الجمعة, 27 مارچ 2020 12:26



 
 ڈاکٹر سید علی عباس

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے وحشت آفرین پھیلاؤ سے ایک بار پھر آشکار ہو گیا کہ انسان بہت کمزور ہےاور اس کائنات کے اوپر حکم فرما ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کے سامنے امریکہ، روس، چین جیسی طاقتیں کمزورثابت ہوگئی ہیں اور جوخزاں رسیدہ پتوں اورشاخوں کی طرح ہےبکھرتی اور لرزاں دکھائی دیتی ہیں۔


 ایک طرف دنیا گلوبلولیجبن چکی ہے دوسری طرف اسی گوبل ولیج میں پھیل جانے والی اس بیماری نے ظاہر کر دیا ہے کہ کائنات  میں ایک ہی طاقت ہے اور وہ اللہ  واحد قھار کی طاقت ہے ۔ لوگ پوچھتے ہیں حضرت  نوح  علیہ السلام کے طوفان کی حدود کتنی تھیں،آج ہم پوچھتے ہیں کرونا کے طوفان کی حدود کتنی ہیں۔ انسانوں کے وسائل،ان  کی دولت، ان کے ہسپتال،  ان کے لشکر، ان کے روابط، ان کے میڈیا کی طاقت ،سب  اس کے سامنے بے بس اور لا چار دکھائی دیتے ہیں ۔ سب کمزور اور بے حیثیت  ہو گئے ہیں ، بڑے بڑے ماہرین حیران و پریشان کھڑے ہیں۔ قرآن کریم میں  انسان کے بارے جو کچھ فرمایا گیا ہے ایک ایک کرکے سامنے آرہا ہے اور حق ثابت ہوئے چلا جا رہا ہے ۔ قرآن فرماتا ہے:

خُلِقَ الإِنْسَانُ ضَعِيفً (سورةالنساء - آيت 28)
انسانکمزورپیداکیاگیاہے۔
إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا 
انسانیقیناکمحوصلہخلقہواہے۔
اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ( سورۃ المعارج ۔  ۱۹و۲۰)
جب اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو فریاد کناں ہوجاتا ہے اور گھبرا جاتا ہے۔
یہی وہ انسان ہے کہ جب اس کے پاس خیر کے وسائل ہوتے ہیں تو انھیں دوسروں سے روک دیتا ہے اُن پر پابندیاں عائد کردیتا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:
وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا( سورۃ المعارج ۔۲۱)
امریکہ  نے اس وائراس کے مقابلے کے لیے دو ٹریلین ڈالر (  دو ہزار ارب ڈالر)وقف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹریلینز ڈالرز کی  اکانومی برباد ہو رہی ہے ، ساری تجارتی سرگرمیاں دم توڑ  گئی ہیں  اور اللہ کی عظمت ، اس واحد قہار کی  عظمت اور اس عزیز  وجبار کی عظمت نمایاں  ہو گئی ہے ۔
کیا اب وہ   دن نہیں آ گیا کہ ہم کہیں کہ  اس کائنات کے اوپر ایک اور طاقت ہے  جوارادہ کرتی ہے تو اسے  روکنے والا کوئی نہیں ہے اس کا ارادہ نافذ ہے۔

حکمران بھول گئے ہیں کہ ان کے ترقی کے کیا کیا منصوبے تھے۔فوجیں، ڈاکٹر، اقتصاد دان سب کے سب اس کے سامنے عاجز کھڑے ہیں  ۔ اس عظیم طاقت جس کے سامنے انبیاء  و  اولیاء کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے ان پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔ 

پس مرنا ہے یا جینا ہے ہمیں چاہیے کہ اس عزیز و قہار ذات پر حقیقی  ایمان لے آئیں اور اس کی منشاکے خلاف کوئی قدم نہ اُٹھائیں۔

استکباری طاقوں نےدولت  کمانے کے لیے کمزور لوگوں پراور ضعیف قوموں پر ستم ڈھائے ہیں  اور آبادیوں کوویران کرتے رہے ہیں۔اربوں کھربوں ڈالر جمع کیے  لیکن  آج یہ ڈالر ان کے  کسی کام نہیں آرہے۔امریکہ نےظلم کرکے، اسلحہ فروخت کرکے ، بارود  بیج  کر، انسانوں کو تباہ کر کے یہ پیسے جمع کیے تھے ، کمزور قوموں کے تیل کے کنوں پر قبضہ کرکے،حکمرانوںکوڈرادھمکاکر ، جو پیسے جمع کیے تھے  وہ اب اس وائرس کو روکنے کے لیے خرچ کر رہا ہے ۔ لیکن وائرس ہے کہ پھیلتا چلا جارہا ہے یہ لوٹی اور چھینی ہوئی دولت اس کے کسی کام نہیں رہی۔  اللہ تعالی فرماتا ہے :  مَآ اَغْنٰى عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا كَسَبَ ( سورۃ تبت ۔
۲)نہاسکامالاسکےکامآیااورنہاسکیکمائی۔

