الجمعة, 03 اپریل 2020 07:18



 
سید ثاقب اکبر نقوی

یک طرف امریکا کو کرونا وائرس کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں اور دوسری طرف ایسی خبریں آرہی ہیں، جن کے مطابق امریکی افواج عراق میں کسی نئی مہم جوئی کی تیاری کر رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا یہ غلطی کرے گا؟ عام حالات ہوتے تو شاید یہ کہا جاسکتا تھا کہ امریکا اپنے مفادات کے حصول یا ان کی حفاظت کے لیے کوئی بھی کارروائی کرسکتا ہے

لیکن ہماری رائے میں اس وقت عراق میں فوجی مہم جوئی امریکا کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔ کرونا وائرس کے نتیجے میں امریکا میں بے روزگاری کی وجہ سے حکومت کو امداد کے لیے چھیاسٹھ لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جبکہ وائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد آج (3 اپریل2020ء) کے اعداد و شمار کے مطابق 6000 تک جا پہنچی ہے، جبکہ وائرس کا شکار ہو جانے والوں کی تعداد میں بھی امریکا دنیا کے تمام ممالک سے آگے نکل چکا ہے۔ خود امریکی صدر کے مطابق اموات کی تعداد ایک سے دو لاکھ کے مابین ہوسکتی ہے۔

کرونا کے وار سے امریکی فوجی بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس وائرس کا شکار ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بیان کی جا رہی ہے۔ بہت سے فوجی اہل کار ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے اعلان کیا ہے سکیورٹی کی تشویش کے پیش نظر دفاعی شعبوں سے وابستہ اہل کاروں کے کرونا میں مبتلا ہونے کی خبریں جاری نہ کی جائیں۔ مزید براں فوجی مشقیں بھی روک دی گئی ہیں۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے روز ولٹ کے کیپٹن برٹ کوروزیر کا پینٹاگون کے نام ایک خط منظر عام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے بحری بیڑے میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے اور ان کے سیلرز کی جان بہت خطرے میں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں، لہٰذا ضرورت نہیں کہ میرے سیلرز ہلاک ہو جائیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ کرونا کا بحری بیڑے پر پھیلاﺅ بہت تیز رفتار ہے اور کنٹرول کے قابل نہیں، لہٰذا اس تمام بحری بیڑے کو قرنطینہ بنا دیا جائے۔ یاد رہے کہ اس بحری بیڑے پر چار ہزار سے زیادہ کا عملہ موجود ہے اور یہ بیڑا جنوبی کوریا اور جاپان کے جنوب میں بحرالکاہل میں موجود ہے۔ اس خط کے منظر عام پر آنے کے بعد جہاز کے کمانڈر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ دولت امریکا کے پاس ہے اور اسی نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دو کھرب ڈالر مختص کیے ہیں۔ ادھر یہ صورت حال ہے اور اُدھر عراق میں امریکا کی فوجی نقل و حرکت میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس نے دو ہفتے پہلے اپنے نسبتاً چھوٹے تین فوجی اڈے عراقی فورسز کے حوالے کیے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عراق کی پاپولر مزاحمتی فورسز کے زیادہ نشانے پر تھے۔ ان اڈوں سے امریکا نے اپنا بھاری اسلحہ اپنے نسبتاً مضبوط اور بڑے فوجی اڈوں میں منتقل کر دیا ہے۔ عراقی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ عراق میں امریکا کی حالیہ نقل و حرکت اس کی عقب نشینی نہیں بلکہ اپنی افواج کی محدود فوجی اڈوں پر ازسر نو تعیناتی ہے، تاکہ اس طرح وہ ان سے عراق میں فوجی بغاوت اور عراقی مزحمتی فورسز پر حملے کے لیے استفادہ کرسکے۔

اس سلسلے میں واشنگٹن کے روزنامہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ان تجزیہ کاروں کی رائے درج کی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مزاحمتی قوتوں اور عراق کی قومی شخصیات پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کامزید کہنا ہے کہ امریکا نے واضح طور پر سردار قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت کی ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور اب وہ مزاحمتی قوتوں کی طرف سے شدید ردعمل پر پریشان ہے۔ اس لیے اس نے ان کے اڈوں پر حملے کا فیصلہ کیا ہے۔ درایں اثناء حزب اللہ عراق نے بھی اعلان کیا ہے کہ عراق میں امریکا کی نقل و حرکت فقط اپنی افواج کی ازسرنو تقرری نہیں ہے بلکہ اس نے ان اڈوں کو خالی کیا ہے، جو اس کی نظر میں محفوظ نہیں تھے اور اب نسبتاً زیادہ محفوظ اڈوں پر انہیں منتقل کیا گیا ہے، لہٰذا امریکا عراق میں سیاسی بغاوت اور مزاحمتی فورسز کے اڈوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، کیونکہ وہ انہیں اپنی سازشوں کے راستے میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔

دولت قانون جو عراق میں متعدد جماعتوں کا سیاسی اتحاد ہے، نے اعلان کیا ہے امریکا جارحانہ صہیونی منصوبوں کا حامل ہے، اس لیے عراق میں اس کی موجودگی نہ فقط اس ملک کی حاکمیت کے خلاف جارحیت ہے بلکہ اس نے عراق کو بحرانوں سے دوچار کر رکھا ہے، ان میں سب سے اہم بحران جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے دہشت گردانہ کارووائی میں شہادت سے پیدا ہوا ہے۔ ایک اور مزاحمتی گروہ تحریک الابدال کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کمال الحسناوی نے بھی اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے پھر کسی خطا کا ارتکاب کیا تو مزاحمتی قوتوں کا جواب بہت سخت ہوگا۔ الحسناوی نے یہ خبر فاش کی کہ انہیں عراق کے مستعفی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی طرف سے پیغام موصول ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اس سلسلے میں ٹھوس اطلاعات موجود ہیں کہ امریکا الحشد الشعبی اور مزاحمتی فورسز کے اڈوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ الحسناوی نے مزید کہا کہ ان اطلاعات کے پیش نظر الحشد الشعبی اور مزاحمتی قوتوں پر کسی نئے حملے کا جواب ہم امریکا کو بہت سخت دیں گے۔

