منگل, 29 ستمبر 2020 08:17

اداریہ پیام اکتوبر



محرم الحرام جو قمری سال کا پہلا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ شہادت امام حسین علیہ السلام کےحوالے سے ایک خصوصی نسبت کا حامل مہینہ ہے میں عموما تمام مسلمان مل کر نواسہ رسول ؐ کا غم مناتے ہیں۔ عاشقان اہل بیت اس غم کو منانے کے لیے اپنے اپنے انداز اور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ کہیں مجالس برپا ہوتی ہیں ، تو کہیں کانفرنسیں اور محافل منعقد کی جاتی ہیں ، کوئی تعزیہ نکالتا ہے تو کوئی سبیل و نیاز کا اہتمام کرتا ہے۔ مسلمان تو ایک جانب بہت سے ہندو ، مسیحی اور دیگر ادیان کے ماننے والے بھی اس مناسبت کو اپنے انداز سے مناتے ہیں ۔ اس ہم آہنگی اور یک رنگی کی فضا کو عموماملک میں موجود بعض شدت پسندوں اور غیر ذمہ دار افراد کی وجہ سے نظر لگتی ہے جس سے نفرتیں پورے معاشرے پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا، وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنٹرول میں آجائیں گی، وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت ان کا انتظام سنبھال سکے گی۔ بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے چند ایک اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اگر ان کو تجاویز کے بجائے احکامات قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 27 نکات میں سے پاکستان 14 نکات پر مکمل طور پر عمل درآمد کرچکا ہے جبکہ 13 مزید نکات پر اسے عمل کرنا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والے پاکستانی معاشرے اور اس کے مسائل کو ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں، تبھی تو پاکستانی حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کر رہے ہیں۔



 
سید اسد عباس

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) دنیا پر حکومت کا نیا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے دنیا کے معاشی ادارے دنیا میں کاروبار، پیسے کی نقل و حمل، معاشی بے ضابطگیوں اور جرائم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جس ملک کا نظام درج بالا شعبوں میں کمزور ہے، وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہیں، جس کے سبب دنیا کے معاشی ادارے، بینک اور ممالک اس ملک سے کاروبار نہیں کرتے یا اس کی سفارش نہیں کرتے۔ اس فورس کی ایک لسٹ بلیک لسٹ بھی ہے، جس میں ایران اور شمالی کوریا ہیں۔



 
سید اسد عباس

بی بی سی اردو برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سائٹ ہے، جو برطانوی حکومت کے زیر اثر ہے اور انہی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتی ہے۔ میں کافی عرصے سے بی بی سی اردو کا قاری ہوں اور ان کی خبروں، تجزیات کو بغور دیکھتا ہوں۔ بی بی سی اردو میں لکھنے والے اگرچہ سب پاکستانی ہیں، تاہم ایڈیٹر برطانوی نشریاتی ادارے کی پالیسی کے مطابق ہی خبریں، تجزیات اور رپورٹیں شائع کرتے ہیں۔ اپنے مطالعہ کے دوران میں مجھے احساس ہوا کہ بی بی سی مسلمانوں کے مابین اختلاف کے حوالے سے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کی رپورٹیں جہاں دلچسپ ہوتی ہیں، وہیں ان کے اندر ایسا مواد موجود ہوتا ہے، جو اردو دان طبقہ کے مابین کسی نئی بحث کا آغاز کر دے۔