان کا اصل مالک ہوگا۔ اس کا مقصد بے نامی کمپنیاں رکھنے کی پریکٹس کو روکنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے گذشتہ اجلاسوں میں اس حوالے سے قانونی نقائص کی نشاندہی کی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 51 times Last modified on جمعرات, 24 ستمبر 2020 14:28

تازہ مقالے

تازہ مقالے