جمعرات, 19 مارچ 2020 14:13


 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکا عراق میں ایک پیچیدہ اور خفیہ مشن کی تکمیل کے درپے ہے۔ وہ ہر اس قوت کو عراق سے ختم کر دینا چاہتا ہے، جو اسکے عراق پر قبضے کیخلاف آواز اٹھا سکے یا اسکے استعماری مقاصد میں حائل ہوسکے۔ اس کیلئے اسکے پاس آسان راستہ یہ ہے کہ اسکے خلاف بولنے والے ہر فرد اور گروہ کو ایرانی ایجنٹ قرار دیدے، حالانکہ عراق کی منتخب پارلیمان امریکی افواج کے عراق چھوڑنے کی قرارداد منظور کرچکی ہے اور اسکا تقاضا عراقی حکومت بھی کرچکی ہے۔ ویسے بھی عراق عراقیوں کا ہے، امریکیوں کا نہیں۔ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ عراق کے وسائل اسکی گرفت میں رہیں، اس کیلئے اسکے کئی منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔


اِدھر پوری دنیا میں کرونا کرونا کا شور مچا ہوا ہے اور مشرق و مغرب میں خوف و دہشت کی فضا موجود ہے، اُدھر عراق میں امریکا نئے سے نئے فوجی اقدامات کر رہا ہے۔ یہ اقدامات خاصے خفیہ اور پیچیدہ ہیں۔ تمام حقائق سامنے نہیں آرہے۔ مختلف خبروں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر تصویر بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ صرف عراق ہی نہیں صدر ٹرمپ کرونا کی وحشت انگیزیوں کے دوران میں اپنے کئی حریفوں کے خلاف پے در پے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ چین کے خلاف ہرزہ سرائیوں پر ایک دنیا انگشت بدنداں ہے اور ایران میں کرونا کی ہولناکیوں کے دوران میں اس پر پابندیوں کی مزید بجلیاں گرانے کے سلسلے جاری ہیں۔ زیر نظر سطور میں ہم عراق میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنوری 2020ء کے شروع میں بغداد ایئرپورٹ پر ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد الشعبی کے نائب کمانڈر ابو مہدی المہندس کی امریکی بمباری کے نتیجے میں شہادت کے بعد عراق کی پارلیمان نے امریکی افواج کے نکل جانے کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔

عراق کے عبوری وزیراعظم عادل المہدی نے بھی بغداد میں موجود امریکی سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کرکے اپنی پارلیمان کا یہ فیصلہ ان کے سامنے رکھا اور مطالبہ کیا کہ امریکی افواج عراق سے نکل جائیں۔ اس موقع پر عراقی وزیراعظم نے کہا کہ عراق میں غیر ملکی فوج کی موجودگی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور ہوچکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجیوں کی بے دخلی عراق کو ایک ممکنہ تصادم سے بچائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کشیدگی سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم عبدالمہدی نے یہ تصدیق بھی کی کہ انہیں امریکی کمانڈ کا عراق سے فوجیوں کے انخلا کے بارے میں ایک پیغام موصول ہوا تھا، لیکن پھر چند گھنٹوں کے بعد امریکا کی جانب سے کہا گیا کہ وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں اور پیغام غلط تھا واضح رہے کہ 5 جنوری کو عراقی پارلیمینٹ نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس میں بغداد میں امریکی فضائی حملے میں عراقی ملیشیاء کتائب حزب اللہ کے رہنما ابو مہدی المہندس اور ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد حکومت سے غیر ملکی فوجیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس مطالبے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر عراق نے غیر دوستانہ طریقے سے امریکی افواج کو چلے جانے کو کہا تو ہم ان پر ایسی پابندیاں لگائیں گے، جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ ایران پر عائد پابندیاں بھی ان پابندیوں کے سامنے کچھ نہیں ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں ہمارا بہت مہنگا فضائی اڈہ ہے، جس کی تعمیر پر اربوں ڈالر لگے ہیں۔ ہم اس وقت تک نہیں نکلیں گے، جب تک وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر دیتے۔ ایک طرف عراقی حکومت اور پارلیمان کا مطالبہ اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب، یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ 2 جنوری کے بعد عراق اور امریکا ایک دوسرے کے معاون، حلیف یا دوست نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ہیں۔ پھر آج تک جو کچھ ہوا، وہ اسی امر کی تصدیق کر رہا ہے۔ امریکا عراق میں فوجی طاقت کے سہارے رہنا چاہتا ہے اور عراقی اسے ہر صورت میں نکالنے کے لیے بے تاب ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹر نفیسہ کونوادر نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں اس صورت حال کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ رواں سال میں عراقی رضاکار فورسز نے خطے میں امریکی موجودگی پر اپنی مخالفت کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا، ان کا موقف تھا کہ وہ دولت اسلامیہ کا خود ہی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ کتائب حزب اللہ نامی ان کے ایک ذیلی گروپ کا کہنا تھا کہ امریکا شامی سرحد پر ان کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ رپورٹر کا کہنا ہے: رضا کار فورسز جنھیں پی ایم ایف (Popular Movement Force) کہا جاتا ہے، کے بغداد میں صدر دفتر میں ایک انٹرویو کے دوران ابو آمنہ نامی کتائب حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے ہمیں بتایا کہ اگر وہ جانا نہیں چاہتے تو ہم انہیں جانے پر مجبور کر دیں گے۔ اس وقت عراق میں سرکاری طور پر 5200 امریکی فوجی ہیں۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق خلیج کے بعض اڈوں سے کچھ تازہ دم دستے اور جدید ترین اسلحہ عین الاسد اور اربیل کے امریکی فوجی اڈوں تک پہنچایا گیا ہے۔

