الطاف حسین حالی
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے




کوثرِ الفت کے چھینٹے میرے گیتوں کا نکھار
شعر بکھرائیں مرے تیری مودّت کی پھوار

 




میں بے پناہ ہوا جب تو اک پناہ رہی
حسین شاہ شہیداںؑ کی بارگاہ رہی

 




وہ شجر ہے کہاں سرکوہ بتا
تو جس کی اوٹ میں چھپ چھپ کر

 




خیر مقدم ہیں محمد ترا کرنے والے
ڈوب کر عصر کے لمحوں میں ابھرنے والے

 




اک طرف تُو تھا، تَو تھا پنج جہت آئینہ
یوں نہ تھا، آنکھ کا دھوکا تھا وہ حاشا کلّا

 




بات ادھوری رہے ہونٹوں پہ جو لائوں پھر بھی
سینہ پھٹتا ہے اگر درد چھپائوں پھر بھی

 




شبِ ہجرانِ غم انگیز ہماری خاطر
ایک طوفانِ بلا خیز ہماری خاطر

 




وہی سبطینؑ کی مادر کہ حیدرؑ جس کا ہمسر ہے
خدیجہؑ کے جو پاکیزہ صدف کا پاک گوہر ہے

 




ٹھہری ہوئی برسوں سے یوں ہجر کی گھڑیاں ہیں
منہ موڑ کے دنیا سے دہلیز میں پڑیاں ہیں