سوموار, 18 مئی 2020 15:04


 
سید ثاقب اکبر نقوی

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک بہت طاقتوراورمضبوط ریاست ہے۔ اس لئے بھی کہ اسے دنیا کی بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے نیز وہ ایک ایسی متحد قوم ہے جو بے پناہ اقتصادی وسائل رکھتی ہے، جس کا امریکہ جیسی طاقت کے اوپر بہت اثرورسوخ ہے اورجس کے پاس نہایت جدید اورطاقتور ذرائع ابلاغ موجود ہیں۔

اس لئے بھی کہ آج اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے۔علاوہ ازیں وہ بڑے بڑے عرب ممالک کوزبردست فوجی شکستوں سے ہمکنار کرچکا ہے۔ بیشتر عرب اور مسلمان ممالک جو پہلے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے تھے اب اُسے ظاہراً یا باطناً تسلیم کرنے لگے ہیں۔سعودی عرب بھی دو ریاستی نظریے کی بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔ ترکی کے ساتھ اسرائیل کے فوجی تعلقات ہیں۔ پاکستان کے بعض اہم عہدیدار اسرائیل کو مشروط طورپر تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر چکے ہیں۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اسرائیلی وزیر خارجہ سے ترکی میں ملاقات کر چکے ہیں۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف یہودیوں کی گڈبکس میں سمجھتے جاتے تھے۔ایسے تمام عناصر کے پیش نظریہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک کامیاب ریاست کی حیثیت سے باقی رہے گا۔ تاہم دوسری طرف تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ بعض مبصرین، بعض اہم عالمی مدبرین اور عالمی سیاست کے بعض اہم کھلاڑیوں کی رائے ہے کہ اسرائیل باقی نہیں رہے گا۔ آج جب کہ پوری دنیا میں یوم القدس منایا جارہا ہے۔ہم سطور ذیل میں ان آراء ودلائل کی طرف اشارہ کریں گے جن کے مطابق اسرائیل بالآخر نابود ہوجائے گا:

۱۔ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر ایک خود ساختہ اور مسلط کی گئی (IMPOSED) ریاست ہے۔ یہ ایک حقیقی ریاست نہیں بلکہ دنیا بھر سے،مختلف براعظموں سے، مختلف ممالک سے، مختلف حیثیت اور مزاج کے لوگوں کو گزشتہ تقریباً اسی سال میں یہودیوں کو اکٹھا کرکے بنائی گئی ہے۔ وہ بھی اس طرح سے کہ اس کے اصل باسیوں کو ان کے گھر بار اور زمینوں سے محروم کرکے،انھیں ظلم،دھونس،دھاندلی اور جبر سے دربدر کرکے اسرائیل نام کی ایک نئی قوم کھڑی کی گئی ہے۔ صدیوں پرانے عرب جواصلاً اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں وہ یا جلا وطنی کی زندگی گزاررہے ہیں یا چھوٹے چھوٹے علاقوں میں محصورکردیئے گئے ہیں لیکن ساٹھ سال سے زیادہ کی مدت گزرنے کے باوجود ان کے دل کو اپنے گھر بار کی طرف لوٹ جانے کی امنگ سے محروم نہیں کیا جاسکا۔

۲۔ صہیونی ریاست کے پہلے صدر ڈیوڈبن گورین(DAVID BIN GURIAON)نے کہا تھا کہ اسرائیل اس دن ٹوٹ جائے گا جب اسرائیل کو اپنی پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کون نہیں جانتا کہ یہ پہلی شکست اسرائیل کو جولائی 2006ء میں حزب اللہ کے ہاتھوں ہوچکی ہے۔ حزب اللہ کسی حکومت کا نام نہیں بلکہ صرف 4ہزار سرپر کفن باندھے ان سر فرشوں کی ایک تنظیم ہے جن کا تعلق جنوبی لبنان سے ہے اور جو اپنی سرزمین کواسرائیلی قبضے سے نجات دلانے کے لئے معرض وجود میں آئی تھی، جس کے پاس نہ ٹینک ہیں، نہ فضائیہ ہے، نہ بحریہ ہے اورنہ اعلیٰ جدید اسلحہ سے مسلح کوئی باقاعدہ فوج ہے۔ یہ جنگ غزہ میں فلسطینیوں پر ہونے والے بدترین تشدد کا بدلہ لینے کے لئے حزب اللہ کے ہاتھوں 2اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کے جواب میں شروع ہوئی۔ 33روزہ اس جنگ کا نتیجہ اسرائیل کا اپنا اعتراف شکست ہے۔ 

