سوموار, 27 جولائی 2020 13:02


 
سید اسد عباس

تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ آج کل خبروں اور شہ سرخیوں کا حصہ ہے، جسے پنجاب اسمبلی نے بڑے اوچھے انداز سے منظور کیا اور اب اطلاعات کے مطابق اسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور شاید مناسب ترامیم کے ساتھ اسے دوبارہ پیش کیا جائے۔ سیانے کہتے ہیں کہ انسان ایسا کام کرے ہی کیوں جس پر اسے بعد میں پچھتانا پڑے۔ مذہبی بالخصوص مکاتب کے عقائد و نظریات کی حساسیت اس نوعیت کی نہیں ہوتی کہ ان کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

کسی بھی مذہبی مسئلے کے بارے میں قانون سازی کرتے ہوئے ہماری اسمبلیوں کو اسلامی نظریاتی کونسل یا مختلف مسالک کے علماء سے مشاورت ضرور کرنی چاہیئے۔ رکن اسمبلی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سکھا شاہی بنا لی جائے، جو من میں آیا قانون بنا دیا۔

ہماری صوبائی اور قومی اسمبلی کی یہ روایت رہی ہے کہ اس نے مذہبی معاملات کے حوالے سے کئی ایک متنازعہ بل پیش کیے، جنہوں نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے پیچیدہ تر کر دیا۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ہمارے اراکین اسمبلی کی علمی استعداد اس قابل ہے ہی نہیں کہ وہ کسی ایسے مسئلے کے بارے میں کوئی رائے دے سکیں۔ وہ اسمبلی میں پکنک کے لیے تشریف لاتے ہیں اور جو پکوڑے سموسے وہاں بن رہے ہوتے ہیں، ان پر پارٹی خواہش کے مطابق مہریں ثبت کرتے جاتے ہیں۔ باہر نکل کر اگر ان اراکین سے پوچھا جائے کہ جس بل کی منظوری کے لیے آپ نے ووٹ دیا ہے، اس کے بارے میں کیا علم رکھتے ہیں تو آئیں، بائیں، شائیں کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے یا ہماری قانون سازی کا سقم، بہرحال اس طرح کے مناظر سے ہمیں اکثر واسطہ پڑتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بل کا تعارف یوں لکھا گیا: ’’کتابوں میں موجود قابل اعتراض مواد کے سدباب کے لیے۔‘‘ نام اس بل کا تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ 2020ء رکھا گیا۔ بل کے پہلے صفحے پر ایکٹ کے حوالے سے ذمہ داران اور ان کے اختیارات پر بات کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کے شعبہ اطلاعات و نشریات "ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز" کو نئے قانون میں بااختیار بنایا گیا ہے۔ ایکٹ کے مطابق ڈی جی پی آر کسی بھی چھاپہ خانے اور کتابوں کی دکان پر چھاپہ مار کر اور معائنہ کرنے کے بعد کوئی بھی کتاب کسی بھی مواد کے حوالے سے ضبط کرسکے گا، چاہے وہ ابھی شائع ہوئی ہو یا نہیں۔ اس حوالے سے وہ کسی بھی عمل یا بھول چوک کی تحقیقات اور انکوائری کرکے تعین کرسکے گا۔ وہ موقع پر چھاپہ خانے کا ریکارڈ اور اکاؤنٹس چیک کرسکے گا یا اس کو پابند بنا سکے گا کہ وہ اس کے مقرر کردہ نمائندے کے دفتر میں وہ ریکارڈ پیش کرے۔

وہ اپنے اختیارات کسی بھی افسر کو منتقل کرسکے گا۔ کوئی بھی شخص ڈی جی پی آر کی اجازت کے بغیر کوئی بھی ایسی کتاب یا مواد شائع، نشر اور درآمد نہیں کرسکے گا، جو پہلے پاکستان یا بیرونِ ملک میں شائع یا نشر ہوچکی ہے۔ کوئی بھی کتاب یا مواد شائع یا نشر کرنے کے لیے ڈی جی پی آر کو ایک فارم پر درخواست دینا ہوگی۔ قانون کی دفعہ ایک کے تحت اگر وہ کتاب یا مواد قومی مفاد، تہذیب، مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے مخالف ہوگی تو ڈی جی پی آر یہ اجازت دینے سے انکار کرے گا۔ ڈی جی پی آر پابند ہوگا کہ وہ ہر وہ کتاب یا مواد جو مذہب کے حوالے سے ہوگا، اسے قانون کی دفعہ ایک اور تین کے تحت متحدہ علماء بورڈ کو بھجوائے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ڈی جی پی آر کو کسی مواد کے قابلِ اعتراض ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار دیئے جانے کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا ہے۔

ایکٹ میں درج ہے کہ کتاب صرف رجسٹرڈ چھاپہ خانے چھاپ سکیں گے اور ہر کتاب چھاپنے والا پابند ہوگا کہ وہ ہر تین ماہ کے بعد مقرر کردہ افسر کو چھاپے جانے والی کتابوں کی یادداشت جمع کروائے گا۔ اسی طرح کتابیں درآمد کرنے والے پر لازم ہوگا کہ وہ درآمد کے 15 روز کے اندر متعلقہ افسر کو درآمد شدہ کتابوں کی یادداشت جمع کروائے گا۔ ایچ آر سی پی کے اعلامیے کے مطابق انھیں تشویش ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف آزادی رائے بلکہ سوچ، ضمیر اور مذہب کی آزادی پر بھی قدغن لگائیں گے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کی طرف سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ضابطہ فوجداری کی دفعات 505 (2) اور انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 8 میں پہلے ہی نسلی اور فرقہ وارانہ نفرت انگیزی کے خلاف سزائیں موجود ہیں۔ ایسے میں اس نئی قانون سازی کی نیت کتابیں جلانے کی دقیانوسی رسم کی طرح ہے۔

اس ایکٹ کا ایک بڑا حصہ ان پابندیوں کی بات کرتا ہے، جن کا تعلق اسلام یا مذہب سے نہیں ہے۔ نئے ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر اس قسم کے مواد پر پابندی ہوگی، جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کی خود مختاری، سالمیت اور سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا مواد بھی نہیں چھاپا جائے گا، جو اخلاقی اقدار اور تہذیب کے خلاف ہو یا بے حیائی یا پورنوگرافی وغیرہ کی تشہیر کرے۔ ایسی تمام کتابوں اور مواد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جن میں دہشت گردی یا دہشت گردوں اور انتہاء پسندی وغیرہ کی تشہیر ہو یا فرقہ واریت، تشدد اور نفرت انگیزی اور اس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہو۔

ایکٹ کی دفعہ 3 کے کلاز ایف ایک نہایت متنازعہ تحریر ہے، جس کے مطابق ہر قسم کی کتب یا دیگر تصویری مواد جس میں اللہ، پیغمبرِ اسلام (ص)، انبیائے کرام (ع)، مقدس کتب، خلفائے راشدین (رض)، صحابہ کرام (رض)، فرشتوں، اہلِ بیت اور امہات المومنین (رض) کے علاوہ رسول اکرم (ص) کی چار دختران اور تین فرزندان نیز رسالت ماب (ص) کے نواسے نواسیوں کے حوالے سے کوئی گستاخانہ، ناقدانہ یا ان کی عزت کم کرنے والا مواد شامل ہوگا، پر پابندی ہوگی۔ اس کلاز کو دوبارہ غور سے پڑھیں، ان مقدس ہستیوں کی توہین اور گستاخی واقعاً مذموم ہے، تاہم بعض شخصیات کو اللہ اور اس کے معصوم پیغمبروں کی مانند نقد سے مبرا قرار دینا، ان کی معصومیت کا قائل ہونے کے مترادف ہے، جو اسلام کا مقصود و منشاء نہیں ہے۔ اس کلاز کے تحت پنجاب مین قرآن کریم، کتب احادیث، کتب تاریخ سب کو بین کرنا پڑے گا، جو شاید کسی بھی عاقل کے لئے قابل عمل نہیں ہے۔

ایکٹ کی دفعہ 8 کی کلاز 5 تا 11 میں پنجاب حکومت کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ کتابوں میں جہاں بھی اسلام کے آخری پیغمبر کا نام لکھا جائے گا، اس سے پہلے خاتم النبیین اور اس کے بعد عربی رسم الخط میں صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم لکھنا لازم ہوگا۔ اسی طرح دیگر انبیاء، صحابہ، خلفاء راشدین، امہات المومنین اور دیگر مقدس ہستیوں کے نام کے ساتھ بھی اسلامی تعریفی القابات لکھنا لازمی ہوگا۔ نہ فقط یہ بلکہ ایکٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس نام کے ساتھ رضی اللہ لکھنا ہے اور کس نام کے ساتھ علیہ السلام۔ ان تمام شقوں کا اطلاق ہر قسم کی ان کتابوں پر ہوگا، جو پنجاب میں شائع کی جائیں یا کسی دوسرے صوبے یا ملک سے پنجاب میں لائی جائیں۔ ان کلازز نے بھی پاکستانی معاشرے میں ایک بحث کو جنم دے رکھا ہے، اہل تشیع کی جانب سے اس حکم کو نامے کو مسترد کیا گیا ہے اور اپنے عقائد کے حوالے سے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ اگر اس کلاز پر بھی اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو شاید بہت سی اہم کتب جو منابع کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کو بین کرنا پڑے، جس میں نعوذ باللہ قرآن کریم سرCategory ہے، چونکہ اس میں جہاں بھی یہ اسماء آئے ہیں، وہاں اس پروٹوکول کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

ایکٹ کے تحت دو مختلف قسم کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔ ایک سزا ایکٹ کی دفعہ 3 ایف کی خلاف ورزی پر ملے گی، جو کہ موجودہ ضابطہ فوجداری 1860XLV کے تحت ہوگی۔ دوسری سزا پانچ سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی ہے، وہ دفعہ 3 ایف کے علاوہ باقی تمام دفعات کی خلاف ورزی کی صورت میں دی جا سکے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس، اہلبیت اطہار علیہ السلام، صحابہ کرام اجمعین اور تمام معتبر شخصیات و کتب کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے قوانین آئین پاکستان میں موجود ہیں۔ ان میں سے 295A , 295B, 295C, 298A, 298, کی دفعات مقدس شخصیات کی توہین پر سزا کا تعین کرتی ہیں۔ مذہبی عبادات کو روکنے پر دفعہ 296 جبکہ عبادت گاہوں کی توہین کے حوالے سے بھی 297 کے تحت بھی سزائیں موجود ہیں۔ اگر کوئی قادیانی اسلام کے خلاف متحرک ہو تو 298c کے تحت سزائیں دی جاتی ہیں، اسی طرح نفرت پر مبنی مواد اور تقریر کے لئے بھی مناسب قوانین موجود ہیں۔ ایسے میں یہ نئی شرارت فرقہ واریت کو کم کرنے کے بجائے اس کو مزید ہوا دے گی۔


بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 99 times Last modified on بدھ, 29 جولائی 2020 13:06

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« August 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30
31            

تازہ مقالے