اب جبکہ یہ وحشتناک وباءعالمگیر ہو گئی اور اس نے کسی کو نہیں چھوڑا تو ایسے میں  انسان کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ  اپنا رخ تبدیل کرے ، اپنا قبلہ درست کرے چونکہ   اس وائرس کے سامنے ساری قومیں ایک جیسی ہو گئی ہیں ، سرحدیں مٹ گئی ہیں اوریہ  وائرس ایک قوم سے دوسری قوم تک بہت تیزی سے پہنچ چکا ہے نتیجے میں سارے انسان ایک جیسے ہو گئےہیں۔  نیک بھی اور بدبھی  سب اس کا شکار ہو رہے ہیں ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کو قوموں اور اوطان میں تقسیم کیا ہوا  نظام،  سارے کا سارابے معنی ہو  گیا ہے لہذا آیئے یہ مان لیں کہ انسانوں کی یہ تقسیم درست نہیں ہے۔ ایکاللہ ہے اور باقی سب اس کے بندے ہیں۔

اس وقت وہ لوگ جومصیبت میں مبتلا ہیں ،ان  کے صبر کا امتحان ہے۔ ان کے لیےتوجہ الی اللہ کی ضرورت ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اللہکی بارگاہ میں اپنی عبودیت کا اقرار کریں ۔آج ضرورت ہے ہم شعور ومعرفت کے ساتھ ،اللہ کی عبادت کی طرف لوٹ آئیں۔ آج صدیوں سے جاری خانہ کعبہ کے گرد  روحانیت  و معرفت سے خالی طواف بے معنی ہو گیا ہے ۔چونکہ یہ اللہ کی قہاریت سے غافل انسان کے نصیب کا چکر تھا، طواف نہ تھا۔  اب عبادت گاہوں کو اللہ کی معرفت، اس کے خوف اور خشیت کے ساتھ نئے سرے سے آباد کرنے کی ضرورت ہے ۔

اسی طرح سے اب جب کہ انسانیت پر مصیبت کی گھڑی ہے ہر آدمی کا نئے سرے سے امتحان شروع ہو گیا ہے۔کیا آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلا سکتے ہیں،  کسی بیمار کا علاج کرسکتے ہیں ،کسی کو بچا سکتے ہیں ،کسی کی مدد کرسکتے ہیں  ؟ کیا ہم اس  آزمائش میں پورا اترتے ہیں کہ نہیں ؟علما پوری انسانیت کے لیے دعا کر رہیں ہیں، بشریت کے لیے نالہ و فریادکر رہے ہیں۔ اس وائرس نے مذاہب و ادیان کا فرق بھی ختم کردیا ہے  اور  پھر سے  ایک  خدا اور ایک بندے والا تصور آشکار ہو گیا ہے چونکہ اللہ کہتا ہے کہ سارے انسان امت واحدہ ہیں اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ سب  امت واحدہ ہو گئے  ہیں۔
وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً
انسان تو سب پہلے اُمت واحدہ تھے۔ (سورہ یونس، ۱۹)

یہ ابتلاء پوری دنیا کے لیے طوفان نوح بن گئی ہے پادری بھی مر رہیں ، علماء بھی مر رہے ہیں ،حکمران بھی مر رہے ہیں  سیاست دان بھی مر رہے ہیں، ڈاکٹر بھیمر رہے  ہیں اور سب ایک طرح سے اس وبا کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ایسے میں آئیں  ہم سب ایک ہو جائیںاور ایک مرکز کی طرف آگے بڑھیں۔

وہی مرکز جو روح انسانی کا ارمان ہے۔ انسانی فطرت میں ہمیشہ یہ تمنا رہی ہے کہ دنیا میں ظلم کا خاتمہ ہو۔ انسان اپنے ضمیر کی آواز سنے تو وہ کہتی ہے کہ سب انسان ایک ہیں۔ اللہ کے نبی یہی پیغام لے کر دنیا میں آتے رہے۔ آخرکار دنیا میں اُن کے پیغام کی صداقت کو ثابت ہونا ہے۔ آج یہی صداقت بانداز دگر ثابت ہورہی ہے۔ قرآن اور آخری رسول کاوعدہ ہے کہ آخر کار دنیا پر دین کا غلبہ ہوگا اور پسے ہوئے محروم انسانوں کو اللہ اس دنیا پر حکمرانی عطاکرے گا۔ وہ اس دھرتی پر عدل الٰہی کی حکمرانی قائم کریں گے۔ اس کے لیے پوری دنیا کے انسانوں کو بیدار ہونا ہے تاکہ وہ شعور کے ساتھ ایسی حکمرانی برپا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ روح انسانی کے اسی ارمان کو ہم مہدویت سے تعبیر کرتے ہیں۔



بشکریہ: مبصر ڈاٹ کام
Read 458 times Last modified on منگل, 07 اپریل 2020 06:55

Latest from ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے