سید اسد عباس

ایران اور وینزویلا کا ایک درد مشترک امریکی پابندیاں ہیں، نیز ان کی اقدار مشترک امریکی سامراجی عزائم کی مخالفت، آزاد اقتصاد اور حق خود مختاری ہیں۔ وینزویلا جنوبی امریکا کا ایک اہم ملک ہے، جو انیسویں صدی میں فرانس کی کالونی تھا۔ یہ جنوبی امریکہ کے ممالک میں سے پہلا ملک ہے، جس نے فرانس سے آزادی حاصل کی۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (22 مئی 2020ء) کو جب عالمی یوم القدس منایا جا رہا ہے، ہمیں جہاں فلسطینیوں کی کربناک صدائیں سنائی دے رہی ہیں، وہاں کشمیریوں کی فریادیں بھی بلند ہیں اور سینوں کو چھلنی کئے دیتی ہیں۔ شاید ابھی کم لوگ اس مسئلے کی طرف متوجہ ہیں کہ بھارتی برہمن سامراج اور صہیونی درندہ صفت گماشتوں کے باہمی روابط دیرینہ ہیں اور دونوں فلسطینیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کے حقوق کو غصب کرنے کے لیے ایک جیسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ ستر سے زائد برس سے اسرائیل کو فوجی حمایت مہیا کرنے، سفارتی سطح پر اسرائیل کے وجود کو عالمی برادری سے تسلیم کروانے کی کاوشیں کرنے، اقوام متحدہ میں اسرائیلی ظلم اور بربریت کے خلاف آنے والی ہر قرارداد کو ویٹو کرنے، عملی طور پر اسرائیل کے لیے دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی ممالک میں بالخصوص سفارت کاری کرنے، اسرائیل کے وجود کے مخالفین پر اقتصادی پابندیاں لگوانے، ان کو مختلف سطح پر دہشت گرد قرار دلوانے کے بعد امریکا نے اپنے سب نقاب الٹ دیئے اور واضح طور اس جارح اور ناجائز اکائی کی پشت پر آن کھڑا ہوا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک بہت طاقتوراورمضبوط ریاست ہے۔ اس لئے بھی کہ اسے دنیا کی بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے نیز وہ ایک ایسی متحد قوم ہے جو بے پناہ اقتصادی وسائل رکھتی ہے، جس کا امریکہ جیسی طاقت کے اوپر بہت اثرورسوخ ہے اورجس کے پاس نہایت جدید اورطاقتور ذرائع ابلاغ موجود ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

کرونا کے دور میں لگتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے اور شاید بہت کچھ بدل جائے، کیونکہ پیش گوئیاں تو یہ ہو رہی ہیں کہ کرونا کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں اور روابط کے انداز بدل گئے۔



 
سید اسد عباس

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قضیہ فلسطین فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ صہیونی اور ان کے سرپرست اسی طرح اس ریاست کو ناجائز اور خطے میں مسائل کا سرچشمہ قرار دینے والے تقریباً حتمی کاوشیں سرانجام دے رہے ہیں۔

تازہ مقالے

تازہ مقالے