جُرم سے کم بھی اگر میں نے سزا پائی ہے
تیری رحمت کی مِری آنکھ تمنائی ہے

 




کس کو شکوہ ہے خار اُگائے ہیں
کِس کی آنکھوں کو زخم آئے ہیں

 




حضوری میں بھی رہتی ہیں لہو رونے پر آمادہ
شب ہجراں میں کیا کر دیں یہ آنکھیں رنگ سجادہ

 




چٹکی  کلی  تو دعوتِ نظارہ تھی مجھے 
لیکن یہ کیا ہوا کہ لگی دل لگی مجھے 

 




جام درویش جائے بھر جاناں 
بے نیازی سے اک نظر جاناں 

 




کس نے پایا ہے ترا بھید ، جو پائے کَہ دے
تیرے رستے کا مسافر کوئی آئے کَہ دے

 




سانس نے مشکبو بھری اُس کی
لب نے دہلیز چوم لی اُس کی

 




بہرِ لبم شرابِ طہور اسوۂ رسولؐ
در جامِ ناب وجہِ سرور اسوۂ رسولؐ

 




دیکھی تو گئیں‘ سمجھی نہ گئیں
کچھ خستہ خستہ تحریریں

 




خیر مقدم ہیں محمد ترا کرنے والے
ڈوب کر عصر کے لمحوں میں ابھرنے والے