سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔



 
سید اسد عباس

معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج و زوال کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر مادی کے ساتھ ساتھ معنوی اور سماجی ترقی اور تنزلی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو عروج و زوال کے معنی بدل جائیں گے۔ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ امریکہ میں بہت سے ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے اور موجودہ دہائی میں اس زوال میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ویسے تو گذشتہ کئی برس سے اربعین حسینیؑ کے موقع پر پوری دنیا سے عشاق کشاں کشاں کربلا میں پہنچ رہے تھے، دل و دماغ سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ یہ کسی نئے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ کروڑوں انسان امام حسینؑ کی خدمت میں سلامِ نیاز پیش کرنے کے لیے جس والہانہ انداز سے گوشہ و کنار عالم سے اکٹھے ہو رہے تھے، انسان کو حیرت زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔ پھر اس کے ساتھ مشی اور اربعین واک کے سلسلے، بات کچھ زیادہ ہی آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کئی کئی دن پیدل چل کر خواتین و حضرات روز اربعین حسینؑ سید الشہداء کی بارگاہ میں عرض ادب اور اظہار عقیدت کے لیے پہنچتے تھے۔



 
سید اسد عباس

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو قرہ باخ کے تنازعے پر ایک مرتبہ پھر خونریز جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک سے پرامن رہنے کی اپیلیں کر رہی ہے۔ نگورنو قرہ باخ کا تنازعہ نیا نہیں 1918ء میں روسی سلطنت کے خاتمے کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا آزاد ہوئے تو اسی وقت دنوں ممالک کے مابین نگورنو قرہ باخ کا علاقہ متنازع ہوگیا۔ سوویت یونین کے زمانے میں یہ علاقہ آذربائیجان کی انتظامیہ کے تحت ایک خود مختار علاقہ قرار پایا۔ جیسے ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوا، ایک مرتبہ پھر نگورنو قرہ باخ کے مسئلہ نے سر اٹھایا، جو کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ اور پھر امن معاہدے پر منتہی ہوا۔ 2016ء میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خونریز مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور انسانی ہجرت محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ نفوس پر محیط تھی۔
 



 
سید ثاقب اکبر نقوی

”کرونا“ اگرچہ ایک عالمگیر وبا و ابتلا کی صورت میں دنیا میں رونما ہوئی ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا کرونا سے پہلے کی دنیا سے بہت مختلف ہوگی۔ اس عالمی وباء کے دوران میں ایسے ایسے معنوی و مادی حقائق سامنے آئے ہیں، جو اس سے پہلے اتنے نمایاں طور پر دنیا کے سامنے نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ کرونا کے دوران میں سرحدیں بے معنی ہوگئیں ہیں، قوموں کی تقسیم مٹ گئی ہے، مذاہب اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق بھی پا در ہوا ہوگئی ہے۔ کرونا نے جرنیلوں، سیاستدانوں، حکمرانوں، علماء، مشائخ، ڈاکٹروں اور عام لوگوں میں سے کسی کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دی۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کرونا کے ہاتھوں بے حال دکھائی دیے ہیں۔ گورے اور کالے، سب کے ساتھ کرونا ایک طرح سے برتاؤ کرتا رہا ہے اور اب بھی بہت سے مقامات پر اس کی حشر سامانیاں دیکھی جاسکتی ہیں اور بعض علاقوں میں اس کے لوٹ آنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔
 



 
سید ثاقب اکبر نقوی


یہ بات تو دشمنوں نے بھی سرعام کہہ دی ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے سب سے آسان اور سستا ہتھیار فرقہ واریت ہے اور فرقہ واریت کی آگ تکفیریت کے تیل سے مزید شعلہ ور ہوتی ہے۔ پھر تکفیریت شدت پسندی کا روپ دھارتی ہے تو داعش، القاعدہ، بوکو حرام، جبھۃ النصرہ، لشکر جھنگوی وغیرہ جیسے ناموں سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ پھر نہ وہ دائیں پہلو کو چھوڑتی ہے نہ بائیں پہلو کو۔ اسی کو کہتے ہیں اسلام کا گلا اسلام کے نام سے کاٹنا۔ کسی نے کہا کہ امام حسین ؑ کو ان کے ناناؐ کی تلوار سے شہید کیا گیا۔ یعنی ان کے ناناؐ کا کلمہ پڑھنے والوں نے انھیں تہ تیغ کر دیا۔ ایک شاعر نے اسی بات کو موزوں کیا ہے:



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اے گرفتار ابو بکر و علی ہشیار باش
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ دونوں گروہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کسی کے مقام و مرتبہ کو بھی تبدیل نہیں کرسکتے اور شاید ایک دوسرے کی آراء کو بھی نہیں بدل سکتے لیکن مختلف آراء کی بنیاد پر جنگ و جدل کرسکتے ہیں اور تاریخ میں کرتے چلے آرہے ہیں، جبکہ کئی صدیوں سے دونوں گروہوں پر مشترکہ طور پر غیر مسلم حکومت کر رہے ہیں۔ عصر حاضر میں ”خلیفہ ٹرمپ“ کی حکومت ہے۔ یہ خلافت انھیں 21 مئی 2017ء کو ریاض میں 54 مسلمان ممالک نے مل کر پیش کی۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں آجائیں گی، وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے چند ایک اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اگر ان کو تجاویز کے بجائے احکامات قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 27 نکات میں سے پاکستان 14 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرچکا ہے جبکہ 13 مزید نکات پر اسے عمل کرنا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والے پاکستانی معاشرے اور اس کے مسائل کو ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں، تبھی تو پاکستانی حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کر رہے ہیں۔



 
سید اسد عباس

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دنیا پر حکومت کا نیا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے دنیا کے معاشی ادارے دنیا میں کاروبار، پیسے کی نقل و حمل، معاشی بے ضابطگیوں اور جرائم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جس ملک کا نظام درج بالا شعبوں میں کمزور ہے، وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہیں، جس کے سبب دنیا کے معاشی ادارے، بینک اور ممالک اس ملک سے کاروبار نہیں کرتے یا اس کی سفارش نہیں کرتے۔ اس فورس کی ایک لسٹ بلیک لسٹ بھی ہے، جس میں ایران اور شمالی کوریا ہیں۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« October 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

تازہ مقالے

  • امریکی زوال کی نشانیاں اور اعداد و شمار(2)
      گذشتہ سے پیوستہ جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا…
    Written on جمعرات, 22 أكتوبر 2020 15:42 in سیاسی Read more...
  • امریکی زوال کی نشانیاں اور اعداد و شمار(1)
      معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج…
    Written on جمعرات, 15 أكتوبر 2020 08:03 in سیاسی Read more...