سوموار, 07 ستمبر 2020 16:02



تحریر: سید اسد عباس
آج اگر انسانیت کے زوال کا اندازہ کرنا ہو تو ایک نظر دنیا پر حکمران طبقے پر کر لیں۔ دنیا کے اکثر حکمران کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسے الزامات کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ الزامات ہیں جن کے ثبوت سامنے لائے جا چکے ہیں یا جن کے حوالے سے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان جرائم کے علاوہ ان حکمرانوں میں پائی جانے والی اخلاقی برائیوں کے بارے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ سیاسی دنیا میں جھوٹ، بدعہدی، نفاق کو مہارت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو جس قدر جھوٹا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ساری دنیا میں حکمران ایسے ہی ہیں، دنیا کے بعض ممالک میں ایسے حکمران بھی موجود ہیں، جن کی ایمانداری کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسے حکمرانوں کا برسر اقتدار آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی بھی ایک دلیل ہے۔ جب معاشرے کی ایک اکثریت کی نظر میں اخلاقی اقدار اپنا مقام کھو دیں تو پھر ان کے قومی نمائندے اور حکمران بھی ویسے ہی ہوں گے۔ جب حاکم کرپٹ ہو تو پھر پورا ریاستی نظام کرپشن کا شکار ہو جاتا ہے، جو معاشرے کو فساد کی جانب لے جاتا ہے۔


امام حسین (ع) نے کربلا میں انتہائی قدم  اسی فساد کے خلاف اٹھایا تھاو جو اس مسئلہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے۔ امام حسین (ع) نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ امام (ع) نے فرمایا: اے لوگو! کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے پرہیز نہیں کیا جا رہا۔ ایسے میں مومن کو خدا سے ملاقات کا مشتاق ہونا چاہیئے۔ یہی مقصد انبیاء ہے کہ معاشرے کو فساد سے بچایا جائے۔ آج دنیا پر حاکم طبقہ کی کرپشن اور اخلاقی گراوٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی اکثریت اس فساد کا شکار ہوچکی ہے، جس کے خلاف انبیاء نے قیام کیا تھا۔ دنیا میں بعض مقامات پر یہ اخلاقی گراوٹ جبر اور ظلم کے ذریعے چھپائی جاتی ہے، جہاں بولنے والے کا سر فقط اس لیے قلم کر دیا جاتا ہے کہ اس نے ظل الہیٰ کے خلاف زبان کھولی ہے اور ان مزید جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے مذہب، ریاست، اجماع یعنی جھوٹ اور منافقت کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اسرائیل جو اپنے آپ کو ایک مذہبی اور نظریاتی ریاست کے طور پر متعارف کرواتا ہے اور یہودی طرز حکومت کا واحد علمبردار ہے، اس کے حاکم پر گذشتہ کئی برسوں سے کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں۔ اسرائیلی عوام گذشتہ کئ ہفتوں سے نیتن یاہو کی اسی کرپشن، کرونا کی وبا سے غلط انداز سے نمٹنے، کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز، ملک میں روزگار کے مواقع کی کمی اور ریاست کی ان مسائل کے حل میں ناکامی پر اسرائیل بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کرپشن کے کیسز کے دوران میں نیتن یاہو کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیئے۔ نیتن یاہو کو بچانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گذشتہ چند برسوں مین وہ وہ کارنامے کیے ہیں، جو گذشتہ بہتر برسوں میں اقوام عالم کے لیے ممکن نہ تھے۔ صدی کی ڈیل، گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کو قانونی قرار دینا، فلسطینی زمینوں پر قبضہ، عرب ممالک سے بہتر تعلقات، یو اے ای اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کا برملا آغاز، بحرین اور اومان کے بارے ایسی ہی خبریں وہ اقدامات ہیں، جو نیتن یاہو کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان تمام امور سے عوام الناس کا پیٹ نہیں بھرا جاسکتا اور نہ ہی ان کو روزگار مل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی ساری کامیابیوں کے باوجود اسرائیلی عوام میں بے چینی موجود ہے اور وہ اس کے اظہار کے لیے کرونا کی فضا میں بھی مظاہروں پر موجود ہیں۔

میں نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں تحریر کیا تھا کہ ایک اسرائیلی صحافی نے اسرائیلی معاشرے کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاشرہ مغالطوں کا شکار ہے، جس میں تین اہم مغالطے انھوں نے یوں بیان کیے: ’’ہم میں سے اکثر کا یقین ہے کہ یہودی منتخب قوم ہیں اور چونکہ ہم چنیدہ قوم ہیں، لہذا ہمارا حق ہے کہ ہم جو چاہیں کریں۔ ثانیاً انسانی تاریخ میں ایسا ایک بھی واقعہ نہیں ہے کہ جہاں قابض نے اپنے آپ کو ایک متاثرہ قوم کے طور پر پیش کیا ہو، نہ فقط متاثرہ قوم بلکہ دنیا بھر میں واحد متاثرہ قوم۔ یہی وجوہات ہیں، جن کے سبب اسرائیلی سکون سے رہ رہے ہیں، تیسری قدر جو کہ سب سے زیادہ خطرناک ہے، منظم انداز سے فلسطینیوں کو انسانیت سے خارج قرار دینا ہے، جس کے سبب ہم اسرائیلی امن سے زندگی گزار رہے ہیں، کیونکہ اگر فلسطینی ہماری طرح کے انسان نہیں ہیں تو پھر انسانی حقوق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

ایڈین لیوی نے کہا تھا کہ: ’’اسرائیلی معاشرے کا حقیقت سے ربط ٹوٹ چکا ہے، ہمیں اپنے اردگرد کی حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ہے، ہمیں عالمی ماحول سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہودی دنیا کے 6 بلین انسانوں سے بہتر مخلوق ہیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ عالمی قوانین اور عالمی اداروں کی پرواہ کیے بغیر ہم امریکہ، چیک ریپبلک اور کینیڈا پر انحصار کرتے ہوئے زندہ رہ سکتے ہیں۔‘‘ مسئلہ اگر فلسطینی عوام کا ہوتا تو شاید اسرائیلی معاشرہ خاموش رہتا، تاہم یہاں مسئلہ خود اسرائیلیوں کی بقاء کا ہے۔ ذہنی طور پر مفلوج، حقیقت سے دور معاشرہ جس میں انسانیت، عالمی اخلاقیات کی رمق باقی نہیں رہ گئی، بہرحال خوراک اور روزگار کا متقاضی ہے۔ ان کو یہ بھی ادراک ہے کہ ہماری ان محرومیوں کا سبب ہمارا کرپٹ وزیراعظم ہے، جس پر کرپشن، رشوت ستانی، اقربا پروری کے الزامات ہیں۔ لہذا انسانی فطرت کو خاموش رکھنا یہاں ممکن نہیں رہا۔ امید ہے جلد ہی اس معاشرے کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ ہمیں جس جھوٹ کی بنیاد پر یورپ سے نکال کر اس جہنم میں لا کر بسایا گیا ہے، اس کی بھی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

صہیونی رژیم اس غاصب اکائی کو قائم رکھنے کے لیے جہاں مسلمانوں سے نبرد آزما ہے، وہیں اس کا سامنا اپنے عوام سے بھی ہے، اس کے لیے وہ ان کے سامنے جھوٹ، خیالی واقعات کو گھڑتا رہتا ہے۔ اس رژیم کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بھی ہولوکاسٹ پر تحقیق نہ کرے بلکہ اس کا تذکرہ بھی جرم قرار پائے۔ کتنے لوگ اسرائیل کو ہر سال خیر باد کہتے ہیں، یہ بات بھی پردہ راز میں ہی رہے۔ تاہم میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دوہری شہریت کے حامل اسرائیلی شہری کسی نہ کسی بہانے سے اپنے حقیقی دیسوں کو پلٹ رہے ہیں، جو کہ اسرائیلی رژیم کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اسی پریشانی سے نبرد آزما ہونے کے لیے موجودہ حکومت نے فلسطین پر مظالم کے سلسلے کو بڑھاوا دیا ہے اور اسرائیل کے وجود کو مستحکم کرنے کے حوالے سے اقدامات میں تیزی آئی ہے۔ میرے خیال میں یہ تیزی صہیونی رژیم اور اس کے حواریوں کی ہواس باختگی اور شکست کا نکارہ ہے۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز


 
* * * * *
Read 53 times Last modified on بدھ, 09 ستمبر 2020 16:48

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« September 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30        

تازہ مقالے