سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
تعارف:

امت اسلامیہ کی صفوں میں اتحاد کے لیے اور انتشار پسند قوتوں کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں وقتاً فوقتاً کوششیں جاری رہتی ہیں۔کئی ایک قدآور مذہبی اورسیاسی شخصیات نے دلسوزی کے ساتھ امت کی اس سلسلے میں مختلف مواقع پر راہنمائی کی ہے۔جناب ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں ان کاوشوں اور دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ۔قارئین کے استفادہ کے لیے ان دستاویزات کو پیام میں شائع کیا جارہا ہے۔

جمعرات, 24 ستمبر 2020 22:41

یہ ٹرمپ کی خلافت کا دور ہے



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اے گرفتار ابو بکر و علی ہشیار باش
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ دونوں گروہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کسی کے مقام و مرتبہ کو بھی تبدیل نہیں کرسکتے اور شاید ایک دوسرے کی آراء کو بھی نہیں بدل سکتے لیکن مختلف آراء کی بنیاد پر جنگ و جدل کرسکتے ہیں اور تاریخ میں کرتے چلے آرہے ہیں، جبکہ کئی صدیوں سے دونوں گروہوں پر مشترکہ طور پر غیر مسلم حکومت کر رہے ہیں۔ عصر حاضر میں ”خلیفہ ٹرمپ“ کی حکومت ہے۔ یہ خلافت انھیں 21 مئی 2017ء کو ریاض میں 54 مسلمان ممالک نے مل کر پیش کی۔

الجمعة, 18 ستمبر 2020 20:18

فرقہ واریت اور سی پیک



 
سید ثاقب اکبر نقوی

پاکستان میں بہت سے دانشور، علماء اور تجزیہ کار موجودہ فرقہ واریت کے مختلف اسباب پر اپنا نقطہ نظر بیان کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ فرقہ واریت کی موجودہ لہر کے پیچھے سی پیک کے مخالفین کا ہاتھ ہے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم لگتی ہے کہ حال ہی میں بھارت کے ایک میجر کی جو وڈیو وائرل ہوئی ہے، اس میں وہ واضح طور پر پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے اپنا منصوبہ بیان کر رہے ہیں۔ بھارت پہلے دن ہی سے سی پیک کا مخالف چلا آرہا ہے اور امریکا بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سی پیک جسے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کہا جاتا ہے، کی مخالفت میں بھارت اور امریکہ کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے



 
سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

متحدہ عرب امارات کی طرف سے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کا منصوبہ آشکار ہوا تو عالم اسلام میں ایک ردعمل پیدا ہوا۔ امارات کے اس فیصلے کے خلاف پاکستان میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ ترکی نے بھی اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ اس کے بعد محرم الحرام آگیا اور حسب معمول امام حسینؑ اور ان کے اعوان و انصار کی یاد میں مجالس اور جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران میں صہیونی اور استعماری قوتوں نے اپنا کھیل جاری رکھا۔ سعودی عرب سے پرواز کرکے اسرائیل کا پہلا طیارہ امارات میں اترا۔ اس سے پہلے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سربراہ نے بھی امارات کا دورہ کیا اور اب اس امر کی تیاری ہو رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید امریکی صدر ٹرمپ کی خدمت میں پہنچیں اور مل کر اس دستاویز پر دستخط کریں، جس کے نتیجے میں امارات باقاعدہ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