اتوار, 20 ستمبر 2020 14:05


 
سید اسد عباس

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دنیا پر حکومت کا نیا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے دنیا کے معاشی ادارے دنیا میں کاروبار، پیسے کی نقل و حمل، معاشی بے ضابطگیوں اور جرائم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جس ملک کا نظام درج بالا شعبوں میں کمزور ہے، وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہیں، جس کے سبب دنیا کے معاشی ادارے، بینک اور ممالک اس ملک سے کاروبار نہیں کرتے یا اس کی سفارش نہیں کرتے۔ اس فورس کی ایک لسٹ بلیک لسٹ بھی ہے، جس میں ایران اور شمالی کوریا ہیں۔

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں 2018ء میں ڈالا گیا، جو پاکستان جیسی معیشت جس کا زیادہ انحصار بیرونی قرضوں پر ہے، کے لیے نہایت خطرناک ہے اور پاکستان پر مسلسل بلیک لسٹ ہونے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف باقاعدہ ایک ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کے ہر ماہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں اور وہ ممالک جو گرے لسٹ سے نکلنا چاہتے ہیں، ان کو اہداف دیئے جاتے ہیں۔ اکتوبر 2019ء میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو فروری 2020ء تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ 27 اقدامات کی ایک Category تھما دی۔ فروری سے ہماری مہلت کو جون تک بڑھایا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 14 اقدامات پر مکمل طور پر عمل درآمد کر لیا ہے اور باقی اقدامات میں پیش رفت جاری ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی Category کے مطابق 14 نکات جن پر پاکستان نے عمل کر لیا ہے، درج ذیل ہیں:
۱۔ مالیاتی شعبے کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی مالی اعانت (CFT) کے خطرات کو سمجھنا۔
۲۔ مالیاتی اداروں کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور سی ایف ٹی کے سیشن۔
۳۔ ہوائی اڈوں پر مربوط ڈیٹا بیس تیار کرنا۔
۴۔ نامزد افراد اور اداروں کی تشہیر کا طریقہ کار۔
۵۔ مالیاتی مانیٹرنگ یونٹ (FMU) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے دہشت گردی کی مالی اعانت (TF) کے یونٹ نیز تجزیہ۔
۶۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعہ مالیاتی اداروں کا آڈٹ۔
۷۔ ایف ایم یو کے ذریعے مشتبہ لین دین کی رپورٹس کو نشر کرنا اور اس کا تجزیہ۔

۸۔ دہشت گردی سے متعلق مالی اعانت کے خطرے کی تشخیص اور اس پر عمل درآمد۔
۹۔ وفاقی اور صوبائی محکموں کے باہمی رابطہ کا طریقہ کار۔
۱۰۔ سی ٹی ڈی کے ذریعے متوازی تفتیش۔
۱۱۔ کیش اسمگلنگ کے خطرے کی تشخیص۔
۱۲۔ کیش اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے داخلی تعاون کا نفاذ۔
۱۳۔ عدلیہ کا دہشت گردی کی مالی اعانت کو آگاہی اور تربیتی سیشنز کے ذریعے سمجھنا۔
۱۴۔ نامزد غیر بینکاری مالیاتی اداروں (DNBFI) اور غیر منافع بخش تنظیموں (NPOs) تک خطرے کی بنیاد پر رسائی۔

وہ 13 اقدامات جن پر ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس سے قبل پاکستان کو پیشرفت کرنی ہے:
۱۔ پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات موثر پابندیوں کے اثرات کا عملی مظاہرہ پیش کرنا ہوگا۔
۲۔ کالعدم جماعتوں کے مالیاتی اداروں کی معاونت کے حوالے سے موثر اقدامات کی یقین دہانی کروانی ہوگی۔
۳۔ پاکستان کو غیر قانونی رقم یا قدر کی منتقلی کی سروسز (ایم وی ٹی ایس) کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی، جیسے ہنڈی حوالہ۔
۴۔ پاکستان کو نقد رقم منتقل کرنے والوں کے خلاف پابندیاں لگانی ہوں گی۔
۵۔ پاکستان کو کالعدم تنظیموں اور افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں (ایل ای اے) کی دہشت گردی کی مالی اعانت کے حوالے سے جاری تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔
۶۔ پاکستانی حکام کو بین الاقوامی تعاون پر مبنی تحقیقات اور کالعدم تنظیموں (پاکستان کو فراہم کردہ Category) اور افراد (پاکستان کو فراہم کردہ Category) کے خلاف سزا کو یقینی بنانا ہوگا۔

۷۔ ملک کو دہشت گردی کی مالی اعانت کی تحقیقات میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) اور ایل ای اے کے مابین موثر داخلی تعاون رکھنا ہوگا۔
۸۔ کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی (پاکستان کو فراہم کردہ Category)۔
۹۔ کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد (پاکستان کو فراہم کردہ Category) کے خلاف عدلیہ سے سزا کا عملی مظاہرہ۔
۱۰۔ کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد کی جائیدادوں کی ضبطی (Category پاکستان کو فراہم کردہ)۔
۱۱۔ مدارس کو اسکولوں اور طبی مراکز کو سرکاری فارمیشن میں تبدیل کرنا (Category پاکستان کو فراہم کی گئی ہے)۔
۱۲۔ کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد کی مالی معاونت بند کرنا۔
۱۳۔ پاکستان کو کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد (ملک کو فراہم کردہ Category) کے زیر ملکیت جائیدادوں اور اثاثوں کے انتظام کے لئے مستقل طریقہ کار اپنانا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 50 times Last modified on جمعرات, 24 ستمبر 2020 14:21

تازہ مقالے

تازہ مقالے