بدھ, 05 آگست 2020 16:42

مؤقف



 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسئلہ کشمیر
تقسیم ہندوستان کے طے شدہ اصول کی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔ شروع ہی سے برطانیہ اور کانگرس کی ملی بھگت سے آزادیٔ کشمیر کا طے شدہ مسئلہ  الجھ کر رہ گیا۔ فوجی مداخلت کے ذریعے بھارت نے کشمیر کے وسیع حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ آج بھی کشمیرکا ایک حصہ آزاد ہے مگر بیشتر حصہ بھارت کے غاصبانہ قبضے میںہے جس کے نتیجے میں کشمیر کے مظلوم عوام ہر لحاظ سے ایک ہونے کے باوجود تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام خاص طور پر اپنی آزادی کی طویل جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں پیش کر چکے ہیں۔

بدھ, 05 آگست 2020 16:17

نظام



 
سید ثاقب اکبر نقوی


نظام حکومت
اسلامی نظام حکومت کی بنیادیہ ہے کہ حق حاکمیت اصالتاً صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد ہے اور کوئی شخص، طبقہ یا گروہ اس پر حکمرانی نہیں رکھتا، لیکن انسان باذن خدا

بدھ, 05 آگست 2020 16:14

ہمہ گیر جدوجہد کا آغاز



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اس پس منظرمیں ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔۔۔ کہ:
پاکستان میں جدوجہد اور جنگ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ جنگ کس کے خلاف ، کس کی حمایت میں کس کس کو، کس انداز سے لڑنا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسائل کا آغاز
لا الہ الا اللہ کے ولولہ انگیز انقلابی نعروں کی گونج میں پاکستان معرض وجود میں آ گیا لیکن اس نوزائیدہ  مملکت کو بہت سے مسائل بھی حصہ میں ملے۔ مہاجرین کی آباد کاری، اثاثوں کی تقسیم، معاشی مشکلات اور موثر انتظامی ڈھانچہ کی عدم موجودگی اور زیر خطر سالمیت جیسے سنگین مسائل پر عوام کی پرجوش شرکت اور ہمہ گیر اعتماد کے بغیر صحیح طور پر قابو پانا ممکن نہ تھا۔ ضروری تھا کہ عوام کے اسلامی انقلابی جذبے کو بروئے کار لا کر اس مملکت کی تعمیر کا آغاز کیا جاتا۔ مگر حکمران طبقہ آہستہ آہستہ عوام سے دور ہوتا چلا گیا۔ شاید حکمران چاہتے بھی یہی تھے کہ عوام  امور مملکت میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوںمیں جو چاہیں کر سکیں۔ حکمرانوں کی اس روش نے مزید کئی ایک سنگین مسائل اور مشکلات کو جنم دیا



 
سید ثاقب اکبر نقوی

جب کبھی مسلمان خاص طور پر عرب فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں بظاہر سنجیدہ تھے، بھارت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مخفی رکھے ہوئے تھا۔ اب فلسطینی حقوق کے دعویدار عرب اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسی صورت حال میں بھارت کو اسرائیل سے اپنے خفیہ مراسم اور دیرینہ آشنائی کو چھپانے کی کیا ضرورت پڑی ہے، لہذا بات اب سر بام آگئی ہے۔