۳۔ اسرائیل کی فوجی شکست کے بعد عرب عوام اور فلسطینی عوام کے اندرایک نیا اعتماد پیدا ہوگیا ہے۔ اب وہ اسرائیل کو ناقابل شکست نہیں سمجھتے۔ غزہ اس وقت فلیش پوائنٹ کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ 15لاکھ سے زائد آبادی کا یہ خطہ حماس کواپنا ترجمان اور نجات دہندہ سمجھتا ہے۔ اس علاقے پر بار بار اسرائیل کی وحشیانہ حملوں اور قتل وغارت کے باوجود یہاں کے باسی نہ اسرائیل کے سامنے سر جھکانے پرآمادہ ہیں اورنہ حماس کی حمایت ترک کرنے پر۔ یہ خطہ مکمل طور پر حماس کے کنٹرول میں ہے اور یہ بات اسرائیل کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ حماس نے اپنے شہدا کا انتقام لینے کے لئے مارچ 2008ء میں جن راکٹ حملوں کا سلسلہ شروع کیا وہ مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور 30سے 35کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسرائیل آج تک ان حملوں کوروکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ صرف مارچ کے قتل عام کے جواب میں اسرائیل پر 2روز میں 24سے زیادہ راکٹ داغے گئے۔ مالی نقصان سے بڑھ کر یہ اسرائیل کیلئے نفسیاتی نقصان تھا کہ وہ حزب اللہ کے راکٹ حملوں  کی طرح سے اب غزہ سے آنے والے راکٹوں کو بھی روکنے میں ناکام ہے۔اس وقت تقریباً 10لاکھ سے زیادہ صہیونی ان راکٹوں کی زد میں آچکے ہیں اور وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اسرائیل اگر ان کوکہیں اور بسانے کا منصوبہ بناتا ہے تو یہ اس کی ایک اوربہت بڑی شکست ہوگی اور اسرائیل کی ساری آبادی اپنے آپ کو مزید غیرمحفوظ سمجھنا شروع ہوجائے گی۔فلسطینی مزاحمت نے اسرائیل کو پیچھے کی طرف جاتی ہوئی اور تنزل پذیر ریاست کی سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔

۴۔ لبنان جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیلی معاشی خسارے سے دوچار ہوا ہے جبکہ غزہ میں انتفاضہ نے جہاں اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاروں کو خطرے سے دوچار کردیا ہے وہاں فلسطینی بھی ایک نئے عزم سے روشناس ہوئے ہیں اوروہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کا بت چکنا چور ہورہاہے اوراس کی معیشیت کے غبارے سے بھی ہوابڑی تیزی سے نکل رہی ہے۔

۵۔ اسرائیلی یونیورسٹیوں میں ہونے والے ایک جدید سروے کے مطابق نوجوان اسرائیلیوں کے لازمی فوجی تربیت کے رجحان میں نمایاں کمی آئی ہے اور وہ اس سے چھٹکارہ چاہتے ہیں اسرائیل سوسائٹی کا بالعموم اور اسرائیلی افواج کا بالخصوص حالیہ ناکامیوں کے نتیجے میں حوصلہ پست ہوا ہے۔

۶۔ فلسطینی عوام میں حزب اللہ اور ایران کے لئے محبت اوراعتماد کا جذبہ بڑھا ہے ان کے روابط بہترسے بہتر ہورہے ہیں جبکہ عرب حکمرانوں کو وہ لوگ بے وفا اورمصلحت کوش سمجھتے ہیں اوران سے کسی قسم کی توقع نہیں رکھتے جبکہ ایران کا موقف اسرائیل کے حوالے سے پوری دنیا کو معلوم ہے۔

۷۔ ایران کا ذکر آیا تو یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ایرانی قیادت اسرائیل کے وجود کو ناجائز سمجھتی ہے اور ایرانی صدر بارہا واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل آخر کار ختم ہو جائے گا۔ قبل ازیں ایران کی اسلامی حکومت کے بانی امام خمینیؒ بھی یہ پیش گوئی کر چکے ہیں کہ اسرائیل نابود ہو کر رہے گا۔ عالمی سیاست کے حوالے سے امام خمینیؒ کی کئی ایک پیش گوئیاں پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر انھوں نے سوویت یونین کے زوال کی پیش گوئی کی تھی جو جلد پوری ہوگئی اور اسی طرح انھوں نے عرب ریاستوں کو خبردار کیا تھا کہ صدام ایران سے فارغ ہوکر ان پر حملہ کرے گا۔کویت پر عراقی افواج کی چڑھائی کی صورت میں یہ پیش گوئی بھی پوری ہوگئی۔ علاوہ ازیں دن بدن ایران کو مشرق وسطٰی میں زیادہ پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور اس کی تازہ ترین مثال عراق میں امریکہ کی موجودگی کے باوجود عراقی حکومت کے ساتھ ایران کے بہتر روابط ہیں۔ آج یہی ایران فلسطینی کاز کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔

۸۔ اپریل میں لبنان میں متعین برطانوی سفیر محترمہ فرانسز گانی نے ایک سیمینار میں لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں ہمارے پیش روؤں نے جو غلطیاں کی ہیں ان کو سدھارنا ہمارے لئے ناممکن ہے لیکن عدل و انصاف پر مبنی امن و سلامتی کے لئے کوشش کرنا ہمارے لئے یقیناً ممکن ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ دیگر ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ فلسطین کا دورہ وہاں کے عوام کی زبوں حالی اور خواری کو دیکھنے اور سمجھنے کی نیت سے اور اس نیت سے کریں کہ ایسی پالیسی اختیار کی جاسکے جس سے اہل فلسطین اس صورتحال سے باہر آجائیں۔ اگرچہ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاتھ بند ھے ہوئے ہیں لیکن اس سے یہ ضرورمعلوم ہوگیا ہے کہ فلسطینیوں کی مظلو میت اور ان کی مبنی برحق جدوجہد کو بیدار ضمیر رکھنے والے آخر کار قبول کررہے ہیں۔

۹۔ اسرائیل میں گذشتہ برس کیے گئے ایک سروے میں 25فیصد رائے دہندگان نے اسرائیل کے مستقبل سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان شہریوں نے کہا کہ انھیں یقین نہیں کہ اسرائیل ایک طویل عرصے تک قائم رہ سکے گا۔ یہ سروے ایک مقامی اسرائیلی اخبار میں ستمبر 2007ء میں شائع ہوا۔

۰۱۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہونی چاہیے کہ دنیا میں یہودیوں کی ایک قابل ذکر تعداد اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کے وجود کو تورات کی تعلیمات کے خلاف سمجھتی ہے۔ امریکہ میں مقیم ایک اہم یہودی مذہبی پیشوا یسرائیل نے اسرائیلی ریاست کو ایک غیر شرعی ریاست قرار دیا ہے۔مڈل ایسٹ سٹڈی سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک میں ایک پریس بریفینگ کے دوران انھوں نے کہا کہ  اسرائیلی ریاست تورات کی رو سے غیر شرعی ہے کیونکہ ہماری شریعت میں کسی قومی اور یہودی سلطنت کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ یہودی پیشوا نے کہا کہ فلسطین جائز طور پر مسلمانوں کا ملک ہے اور مسجد اقصٰی انہی کی ہے۔ رہا، ہیکل سلیمانی، تو وہ اب مٹ چکا ہے لہٰذا یہودیوں کو مسجد اقصٰی کی زمین نہیں کھودنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہودیوں نے دنیا بھر سے یہودیوں کو مروانے کیلئے فلسطین پر مسلط کردیا ہے۔مذہبی پیشوا یسرائیل جو ایک مذہبی تنظیم ”حرکت ناطوری“ کے سربراہ ہیں نے کہا کہ ان کی جماعت اسرائیل کو بطور ایک ملک کبھی تسلیم نہیں کریگی۔

۱۱۔ حزب اللہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اسرائیل کی سیاست میں جواکھاڑ پچھاڑ شروع ہوئی اس کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جارہے ہیں۔اسی موقع پر اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ سے استعفیٰ کا مطالبہ شروع ہوگیاتھا جو بالآخر ان دنوں میں پورا ہوا۔اگرچہ ظاہر یہی کیا جارہا ہے کہ یہ استعفیٰ اُن پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کانتیجہ ہے لیکن مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین سے یہ امر مخفی نہیں کہ اس کے پس منظر میں کیا حقیقیں کارفرماہیں۔دلچسپ امریہ ہے کہ اُن کی متوقع جانشین زپی لیونی موساد کے لیے بطور ایجنٹ کام کرتی رہی ہیں۔

ان تمام نکات کا جائزہ لیا جائے تو ان لوگوں کی رائے مشکوک نظر آتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اس سرزمین پر اسی طرح باقی رہے گا۔ اسرائیل کو امام خمینیؒ نے بجا طور پرایک ناسور قرار دیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بعض مبصرین کی رائے میں مغربی سامراج نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے یہودیوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرکے انھیں خطرے میں جھونک دیا۔ آج مسلمانوں اور خاص طور پر عربوں کی ساری نفرتوں کا شکار اسرائیل میں باہر سے لاکر بسائے گئے یہودی ہیں۔خطرے میں وہ ہیں اور مفادات امریکہ اور اس کے اتحادی حاصل کررہے ہیں لہٰذا اگر کسی دن مغربی رائے عامہ تبدیل ہوگئی یا عرب عوام اٹھ کھڑے ہوئے یا فلسطینی زیادہ منظم اور موثر ہوگئے تو اسرائیل کا وجود ہرگز باقی نہیں رہے گا۔ فلسطین کی سرزمین پر باہر سے آنے والے یہودیوں کا مفاد آج بھی اس میں ہے کہ وہ اپنی اپنی سرزمینوں کی طرف لوٹ جائیں اور امن و اطمینان کی زندگی بسر کریں۔

 

بشکریہ : مبصر ڈاٹ کام

Read 60 times

تازہ مقالے

تازہ مقالے