امریکی منصوبہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نسبتاً چھوٹے اڈوں کو عراقی فورسز کے حوالے کر دے، یہ ایسے اڈے ہیں، جو شام کی سرحد کے قریب واقع ہیں یا پھر زیادہ اہم نہیں اور امریکی یہاں پر اپنے آپ کو زیادہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان اڈوں سے ایئر ڈیفنس کا نظام دیگر اڈوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ تمام تر تنصیبات سمیت انہیں عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کیے جا رہا ہے۔ امریکا نے شام سے جو فوج نکالی ہے اور جو اہم اسلحہ جات وہاں سے واپس لائے گئے ہیں، انہیں بھی عراق میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ عراق میں امریکا کے آٹھ فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں سے سب سے اہم عین الاسد ہے، جس پر ایران اپنے شہید کمانڈر کا بدلا لینے کے لیے حملہ کرچکا ہے۔ اس اڈے کا ڈیفنس سسٹم بہتر بنایا جا رہا ہے۔ یہاں پر پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم کو نصب کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں چند روز پہلے امریکا نے عراق میں کچھ عرصے کے لیے ایئر ٹریفک پر پابندی عائد کی تھی۔ اس دوران میں عین الاسد میں بمبار B52 طیارے منتقل کیے گئے ہیں، نیز امریکا کا آرمڈ ڈویژن 101 جسے Roraing Eagles کہا جاتا ہے، کو یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ملٹری ڈویژن خاص طرح کی تربیت کا حامل ہے، جس کے ذریعے اہم ترین اور کلیدی تنصیبات پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے امریکی نیوی کے میرینز بھی عین الاسد میں پہنچا دیئے گئے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی فوجی اڈے التاجی پر حملے کی خبر آئی تھی۔ اس کے بارے میں بعض تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ یہ حملہ خاصا مشکوک ہے اور اس کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، ممکن ہے کہ اس کا اہتمام خود امریکا نے کیا ہو، تاکہ الحشد الشعبی کے اڈوں پر حملوں کا جواز پیدا کیا جاسکے۔ چنانچہ 12 اور 13 کی درمیانی رات امریکا کے جنگی طیاروں نے کتائب حزب اللہ اور الحشد الشعبی عراق کے مختلف مرکز پر حملہ کیا، ان میں جرف الصخر اور شام کے مشرق میں البوکمال کے علاقے شامل ہیں۔ اس دوران میں امریکی طیاروں نے کربلا کے زیر تعمیر سویلین ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 6 افراد شہید اور 12 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد امریکی اڈے التاجی پر ایک اور راکٹ حملہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حملے میں 33 راکٹ گرے۔ اس حملے کی ذمہ داری عصبۃ الثائرین نے قبول کی، تاہم اس گروہ کا الحشد الشعبی سے تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ اس گروہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غاصب امریکی اور غیر ملکی فورسز پر ایسے حملے جاری رہیں گے۔ 17 مارچ کو بغداد کے جنوب مشرق میں واقع امریکا کے فوجی اڈے بسمایہ پر بھی راکٹ حملہ ہوا ہے۔

