اُس کو پانے کے لیے غیر پہ تکیہ کرتے
اِس سے بہتر ہے کہ اس کام سے توبہ کرتے

 




کہنے لگے حسین ؑ کہ اے ربِّ دو سرا
دوراہے پر ہے ظالموں نے لا کھڑا کیا

 



تری شان ذکر کروں تو کیا
تجھے حق نے ایسا بنا دیا!
کہ ترے لیے سرِ دوسرا
نہ مثیل ہے نہ مثال ہی 
صَلُّوْا   عَلَیْہِ   وَ  اٰلِہٖ




عشق ہے طیرِ بے مکاں آئے نہ سرحدات میں
شعر و سخن تو قید ہے فاعل و فاعلات میں

 



جب نہیں باد کا بھی کھڑکا
رہ رہ کر کیوں دل دھڑکا
چپ چپ فطرتِ نیم شبی
جانے یہ کیا آواز آئی

احمد ندیم قاسمی

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا




بہت اداس بہت دل فگار ہے یہ رات
نگاہ شوق میں سہمے ہوئے ستارے ہیں
ہر ایک لمحہ بہت بے قرار لگتا ہے

عبدالعزیز خالد

ہرکسی کو ہو بقدر ظرف عرفانِ رسول
کون کہہ سکتا ہے کیاہے حدِّ امکان رسولؐ
سِدرہ تک ہی پَر فشانی کرسکے روحُ الامیں
قاب قوسینِ اَو اَدنیٰ تک ہے جولانِ رسولؐ




کوئی یاور نہ کوئی ناصر ہے
اب میں بابا کے ساتھ جاؤں گا

 




کَہ نہ سکے جو پیاروں سے
باتیں کیں دیواروں سے