کوئی جو سمجھے تو سمجھے خیال و خواب کا ذکر
فلک پہ ہونے لگا میرے اضطراب کا ذکر

 




بیاض زیست میں کیونکر بتاؤں کیا لکھا
ورق ورق پہ بس اک نام آپ کا لکھا

 




رحمان کی تصدیق ہے طاغوت کا بطلان
میراثِ نبوت ہے حقیقت کا ہے عرفان

 




ماذا علی من شمّ تربۃ احمد
ان لایشمّ مدی الزّمان غوالیا

 




وہ ناعِت جس کی نظروں میں یہ قرآں ہو وہ کیا لکھے
نبیؐ جس کے لیے مَنعوتِ یزداں ہو وہ کیا لکھے

 




دن بے نقاب کرتا ہے شمس الضحٰی سے عشق
اور چھپ کے رات کرتی ہے بدرالدُّجٰی سے عشق

 

ماہر القادری

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے



فرزند بوترابؑ مرے آٹھویں امام
حاضر ہے لے کے عرضِ مودت ترا غلام 
اے وہ کہ ہے خواص پر بھی تیرا فیض عام
مِنْ کُلِّنَا عَلَیْکَ وَآبَائِکَ السَّلام




پناہ لینے لگے جب وہ بھول جانے میں
کئی بہانے چھپے تھے اس اک بہانے میں

 




شبِ وصل تھی مگر دل کوئی حرف کَہ نہ پایا
کبھی آنکھ ڈبڈبائی‘ کبھی ہونٹ کپکپایا