جہاں امریکا فوجی حوالے سے اقدامات کر رہا ہے، وہاں سیاسی میدان میں بھی وہ اپنے پیادے اور سوار آگے پیچھے کر رہا ہے۔ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ عراق میں اس کی مرضی کی حکومت قائم ہو جائے۔ اس وقت عراق کا صدر برہم صالح پہلے ہی امریکی حواریوں میں شمار ہوتا ہے۔ اب امریکا کی کوشش ہے کہ وزیراعظم بھی اس کی مرضی کا آجائے، چنانچہ عادل المہدی کی جگہ پہلے جس شخص کو وزیراعظم کے لیے نامزد کیا گیا تھا، اس کے خلاف عراق کے منتخب اراکین نے یہی الزام عائد کیا کہ یہ امریکی کیمپ سے تعلق رکھتا ہے۔ ابھی حال ہی میں عراقی صدر برہم صالح نے الزرفی کو حکومت کی تشکیل کا ٹاسک سونپا ہے۔ الزرفی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی دوہری شہریت ہے، وہ عراقی کے علاوہ امریکی شہری بھی ہیں۔ چنانچہ امریکا اس نامزدگی کی حمایت کر رہا ہے۔

دوسری طرف پارلیمینٹ میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں نے صدر کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس طرح سے امریکا عراق میں سیاسی ڈیڈ لاک برقرار رکھنے کے درپے ہے، یہاں تک کہ اس کی مرضی کی حکومت تشکیل پا جائے۔ اس اثناء میں امریکا نے تین چھوٹے فوجی اڈے عراقی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان میں شامی سرحد کے قریب القائم کا اڈہ اور موصل کے قریب القیارہ کا ہوائی اڈہ شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تیسرا اڈہ کرکوک کے قریب K-1 ہوسکتا ہے پینٹا گون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں دہشت گردی کے خلاف واضح پیشرفت ہوئی ہے اور وہ اب داعش کے خلاف خود سے اقدام کرسکتے ہیں۔ یہ اس چیز کا اظہار معلوم ہوتا ہے کہ امریکا پہلے جو عراقی فورسز کے ساتھ مل کر بظاہر داعش کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے، اب وہ تکلف برطرف، خود سے جو کارروائی کرے گا، اسے دہشتگردوں کے خلاف قرار دے گا۔ اس سلسلے میں اسے گویا عراقی فورسز سے ہم آہنگی کی ضرورت نہیں ہے۔

ان تمام خبروں اور صورتحال کو سامنے رکھ کر یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکا عراق میں ایک پیچیدہ اور خفیہ مشن کی تکمیل کے درپے ہے۔ وہ ہر اس قوت کو عراق سے ختم کر دینا چاہتا ہے، جو اس کے عراق پر قبضے کے خلاف آواز اٹھا سکے یا اس کے استعماری مقاصد میں حائل ہوسکے۔ اس کے لیے اس کے پاس آسان راستہ یہ ہے کہ اس کے خلاف بولنے والے ہر فرد اور گروہ کو ایرانی ایجنٹ قرار دے دے، حالانکہ عراق کی منتخب پارلیمان امریکی افواج کے عراق چھوڑنے کی قرارداد منظور کرچکی ہے اور اس کا تقاضا عراقی حکومت بھی کرچکی ہے۔ ویسے بھی عراق عراقیوں کا ہے، امریکیوں کا نہیں۔ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ عراق کے وسائل اس کی گرفت میں رہیں، اس کے لیے اس کے کئی منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔ اس وقت عراقی عوام یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ امریکا کو اپنی سرزمین سے نکال کر دم لیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکا ان عراقی عوام کا مقابلہ کہاں تک اور کس طرح سے کرتا ہے۔ اسے بہرحال آج نہیں تو کل عراق سے نکلنا ہے اور ان شاء اللہ رسوا اور شکست خوردہ حالت میں۔


بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 156 times

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« June 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 25 26 27 28
29 30          

تازہ مقالے

  • مارٹن لوتھر کنگ کا ادھورا خواب
      امریکہ میں پولیس تحویل میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک میں سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے امتیازی رویئے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے آٹھویں روز بھی جاری رہے اور ان مظاہروں کا دائرہ کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ ان مظاہروں…
    Written on جمعرات, 04 جون 2020 15:44 in سیاسی Read more...
  • چین کی لداخ میں پیشقدمی
      بھارت اور چین کا سرحدی تنازع قدیم ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
    Written on الجمعة, 29 مئی 2020 14:30 in سیاسی Read more...