ہفته, 09 مئی 2020 17:11



دسمبر کے آخرمیں کرونا نامی وائرس چین کے علاقے ووہان سے اپنی تباہکاریوں کے ساتھ  پھیلنا شروع ہوا دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنے پنجے پوری دنیا میں گھاڑ لیے طاقتور ترین اور اپنی ایجادات کا لوہا منوانے والے ممالک بھی اس کے وار سے نہ بچ سکےاس وقت پوری دنیا میں تقریباً جزوی لاک ڈون ہے زمینی اور ہوائی راستے بند ہیں۔

پاکستان سمیت پوری دنیا کے کاروبار بری طرح متاثر ہو چکے ہیں ہر آئے دن دنیا اپنا معاشی استحکام کھورہی ہے اس ساری صورتحال کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کرونا وایرس سے کیا بدلا؟

جی ہاں بہت کچھ بدل چکا ہے دنیا میں سپر پاور کے نعرے لگانے و الا آج دنیا سے اپنی بے بسی کا بار بار اعلان کر رہا ہے  وہ امریکہ کہ جو اپنی طاقت منوانے کے لئے پوری دنیا میں کھربوں ڈالر خرچ کر کے خون کی ہولی کھیلتا رہا آج مدد کا طلبگار ہےبرطانیہ کا وزیراعظم اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے 

 اسرائیل میں بھی کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں اب تک کورونا کی وبا3 7زندگیوں کے چراغ گل کرچکی ہے۔ورلڈ او میٹرز کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل میں کورونا وائرس کے 3 مریض ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر3 7 ہوگئی ہے۔ منگل کے روز اسرائیل میں کورونا وائرس کے 102 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 9 ہزار 6 ہوگئی ہے۔اسرائیل میں اب تک 1 لاکھ 9 ہزار 724 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں ،  153 مریض تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں داخل ہیں۔

 اسرائیل کے وزیر صحت اور دوسرے چند عہدے داروں میں بھی کرونا وایرس کی تصدیق ہونے کے بعد خود کو ایسولیٹ کر رکھا ہےاس کرونا نے تھوڑے عرصے میں بڑے بڑوں کے پول کھول کر رکھ دیئے ہیں 
اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کرونا نے تو زندگی کے ہر شعبے کو تبدیل کر کے رکھ دیااور ایک بار پھر انسانيت کو متوجہ کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اسی ایک ذات کی محتاج ہے اگرچہ اس کی پرواہ نہیں کی گئی اور اس ذات کے بنائے ہوئے قوانین کی  خلاف ورزی عام ہو گئی تھی مظلوموں کی حمایت میں نہ بولنے والے افراد آج کس کیفیت سے دوچار ہیں وہ کرونا وایرس کو سیاسی رنگ دینے والے اس سے کس قدر خوفزدہ ہیں اور آج  سرحد، ملک، مسلم ،غیر مسلم، امیر یا پھر غریب گورے اور کالے کی تمیز کیے بغیر کسی طرح اس وائرس نےمصنوعی تميز کو کچل دیا جو اس انسان نے بنا رکھی تھیں۔

سوال يہ پیدا ہوتا ہے کہ کرونا سے پہلے والی دنیا اور بعد والی کے درمیان کوئی فرق پیدا ہو گا یا نہیں اگر کرونا کی وبا یہاں پر روک جائے تو اس کا جواب کچھ اور اگر جاری رہی تُو اس کا جواب کچھ اور ہے، جبکہ اس کا امکان دکھائی نہیں دیتا کے ایک ہفتہ عشرے کے اندر کرونا کی ہولناکیاں سمٹ کر واپس ہو جائیںاس مختصر سے عرصے میں میں جس شدت کا جھٹکا دنیا پر حاکم نظام کو لگ چکا ہے خود اس کو سنبھالنے کے بہت کچھ کرنا ہو گاجبکہ مزید اسکے جاری رہنے کا امکان موجود ہے کہ دنیا پر حاکم نظام زمین بوس ہوگئی جب سیلاب بند کے کسی ایک حصے کو شگاف ڈال دیتا ہے تُو باقی بند ریت کے گرونے کی طرح گرنا شروع ہو جاتا ہے ہماری رائے یہ ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا اس سے پہلے کی دنیا سے مختلف ہو گی.


 
* * * * *
Read 242 times Last modified on ہفته, 09 مئی 2020 17:17

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے