اتوار, 16 آگست 2020 09:47


 
سید ثاقب اکبر نقوی

14 اگست کو جبکہ پاکستان کے عوام یوم آزادی منا رہے تھے، متحدہ عرب امارات نے فلسطینی مسلمانوں پر قید کی زنجیریں مزید کسنے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر فلسطین سے لے کر پورے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پاکستان میں سب سے پہلا آفیشل ردعمل جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کی طرف سے آیا، جنھوں نے منصورہ لاہور میں خطبہ جمعہ کے دوران میں کہا: ”ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباﺅ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔



یہ معاہدہ ہمارے حکمرانوں کیلئے بھی ایک سبق ہے، جو کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پر راضی ہوگئے تھے۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے گویا بیت المقدس کی آزادی سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے اور ان لاکھوں مجاہدین کے خون کو فراموش کر دیا ہے، جنھوں نے قبلہ اول کی آزادی کیلئے شہادتوں کے نذرانے پیش کئے، یہ عربوں کیلئے ہی نہیں عالم اسلام کیلئے تباہی کا معاہدہ ہے، جس سے امت کے اندر تفریق و تقسیم گہری ہو جائے گی۔ عالم اسلام کیلئے آج موت کا دن ہے۔“ جناب سراج الحق نے اس موقع پر اعلان کیا کہ 16 اگست بروز اتوار فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم کرنے کے خلاف ہر شہر میں احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس موقع پر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت بیت المقدس کی حرمت کے تحفظ کا عہد کیا جائے گا۔

آج (15 اگست 2020ء کو) لاہور میں ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دیگر امور کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی بھی مذمت کی گئی۔ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا گیا ہے اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔ اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو انتہائی مکاری سے ٹرمپ کی صدی کی ڈیل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یو اے ای اور دیگر مسلمان حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صہیونیت کے آلہ کار نہ بنیں۔ حکومت پاکستان سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس موقع پر دھوکا نہ کھائے۔ کونسل نے ایک مرتبہ پھر عہد کیا ہے کہ قبلہ اول کی بازیابی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ او آئی سی کا اجلاس طلب کرے، جس میں متحدہ عرب امارات کو فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کیا جائے۔

اس اجلاس سے حیدر آباد سے کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ انھوں نے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کی سخت مذمت کی اور اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی حمایت میں نکلنے والی ریلیوں اور مظاہروں میں ملی یکجہتی کونسل کے قائدین بھی شرکت کریں گے۔ انھوں نے جماعت کی قیادت سے بھی کہا کہ وہ کونسل کی تمام جماعتوں کو ان میں شرکت کی دعوت دیں۔ جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے مذہبی امور کے وفاقی وزیر صاحبزادہ نور الحق قادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اسرائیلی ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کریں، جو قادری صاحب کے بقول پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قادری صاحب کو فقط نشاندہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسرائیل کے ایجنٹوں کے خلاف اقدام بھی کرنا چاہیے۔

راقم نے اس موقع پر قائدین کی خدمت میں عرض کی کہ خلیج تعاون کونسل کے دیگر اراکین بھی اس ڈیل کا حصہ بن جائیں گے۔ لہٰذا ہمیں ایک ہی مرتبہ یہ موقف اختیار کر لینا چاہیے کہ جو ملک بھی اسرائیل کو تسلیم کرے گا، ہم اس کے اقدام کی مذمت کریں گے۔ ہم قائداعظم کی پالیسی کے مطابق اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے ہیں اور اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ باہر سے لا کر آباد کیے گئے صہیونی اپنے اپنے گھروں کو واپس جائیں اور فلسطینی اپنے گھروں میں واپس آباد ہوں۔ راقم نے یہ بھی عرض کیا کہ یہودیت اور صہیونیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہم تاریخ میں یہودیوں کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ہیں، اب ہم تمام یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ ہم صہیونیوں کے خلاف ہیں اور ہم اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے ہیں۔ ہمارے اس موقف کو یہودی مذہب کی مخالفت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ راقم نے یہ بھی عرض کی کہ ہمارے دشمن واضح ہوچکے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور برہمن سامراج ہمارے دشمن ہیں۔ جو بھی ان کی تقویت کرے، ہم اس کی حمایت نہیں کرسکتے۔ راقم نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کا اس موقع پر سامنے آنے والا بیان قائداعظم کی پالیسی سے انحراف ہے، ہم فلسطین کے مسئلہ کے دو ریاستی حل کو کسی صورت قبول نہیں کرتے، کیونکہ ہم اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے ہیں۔