یہ تمام ردعمل ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ عراق میں تین امریکی فوجی اڈوں پر مزید فوجی طیارے اتارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ نئے آنے والے ہوائی جہازوں میں امریکی فوج اور فوجی مشیر موجود ہیں۔ امریکی وزارت دفاع نے بھی 2 اپریل کو اعلان کیا ہے کہ امریکی اڈوں پر میزائل سسٹم منتقل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں امریکی فوجی ترجمان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے خلاف ٹویٹ وزارت خارجہ کے مشیروں کے دباﺅ پر کیا ہے، جنہوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ عوام اور مخالف سیاسی شخصیات کا ملک کے کرونا کے باعث ہونے والے حالات سے رخ موڑنے کے لیے عراق میں فوجی کارروائی شروع کریں اور ایک مصنوعی فوجی بحران پیدا کر دیں۔ دوسری طرف پینٹاگون اور سی آئی اے اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کی رائے میں ایسا کرنا انتہائی خطرناک راستے پر قدم رکھنے کے مترادف ہے، جس کے نتائج کا اس وقت اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یکم اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا کہ ایران اپنے حامی گروپوں کے ساتھ مل کر عراق میں امریکی افواج پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پر ردعمل سامنے آیا ہے، چنانچہ ایران کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد حسین باقری نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت پر ہماری گہری نظر ہے اور اگر ایران کی سکیورٹی کو ذرہ بھر خطرہ ہوا اور معمولی سی بری نظر سے بھی ہماری طرف دیکھا گیا تو ہمارا جواب شدید ترین ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتوں میں عراق میں امریکی اڈوں کے خلاف ہونے والے اقدامات عراقی عوام اور مزاحمتی قوتوں کا سردار قاسم سلیمانی اور جنرل ابو مہدی المہندس جو عراقی مزاحمت کے نائب کمانڈر تھے، کی امریکی دہشت گردانہ حملے میں شہادت پر فطری ردعمل ہے اور اس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکا ایران کے خلاف اس حوالے سے جو پراپیگنڈا کر رہا ہے، وہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔

ایک اور ایرانی جنرل یحییٰ صفوی نے کہا کہ عراقی پارلیمان کی طرف سے امریکی افواج کے انخلا کے قانون کی منظوری کے بعد ان کی وہاں موجودگی غیر قانونی ہے۔ عراقی عوام امریکا کی غیر قانونی موجودگی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان حالات میں امریکا اور امریکی فوج کی طرف سے عراق کی قومی خود مختاری کے خلاف اقدام امریکا اور اس کی فوج کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ جنرل یحییٰ صفوی نے کہا دنیا اور مغربی ایشیاء میں امریکا کی سیاسی اور فوجی قوت کے زوال کا دور شروع ہوگیا ہے اور امریکی فوجی جانتے ہیں کہ کوئی بھی اقدام ان کے مفاد میں نہیں ہے۔ جہاں تک امریکا کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ اس نے عراق کو داعش سے نجات دلائی ہے تو اس کے خلاف عراقی وزارت دفاع کے ترجمان یحییٰ رسول نے کہا ہے کہ یہ عراق کی فوج تھی، جس نے ملک کی حفاظت کی اور عراق کی سرزمین کو دہشت گرد تنظیم داعش سے نجات دلائی اور اب بھی اس سے مقابلہ کر رہی ہے۔ یحییٰ رسول نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج عراق داعشی عناصر کا پیچھا کرنے کی پہلے سے زیادہ طاقت رکھتا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ تیار ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ الحشد الشعبی عراقی فوج کا قانونی حصہ ہے۔

بعض عراقی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب سے وابستہ عناصر بھی عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرسکتے ہیں، تاکہ ان کا الزام عراق کی مزاحمتی قوتوں پر ڈالا جاسکے اور امریکا کو ان کے خلاف کارروائی پر ابھارا جا سکے۔ امریکی اڈوں اور مراکز پر گذشتہ دنوں میں بھی ایسی کارروائیاں ہوئی ہیں، جن سے عراق کی مزاحمتی قوتوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ان حالات میں امریکی کانگرس میں ڈیمو کریٹ راہنماﺅں نے امریکی صدر کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی قسم کے فوجی اقدام سے پہلے کانگرس سے مشورہ کریں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، کرونا کی وحشت سامانیاں امریکا کو اپنی گرفت میں لے رہی ہیں، امریکا کے لیے کوئی نئی مہم جوئی بہت مشکل ہوگی، کیونکہ اس کے خلاف خود امریکا میں بہت بڑا ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ اس کا کوئی اور نتیجہ ہو یا نہ ہو، آئندہ صدارتی انتخابات میں اس کا منفی سایہ ڈونلڈ ٹرمپ پر ضرور پڑے گا، کیونکہ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ امریکا عراق میں کوئی فوجی کارروائی کرے تو اس کا نتیجہ امریکا کے حق میں نکلے گا۔ امریکا کو بظاہر فضائی برتری حاصل ہے، لیکن ایسی ہی فضائی برتری امریکا اور اس کے اتحادیوں کے یمن میں کام نہیں آسکی، عراق کی حالت تو اس سے کہیں بہتر ہے۔

بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 114 times

تازہ مقالے

تازہ مقالے