بدھ, 22 جولائی 2020 15:40


 
سید اسد عباس

اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس سے معروف صحافی مطیع اللہ جان کو جبری طور پر اغوا کر لیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق پولیس اور سول گاڑیوں میں موجود چند سرکاری اور سول اہلکاروں نے صحافی مطیع اللہ جان کو ایک گرلز سکول کے سامنے سے اغوا کیا، جہاں وہ اپنی بیگم کو چھوڑنے آئے تھے۔

مطیع اللہ جان نے اس اغوا کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کی، تاہم اہلکاروں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب وہ مزاحمت نہ کر پائے۔ اس دوران میں مطیع اللہ جان نے اپنا موبائل سکول کی چار دیواری کے اندر پھینکا، جسے ایک پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکار نے واپس لے لیا۔ مطیع اللہ جان نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا ہے اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے صحافت کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز سے منسلک رہ چکے ہیں، تاہم آج کل وہ یو ٹیوب پر اپنا چینل چلا رہے تھے۔ ان کے والد فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور خود انھوں نے بھی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد انھوں نے یہ ملازمت چھوڑ دی تھی۔

اس سے قبل سال 2018ء میں عالمی نشریاتی اداروں سے وابسہ ایک صحافی طہ صدیقی نیز سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ گل بخاری کو بھی اغوا کیا گیا۔ طہ صدیقی تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے، تاہم گل بخاری کو اگلے ہی روز رہا کر دیا گیا۔ عالمی میڈیا پر پاکستان سے صحافیوں کے اغوا کی خبروں نے کھلبلی مچا رکھی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے بھی اس مسئلہ پر بات کر رہے ہیں۔ الحزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 1992ء سے اب تک پاکستان میں 61 صحافی اپنے پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے سبب قتل ہوچکے ہیں۔ ایک معروف صحافی ظہیر الدین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص طرز عمل کی ذریعے صحافیوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں صحافیوں کا لاپتہ ہونا، نوکریوں سے برطرف کرا دیا جانا، مار پیٹ، کردار کشی یا پیغامات کے ذریعے تنبیہ کرنا شامل ہے اور کبھی نیب یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ان کے خلاف مقدمات کا اندارج کیا جاتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ یہ صحافی کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں کہ جن کو اغوا کرکے ان کے خلاف تفتیش کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق تو ان کا ایک ہی قصور ہے کہ وہ ملک میں موجود طاقتور اداروں کے خلاف کھل کر لکھتے اور بولتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق مغوی کے بھائی نے موقف اختیار کیا ہے کہ مطیع اللہ سینیئر صحافی ہیں اور وہ حکومتی اقدامات کے ناقد ہیں۔ اس درخواست میں وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور اسلام آباد پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالتی نوٹس سے کچھ دیر پہلے وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے پریس کانفرنس سے خطاب میں مطیع اللہ جان کے اغوا کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی ان کے پاس اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات موجود نہیں ہیں، لیکن یہ تو طے ہے کہ ان کو اغوا کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے سے اُن کے سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ہم سڑک پر جاتے ہوئے خوف زدہ ہیں، یہاں تک کہ اپنے قلم کو پکڑتے ہوئے بھی خوف زدہ ہیں۔ جب قلم کو پکڑیں گے تو کیا معلوم کہ سچ کی کس جہت کو غداری سمجھا جائے گا۔ مطیع اللہ جان نے کچھ عرصہ قبل ایسی ہی صورتحال کے بارے کہا تھا کہ کچھ ادارے ریاست کے ٹھیکدار بن گئے ہیں، لیکن ریاست آئین کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں نے جان بوجھ کر ایک ایسا حوا کھڑا کیا ہے، جو آئین سے بھی ماورا ہے، یہ غلط ہے۔ اگر کوئی ریاست مخالف ہے تو وہ جو شخص آئین کو نہیں مانتا، جو آئین کے اداروں کو خلاف سازش کرتا ہے۔

حقائق جو بھی ہیں، صحافیوں یا کسی بھی گروہ کی آواز کو دبانے کی ایسی کوشش نہایت مذموم ہے، جس سے دنیا بھر میں ملک کی سبکی ہو، دشمنوں کو بات کرنے کا موقع ملے، پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ آوازوں کو دبانے اور رائے کو بدلنے کی یہ نئی ٹیکنالوجی ہم نے نہ جانے کہاں سے لی ہے، جس سے وقتی طور پر تو شاید خاموشی ممکن ہے، لیکن ریاست پر اس کے دیر پا منفی اثرات سے انکار بھی ممکن نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں ایسے حربوں سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ اگر یہ افراد واقعی کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جائیں، تاکہ باقاعدہ مقدمات قائم کرکے حقائق کو سامنے لایا جاسکے، بغیر ثبوت کے جبری گمشدگی سے ملک و قوم ہی بدنام ہوگی۔


بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 139 times Last modified on بدھ, 22 جولائی 2020 15:45

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« September 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30        

تازہ مقالے