دوسری طرف فلسطین کے تمام گروہوں نے یو اے ای کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اقدام کے بعد فلسطین نے ابوظہبی سے احتجاجاً اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ تحریک آزادی فلسطین(PLO) کے مرکزی راہنما حنان عشراوی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ غاصب صہیونی رژیم نے خفیہ مذاکرات کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے انعام وصول کر لیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ خفیہ معاہدوں اور تعلقات کی بحالی کے بارے میں اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔ حماس نے اسے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ تحریک حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے غاصب صہیونی رژیم اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے متحدہ عرب امارات کے معاہدے کے بارے میں الجزیرہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر مبنی متحدہ عرب امارات کے اس معاہدے کا اعلان فلسطینی عوام کے خلاف انجام پانے والے صہیونی جرائم پر اسے انعام سے نوازنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری فلسطینی امنگوں کی کمر میں خنجر گھونپنے کے مساوی ہے، جو غاصب صہیونی رژیم کو پہلے سے بڑھ کر فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و ستم کرنے پر حوصلہ افزائی کرے گا۔

فلسطینیوں کی ایک اور مزاحمتی تحریک الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے سیکرٹری داﺅد شہاب نے اس حوالے سے عرب ای مجلے ”فلسطین الیوم“ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ابو ظہبی۔ تل ابیب دوستی معاہدے کو فلسطینی سرزمین پر اسرائیل قبضے کو جائز قرار دینے اور کرپٹ صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی گرتی ہوئی حکومت کو بند گلی سے نکالنے کی سازش قرار دیا۔ داﺅد شہاب نے اس معاہدے کو غاصب صہیونی رژیم کے سامنے گھٹنے ٹیک دینا اور متحدہ عرب امارات کی شکست فاش قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مظلوم فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی دہشت گردی میں اضافے کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں لائے گا۔ عالم اسلام کی آزاد منش قومیں اور حکومتیں بھی اس معاہدے کی مذمت کر رہی ہیں۔ چنانچہ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ "منافقانہ" ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے منافقانہ طرز عمل کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے، کیونکہ ترکی کے مطابق یو اے ای نے یہ فیصلہ اپنے مفادات کے لیے کیا ہے۔ اس تحریری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے خلاف ”فلسطینی عوام اور انتظامیہ کا سخت ردعمل جائز ہے۔“ یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ ترکی یو اے ای سے اپنا سفیر واپس بلانے پر غور کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کے مظلوم عوام اور دنیا کی تمام آزاد قومیں غاصب اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام ابوظہبی اور تل ابیب کی طرف سے اسٹریٹجک حماقت ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ وہ ممالک جو پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں اور وہ جو تسلیم کرنے کے لیے قطار بنائے کھڑے ہیں، سب نے اس معاہدے کو خوش آمدید کہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ معاہدے کی حمایت کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ غرب اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ جو ٹرمپ کی صدی کا ڈیل کا حصہ ہے، اسے اس کے نتیجے میں ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ بات معنی خیز ہے کہ یہاں ملتوی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہ التواء چند ہفتوں یا چند مہینوں کا بھی ہوسکتا ہے۔ جب تک لائن میں لگے ہوئے غلامانہ ذہنیت کے حکمران اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کر دیتے، یہ التوا جاری رہ سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مزید تیس فیصد فلسطینی سرزمین کے قبضے پر مبنی الحاقی منصوبہ ابھی میز پر موجود ہے۔ جب اسرائیل نے اس منصوبے کو ترک نہیں کیا تو متحدہ عرب امارات کس نیکی کا ثواب کمانے کے چکر میں ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے اس معاہدے کے بعد صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خفیہ دوروں سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران بنجمن نیتن یاہو نے کم از کم 2 مرتبہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے۔ عرب نیوز چینل المیادین کے مطابق، صیہونی اخبار نے لکھا کہ غاصب صیہونی وزیراعظم کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خفیہ دورے کچھ ہی گھنٹوں پر مشتمل ہوتے تھے، جبکہ بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اس سفر پر اسرائیلی قومی سلامتی کمیشن کا سربراہ بھی موجود ہوتا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو اس معاہدے کے لیے مجبور نہیں کیا بلکہ وہ تو خوشی خوشی اس معاہدے کا حصہ بنا ہے۔ غلامی کا یہ طوق انھوں نے خوشدلی سے پہن رکھا ہے، ایسے ہی غلام ہوتے ہیں، جو اپنے محبوب آقا سے کہتے ہیں:
اب تو زنجیر سے باندھو مجھے ہاروں سے نہیں



بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 172 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے

  • امریکی زوال کی نشانیاں اور اعداد و شمار(2)
      گذشتہ سے پیوستہ جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا…
    Written on جمعرات, 22 أكتوبر 2020 15:42 in سیاسی Read more...
  • امریکی زوال کی نشانیاں اور اعداد و شمار(1)
      معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج…
    Written on جمعرات, 15 أكتوبر 2020 08:03 in سیاسی Read more...