ہفته, 04 اپریل 2020 07:18


 
سید اسد عباس

کورونا اس وقت امریکہ اور یورپ میں خون آشامیاں جاری رکھے ہوئے ہے، امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد چند روز میں 6000 سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ دنیا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 55 ہزار 132 ہوگئی ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ 41 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ دنیا میں اب تک دو لاکھ 21 ہزار 262 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔


اس مرض سے متاثر ہونے والے پانچ سرِCategory ممالک کے اعداد و شمار امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق کچھ یوں ہیں:
اٹلی: 13 ہزار 915 اموات، متاثرین ایک لاکھ 15 ہزار 242
سپین: 10 ہزار 935 اموات، متاثرین ایک لاکھ 17 ہزار 710
امریکہ: 6069 اموات، متاثرین دو لاکھ 45 ہزار 658
فرانس: 5398 اموات، متاثرین 59 ہزار 929
برطانیہ: 3605 اموات، متاثرین 38 ہزار 681

جہاں اس وائرس نے انسانی جانوں کو نگلنا شروع کیا ہے، وہیں اس کے معاشی اثرات بھی ہیں۔ امریکہ کے محکمہ لیبر کے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 7 لاکھ نوکریوں کا خاتمہ ہوگیا ہے اور بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہے۔ امریکہ میں نوکریوں کا خاتمہ 1970ء سے آج تک دیکھا جانے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کو توقع ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں بیروزگاری کی شرح دو ہندسوں میں داخل ہو جائے گی۔ جیسا کہ توقع تھی، نصف سے زائد ملازمتوں کا خاتمہ سیر و سیاحت کی صنعت میں ہوا ہے۔ تقریباً یہی حال دیگر یورپی ممالک کا ہے۔
دنیا بھر کے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہے۔ شہروں کی مصروف زندگی رُک سی گئی ہے اور تعلیمی ادارے و دفتر بند ہونے کے ساتھ ساتھ اور عوامی اجتماعات پر بھی پابندی ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کا امتحان کب ختم ہوگا؟ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ برطانیہ 12 ہفتوں میں اس کو شکست دے سکتا ہے۔ اسی طرح کئی ملکوں نے اپنے لاک ڈاؤن کی آخری تاریخ بھی دے رکھی ہے، لیکن آئندہ ہفتوں میں متاثرین کم ہونے کے باوجود شاید اس کا خاتمہ حتمی نہیں ہوگا۔ یہ سماج اور سائنس دونوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

امریکہ اور یورپ میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہلاکتوں نیز اس کے اقتصادی اثرات نے دنیا میں اٹھنے والی سازشی تھیوریوں کو بھی اپنی موت مار دیا، لیکن تھیوری ساز ذہنوں سے اللہ امان بخشے ایک دوست سے سوال کیا کہ امریکہ اور یورپ میں ہونے والی ہلاکتوں کو کس سطح تک پہنچنا ہے کہ امریکہ اس وائرس کی ویکسین جو پہلے سے تیار ہوچکی ہے، کو منظر عام پر لائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو بہت سی اموات ہونی ہیں، اسی طرح جب یورپ اور امریکہ میں وائرس نیا نیا پھیلنا شروع ہوا تو ایک دوست سے سوال کیا کہ وائرس یورپ اور امریکہ جا رہا ہے، کیسے ممکن ہے کہ امریکہ ایسا وائرس ایجاد کرے، جو خود اس کے لیے نقصان دہ ہو تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مکافات عمل ہے۔ اب اس کا کیا جواب دیا جائے۔

ہم دشمن کی درست شناخت بھی نہیں رکھتے، ہمیں حکومت اور عوام کو جدا کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یقیناً امریکی حکومت اور یورپی حکومتیں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل میں ملوث رہی ہیں، انہوں نے انسانی معاشروں پر بے پناہ ظلم کیا ہے، ان کے وسائل لوٹے ہیں، تاہم ان ممالک کے کورونا کا شکار ہونے والے شہری ہمدردی کے مستحق ہیں۔ ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیئے کہ امریکہ یا یورپ میں زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ امریکی حکومت نے کرونا کے آغاز پر یہی غلطی کی۔ ٹرمپ نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ کرونا امریکہ میں نہیں آسکتا ہے اور ہم اس چینی وائرس کو کنٹرول کر لیں گے۔ چینی وائرس کہتے ہوئے ٹرمپ کے لہجے میں جو رعونت اور تضحیک تھی، آج ذلت و رسوائی میں بدل چکی ہے۔ آج نیویارک کا گورنر دیگر ریاستوں سے مدد مانگنے پر مجبور ہے۔ ٹرمپ نے بجائے ایران میں ہونے والی اموات کو ایک انسانی المیہ سمجھنے کے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا، اسے کیا معلوم تھا کہ امریکہ خود اس آفت کا شکار ہوگا۔

آج ٹرمپ اسی چین سے وینٹیلیٹر، ماسک اور حفاظتی لباس خریدنے پر مجبور ہے، جس کا چند روز قبل مذاق اڑا رہا تھا۔ کورونا نے دنیا میں بہت کچھ بدل کر رکھا دیا ہے، انفرادی زندگیوں سے اجتماعی امور تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔ کورونا نے انسانوں کو کم ترین سطح پر جینے کا ہنر سکھا دیا ہے۔ دنیا میں سرمایے کے حصول کی بے ہنگم دوڑ تقریباً ختم ہوچکی ہے، تاہم اب بھی ہم خدا کے بجائے خبروں سے جی لگائے بیٹھے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے دنیا کا ہر میڈیا چینل فقط کورونا کی بات کر رہا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کسی بیرونی دشمن کے حملے کی زد پر ہے اور ان کے آپسی مسائل خواہ سیاسی ہوں یا سماجی، معاشی ہوں یا اقتصادی ختم ہوچکے ہیں یا آہستہ آہستہ بے معنی ہوتے جا رہے ہیں۔

کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وائرس کے مکمل خاتمے تک مغرب سماجی، سیاسی اور معاشی لحاظ سے کس مقام پر ہو۔ امریکہ جیسا ملک اس آفت سے نمٹے کے لیے مدد مانگنے پر مجبور ہے۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی اس وقت کو زمانے کا سیاہ ترین دور قرار دے رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انسانوں کو مل کر اس آفت سے نمٹنا ہوگا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے پوری طاقت سے میدان عمل میں کود چکا ہے، کیونکہ اگر یہ معاشی لاک ڈاون طوالت اختیار کرتا ہے تو پھر دنیا میں موجودہ معاشی نظام کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ سب کچھ انسانوں کے لیے نیا ہے، ہمیں بھی بحیثیت انسان بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ نادیدہ دشمن پوری انسانیت کا دشمن ہے، یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تعصبات کی عینکوں کو اتار پھینکیں اور باہم متحد ہوکر اس انسانیت دشمن وائرس سے مقابلہ کریں۔

بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 126 times Last modified on منگل, 07 اپریل 2020 06:33

تازہ مقالے

تازہ مقالے