ہفته, 04 جولائی 2020 16:33

حج : امام خمینی(رہ) کی نظر میں



پیشکش :سید اسد عباس

تعارف:اصولاً برائت از مشرکین حج کے سیاسی فرائض میں سے ہے اور اس کے بغیر ہمارا حج ،حج ھی نہیں ہے ۔حج کے موقع پر برائت از مشرکین وہ سیاسی ، عبادی پکار ہے کہ جس کا امر رسول اللہ نے فرمایا ہے ۔ہماری صدائے برائت ان سب لوگوں کی پکار ہے جو امریکہ کی فرعونیت اور اس کی ہوس اقتدار کو اب مزید برداشت نہیں کر سکتے ۔حج کے ان عظیم مناسک کا سب سے زیادہ متروک اور غفلت زدہ پہلو سیاسی پہلو ہے خائنوں کا ہاتھ اسے متروک بنانے میں سب سے زیادہ کار فرما رھا ہے آج بھی اور آئندہ بھی رہے گا ۔جو درباری ملّا یہ کہتے ہیں کہ حج کو سیاسی پہلوؤں سے خالی ہونا چاہیے وہ رسول اللہ کی مذمت کرتے ہیں ۔آج عالم اسلام امریکہ کے ہاتھوں میں اسیر ہے۔ ہمارا فریضہ ہے کہ دنیا کے مختلف بر اعظموں میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے اللہ کا یہ پیغام لے جائیں کہ وہ خدا کے سوا کسی کی غلامی اور بندگی کو قبول نہ کریں ۔حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے اللہ سے بیعت کریں کہ ہم اس کے اوراسکے رسولوں کے ،صالحین کے اور حریت پسندوں کے دشمنو ں کے دشمن ہونگے ۔

الجمعة, 26 جون 2020 09:53

کشمیر کی حالت زار اور راہ حل



 
سید اسد عباس

کشمیری پانچ اگست 2019ء سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فوج نے وادی میں، مارکیٹیں، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے ہیں۔ اپنے گھروں میں بھی کشمیریوں کو سکھ کا سانس لینے کی اجازت نہیں ہے۔

سوموار, 22 جون 2020 16:02

آہنی سلاخوں سے جنگ



 
سید اسد عباس

گذشتہ دنوں لداخ کی وادی گلوان میں چین اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والی جھڑپ میں ایک کرنل سمیت بیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد بھارتی فوجی چین کی گرفت میں چلے گئے، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔



 
سید اسد عباس

امریکا عراق سے افواج کے انخلا کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے اس کے پاس کوئی ٹائم لائن نہیں ہے۔ امریکا نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم عراق میں مستقل بنیادوں پر نہیں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی افواج کو عراق سے نکال لیں گے۔ عراق اور امریکا کے مابین امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات جمعرات کو درج ذیل اعلامیہ کے ساتھ ختم ہوئے۔



 
سید اسد عباس

امریکہ میں پولیس تحویل میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک میں سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے امتیازی رویئے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے آٹھویں روز بھی جاری رہے اور ان مظاہروں کا دائرہ کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ ان مظاہروں میں پرتشدد واقعات کے بعد 40 شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، تاہم متعدد شہروں میں مظاہرین کرفیو کے باوجود باہر نکلے ہیں۔