بدھ, 19 آگست 2020 15:17


 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان ایک آزاد خود مختار اسلامی ریاست ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں معرض وجود میں آئی۔ اس کے قیام کا ایک بنیادی مقصد اسلامی نظریہ حیات کے مطابق ایک جدید فلاحی ریاست قائم کرنا تھا تاکہ تمام عالم اسلام کے لیے اسے نمونہ اور مثال بنایا جاسکے۔ اس کی روح میں اسلامی اتحاد اور عالم اسلام کے وقارو استقلال کی بحالی کا جذبہ کارفرما تھا۔یہی وجہ ہے کہ اول روز سے ہی پاکستان کا موقف دشمنان اسلام کی شرانگیزیوں کے مقابلے میں عالم اسلام کے اتحاد پر مبنی رہا۔

اسی بنیاد پر پاکستان اپنی آزادی کے دن سے اسرائیل کو صہیونی ، غاصب و ناجائز اور جبر کے ساتھ فلسطین کی سرزمین پر مسلط کی گئی ریاست قرار دیتا چلا آیا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اوران کی پیروی میں اسلامیان پاکستان کا ہمیشہ یہی نظریہ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام آج بھی جرا ¿ت و عزیمت کے ساتھ اسی موقف پر قائم ہیں۔ اس کا اظہار وہ مختلف انداز سے کرتے رہتے ہیں ، ہر سال جمعة الوداع کے موقع پر یوم القدس کی ریلیاں اس کا ایک ثبوت ہیں۔ پاکستان کے شعرائ، ادبااور علماءاس سلسلے میں اپنے نظریات و افکار کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

افسوس بعض مسلمان حکمران اپنے عوام کی منشا و خواش کے برعکس غاصب اسرائیلی ریاست سے تعلقات استوار کررہے ہیں اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں اور حریت و آزادی کے راستے میں جانیں قربان کرنے والے شہیدوں سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے اور قبلہ اول کے زنجیروں کے جکڑے ہونے کے باوجود ان کا یہ اقدام قابل مذمت ہے۔ اگر تاریخ میں جھانک کر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر وہ حکمران ہیں کہ جن کا اقتدار استعمار اور سامراج سے وفاداری کے عہد کا مرہون منت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں آج بھی اپنے عوام کے نظریات و عقائد سے کوئی سروکار نہیں اور وہ اپنے حقیقی آقاﺅںکے چشم و ابرو کے اشاروں کی طرف دیکھتے ہیں۔

اسلامیان پاکستان نے ہمیشہ عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ کشمیر و فلسطین جو اسلامی امت اور سرزمینوں کے جزولاینفک ہیں بے رحم دشمنوں کے شکنجوں میں سسک رہے ہیں۔امت اسلامیہ ان سرزمینوں کی آزادی سے کم کسی حل کو قبول نہیں کرتی اور سمجھتی ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت مسلمانوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔

فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اس مسئلے کا حل اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا بھر سے اکٹھے کیے گئے یہودی اپنے اپنے گھروںکو واپس جائیں اورمظلوم و آوارہ وطن فلسطینی پھر سے اپنے گھروں میں آباد ہوں۔ قبلہ اول آزاد ہو۔ بیت المقدس تاریخی طور پر فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ فلسطین کی آزادی کا سودا کرنے والے مسلمانوں اور اسلام کے نمائندہ نہیں ہیں بلکہ غدار ہیں۔

یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کو اپنا موقف قرار دے رہی ہے جب کہ حال ہی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک نجی ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں اس بات کا دعویٰ کیاکہ وہ فلسطین کے مسئلے پر قائداعظم کے نظریے پر قائم ہیں۔ قائداعظم کے نظریے کے مطابق فلسطین کی سرزمین کا کوئی دوریاستی حل نہیں کیونکہ کسی نام نہاد دو ریاستی حل کو قبول کرنے کا مطلب اسرائیل کی ناجائز ریاست کو جائز قرار دینا ہے جو علامہ اقبال کے تاریخی نقطہ نظر اور قائداعظم کے موقف سے انحراف ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ہم کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے۔ اس مسئلے میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں کہ فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق ملنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلط کی گئی صہیونی ریاست کا خاتمہ اور مختلف براعظموں سے لا کر بسائے جانے والے یہودی جو آج بھی دوہری شہریت کے حامل ہیں اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ ہم انسان ہیں حیوان نہیں جو اس دنیا میں آتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں اوراولاد پیدا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم انسان ہیں جو اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ان کا یہ احساس قابل قدر ہے لیکن اگر وہ خارجہ پالیسی کے نام نہاد بزرج مہروں جن میں سے کئی ایک وزارت خارجہ میں براجمان ہیں کی باتوں میں آکر فلسطین کے دو ریاستی حل کو قبول کرتے ہیں تواسے ظلم ہی کہا جائے گا۔ممکن نہیں کہ اسرائیل قائم رہے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق بھی مل جائیں کیونکہ فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ اس کا ایک ہی معنی ہے کہ یہودی اپنے گھروں کو واپس جائیں کیونکہ یہودیوں نے فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کررکھا ہے۔

فلسطین کی تمام تنظیموں کو اس موقع پر آپس میں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ آج فلسطینی تنظیموں، قائدین اور عوام پر تمام تر حقائق آشکار ہو چکے ہیں۔ دوستوں اور دشمنوں کی صفیں واضح ہو چکی ہیں۔ اسرائیل اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے کمزور سہارے تلاش کررہا ہے۔ آزادی اور مزاحمت کی تحریک پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکی ہے۔ اس موقع میں ایمان، اتحاد اور اعتماد سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔



بشکریہ: مبصر ڈاٹ کام
Read 162 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے